باراک اوباما اور حسن روحانی کی ملاقات کے امکانات پیچیدہ
جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کے اجلاس سے فارغ وقت کرتے ہوئے صدر امریکہ بارک اوباما اور صدر ایران علامہ حسن روحانی کے درمیان جس ملاقات کی توقع کی جارہی تھی وہ اب پوری نہیں ہوگی کیونکہ ایرانیوں کے لئے یہ امکانی ملاقات بہت پیچیدہ بن گئی ہے اوباما نظم و نسق کے ایک سینئر عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر اخبار نویسوں کو یہ بات بتائی اور کہاکہ اس سلسلہ میں امریکہ کی جانب سے پیشکش کیاگیاتھا جس کو ایرانی عہدیداروں نے یہ کہتے ہوئے(عملاً)مسترد کردیاکہ بحالت موجودہ یہ(ملاقات)ان کیلئے "بے حد پیچیدہ" ہے امریکی عہدیدار نے بتایاکہ"یہاں کسی رسمی باہمی ملاقات کیلئے ہمارا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ہم نے اشارہ دیاتھاکہ دونوں قائدین، اگر موقع ملے تو(جنرل اسمبلی اجلاس سے وقت فارغ کرتے ہوئے) ملاقات کرسکتے ہیں۔ ایرانیوں نے ہم سے جوابی رابطہ قائم کیا اور اس طرح یہ واضح ہوا کہ یہ(ملاقات) ایرانیوں کیلئے خود اپنے وطن کی حرکیات کے پیش نظر بحالت موجودہ بہت پیچیدہ ہے۔ تاہم عہدیدار نے بتایاکہ امریکہ اپنے سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کے توسط سے "راست بات چیت جاری رکھے گا جیسا کہ اوباما نے کل ، جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیاہے۔ اوباما نے کل کہاکہ"میں، جان کیری کو ہدایت دیتاہوں کہ وہ یوروپین یونین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعہ اس سلسلہ میں حکومت ایران کے ساتھ مساعی جاری رکھیں۔"
Obama Won't Meet With Rohani While at UN

گفتگو میں شامل ہوں