رشوت لینے اور دینے والے دونوں مجرم - لارڈ سوراج پال
مشہور این آر آئی صنعتکار لارڈ سوراج پال نے کہا کہ ہندوستان میں اس وقت تک رشوت کا خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ لینے اور دینے والوں دونوں افراد کو عوام کے سامنے بے نقاب نہ کیا جائے اوت قانون کے تحت سخت سزانہ دی جائے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ڈائرکٹرس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سوراج پال نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح رشوت مختلف ممالک میں سماج کے ڈھانچہ کو تباہ کر رہی ہے اور بین الا قوامی سطح پر ان ممالک کی امیج کو متاثر کر رہی ہے۔ ہندوستان میں 1982سے رشوت کے خلاف سر گرم لڑائی ہورہی ہے۔ جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستان کی معاشی ترقی کو رشوت خوری دیمک کی طرح کھار ہی ہے۔ خانگی اور عوامی شعبہ میں رشوت کا چلن عام ہے۔ اس برائی کا خاتمہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سماج میں رشوت لینے والے ساتھ ساتھ رشوت دینے عالے کو بھی بے نقاب کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جس سماج میں رشوت ایک بیماری کی طرح پھیل گئی ہے اس کا صرف یکطرفہ علاج بیماری کو ختم نہیں کرسکتا ۔ وہ برطانوی یونیورسٹیوں کے چانسلر سوراج پال نے امید ظاہر کی کہ لوک سبھا میں جو کمپنیزبل 2012پاس کیا گیا ہے اس ہندوستانی کمپنی قوانین میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ اس سے نہ صرف شفافیت بہتر ہوگی بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کار ہندوستان میں دلچسپی لیں گے۔ کپارو گروپ انڈسٹریز کے صدر نشین سوراج پال نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو قوانین پاس کئے جاتے ہیں وہ اسی وقت کارگر ہوتے ہیں جب تجارتی برادری اس پر عمل کرتی ہے۔ اگر قانون کو صرف کتابوں تک محدود رکھ دیا جائے تو پھر اس کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔
Bribe giver and taker must be equally exposed to scrutiny: Lord Swaraj Paul

گفتگو میں شامل ہوں