ائمہ موذنین کو تنخواہیں غیر دستوری - کلکتہ ہائیکورٹ
کلکتہ ہائیکورٹ نے آج ایک فیصلہ میں کہا کہ مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ائمہ وموذنین کو الاو¿نس جاری کرنے کا اعلان غیر دستوری اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ جسٹس پرنب کمار چٹوپادھیائے اور جسٹس ایم پی شریواستو پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے ریاستی حکومت کے اعلان کے چیلنج کرتے ہوئے داخل کی گئی درخواست پر یہ حکم دیا ۔ عدالت نے کہا کہ الاو¿نس دستور کی رفعہ 15اور 15/1کی خلاف ورزی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حکومت صرف مذہب، ذات پات، نسل، جنس ، مقام پیدائش یا ان میں سے کسی ایک بنیاد پر شہریوں سے امتیاز نہیں برت سکتی ۔ چیف منسٹر ممتابنرجی اپریل 2012ءمیں ائمہ کے لئے فی کس 2,500روپے اور مو¿ذنین کے لئے فی کس 1,500روپے وظیوں کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کے فیصلہ کو بی جے پی کی ریاستی جنرل سکریٹری اسیم سرکارنے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا اور استدلال کیا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں اس طرح کے الاو¿نس کی اجرائی مذہبی بنیادوں پر مساوات کے مغائر ہے۔ سرکار کے وکےل نے یہ بھی کہا کہ یہ وظیفے عوامی مفاد میں نہیں ہے جب کہ اس سے سرکاری خزانہ پر سالانہ 126 کروڑروپے کا بوجھ عائد ہوگا ۔
Calcutta High Court scraps Mamata Banerjee's stipend to Imams and muezzins

گفتگو میں شامل ہوں