یومیہ اجرت پر شاعری - دلاور فگار - مشفق خواجہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-08-25

یومیہ اجرت پر شاعری - دلاور فگار - مشفق خواجہ

dilawar-figar
اگر پچھلے مہینے حیدرآباد سندھ میں ولاور فگار کو شہنشاہ طنز و ظرافت کا خطاب نہ ملتا تو ہم جیسے گمرہانِ جادۂ ادب کو معلوم ہی نہ ہوتا کہ دلاور فگار طنز و مزاح نگار ہیں۔ اس صورت حال کی ذمہ داری ہم پر نہیں ، ان پر ہے جو لکھتے ہیں اور اس طرح لکھتے ہیں کہ مزاح اور سنجیدگی میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ گزشتہ دس برسوں میں نثری نظم کے جتنے مجموعے بھی ہماری نظر سے گزرے ہیں ۔ انہیں مزاحیہ ادب سمجھ کر ہم پڑھتے اور ہنستے رہے ہیں اور جب بعض نقادوں کے تشریحی مضامین سے معلوم ہوا کہ نظری نظمیں سنجیدہ ادب کا حصہ ہیں تو ہم تنقید کو بھی مزاح سمجھ کر پڑھنے لگے ۔
جس ملک میں نثری نظمیں اور تنقیدی مضامین اتنی فراوانی سے لکھے جارہے ہوں، وہاں طنزو مزاح کے نام پر الگ سے شاعری کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ دلاور فگار کے معاملے میں یہ سوال بعد از وقت ہے کیونکہ وہ نظری نظم کی پیدائش سے پہلے سے شاعری کررہے ہیں اور ان کے مجموعوں کی تعداد دیکھ کر تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ گزشتہ دو تین صدیوں سے شعر کہہ رہے ہوں ۔ آٹھ مجموعے تو انک ے چھپ چکے ہیں ، نواں پریس میں ہے اور غیر مدون کلام اتنا ہے کہ دس پندرہ مجموعے باآسانی چھاپ سکتے ہیں ۔ اور جب تک یہ چھپیں گے اس وقت تک موصوف مضامین نو کے اتنے انبار لگا چکے ہوں گے کہ آبادی کی طرح شاعری کے لئے بھی منصوبہ بندی کے پروگرام بنانے کی ضرورت پڑ جائے گی۔
یہ سب کچھ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دلاور فگار شاعری کے معاملے میں نہ صرف خود کفیل ہیں بلکہ انہوں نے ایسا ذہن رسا پایا ہے کہ چاہیں تو درجن دو درجن ضرورت مندوں کو بھی صاحب دیوان بنا سکتے ہیں ۔ دلاور فگارکی قادری الکلامی کا اندازہ اس سے کیجئے کہ وہ ایک طویل عرصے سے ایک اخبار میں منظوم کالم نگاری کررہے ہیں۔ نثر میں کالم لکھنا کوئی مشکل کام نہیں کہ یہ کام تو ہم اور مولانا کوثر نیازی بھی کرلیتے ہیں۔ لیکن نظم میں کالم لکھنا چاول پر قل ھو اللہ لکھنے کے مترادف ہے ۔ دلاور فگار کے پاس ایسے چاولوں کی بوریاں ہیں۔
اردو میں منظوم اخبار نویسی کی روایت بہت پرانی ہے ۔ گزشتہ صدی میں بعض ایسے اخبار بھی شائع ہوتے رہے ہیں جو اول تا آخر منظوم ہوتے تھے ۔ اس وقت "اخبار نظم" یاد آرہا ہے جو لکھنو سے شائع ہوتا تھا اور جس کے ایڈیٹر دوارکا پرشاد افق اور رام سہائے تمنا تھے ۔ اس میں اداریے سے لے کر خبروں اور اشتہارات تک سب کچھ منظوم ہوا کرتا تھا۔ اس اخبار کے 5؍مارچ 1890ء کے شمارے کی ایک منظوم خبر ہمارے سامنے ہے۔ لاہور میں میراں بخش نامی ایک شخص نے دارونامی ایک طوائف کی ناک کاٹ لی تھی۔ یہ خبر یوں شائع ہوئی:

یہاں کی ہے طوائف ایک مشہور پرستاروں کی پری ، فردوس کی حور
حسیں و نازک و چالاک ہے وہ جہاں کی رنڈیوں کی ناک ہے وہ
زمانے میں ہے دارو نام اس کا تھا یوسف بندۂ بے دام اس کا
مزاجِ حسن ہفت افلاک پر تھا پے عشاق غصہ ناک پر تھا
ہے لب عشاق کو جاں بخش اس کا تھا یار غار میراں بخش اس کا
محبت میں بہم شیروشکر تھے گل و بلبل پے اہل نظر تھے
وفاداری کے دم بھرتے تھے دونوں نہ تھا کھٹکا مزے کرتے تھے دونوں
فلک نے تفرقہ کی رہ نکالی گرہ دارو کے نازک دل میں ڈالی
ہوا دارو کو شوق بے وفائی نظر سے صورت عاشق گرائی
بگاڑی ایک عرصے کی بنی بات نئے دھوکے کی چالوں سے کیا مات
سرِ عاشق پہ مارا خنجر جور جو اپنے واسطے ڈھونڈا کوئی اور
نہ میراں بخش کی سمجھی قدامت جس سے بند کی صاحبِ سلامت
ہوا بے تاب میراں بخش کا دل جگر سینے میں تڑپا شکلِ بسمل
رکھی دارو کی اٹھتے بیٹھتے تاک نہ تاب آئی ، ہوئی دارو غضبناک
رخ مطلب پہ کی غازے کی مالش عدالت چڑھ کے کی عاشق پہ نالش
جہاں کو اس خبر سے آگہی ہے بس اب پیشی پہ پیشی ہورہی ہے

منظوم اخبار نویسی کی اس روایت کو دلاور فگار نے نہایت خوش اسلوبی سے آگے بڑھایا ہے اور حق تو یہ ہے کہ حق ادا کیا ہے۔ ان کے منظوم کالموں کا انتخاب"سنچری" کے نام سے اسی ہفتے شائع ہوا ہے اور یہ اس وقت ہمارے پیش نظر ہے ۔
شاعری سے بڑے بڑے کام لئے گئے ہیں ۔ قوموں کی تقدیر بدلنے سے لے کر کاغذ کا رنگ بدلنے تک یعنی سفید کو سیا ہ کرنے تک ، شاعری کے کارناموں کی ایک طویل فہرست موجود ہے لیکن دلاور فگار نے شاعریسے جو کام لیا ہے وہ سب سے الگ ہے ۔ انہوں نے ہر اس چیز کو شعر کا موضوع بنادیا ہے جس کی سمائی نثر میں بھی بمشکل ہوسکتی تھی ۔ مثلاً ایک مغربی ملک میںکتوں کے پندرہ منٹ سے زیادہ بھونکنے پر پابندی لگائی گئی تو دلاور فگار نے ایک طویل کالم لکھا جس میں کتوں کو تہذیب سے کام لینے، آدمیت کے دائرے میں رہنے اور بلا ضرورت نہ بھونکنے کے مفید مشورے دئیے گئے ہیں۔ جن دنوں ٹیلی ویژن ڈرامہ" اندھیرا اجالا" ٹیلی کاسٹ ہوتا تھا تو لوگ اس میں اتنے محو ہوجاتے تھے کہ چوروں کو ا پنا کام کرنے کا موقع مل جاتا تھا ۔ دلاور فگار نے اس پر بھی ایک کالم لکھا ہے اور بتایا ہے کہ جس ڈرامے کا موضوع جرائم کی روک تھام ہے اس کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے ۔ یہی نہیں دلاور فگار نے متعدد افراد اور کتابوں پر بھی منظوم تبصرے لکھے ہیں۔ کتابی تبصروں کے ساتھ ناشر کا نام اور قیمت بھی لکھی دی ہے تاکہ کوئی شخص کتاب خریدنا چاہے تو اس کی رہنمائی ہوسکے ۔ شاعری کے ساتھ یہ شاہانہ سلوک شہنشاہ طنز و ظرافت ہی کرسکتے ہیں اور ہما شما کے بس کی بات نہیں۔
دلاور فگار کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ وہ شاعر ی تو اردو زبان میں کرتے ہیں لیکن مزاح پیدا کرنے کے لئے انگریزی الفاظ اس کثرت سے استعمال کرتے ہیں کہ اتنی کثرت سے شاید انگریز بھی استعمال نہ کرتے ہوں۔ اس معاملے میں وہ اکبر کے جانشین ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ اکبر کے ہاں انگریزی لفظ اس طرح آتا ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ، دلاور فگار کے ہاں نگینے ہی نگینے ہوتے ہیں ، انگوٹھی نظر نہیں آتی۔
“سنچری" ایک دلچسپ اور اپنی نوعیت کا منفرد مجموعہ کلام ہے ۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ دلاور فگار کی وہ گفتگو ہے جو سوال و جواب کی صورت میں مجموعے کے شروع میں بطور دیباچہ شامل کی گئی ہے ۔ اس میں انہوں نے فلمی اداکاروں کے اندازمیں بتایا ہے کہ ان کا پسندیدہ پھل اور پھول کون سا ہے ۔ مرغوب غذا کیا ہے ۔ لباس کس قسم کا پسند کرتے ہیں۔ تنہائی میں کیا کرتے ہیں۔ غصہ کس وقت آتا ہے ۔ ہنسی کس وقت آتی ہے ۔ پسندیدہ فنکار کون ہے۔ کھیل کون سا پسند ہے ۔ یہ سب تفصیلات اتنی دلچسپ ہیں کہ اگر کتاب میں صرف یہ کچھ ہوتا تو بھی کتاب کی افادیت میں کمی نہ ہوتی۔
آخر میں بطور نمونہ کلام کے ایک قطعہ پیش خدمت ہے ، اس کا پس منظر یہ خبر ہے کہ ایک دولہا برات لے کر جب دلہن کے گھر پہنچا تو خسر پر یہ راز فاش ہواکہ دولہا کہیں مستقل ملازم نہیں ہے بلکہ ایک دفتر میں ڈیلی ویجز(یومیہ اجرت) پر کام کرتا ہے۔ اس پر یہ برات لوٹا دی گئی۔
ڈیلی ویجز پر ہے اک لڑکا ملازم یہ خبر
کھل گئی اس وقت جب کھلنے کو تھے سہرے کے پھول
اب تو شادی کی یہ صورت ہے کہ خسر محترم
ڈیلی ویجز پر ہی اس داماد کو کرلیں قبول

اس قطعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ منظوم کالم نگار یعنی ڈیلی ویجز پر جو شاعری کی جاتی ہے وہ کس قسم کی ہوتی ہے ۔

(9/ اکتوبر 1986)

ماخوذ از کتاب:
سن تو سہی (مشفق خواجہ کی منتخب تحریریں)
مرتبین : ڈاکٹر انور سدید ، خواجہ عبدالرحمن طارق

Dilawar Figar poetry. Article: Mushfiq Khwaja

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں