Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-07-02 - بوقت: 15:08

مکالمہ لذت کام و دہن - وہاٹس ایپ گروپ مکالمہ

Comments : 0
indian-food
دبستانِ اردو وہاٹس ایپ گروپ کا ایک مکالمہ - بتاریخ : اکتوبر 2017

مکرم نیاز:
حیدرآباد کا جو ذکر کیا ۔۔۔ بولے تو بریانی ، نہاری پائے ، کھچڑی کھٹا قیمہ

ابو اشعر فہیم:
حیدر آباد کے علاوہ ہندوستان بہت بڑا ہے

مکرم نیاز:
غریب نے چند دیگر شہر بھی دیکھ رکھے ہیں مثلاً : بنگلور، میسور، اوٹی ، ممبئی، گوا، بھوپال، دہلی، آگرہ، رامپور، وارانسی اور کولکاتا۔ مگر بریانی ہو تو بس حیدرآباد کی۔

محمد عابد:
دہلی میں "دلی دربار" دیکھا ہے۔۔۔؟ اگر نہیں تو کیا دیکھا۔۔۔ اور اگر دیکھا ہے تو یہیں ہم بھی ہیں کبھی ہمیں بھی "پیٹ کی آنکھ" سے دکھاؤ۔۔۔!
اک 'مفتی' کی آوازِ شکم۔ (ہہہہہہ)
نوٹ:
مفتی : مفت سے مشتق ہے۔ بہ حوالہ "شکم اللغات ص: پکوان اول تا آخر"

ابو اشعر فہیم:
دہلی میں ہم یا تو صرف عبد الکریم کے مہمان بنتے ہیں لیکن دوسرے کی جیب سے۔
بھنا بھیجا کریم کا آہا۔
بھیجا سر کا۔ اس کے کھانے کے لیے اس کا ہونا ضروری نہیں۔

محمد عابد:
'عبدالکریم ریستراں' کا نام بڑا اور درشن چھوٹا ہے۔
دلی دربار پنجی میں جھینگا بریانی چکھی مگر استفسار پر پتا چلا کہ دہلوی دلی دربار سے اسکا کوئی ربط نہیں

ابو اشعر فہیم:
اپنے پیسے کا کریم میں کھانا ضیاع سمجھتا ہوں۔ اور دوسرے کے پیسے سے دوسری جگہ جانا اپنی مہمانی کو ضائع ہونا سمجھتا ہوں ، کبھی اپنےایک پیسے کا بھی نہیں کھایا کریم سے

خبیب حسن:
ایک بار ہمارا بھی اتفاق ہوا وہ بھی آپکی طرح دوسروں ہی کے ذریعہ، لیکن سچ پوچھیں تو وہاں صرف بل کی اچھی بنتی ہے باقی کھانے کا سسٹم حیدرآبادی ہوٹلوں سے بھی کم، خصوصا فور سیزن کی بات ہی الگ ہے

ابو اشعر فہیم:
پکوان والی کتابوں میں کتابت کی غلطیاں زبان کو بہت نقصان پہونچاتی ہیں

سرفراز فیضی:
مجھے تو دلّی میں جہاں بھی کھانے کا اتّفاق ہوا کھٹے کھٹے سالن کھانے ملے۔ دل اچاٹ ہوگیا بالکل۔ اس سے بہتر تو ممبئی کے کھانے ہوتے ہیں۔ ہر نوع کے ، ہر سطح کے

ابو اشعر فہیم:
دلی میں پورے ملک کی کھٹاس ہے۔

ریاض الدین:
اس 'دلی دربار' کا واسطہ دلی سے برائے نام ہے اسکے منتظمین ممبیکر ہیں اور اب تو ماشاءاللہ ہندوستان سے آگے خلیج میں بھی اپنا وجود رکھتے ہیں۔
دلی کے باسیو، دلی کے لذیذ کھانوں کے مراکز کی نشاندہی کرو اور دبستانی نکتہ چینوں کو دعوت شکم دے یہ ثابت کردو کہ دلی سے بہتر کھانا لاکھ ڈھونڈھو کہیں نہ پاؤ گے!

رشید ودود:
مٹیا محل کی گلیوں میں جو ذائقہ ہے، وہ لکھنؤ اور ممبئی میں مجھے کہیں نہیں ملا، ایک زمانہ ہوا دلی چھوڑے ہوئے، وگر نہ رات بارہ بجے کے بعد جو عارضی دکانیں لگتی ہیں، اُس کا ذائقہ سوچ کر کے منہ میں پانی آ جاتا ہے، نواز شریف کا چٹورپن بہت مشہور ہے، 2014 میں جب وہ جامع مسجد آئے تھے تو بڑی حسرت سے پوچھ رہے تھے کہ کریم ہوٹل کہاں ہے کریم ہوٹل، اس ہوٹل کی تاریخ سے کچھ آگاہی مجھے ہے، بشرط فراغت و سکون ضرور لکھوں گا

عبدالرحمن:
ویسے مئو کے چنے لڈو بھی ذائقے میں کچھ کم نہیں ہیں۔

حافظ خلیل:
ارے صاحب! جو مزا دلی کی نہاری میں ہے وہ کہیں اور کہاں؟ ذاکر نگر میں "جاوید نہاری" کی دکان پر کئی دیگیں وقت سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں۔۔۔ لوگ لائن میں لگ کر نہاری کا لطف اٹھاتے ہیں۔۔۔
کسی نے کہا تھا کہ دلی کی تین ہی چیزیں مشہور ہیں:
نہاری
بہاری
عبد اللہ بخاری
(بہار کے بھائیوں سے معذرت کے ساتھ)

رشید ودود:
بھیجا فرائی تو عالمگیر ہوٹل (لکھنؤ، ٹُنڈے کے سامنے والی گلی میں) کا بھی ذائقے دار ہے لیکن نہاری تو بس دلی کی صاحب، نہ لاہور کی، نہ لکھنؤ کی، نہ ممبئ کی، اور اگر نہاری پہ نَلّے کا تڑکا لگا ہوا ہے تو پھر بوڑھوں کی جھکی کمریں بھی سیدھی ہو جاتی ہیں
جو بات جامع مسجد والے مولوی مدن میں ہے، وہ اس جاویدے میں کہاں؟

محمد عابد:
مطعمِ سوری میں شاورما وجبة كاملة آج ہی وصولا ہے۔۔۔ اور بیگم یہ سمجھتی ہیں کہ روزہ دار ہوں میں۔۔۔

رشید ودود:
شورما نا؟ وہی جو رول رہتا ہے نا؟

حافظ خلیل:
میرا دوست کہتا ہے کہ
دلی میں نلّی نہاری تندوری روٹی کے ساتھ کھاؤ، حیدرآباد کی بریانی پر ہاتھ صاف کرو اور پھر ممبئی میں ایم ایم کی لسی یا باندرہ کے فالودے کا مزا لو۔۔۔ مزا ہی آ جائے گا۔

رشید ودود:
عالمگیر میں پہلے اوجھڑی پچونی بھی مل جاتی تھی، اب نہیں ملتی لیکن اس کا بکرے کا پایا بڑا لاجواب ہے

ریاض الدین:
مٹیا محل سے چند قدم آگے چھتہ چوہیا میم صاحب کے نکڑ پہ ہمارے عہد تعلیم و تعلم میں ایک چچا کیلو میں تول کر بریانی پروستے تھے اور اسی طرح حویلی اعظم خاں میں ایک نہاری والے کا ہوٹل ایسا مرجع خلائق تھا کہ بس پوچھو مت ۔ ذائقہ واللہ اب بھی ہے یاد ذرا ذرا !

رشید ودود:
بنارس کا لونگ لتہ اور لوڑھو کی پوری، مرحوم کو اللہ بخشے، بڑی کلاسیکل گالیاں بکتے تھے۔

عبدالرحمن:
گووندا کی چائے اور رشیدا کا پان کا ٹھلا

محمد عابد:
ایک بار مومو کھلایا۔۔۔جواب ملا یہ تو لولا پپھارا ہے۔۔۔
ایکبار دولمہ کھلایا۔۔۔یہ تو سوہینا ہے۔۔۔
ایکبار قیمہ سالن لایا تو جواب ملا یہ قیمہ کرکے گوشت پکا رکھا تھا کیا۔۔۔؟
غرضیکہ ہر عربی کو عجمی لباس میں پیش کرنا انکی اسپیشیالٹی ہے۔

ریاض الدین:
بس ایکبار 'کبہ حلبيہ' پیش کرو اور دیکھو !

رشید ودود:
مومو سوپ کے ساتھ، واقعی بڑا جان لیوا ہوتا ہے، بقول دوست، 'کنواروں کو پرہیز کرنا چاہیے'

عبدالقدیر عاصم:
کچن بنا دیا یار آج دبستان کو

خبیب حسن:
آہا۔۔۔۔
ان لذید کھانوں کے تذکرے نے تو جان ہی لے لی- ویسے بھی آج جمعرات ہے، لیڈھو کی پوری پر خوب تبصرے ہوئے۔۔۔ وہ بھی مزے لے لے کر-

محمد عابد:
عنادل و بلبل بغیر دانہ چگے کوئی ملہار نہیں گا سکتیں پیارے۔۔۔!

خبیب حسن:
شمس الرب بھائی سے پر خلوص درخواست ہے کہ کھانے پر ہوئی گفتگو کو بطور خلاصہ پیش کریں اور مختلف مقامات کی "خصوصیات" کے مابین جمع و تطبیق کریں تا کہ "ولیمہ اور عقیقہ" میں سہولت ہو سکے

سرفراز فیضی:
ممبئی میں تو جعفر بھائی کے دلّی دربار کی بریانی اور چکن تندوری کا کوئی جواب نہیں۔

عبدالقدیر عاصم:
مجھے پایہ منظور ان کو نہاری۔
زباں اپنی اپنی پسند اپنا اپنا

سرفراز فیضی:
بھنڈی بازار میں جو رونق ہے رنگ برنگے کھانوں کی وہ دلّی میں نہیں دیکھی۔ سیمنار تو بہانہ تھا۔ اصل دلّی کے کھانے کھانا تھا۔ مایوسی ہوئی۔

شعبان بیدار:
سرفراز بھائی دلی کی نھاری نہیں کھائے؟ لاجواب ہوتی ہے

عبدالقدیر عاصم:
تھے ہی کتنی دیر بھائی آئے دامن سنبھالا کہ واپسی کا دم بھر گئے وہ تو راستے سے گزرتے ہوئے اسلم چکن کی زیارت تبرکا کرایا کاش کہ پروگرام جیسا بنا تھا ویسا رہتا تو ممکن کچھ شکایت جاتی رہتی

ریاض الدین:
دلی کو خیر باد کہے ایک زمانہ بیت گیا پھر بھی میرے خیال میں دلی میں شکم پروری کے لئے اچھا موسم سردی ہی ہے شاید !

عبداللہ الکافی:
شدت بھوک سے نڈھال دلی جامع مسجد کے علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں پہونچا تھا، اس خانہ خراب کے کھانے نے آسودگی کی جگہ کئی دنوں کے لئے کھانے سے بیزاری نواز دی، جب سے میں کھانے کے معاملے میں دلی کو "کم ذوق" سمجھتا تھا۔

ریاض الدین:
لگتا ہے جامع مسجد کے مشرقی دروازے کے نیچے مینا بازار میں واقع یا اسی طرح کے کسی نامراد کے ہوٹل میں گھس گئے ہوں گے اور ناگہاں اپ کی وہ درگت ہوئی جس نے دلی کو بد ذوق قرار دیا ! 'حیف دلی ایسی تو نہیں !'

محمد عابد:
بھائی میں تو پنجی سے برآمد کردہ "کوکم شربت" نوش کر رہا ہوں۔۔۔اصحابِ ذوق نے بھی اسے تو آتشہ قرار دیا۔۔۔

عبداللہ الکافی:
کریم ہوٹل، جس نے منٹوں کے حساب سے بیٹھنے کے بھی پیسے وصول لئے۔

خبیب حسن:
چپکے چپکے رات دن پایہ کا کھانا یاد ہے
ہاں! مگر تیرا نہاری کا کھلانا یاد ہے
رونق اور لذیذ کھانا دیکھنا اور کھانا ہو تو چار مینار حیدرآباد اور اسکے قرب وجوار کے علاقے پھر کھانا ہو تو فور سیزن اور اسکے آس پاس کے ہوٹلس۔۔۔
نکو پوچھو اکدم آخر رہتا جی

حافظ خلیل:
آج کل تو حیدرآباد کے لوگاں گلبرگے کی تہاری توڑ رہے میاں

عبدالرحمن:
حیدرآباد کی بریانی، کدو کی کھیر اور آج کل مندی کی لذت، کیا کہنے

خبیب حسن:
اور جب آپ لوگ سب طرح کا لذیذ کھانا کھا لیں تو 'مبارکپور' کے سفید گاجر کے 'حلوے' کو کھانا نہ بھولیں-

شمس الرب خان:
آج تو دبستان سے انواع و اقسام کے پکوانوں کی خوشبو آ رہی ہے۔۔۔🤗

ریاض الدین:
لولا پھارا تک کا ذکر جمال آیا !!

ابو اشعر فہیم:
کریم میں دعوت ولیمہ منعقد ہو تو میں " انگشتی " لے کر آؤں گا۔

شمس الرب خان:
مجھے دلی کی نہاری لذیذ ترین لگی۔ جے این یو میں ایک "مغل دربار" نامی ریستوران ہے۔ یہاں کی "چکن افغانی" بے مثال ہے۔ دلی جائیں تو اسے ضرور چکھیں۔ بس ایک چیز کا خیال رکھیں۔ ناگپوریوں کو "مغل" نام سے کچھ چڑھ ہے، اس لئے ہو سکتا ہے کہ نام بدل دیا گیا ہو۔ ہاں، اگر دلی جانے پر کچھ نہ سمجھ میں آئے، تو عابد علی یار جنگ کے سگھڑ ہاتھوں سے تیار کیا ہوا کچھ بھی کھا لیں۔۔۔۔"ہاتھ چاٹتے رہ جائیں گے"۔۔۔

عبدالغفار سلفی:
مولوی حضرات کو ویسے بھی کھانوں اور ان کے تنوع سے خاص نسبت ہوتی ہے۔ آج دبستان میں وہی رنگ نمایاں ہے۔ میں پچھلے کئی دنوں سے پرہیزی کھا رہا تھا۔ دو تین روز سے افاقہ ہوا ہے تو یوٹیوب سے نئی نئی ریسیپی نکال کر بیگم کے ہاتھوں نت نئے آئٹمز سے محظوظ ہو رہا ہوں۔ شادی شدہ حضرات اس طریقے پر عمل کریں اور کنوارے حضرات فی الحال صبر کریں یا اپنی شہوتوں کو اپنے اپنے شہر کے چٹ پٹے بازاروں میں جا کر پوری کریں۔
نوٹ: شہوت سے یہاں مراد صرف کھانے کی خواہشات ہیں

ناصر الحق خان:
ہر پکوان کو الگ الگ شہروں سے منسوب کیا جاتا رہا ہے-
کوئی کتنا بھی کہے مگر بریانی کو پہچان صرف تین شہروں سے مل سکتی ہے
لکھنؤ
رامپور
حیدرآباد
نہاری کو ہمیشہ دلی سے منسوب کیا جائے گا (چاہے شیدا لکھنوء لے جانے کے لیے اپنا پورا زور لگا دے)
مٹھائیاں بنارس کے حصے میں آئینگی

رشید ودود:
ڈاکٹررر! دیکھو! شیدا بھی صرف دلی کی نہاری کا قائل ہے، نہاری دلی ہی میں ہے، اسے لکھنؤ نہیں لے جایا جا سکتا

فیضان:
مٹھائی بنگال کے حصے میں آنی چاہیے

راشد حسن مبارکپوری:
دلی میں درج ذیل بریانیاں شہرت پذیر ہیں
حیدرآبادی
لکھنوی
مرآدآبادی
بنگالی
قاسمی (جسمیں زیادہ مرادآبادی کا زور ھے کیونکہ اسمیں سادگی اور تواضع زیادہ ہے ۔۔۔۔)

ناصر الحق خان:
یہ پیٹینٹ برانڈ نہیں، ویسے قدیر مجھے ایک جینرک بریانی برانڈ کا نام مبارکپوری بتا رہے تھے

شعبان بیدار:
حیدرآبادی اور مراد آبادی کی ترکیب بھیجیے کوئی
اور نہاری کیسے بنتی ہے یہ بھی کوئی بتائے

رشید ودود:
دو چار ریسیپی اور بھیج دیجیے

راشد حسن مبارکپوری:
عبدالرحمن تم نے آفس میں جو 'حیدرآبادی بریانی' بنا کے کھلائی تھی وہ جامعہ سلفیہ میں جو کھلاتے تھے اس سے کم نہ تھی

مکرم نیاز:
میں "مکالمۂ لذت کام و دہن" تیار کر لیتا ہوں۔۔۔۔
اخبار میں شائع کروا کر دنیا کو بتاؤں گا کہ ذائقے جاننا ہوں تو مولویوں کی زبانی جانئے !!

Indian Food varieties at different areas, A whatsapp group debate. Compiled by: Mukarram Niyaz.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں