ایک عہدہ، ایک پنشن - یوپی اے حکومت کی پہل - ڈگ وجئے - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2014-10-25

ایک عہدہ، ایک پنشن - یوپی اے حکومت کی پہل - ڈگ وجئے

نئی دہلی
پی ٹی آئی
کانگریس قائد ڈگ وجئے سنگھ نے’’ایک عہدہ ، ایک پنشن‘‘ ریمارک پر آج وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ تنقید بنایا اور کہا کہ وہ کانگریس کے اقدامات کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ڈگ وجئے سنگھ نے ٹوئٹر پر کہا اب مودی دفاعی عملہ کے لئے ایک عہدہ ، ایک پنشن کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دوسروں نے جو کام کیا ہے وہ اس کا سہرا خود اپنے سر لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوپی اے حکومت نے ود سال پہلے دفاعی عملہ کے لئے ایک عہدہ ، ایک پنشن کا فیصلہ لیا تھا ، اور بجٹ میں فنڈس فراہم کئے تھے ۔ اب اس اسکیم کا سہرا وہ ا پنے سر لینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی جنہوں نے کل سیاچن کا دورہ کیا تھا ، کہا تھا کہ مسلح افواج کا یہ مسئلہ ان کے لئے ایک جذباتی موضوع رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ’’ایک عہدہ ایک پنشن‘‘ کے بغیر کتنی دہائیاں گزر گئیں ، یہ میری قسمت میں لکھا تھا کہ میں ایک عہدہ ایک پنشن کا کام مکمل کروں۔ اب ایک قومی جنگی یادگار تعمیر کرنے کے لئے تیاریاں جارہی ہیں جس پر ہم سب فخر کرسکیں گے ۔
یو این آئی کے بموجب وزیر فینانس ارون جیٹلی کی جانب سے یہ ریمارکس کئے جانے کے دو دن بعد کہ کالا دھن رکھنے والوں کے ناموں کا انکشاف کرنے سے کانگریس کو شرمندگی ہوگی ، پارٹی قائد و سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے کہا کہ ناموں کے انکشاف سے کانگریس پارٹی کو نہیں بلکہ متعلقہ فرد کو شرمندگی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کالا دھن رکھنے والوں کی فہرست میں کوئی بڑا نام شامل ہے تو کانگریس کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی ۔ جو بھی نام ہیں اس کی وجہ سے متعلقہ فرد کو ہی پریشانی ہوسکتی ہے ۔ یہ انفرادی معاملات ہیں۔ چدمبرم نے ایک ٹی وی چیانل کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ سوئز کھاتے رکھنے والے قائدین سے کانگریس کو نہیں جوڑا جاسکتا ۔
وزیر فینانس ارون جیٹلی نے دو دن قبل انتباہ دیا تھا کہ اگر کالا دھن رکھنے والوں کے ناموں کا انکشاف کیاجائے تو کانگریس کر پریشانی ہوسکتی ہے ۔ ارون جیٹلی کے اس تبصرہ کو بلیک میل کی مثال قرار دیتے ہوئے چدمبرم نے کہا کہ ارون جیٹلی کے اس تبصرہ کا مقصد بلیک منی سے بلیک میل پر منتقل ہونا ہے ۔’’آپ صرف نام جاری کریں‘‘۔ قبل ازیں کانگریس قائدین اجئے ماکن و ڈگ وجئے سنگھ نے بھی ارون جیٹلی کے تبصرہ پر رد عمل ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کو فہرست میں شامل نام منظر عام پر لا نا چاہئے ۔ اسے انتقامی کارروائی کے طور پر چنندہ ناموں کا افشاء نہیں کرنا چاہئے ۔ کانگریس، بی جے پی اور وزیر اعظم مودی پر یہ الزام عائد کرتی رہی کہ وہ کالا دھن مسئلہ پر ملک کو گمراہ کررہے ہیں اور لوک سبھا انتخابات کے بعد اس مسئلہ پر اپنا موقف تبدیل کررہے ہیں ۔

Modi master at taking credit for UPA policies: Digvijaya

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں