UN Rights Officials Urge Syria War Crimes Charges
اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں نے کہاکہ شام میں سرکاری فوج اور حکومت مخالف مسلح جنگجو دونوں ہی جنگی جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں اور انہوں نے جنگی جرائم میں ملوث اعلیٰ سکیورٹی عہدیداروں اور ان کے یونٹوں کی شناخت کر لی ہے ۔ اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں نے شام میں جنگی جرائم، انسانیت مخالف جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کے بارے میں ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے یہ رپورٹ شام میں تشدد کا شکار 445 افراداور عینی شاہدین کے انٹرویوز پر مبنی ہے اور ان افراد سے اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں نے بیرون ملک گفتگو کی تھی کیونکہ شام میں انہیں آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ عالمی ادارے کے تحقیق کاروں نے اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں جاری جنگی جرائم پر احتساب کو یقینی بنائے اور اس کے معاملہ کو ہیگ میں قائم عالمی فوجی عدالت (آئی سی سی) کو بھجوائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ شام کی سرکاری فورج اور باغی جنگجو دونوں ہی ہلاکتوں اور تشدد سمیت جنگی جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "شامی فورسز لوگوں کا قتل عام کر رہی ہیں ، وہ شہروں پر بمباری کر رہی ہیں ، بیکریوں اور جنازوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کا مقصد دہشت پھیلانا ہے "۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں