Obama rules out unilateral action on Syria
شام میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش کرتے ہوئے صدر امریکہ بارک اوباما نے بشارالاسد حکومت کے خلاف کسی بھی یکطرفہ امریکی کارروائی کے امکانات مسترد کردئیے۔ لیکن عہد کیا کہ بین الاقوامی شراکت داروں اور شامی اپوزیشن کی تائید کی جائے گی تاکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرسکیں۔ وزیراعظم ترکی رجب طیب اردغان کے ساتھ جو امریکہ کے دورہ پر ہیں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہاکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ مختلف فریقین اس میں ملوث ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ مسئلہ کا حل تلاش کرنے اور شام میں امن و استحکام بحال کرنے کیلئے ہم تمام فریقین سے بات چیت کریں گے اور مسئلہ کی یکسوئی میں اہم کردار کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ کیمیائی ہتھیاروں کو محفوظ کرنا ضروری ہے تاکہ یہ دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگنے پائیں۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں