انڈین لیبر کانفرنس - منظم اور غیر منظم محنت کشوں کے سماجی تحفظ پر غور - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-05-18

انڈین لیبر کانفرنس - منظم اور غیر منظم محنت کشوں کے سماجی تحفظ پر غور

وزیراعظم منموہن سنگھ نے آج انڈین لیبر کانفرنس کے 45ویں سالانہ اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت منظم اور غیر منظم شعبہ کے محنت کشوں کو ملک گیر سطح سے سماجی تحفظ فراہم کرنے پر غور کرنے کے آخری مرحلہ میں ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ فروری کی عام ہڑتال کے دوران ٹریڈ یونینس نے جو مسائل پیش کئے تھے اُن سے عدم اتفاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ایک قومی سماجی طمانیت فنڈ تشکیل دینے پر بھی غور کررہی ہے۔ قومی سطح پراقل ترین اجرت اور اعظم ترین پنشن ایک ہزار روپئے ماہانہ ملازم کی پنشن اسکیم کے تحت مقرر کی جائے گی۔ ٹریڈ یونینس کی حالیہ دو روزہ ہڑتال کا مرکز توجہ محنت کشوں کے طبقہ کی فلاح و بہبود سے متعلق کئی مسائل ہی نہیں تھے بلکہ وسیع تر بنیادوں پر عوامی مسائل تھے۔ وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ ان مطالبات سے عدم اتفاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ان مطالبات کی تائید کرتی ہے، ان میں افراط زر پر قابو پانے کے ٹھوس اقدامات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ ناقابل قبول مطالبات نہیں ہیں۔ ایک اور مطالبہ قوانین محنت کا سختی سے نفاذ بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان مطالبات کی تکمیل کے بہترین طریقوں کے بارے میں اختلافات ممکن ہیں لیکن حکومت اس سلسلے میں ٹریڈ یونینس سے تعمیری کردار ادا کرنے کی اپیل کرتی ہے۔ ٹریڈ یونینس نے جاریہ سال فروری میں 2روزہ عام ہڑتال کی تھی اور اپنے 10نکاتی منشور مطالبات تسلیم کرنے پر زور دیا تھا۔ اس کے بعد وزراء کا ایک گروپ مرکزی وزیر فینانس کی زیر صدارت تشکیل دیا گیا جو ان مطالبات کا جائزہ لے رہا ہے اور ان کی یکسوئی کے سلسلہ میں ٹریڈ یونینس سے مزید مذاکرات کرے گا۔ وزراء کے گروپ کا اجلاس 22مئی کو منعقد ہوا تھا۔ وزیراعظم نے اعتماد ظاہرکیا تھا کہ جلد ہی پیشرفت دیکھی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ پہلے ہی اقل ترین اجرتیں قانون میں ترمیمات کی منظوری دے چکی ہے تاکہ قومی سطح پر اقل ترین اجرت کا لزوم عائد کیا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ محنت کشوں کے چند مسائل کو ان کی تائید حاصل ہے۔ کمیٹیوں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ مطالبات ترقی کے بارے میں اندیشوں کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں عوام کے ہر طبقہ کو شامل کیا جانا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہ اندیشے حکومت کو بھی بے حد عزیز ہیں۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ ہمارے عوام کو پیداواری روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت مختلف روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے پروگراموں پر سنجیدگی سے عمل آوری کررہی ہے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی دیہی روزگار طمانیت اسکیم اور قومی دیہی روزگار مشن کا حوالہ دیا جس سے کثیرتعداد میں پسماندہ افراد کا فائدہ ہورہا ہے۔

PM's address 45th session of the Indian Labour Conference

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں