مہمان اداریہ ہی نہیں لکھتے پروف بھی پڑھتے ہیں - مشفق خواجہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-07-18

مہمان اداریہ ہی نہیں لکھتے پروف بھی پڑھتے ہیں - مشفق خواجہ

guest-editorial-Mushfiq-Khwaja
پچھلے ڈیڑھ دو ماہ سے کراچی میں غیر ملکوں سے آنے والے ادیبوں کی وہج سے بڑی رونق ہے ۔ ادب اور لذت کام و دہن دونو ں کی بڑے پیمانے پر آزمائش ہورہی ہے۔ کہیں ادبی نشستیں اور کہیں شعری محفلیں، کہیں ظہرانے میں اور کہیں عشائیے ۔ اخباروں کے ادبی ڈائری نویسوں کی پانچوں گھی میں ہیں۔ وہ صبح ہوتے ہی قلم کان پر نہیں، جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلتے ہیں اور محفلوں کے شرکاء کی فہرستیں مرتب کرنے کا غیر دلچسپ اور محنت طلب کام کرتے ہیں ۔ اس فہرست سازی کی اتنی اہمیت ہے کہ ہر محفل میں مہمان خصوصی سے زیادہ ادبی رپورٹوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ شرکاء ان سے بڑھ بڑھ کر ہاتھ ملاتے ہیں ، خیریت پوچھتے ہیں تاکہ جب اخبار میں رپورٹ شائع ہو تو اس میں ان کا نام بھی شامل ہو ۔ چند روز پہلے کا واقعہ ہمیں کبھی نہیں بھول سکتا ۔ ایک پاکستانی ادیب نے ایک ہندوستانی ادیب کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ مہمان خصوصی اور دیگر مہمانوں کو دو گھنٹے تک کھانے کا انتظار میں بٹھایا گیا ۔ ہم اس صورت حال سے سخت پریشان ہوئے۔ ہمت سے کام لے کر ہم نے میزبان سے پوچھا ،" اب کس کا انتظار ہے؟" انہوں نے فرمایا،" علی حیدر ملک اور شہزاد منظر کا۔‘ ‘ اس جواب پر ہمیں بڑی حٰرت ہوئی، ہم نے عرض کیا،"کیا یہ بھی ہندوستان سے آئے ہیں؟" میزبان نے رازدارانہ انداز میں فرمایا،"بھئی یہ دونوں اخبارات میں ادبی ڈائریاں لکھتے ہیں۔ ذرا خوش ہوجائیں گے کہ ہم نے ان کا انتظار کیا۔"
ہندوستانی مہمانوں میں سب سے پہلے ڈاکٹر معظم اور جیلانی بانو تشریف لائے ۔ ہم نے عام رواج کے خلاف جیلانی بانو کا نام بعد میں لکھا ہے ، ورنہ اخباری اطلاعات کے مطابق یوں لکھنا چاہئے تھاکہ جیلانی بانو تشریف لائیں اور ان کے ساتھ ان کے شوہر ڈاکٹر انور معظم بھی تھے ۔ اس صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ جیلانی بانو افسانہ نگار ہیں اور ان کی شہرت چہار دانگ عالم میں ہے۔ ڈاکٹر انور معظم صرف عالم و فاضل اور محقق اور محقق و دانشور ہیں، اس لئے ان کے تعارف کا حلقہ محدود ہے۔ گویا جیلانی بانو شہرت میں آگے نکل گئیں اور ڈاکٹر انور معظم علم و فضل میں ۔ علم میں آگے نکل جانے کا مطلب گم شدگی ہوتا ہے ، لہذا ڈاکٹر انور معظم بڑی حد تک پس منظر ہی میں رہے ۔ بیشتر تقریبات جیلانی بانو کے اعزاز میں ہوئیں ، ڈاکٹر صاحب ان میں شریک تو ہوئے تھے لیکن بطور یکے از سامعین ۔ ہاں دو چار جگہ ڈاکٹر صاحب کو اظہار خیال کا موقع ملا تو لوگوں کو اندازہ ہوا کہ اگر جیلانی بانو کی شہرت" پردۂ حائل" نہ ہوتی تو اخباروں میں ڈاکٹر صاحب کے دوچار انٹر ویو الگ سے بھی چھپ جاتے ۔ انٹر ویو کی بات ہم نے اس لئے عرض کی ہے کہ جیلانی بانو کے جتنے بھی انٹر ویو اخبارات میں چھپے ہیں ، ان میں ایک آدھ سوال ڈاکٹر صاحب سے بھی کرلیاجاتا تھا ۔ "نوائے وقت" کے انٹر ویو میں ڈاکٹر صاحب نے یہ کہہ کر دامن چھڑا لیا کہ میں تو ادب کا محض قاری ہوں ۔ ڈاکٹر صاحب سے گزارش ہے کہ اتنے انکسار سے کام نہ لیں ورنہ لوگ انہیں صرف جیلانی بانو کا قاری سمجھنے لگیں گے۔
دوسرے مہمان"شاعر" بمبئی کے مدیر افتخار امام صدیقی تھے جو خلاف معمول کسی مشاعرے میں شرکت کے لئے نہیں آئے تھے حالانکہ وہ سفر عموماً مشاعروں ہی کے لئے کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں سنا گیا ہے کہ وہ سال میں گیارہ مہینے مشاعروں میں رہتے ہیں اور ایک مہینہ جو بچتا ہے اس میں مشاعروں کے منتظمین سے خط و کتابت کرتے ہیں۔ ایک بار گھر سے نکلتے ہیں تو دس پندرہ مشاعرے بھگتا کر ہی لوٹتے ہیں۔ کلام بھی اچھا ہے ، اور ترنم بھی عمدہ ہے ۔ اس وجہ سے وہ ادب نوازوں ہی میں ن ہی، گانا سننے کے شوقین لوگوں میں بھی مقبول ہیں ۔ مشاعرہ بازی کی عادت کی وجہ سے وہ اپنا رسالہ ریل گاڑی میں مرتب کرتے ہیں، اس کے باوجود" شاعر" اردو کا بہترین رسالہ ہے ۔
افتخار امام کے بارے میں یہ واقعہ سننے میں آیا ہے۔ دروغ بر گردن راوی، چند سال ہوئے ان کے بھائی کی شادی تھی ۔ یہ مشاعرہ گردی میں مصروف کسی دور دراز شہر میں مقیم تھے۔ گھر والوں نے تار دیا،"جلد آؤ، بھائی کی شادی ہے۔" انہوں نے جوابی تیار دیا،"بے حد مصروف ہوں، اس لئے معذرت۔" گھر والوں نے ایک اور تار دیا،" شادی کے موقع پر مشاعرہ بھی ہوگا ، اس لئے تمہاری شرکت ضروری ہے ۔" اب کے افتخار امام کی جواب یہ تھا،"آرہا ہوں، آمد و رفت کا کرایہ اور محنتانہ پیشگی بھجوادیجئے۔"
افتخار امام کی آمد کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے رسالے کا پاکستانی ادب نمبر شائع کررہے ہیں ۔ اس سلسلے میں انہوں نے کراچی کے تمام اہم ادیبوں سے رابطہ قائم کیا اور بہت سا مواد حاصل کیا ۔ وہ لاہور اور اسلام آباد بھی جانا چاہتے تھے ،لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے ۔ لاہور، اسلام آباد کے ادیبوں کو یہ چاہئے کہ وہ بمبئی جاکر افتخار امام کے پاکستانی ادب نمبر کے لئے اپنی تخلیقات پیش کریں ۔ ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں ۔ اکادمی ادبیات کے پاس سیروسیاحت کے لئے خاصے فنڈز ہیں۔ اکادمی ، ادیبوں کو گلکت اور سوات وغیرہ کی سیر تو کراتی ہی رہتی ہے اب کے "سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی" اور اگر اکادمی کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو اکادمی کا فرض ہے کہ وہ افتخار امام کو اپنے مہمان کی حیثیت سے پاکستان بلائے ۔ "شاعر" کا پاکستانی ادب نمبر صحیح طور پر پاکستانی ادب کا عکاس ہونا چاہئے اور اس لئے ضروری ہے کہ افتخار امام پاکستانی ادیبوں سے فرداً فرداً رابطہ قائم کریں۔
تیسرے مہمان شاہین تھے جو کینیڈا سے تشریف لائے تھے ۔ یہ پہلے شاہین غازی پوری کے نام سے مشہور تھے ۔ اب علامہ اقبال کے شاہین کی طرف صرف" شاہین" ہیں۔ فرق یہ ہے کہ یہ پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا نہیں کرتے، جب پاکستان آتے ہیں تو جناب صہبا لکھنوی، مدیر"افکار" کے دولت خانے پر قیام کرتے ہیں۔ جناب صہبا لکھنوی بڑے مہمان نواز ہیں۔ غیر ملکوں سے آنے والے اکثر ادیب انہی کے ہاں قیام کرتے ہیں۔ صہبا صاحب اپنے مہمانوں کا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ ان سے افکار کا اداریہ ہی نہیں لکھواتے، پروف بھی پڑھواتے ہیں، اسی لئے افکار میں معنوی غلطیاں تو ہوتی ہیں کتابت کی کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ صہبا صاحب اتنے وسیع القلب ہیں کہ غیر ملکیوں سے بھی اپنے ہم وطنوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ یعنی انہیں ان کے نام سے نہیں، افکار کے سالانہ خریدار نمبر سے یاد رکھتے ہیں ۔ غیر ملکی مہمان بھی صہبا صاحب کا اس قدر خیال کرتے ہیں کہ اپنے پاسپورٹ پر"افکار" کا خریدار نہیں بھی لکھ رکھتے ہیں تاکہ کہیں غلطی سے انہیں دوبارہ خریدار نہ بنالیاجائے ۔
شاہین" اردو کینیڈا" کے نام سے انگریزی میں ایک رسالہ شائع کرتے ہیں جس میں اردو تخلیقات کے انگریزی تراجم اور اردو ادب کے بارے میں تعارفی و تنقیدی مضامین شائع ہوتے ہیں ۔ کتابوں پر تبصرے اور ادبی خبریں بھی ہوتی ہیں۔ اس رسالے کے اب تک دو شمارے شائع ہوئے ہیں اور دونوں ہی ایڈیٹر کی محنت اور خوش ذوقی کا آئینہ ہیں۔ شاہین ایک اچھے شاعر بھی ہیں جس کا علم ہمیں ان کے دیوان کی اشاعت سے ہوا تھا، اور مزید علم" اردو کینیڈا" سے ہوا ہے کہ اس میں ان کی نظموں کے انگریزی تراجم شامل ہیں۔یہ تراجم ہمیں اتنے پسند آئے کہ جی چاہتا ہے انہیں دوبارہ اردو میں ترجمہ کیاجائے ۔
"اردو کینیڈا" میں نئے پرانے ، اچھے برے ، معروف، غیر معروف ، ہر طرح کے ادیبوں کی تخلیقات کے تراجم شائع کئے گئے ہیں جن سے معلو م ہوتا ہے کہ اردو ادب واقع بڑی کسمپرسی کی حالت میں ہے ۔ خدا کرے یہ رسالہ تا دیر جاری رہے تاکہ ہمارے لکھنے والوں کی جو تحریریں اردو میں براہ راست قارئین کو متاثر نہیں کرسکیں ، انگریزی میں ترجمہ ہوکر اپنا ایک حلقہ اثر قائم کرلیں۔ رسالے کا تعارفی و تنقیدی حصہ خاصا معلوماتی ہے ۔ کاش اردو ادب سے متعلق اس قسم کے سنجیدہ ادبی رسالے پاکستان اور ہندوستان سے بھی شائع ہوں۔

(6/ نومبر 1986)

ماخوذ از کتاب:
سن تو سہی (مشفق خواجہ کی منتخب تحریریں)
مرتبین : ڈاکٹر انور سدید ، خواجہ عبدالرحمن طارق

A guest editorial and proof reading. Article: Mushfiq Khwaja

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں