Al-Azhar cleric fears civil war in Egypt as protests over Mohamed Morsi grow
مصر کے سب سے بڑے مذہبی ادارہ جامعہ الازہر نے آج ملک میں خانہ جنگی کا انتباہ دیا ہے اور صدر محمد مرسی کو بے دخل کرنے کے مقصد سے عوامی ریالیوں کے آغاز سے قبل اخوان المسلمون کے کارکن کی شہادت کے بعد پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ جامعہ الازہر کی مجلس علماء نے میڈیا کیلئے جاری کردہ ایک پیام میں کہا "چوکسی برتنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہم خانہ جنگی کا شکار نہ ہوجائیں"۔ جامعہ الازہر نے سڑکوں پر تشدد کے لئے جرائم پیشہ ٹولیوں کو مسجدوں پر حملوں کا مورد الزام ٹہرایا ہے۔ سیاسی تناؤ سے مربوط جھڑپوں میں حالیہ دنوں میں 5افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ اخوان المسلمون نے کہاکہ تمام مہلوکین مرسی کے حامی تھے، تاہم علیحدہ طورپر اس کی توثیق نہیں ہوسکی۔ چہارشنبہ کو مرسی کی جانب سے کی گئی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے جامعہ الازہر کے اسکالر حسن الشافعی نے کہاکہ اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ مذاکرات کی پیشکش قبول کرلے، یہ قوم کے مفاد میں ہے۔ تصادم پر اصرار کے بجائے اسے قبول کرلینا چاہئے۔ دوسری طرف اپوزیشن قائدین نے مرسی کی پیشکش کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ بار بار ان کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز ضائع ہوگئی ہیں کیونکہ اخوان المسلمون نے اپنے اقتدار کو تحلیل کرنے سے انکار کیاہے۔ دریں اثناء موصولہ اطلاعات کے مطابق مسجد ربع الاداویہ پر مرسی کی حمایت میں جمع ہزارہا افراد نے نماز جمعہ ادا کی۔ اسلام مخالف طاقتیں اسلام پسند صدر محمد مرسی کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر انہیں معزول کرنے کیلئے کوشاں ہے جبکہ ان کے حامیوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس سازش کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں