صحافت اور ادب - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-03-30

صحافت اور ادب

journalism-and-literature
صحافت ایک معزز پیشہ ہے۔ اخبار نویسی ،صحیفہ نگاری یا جرنلزم کے دیگر ناموں سے بھی یہ معروف ہے۔"صحافت نگار"۔"صحافی " "اخبار نویس" یا "جرنلسٹ" کہلاتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ صحافت ایک وسیع میدان ہے۔چند صحافی اسے مکمل روزگار کی طرح اپناتے ہیں۔انہیں ورکنگ جرنلسٹ کہتے ہیں۔ مختلف افراد اس شعبے کو مختلف انداز میں اپناتے ہیں۔ کوئی اسے جز وقتی طور پر اپناتا ہے تو کوئی شوقیہ طور پر اپناتا ہے۔تو کوئی اسے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنی شہرت کے لئے اپناتے ہیں۔اور ایک شکل "آزاد صحافی " کی بھی ہے۔جنھیں انگریزی میں Free Lance Journalist کہتے ہیں۔
صحافت ایک نہایت ذمہ دارانہ پیشہ ہے،جس میں دماغی صلاحیتوں سے کام لینا پڑتا ہے۔صحافت کو جمہوریت کا اہم ستون مانا جاتا ہے۔صحافت ہی کے ذریعے سارے معاشرے میں تبدیلی آسانی سے لائی جا سکتی ہے۔چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا۔جسکی زندہ مثالیں دور جدید میں موجود ہیں۔صحافت ،اخبار یا خبرنامہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کی تاریخ انسان کی بیشتر ایجادوں کی طرح کافی پرانی ہے۔محمد عتیق صدیقی نے اپنی کتاب "ہندوستانی اخبار نویسی" میں لکھا ہے۔
" حضرت مسیح ؑ سے کوئی 751 برس پہلے رومن راج میں روزانہ قلمی خبرنامہ جاری کیا جاتا تھا جس میں سرکاری اطلاعیں نیز میدان جنگ کی خبریں بھی ہوتی تھیں۔اس قلمی خبرنامے کو’ اک ٹا ڈیوری نا ‘ کہتے تھے۔یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جو Acta اور Durna کا مرکب ہے۔اول الذکر کے معنی ہیں کاروائی اور موخر الزکر کے معنی ہیں روزانہ"۔
قدیم زمانے میں عوام الناس تک خبریں پہنچانے کے لئے مختلف ذرائع اور طریقوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔مثلاً عام شاہراہ پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے عوام کی دلچسپی کی خبریں سنانا۔ابتدائی زمانے میں اخبار کی یہ سج دھج نہیں ہوتی تھی جو آج ہمارے زمانے میں ہے۔بس سادے سیدھے خبرنامے ہوتے تھے۔ہندوستان میں جب صحافت کا آغاز ہوا تو اس کے لئے مختلف طریقے اور ذرائع کو روبہ عمل لایا گیا۔کلکتہ سے اردو کا پہلا اخبار جو ہفتہ روزہ "جام جہاں نما " 1822 ء سے اردو کی مطبوعہ صحافت کا آغاز ہوتا ہے۔
اس طرح اس وقت اردو صحافت کی عمر 195 سال ہے۔اور یہ ہندوستان کی قدیم ترین صحافت ہے۔تاریخ اردو ادب پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے زمانے کے نشیب وفراز دیکھیں ہیں۔اور اردو کی تاریخ بہت ہنگامہ خیز رہی ہے۔اس نے ہر قسم کے ظلم وجبر اور سنگین حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔یہ تو ہوئی اردو کی بات وہیں دوسری طرف صحافت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔اردو صحافت کے ساتھ ساتھ اردو صحافیوں نے مختلف النوع اقسام کے سنگین حالات اور ظلم وجبر ،پابندیاں ،جیل کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے اپنے مشن کو بڑی پامردی کے ساتھ جاری وساری رکھا۔اور اسی کانتیجہ ہے کہ آج اردو صحافت ماضی کی شاندار روایات اور قابل فخر ورثہ کی مالک ہے۔لیکن اس خطرے سے گہر ہونے تک کی تاریخ بڑی سخت ہے۔اسے چند جملوں یا ایک مضمون یا مقالے میں سمیٹا نہیں جاسکتا۔
اردو صحافت کی تاریخ کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول : 19 ویں صدی کے اخبارات و جرائد
دوّم : 1901ء سے 1947 ء تک کی اردو صحافت ۔ سوّم : آزادی و تقسیم سے آج تک کے شائع ہونے والے اردو اخبارات و رسائل۔
موجودہ دور سائنس اور تکنالوجی کا دور کہلاتا ہے۔نیز علمی دھماکہ کا دور بھی کہلاتا ہے۔اس سائنسی دور میں جدید ایجادات کی مدد سے عوامی معلومات بڑی چابکدستی اور حسن و خوبی سے فراہم کی جاتی ہیں۔کمپیوٹر کے اس دور میں ہمیں اخبارات کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ اخبار انسان کی زندگی میں سانس کی طرح ہے۔موجودہ ترقی یافتہ دور میں تو صحافت چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا نہایت ہی خطرناک اور کارآمد ہتھیار مانا جارہا ہے۔اور ساری دنیا میں ہم اس کے نظارے آے دن دیکھ رہیں ہیں۔کس طرح اس میڈیا کا استعمال کرکے کیا کیا کیا جارہا ہے۔اکبر الہٰ آبادی کا شعر با لکل راست ترجمانی کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔
کھنچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو گر توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
اخبار نیوکلیر ہتھیا ر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔جو چاہے تو حکومت کی بساط پلٹ کر رکھ دے اور حکومت کی کشتی میں سراخ بھی ڈال دے۔اور ایسے ویسوں کو اقتدار کے مسند پر فائز کردے۔توپ اور بندوق تو چند لوگوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے لیکن اخبار، وہ خراب ہو تو پھر پوری قوم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔آے دن اس کے نظارے ہم اپنے ملک عزیز میں دیکھتے رہتے ہیں۔اسی لئے بابائے قوم گاندھی جی نے کہا تھا ایک اچھے اخبار کو کن مقاصد کا حامل ہونا چاہئے ۔

وہ کہتے ہیں۔"اخبار کا ایک مقصد عام آدمیوں کے احساسات کو پوری طرح سمجھنا اور ان کو ظاہر کرنا ہے ۔دوسرا مقصد عام لوگوں میں کچھ ایسے جذبات پیدا کرنا اور انھیں ابھارنا ہے۔جن کی ملک اور قوم کو ضرورت ہو۔اور تیسرا مقصد عام زندگی کی کمزوریوں اور کرابیوں کو بے جھجک ظاہر کرتا ہے۔"
گاندھی جی کے نزدیک بھی اخبار یا صحافت بڑے کام کی چیز تھی ۔صحافت کا کام عوامی احساسات جذبات،خیالات کو عام کرنا ہے۔عوامی جذبات و احساسات کو ابھارنا اور ملک کی ترقی کے لئے انھیں سودمند بناتا ہے۔ ساتھ ہی عام زندگی کی کمزوریوں اور خرابیوں کا ظاہر کرتا ہے۔نیپولین بوناپارٹ کو اخبارات کی طاقت کا علم تھا اس کا قول تھا کہ "تین مخالف اخباروں سے ایک ہزار بندوقوں سے بھی خوف کھانا چاہیئے۔"
جنگ آزادی کے زمانے میں بعض اخبارات ایسے بھی تھے جن کی آواز سے حکومت برطانیہ لرزہ بر اندام ہوجاتی تھی۔مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابولکلام آزاد کی تحریروں سے فرنگی خوف زدہ ہوجاتے تھے۔
صحافت میں ایک عظیم کائنات پوشیدہ ہے یہ ایک بحر بے کنار ہے اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو اس سے الگ رہتا ہو۔اخبار گویا ایک کاغذی جن ہے۔
" اخبار کی کہانی " میں غلام حیدر نے اخبار کو "کاغذی دیو " کہا ہے وہ کہتے ہیں کہ : اخبار کو ہم ایک کاغذی دیو بھی کہہ سکتے ہیں جسے پرانی کہانیوں کے دیو کی طرح ہم ہی نے پیدا کیا ہے۔"
اس دور کمپیوٹر میں صحافت گویا عوام کی آنکھ ہے جس سے وہ دیکھ سکتے ہیں ،عوام کا دماغ ہے جس سے وہ سوچتے ہیں ،عوام کا دل ہے جس سے وہ نیک و بد ،اچھے برے کو پہچان سکتے ہیں۔الغرض صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جو عوام کی زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوتی ہے ،ان کے خواہشوں اور امنگوں کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ان کو واقعات کا علم بہم پہنچاتی ہے ان کی رہبری و رہنمائی کرتی ہے۔
اردو میں بہت سے ایسے کامیاب ادیب پیدا ہوئے ہیں جو بنیادی طور پر صحافی تھے۔اور بعض ایسے ادیب بھی ملتے ہیں جنھوں نے صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔یوں تو صحافت پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔لیکن انگریزی زبان میں صحافتی کتابیں کافی مقبول ہوئی ہیں اس طرح اردو میں نہیں ہوئی۔امریکہ میں واٹر گیٹ اسکینڈل اور ہندوستان میں ایمرجنسی کے بدترین حالات پر مبنی کتابیں شایع ہویءں۔
پریس کی آمد کے بعد اردو ادب اور اردو زبان میں زبردست انقلابی تبدیلیاں رونما ہویءں۔ادب کو ہندوستان کے گوشے گوشے میں پہنچانے اور عام زبان میں پیش کرکے ابتدائی نقوش گلدستوں کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔اردو زبان کی بدلتی ہوئی لہروں کا اندازہ اردو صحافت کے ذریعہ ہی منظر عام پر آیا ۔اردو صحافت نے اردو ادب نثر ونظم کی نشو ونما میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں انھیں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
منشی پریم چند ،فیض احمد فیض ،عبد المجید سالک،دیا نرائن نگم صحافی تھے۔لیکن ان کی صحافیانہ حیثیت پر آہستہ آہستہ پردہ پڑتے چلا گیا اور ہم انھیں ادیب اور شاعر ہی سمجھتے چلے گئے۔بابائے اردو مولوی عبد الحق کی چند ہم عصر میں مشاہیر قوم اور ادب کے جو خاکے لکھے گئے تھے وہ پہلے پہل رسائل ہی میں شائع ہوئے تھے۔مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریریں جو الہلال اور البلاغ میں شائع ہوئیں ہیں وہ ایک عمدہ ادبی چاشنی لئے ہوئے ہیں۔ان کا انداز بیان صحافیانہ نہیں بلکہ خالصتاً ادبی ہے۔وہ خالص ادب ہے۔کرشن چندر صف اول کے افسانہ نگار ہیں،لیکن انکی بعض تحریروں میں صحافیانہ رنگ کی جھلک نظر آتی ہے۔لیکن بنیادی طور پر وہ ادیب ہی ہیں۔خواجہ حسن نظامی بیک وقت صحافی اور ادیب تھے۔نگار کے مدیر نیازفتح پوری ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی انکے خطوط میں ادبیت جھلکتی ہے۔زمیندار کے مدیر مولانا ظفر علی خان ایک مشہور ادیب و شاعر تھے لیکن تمام عمر صحافت سے منسلک رہے۔زمیندار کے بارے میں شورش کاشمیری لکھتے ہیں۔
" مولانا نے اخبار کی آبرو میں شعر و ادب کی چاشنی سے اضافہ کیا ۔معاصرانہ نوک جھونک کی ادبی صورت گری کو رواج دیا۔نیز اخبار ی شاعری کی بنیاد ڈالی جو واقعہ نگاری اور تبصرہ نگاری سے بڑھتی پھیلتی ہجو نویسی اور طنز نویسی تک چلی گئی"۔
علامہ اقبال ،چکبست،جوش ،فراق ،فیض احمد فیض ،احمد ندیم قاسمی ،مجروح،حفیظ ان تمام شعراء کا کلام اخبارات میں بھی شائع ہوتا رہا۔اور اسی طرح سے صحافت اور ادب کے فرق کو بھی مٹاتے رہے۔

ادب اور صحافت میں ایک گہرا رشتہ ہونے کے باوجود بھی ان دونوں میں ہم خط امتیاز کھینچ سکتے ہیں۔ادب کا میدان صحافت کی راہوں سے بالکل جداگانہ نظر آتا ہے۔صحافت میں جذبات کی بر انگیختگی کی ڈگر پائی جاتی ہے۔عوام کے جذبات کو اکسایا بھڑکایا جاتا ہے۔تحریر میں انفرادیت اور جدت بھی ہوتی ہے۔مثلاًًجب ہم کسی خاص سلگتے ہوئے مسئلے پر دو ر حاضر کے بعض مسائل پر قلم اٹھاتے ہیں تو ہمارے پیش نظر اس موضوع کی تردید یا تائد ہوتی ہے،حمایت یا مخالفت مقصد ہوتی ہے،چاہے اس کے نتائج کچھ بھی کیوں نہ مرتب ہوں۔صحافت کا ایک خاص اسلوب ہوتا ہے اس میں قوت متخیلہ یا تخیل کو ہر گز دخل نہیں ہوتا ہے۔اگر تخیل کی آمد ہوتی ہے تو صرف زبان وبیان کی خوبیوں کے ضمن میں۔صحافی کے لئے زبان کی صحت بہت ضروری ہے۔اخبار عام قاری کے لئے ہوتا ہے۔لیکن تعلیم یافتہ مدبر ،دانشور طبقہ بھی اسے پڑھتا ہے۔اس لئے اخبار کی زبان قابل فہم ،بے داغ ،درست اور مروّج اصطلاحات سے آراستہ ہوتی ہے۔زبان با محاورہ اور اس قدر صاف شفاف ہوتی ہے کہ قاری کو کسی لفظ کے سمجھنے کے لئے لغت کا سہارا لینا نہیں پڑتا۔
ادب اور صحافت کے درمیان باہمی ربط و تعلق کے بارے میں "رہبر اخبار نویسی" میں سید اقبال قادری اپنی کتاب میں رقمطراز ہیں۔
" ادب کی تخلق سے ادیب کو آسودگی اور طمانیت حاصل ہوتی ہے صحافت کی مصروفیت سے صحافی کو صرف روزمرہ کے فرائض کی سبکدوشی سے تشفی ہوتی ہے ۔ادیب ماحول کا پروردہ ہے تو صحافی ماحول کا سچا ترجمان ہے۔ادب کی دنیا محسوسات کی دنیا کہی جاسکتی ہے جبکہ صحافت کی دنیا میں احساسات اور جذبات کو سرسری طور پر نمایاں کیا جاتا ہے۔ادب میں قاری کے حواس و احساسات کی تسکین ممکن ہے مگر صحافت میں صحافی کے احساسات و جذبات کی کارفرمائی بہت کم رہتی ہے۔ادب کے ذریعہ قاری کی حسّیات میں ہلچل مچائی جا سکتی ہے جب کہ صحافت کے ذریعہ قاری کی عام معلومات میں اضافہ کیا جاتاہے۔ادب میں عقل و فکر اور دلائل کی اہمیت ہے جبکہ صحافت میں واقعات کے تسلسل کو زیادہ فوقیت دی جاتی ہے۔ادب میں جمالیاتی جبلّتیں موجزن رہتی ہیں۔صحافت میں جمالیاتی حس دبی ہوئی رہتی ہے۔صحافتی تحریر سے قاری کے ساز دل میں ارتعاش پیدا نہیں ہوتا جبکہ ادب کے قاری پر ہمیشہ ایک خاص نفسیاتی کیفیت ضرور طاری ہوتی ہے۔ادیب ایک مخصوص قسم کی ادبی چاشنی سے قاری کو محظوظ کرتا ہے جبکہ صحافی ذریعۂ اظہار کا زیادہ ماہر ہوتا ہے۔صحافی اور ادیب دونوں الفاظ کے جادوگر ہوتے ہیں۔ادیب ادائے مطلب کے ساتھ ساتھ طرز ادا کو بھی اہمیت دیتا ہے جبکہ صحافی نغمگی سے زیادہ صاف گوئی کو اہم سمجھتا ہے۔ادبی تحریر میں ایمایئت ،رمزیت،حسن و جمال ،لطافت ،نزاکت وغیرہ کے اجزا نمایاں رہتے ہیں جبکہ صحافت میں مقصدیت ،حق گوئی ،بے باکی ،روانی ،تسلسل ،سہل نگاری اور اختصار نویسی کے اجزاء جلوہ فگن رہتے ہیں۔ادب میں دروں بینی اور بصیرت ہوتی ہے ۔صحافت میں حقائق کی سطح پر واقعات کو من وعن بیان کرنے کی کیفیت زیادہ ہوا کرتی ہے ۔ہر ادیب ایک انفرادی لہجہ اختیار کرنے کا آرزامند ہے جبکہ صحافی وسیلۂ اظہار کو ترجیح دیتا ہے۔ادب اذہان پر گہری چھاپ چھوڑنے کی سعی کرتا ہے جبکہ صحافت میں ترسیل و ابلاغ کی صلاحیت کو کامیابی سے بروئے کار لایا جاتاہے۔
صحافی افسانہ نگاروں اور ناول نویسوں کی طرح تخیلات کی دنیا میں پرواز نہیں کرتے،وہ حقائق سے قریب تر رہتے ہیں۔وہ چشم دید حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ زماں و مکاں سے قربت کے قائل ہیں۔صحافی بھی نظریات اور خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں مگر ایسے نظریات کا جدید اور تازہ ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔وہ ماضی سے زیادہ حال اور مستقبل کے مورّخ ہوتے ہیں۔سائنس داں اپنی تحقیقات کے لئے لیبوریٹری میں مصروف رہتے ہیں ۔صحافی کا میدان عمل "ساری دنیا" ہے اور ان کے تجربات کا محور "ساری زندگی " ہے۔

***
Head Urdu Dept. Shivaji College, Hingoli. Maharashtra.
ای-میل: profiqbaljaved[@]yahoo.com
پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال

Journalism and Literature. Article: Prof Dr Mohammad Iqbal

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں