ابوسالم کی عرضی پر سپریم کورٹ کا آج فیصلہ
پرتگال کی سپریم کورٹ نے پرتگالی سرکاری عہدیداروں کی حوالگی مجرمین قواعد کی خلاف ورزی کی پاداش میں مجرم ابوسالم کی حوالگی کو منسوخ کردیا ہے جس کے بعد ابوسالم نے مختلف مقدمات میں اپنے خلاف قانونی کارروائی کو کالعدم قراردینے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی جس پر عدالت کل فیصلہ صادر کرے گی۔ سی بی آئی کا بیان جس میں بتایا گیا تھا کہ ایجنسی ٹاڈا اور قانون دھماکو مادوں کے تحت ابوسالم کی تحویل کے وقت حکومت پرتگال سے کئے گئے وعدے کو ملحوظ رکھتے ہوئے چند الزامات سے دستبرداری اختیار کرنے کیلئے تیارہے، جس پر غورکے بعد چیف جسٹس ستیہ شیوم کی زیر قیادت بنچ نے فیصلہ کو 9 جولائی تک محفوظ کردیا تھا۔ حکومت پرتگال سے ابوسالم کی تحویل کے وقت یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اسے سزائے موت نہیں دی جائے گی اور نہ خاطی پائے جانے کی صورت میں25سال سے زائد عرصہ تک حراست میں رکھا جائے گا۔ اٹارنی جنرل ای ای او اہنوتی نے بتایا کہ حکومت پرتگالی عدالت کو دئیے گے تیقن کے عہد کی پابند ہے۔ انہوں نے خصوصی عدالت کی جانب سے ابوسالم کے خلاف وضع کردہ اضافی الزامات سے دست کشی اختیار کرنے سپریم کورٹ سے اجازت طلب کی ہے۔ ایجنسی نے ٹاڈا کی دفعہ 5اور6 اوردھماکو مادوں کے قانون کی دفعہ (b) 4و5 کے تحت الزامات سے دستبرداری کی درخواست کی ہے۔ سالم 31 جنوری کو ٹاڈا عدالت کے حکمنامہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوا تھا جبکہ مقدمہ کی مسدودی کی درخواست کو مسترد کردیا گیا جس پر سپریم کورٹ نے مقدمہ کے خلاف حکم التواء جاری کیا ہے۔ ابوسالم نے پرتگالی سپریم کورٹ کی جانب سے تحت کی عدالت کے فیصلے کو بحال قرار دئیے جانے کے بعد عرضی دائر کی تھی جبکہ تحت کی عدالت نے ہندوستانی ارباب مجاز جانب سے تحویل مجرمین قواعد کی خلاف ورزی کی پاداش میں ابوسالم کی حوالگی کو منسوخ کردیا تھا۔
Supreme Court to deliver verdict on Abu Salem's plea today

گفتگو میں شامل ہوں