International NGO: Gaza will take 20 years to rebuild
اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے بعد اس کی تعمیر نو کا جائزہ لینے والی ایک بین الاقوامی تنظیم نے کہا ہے کہ غزہ کی تباہی اتنی شدید ہے کہ شہر کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے20سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ ہیلٹرکلسٹر نامی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے کئے گئے اس جائزے کی نگرانی ناروے رفیوجی کونسل کررہا تھا ۔ اس عمل میں اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی اور ریڈ کراس بھی شامل تھے ۔ یہ مشترکہ جائزہ اسرائیل کے حملوں سے تباہ ہوئے غزہ کی تعمیر نو کی پیچیدہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے ۔ واضح رہے کہ فلسطینیوں نے بھی غزہ کی تعمیر نو کے لئے6ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے ۔ غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کے کسی بھی عمل میں اسرائیل اور مصر کی جانب سے کی گئی سرحدی ناکہ بندیاں مشکلات پیدا کرسکتی ہیں ۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ کے لئے تعمیر کے لئے ضروری اشیاء کی درآمد پر پابندی لگا رکھی ہے ۔ اپنی رپورٹ میں تنظیم نے کہا کہ18لاکھ کی آؓادی والے غزہ کے17000مکانات اور عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں اس کے علاوہ500سے زائد عمارتیں اسرائیلی حملوں میں تباہ ہوئیں جنہیں مرمت کرانے کی ضرورت ہے ۔ یاد رہے کہ غزہ میں ابھی بھی 75000رہائشی عمارتوں کی قلت ہے۔ ایک بین الاقوامی ایجنسی کی جانب سے پیش کئے اس جائزے پر اسرائیل حکومت نے ابھی تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اسرائیل نے یہ بھی واضح نہیں کیا ہے کہ آیاوہ تعمیر نو کے دوران ضروری سامانوں کی غزہ تک ترسیل کے لئے سرحدی ناکہ بندی کو ختم کرے گا یا نہیں واضح رہے کہ گزشتہ2مہینوں سے جاری اسرائیل اور حماس کی غیر مساوی جنگ کے بعد منگل کے روز دونوں فریق جنگ بندی کے ایک معاہدے پر متفق ہوگئے تھے ۔ اس سے جنگ تو بند ہوگئی ہے لیکن معصوم فلسطینی شہریوں کے سامنے مختلف مسائل بھی کھڑے کردئیے ہیں ۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں