اسرائیل اور حماس کا 72 گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2014-08-11

اسرائیل اور حماس کا 72 گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق

غزہ/ یروشلم
پی ٹی آئی
اسرائیل اور فلسطین نے غزہ میں72گھنٹے کی نئی جنگ بندی پر اتفاق کرلیاہے ۔ اس سے پہلے مصر کی مدد سے ہونی والی جنگ بندی کے تین روز بعد فریقین میں لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی تھی ۔ امید کی جارہی ہے کہ اس جنگ بندی سے مذاکرات کاروں کو طویل المدتی صلح کروانے کا موقع ملے گا ۔ اس سے قبل آج غزہ پٹی پر تازہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں آج مزید دس فلسطینی ہلاک ہوگئے۔ غزہ طبی ذرائع کے مطابق اتوار کو ہوئے ان تازہ فضائی حملوں میں ایک سترہ سالہ فلسطینی بھی ہلاک ہوا ہے ۔ ادھر آج حماس کی طرف سے بھی اسرائیل پر دو نئے راکٹ حملے کئے گئے ہیں ۔ عالمی برادری فریقین پر زور دے رہے ہیں کہ اس بحران کے حل کے لئے مذاکرات کی میز کا رخ کریں ۔ اسرائیل نے آج اتوار کو کہا ہے کہ وہ مصری ثالثی میں فائر بندی مذاکرات کی طرف اس وقت تک نہیں لوٹے گا جب تک فلسطینی عسکریت پسندوں کی طرف سے سرحد پار سے راکٹ اور ماٹر گولے برسنا بند نہیں ہوتے ۔ ادھر قاہرہ میں فلسطینی فلسطینی وفد کے سربراہ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ فائر بندی مذاکرات سے نکل جائیں گے اگر اسرائیلی مذاکرات کاروں کا وفد بات چیت کے لئے دوبارہ قاہرہ نہیں پہنچتا۔ واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو تین روزہ فائر بندی ختم ہونے سے چند گھنٹوں پہلے اسرائیلی وفد قاہرہ چھوڑ کر وطن لوٹ گیا تھا ۔ فائر بندی کی آکری میعاد پورا ہونے کے بعد فلسطینی علاقے سے فائر کئے جانے والے راکٹوں اور مارٹر گولوں کا نشانہ اسرائیلیوں کے اجتماعی فارمز بنے ہیں۔
بظاہر یہ حماس کی ایک حکمت عملی ہے جس کے تحت وہ اسرائیل کو ذہنی طوراور اخلاقی طور پر دھچکا لگانا چاہتے ہیں قبل اس کے کہ تل ابیب کی طرف سے غزہ پٹی کے چھوٹے سے سلاقے پر ممکنہ طور پر ایک نیا زمینی حملہ شروع ہو ۔ اسرائیلی زمین آپریشن کے سبب غزہ کے بیشتر علاقے تباہ ہوگئے ہیں۔ تل ابیب میں اپنی کابینہ سے تازہ ترین خطاب میں اسرائیل وزیر اعظم بیجامن نتن یاہو کا کہناتھا کہ اسرائیل حملوں کے دوران مذاکرات کی طرف کسی صورت نہیں لوٹے گا ۔ ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اسرائیلی فوجی آپریشن ختم ہوگیا ہے ۔ یہ آپریشن اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا ۔ یعنی ایک ہتھیاروں کی خاموشی تک ہماری فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی ۔ نتن یاہو کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حکمت عمل میں وقت لگے گا اور اس کے لئے بہت قوت و برداشت چاہئے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کیمون نے دونوں فریقوں سے کہا کہ وہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا احترام کریں اور قاہرہ میں دوبارہ مذاکرات کی میز پر اکٹھے ہوں ۔ امریکی وزیر خارجہ نے متعدد بار اسرائیلی حکام سے بذریعہ ٹیلی فون بات چیت کی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ میں قریب دو ہزار جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں1354افراد عام شہری تھے ۔ جن میں415بچے اور214عورتیں شامل ہیں۔ گزشتہ جمعرات کو انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے ہسپتال اور امدادی ٹیموں پر جان بوجھ کرحملے کئے گئے ہیں اور ان کی تفتیش ہونی چاہئے ۔

Israel and Hamas agree to 72-hour Gaza cease-fire

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں