نیوم منصوبہ نظرِ ثانی کی زد میں: سعودی عرب کا 100 میل لمبا شہر اب محدود خاکے کی طرف
سعودی عرب نے اپنے سب سے پرجوش اور متنازع ترقیاتی منصوبے نیوم (Neom) کے خدوخال پر خاموشی سے نظرِ ثانی شروع کر دی ہے۔ یہ وہی مستقبل کا شہر ہے جسے ایک وقت میں صحرا کے بیچ 100 میل لمبی، سیدھی شہری پٹی کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ بڑھتے ہوئے اخراجات، مقررہ اہداف میں مسلسل تاخیر، اور بدلتی ہوئی معاشی حقیقتوں نے اس عظیم الشان تصور کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
نیوم کا اعلان 2017 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کو سعودی عرب کی تیل پر انحصار کرتی معیشت کو سیاحت، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اعلیٰ درجے کی شہری ترقی کی طرف موڑنے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ نیوم کے مرکز میں “دی لائن” (The Line) کا تصور تھا، جسے جدید شہری منصوبہ بندی کی تاریخ کا سب سے انقلابی تجربہ قرار دیا گیا۔
دی لائن دراصل دو متوازی فلک بوس عمارتوں پر مشتمل ایک شہر تھا، جو تقریباً 170 سے 200 کلومیٹر تک بحیرۂ احمر کے کنارے صحرا میں پھیلا ہوتا۔ یہ عمارتیں 500 میٹر بلند، شیشے اور آئینوں سے مزین، اور مکمل طور پر قابلِ تجدید توانائی پر چلنے والی ہوتیں۔ دعویٰ یہ تھا کہ اس شہر میں نو ملین افراد آباد ہوں گے، بغیر گاڑیوں کے، بغیر سڑکوں کے، اور قدرتی ماحول کو تقریباً مکمل طور پر محفوظ رکھتے ہوئے۔
ابتدائی تشہیری ویڈیوز میں اس شہر کو کسی سائنسی افسانے کی طرح دکھایا گیا: زیرِ زمین تیز رفتار ٹرانزٹ سسٹم، عمودی کھیت، ڈیجیٹل خدمات سے جڑا ہوا روزمرہ نظامِ زندگی، اور شفاف دیواروں میں جھلملاتا صحرا۔ 2022 میں تعمیراتی سرگرمیوں کا عملی آغاز ہوا اور بھاری مشینری نے صحرا کی خاموشی توڑ دی، مگر 2023 کے اختتام تک منصوبے کی رفتار پر سوال اٹھنے لگے۔
بین الاقوامی مالیاتی میڈیا اور منصوبے سے واقف ذرائع کے مطابق، سعودی حکومت اب دی لائن کے منصوبے کو نمایاں طور پر محدود کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ابتدائی تخمینوں میں اس منصوبے کی لاگت تقریباً 500 ارب ڈالر بتائی گئی تھی، جب کہ صرف نومبر تک اندازاً 50 ارب ڈالر نیوم پر خرچ ہو چکے تھے۔ ایک اعلیٰ سعودی عہدیدار نے گزشتہ برس ریاض میں ایک سرمایہ کاری فورم کے دوران اعتراف کیا کہ حکومت نے “غیر معمولی تیزی” دکھائی، جس کے نتیجے میں مالی دباؤ بڑھا اور اب ترجیحات پر نظرِ ثانی ناگزیر ہو گئی ہے۔
ابھی تک اس نظرِ ثانی کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں آئیں، تاہم اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ولی عہد اب دی لائن کے ایک “کہیں زیادہ محدود” ورژن یا پھر نیوم کے پورے خطے میں بکھرے ہوئے شہری اضلاع کے تصور پر غور کر رہے ہیں، بجائے اس کے کہ ایک مسلسل 100 میل لمبا شہر تعمیر کیا جائے۔
گزشتہ سال کے آخر میں دی لائن کے سب سے مہنگے اور پیچیدہ حصوں پر تعمیراتی کام خاموشی سے روک دیا گیا۔ انجینئرز اور کنٹریکٹرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ کم لاگت، مرحلہ وار اور جلد منافع دینے والے منصوبوں پر توجہ دیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ نیوم کو محض ایک خوابیدہ تصور کے بجائے عملی معاشی منصوبے میں بدلا جا سکے۔
یہ تبدیلی اس بات کی علامت نہیں کہ نیوم کو ترک کیا جا رہا ہے، بلکہ منصوبے کی سمت بدلی جا رہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، نیوم کو ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ایک بڑے علاقائی مرکز میں بدلنے پر غور ہو رہا ہے۔ سعودی منصوبہ سازوں کے نزدیک یہ راستہ زیادہ حقیقت پسندانہ اور نسبتاً جلد منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔
نیوم کا وسیع اور نسبتاً سستا صحرائی رقبہ بڑے سرور فارم قائم کرنے کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے۔ مجوزہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے توانائی کے شدید متقاضی ڈیٹا سینٹرز کو سہارا دے سکتے ہیں، جب کہ بحیرۂ احمر میں بچھے زیرِ سمندر کیبلز یورپ، ایشیا اور افریقہ کی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح نیوم کو محض لگژری سیاحت کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کے عالمی مقابلے میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نیوم ہمیشہ سے ایک تعمیراتی منصوبے کے ساتھ ساتھ ایک برانڈنگ مہم بھی رہا ہے۔ اسے ایسی جگہ کے طور پر پیش کیا گیا جہاں کاریں نہیں ہوں گی، تمام توانائی قابلِ تجدید ہوگی، اور 95 فیصد زمین قدرتی حالت میں محفوظ رہے گی۔ تشہیری مواد میں ساحل، اسکی ریزورٹس، تیرتی بندرگاہیں اور جدید شہری اضلاع دکھائے گئے، مگر زمینی حقیقت اس سے کہیں مختلف رہی۔
اب تک نیوم کا صرف ایک حصہ، سندالہ (Sindalah) نامی یاٹنگ ریزورٹ، ادائیگی کرنے والے سیاحوں کے لیے کھولا جا سکا ہے۔ یہ افتتاح بھی منصوبے سے تقریباً تین سال تاخیر کا شکار ہوا اور لاگت اندازوں سے تقریباً تین گنا زیادہ رہی۔ اس موقع پر منعقد ہونے والی مہنگی تقریب، جس میں عالمی ستاروں نے شرکت کی، سعودی قیادت کے اندر مزید بے چینی کا باعث بنی۔
سندالہ میں ہونے والی اضافی لاگت اور نیوم کے دیگر حصوں میں تاخیر نے منصوبے کی اعلیٰ قیادت پر سوالات کھڑے کیے، جس کے نتیجے میں نیوم کے سابق چیف ایگزیکٹو نذمی النصر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان ناکام اہداف نے 2030 تک منصوبے کے بڑے حصے مکمل کرنے کے دعوے کو بھی غیر حقیقی بنا دیا ہے، اور اب سرکاری ٹائم لائنز کو نرم کیا جا رہا ہے۔
ادھر مالی حالات بھی پہلے جیسے سازگار نہیں رہے۔ سرکاری اخراجات میں مسلسل اضافے اور تیل کی قیمتوں میں کمی نے سعودی عرب کو بجٹ خسارے کی طرف دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کو یہ فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے کہ کن منصوبوں کو ترجیح دی جائے۔ نیوم جیسے میگا پروجیکٹس کا انحصار ریاستی فنڈنگ اور غیر ملکی سرمایہ کاروں دونوں پر ہوتا ہے، اور دونوں محاذوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
عالمی سرمایہ کار نیوم کے تصور سے متاثر ضرور ہوئے، مگر شفاف حکمرانی، علاقائی سلامتی اور منصوبے کے بے مثال حجم جیسے عوامل نے انہیں محتاط رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ نیوم اب عالمی سطح پر اس سوال کی مثال بن چکا ہے کہ آیا سمارٹ سٹی جیسے عظیم منصوبے مستحکم کاروباری بنیاد کے بغیر دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں یا نہیں۔
نیوم کی نظرِ ثانی عالمی سطح پر دیگر میگا سمارٹ سٹی منصوبوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔ مصر کے نئے انتظامی دارالحکومت سے لے کر ایشیا اور افریقہ میں مجوزہ ٹیک ہبز تک، کئی منصوبے شاندار خاکوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں، مگر طویل المدتی مالی حقیقتیں اکثر انہیں محدود کر دیتی ہیں۔
نیوم کے اصل تصور میں “15 منٹ سٹی” اور ٹرانزٹ پر مبنی شہری ترقی جیسے نظریات شامل تھے، جن کا مقصد روزمرہ ضروریات کو قریب لا کر آمدورفت اور آلودگی کم کرنا تھا۔ اگرچہ دی لائن کا مکمل تصور شاید حقیقت نہ بن سکے، مگر اس کے کچھ عناصر مستقبل کے چھوٹے منصوبوں میں جگہ پا سکتے ہیں۔
نیوم کو محدود کرنے سے مالی دباؤ تو کم ہو سکتا ہے، مگر خطرات اب بھی موجود ہیں۔ بڑے وعدوں سے پیچھے ہٹنا ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے، ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کے لیے عالمی معیار کی مہارت درکار ہوگی، اور مقامی آبادی پر سماجی اثرات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔
بالآخر، نیوم کی کہانی اس توازن کی عکاس ہے جہاں قومی خواب، معاشی حقیقت اور عالمی سیاست آپس میں ٹکراتے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے یہ شاید کم خوابناک مگر زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ ہو، اور دنیا کے لیے ایک زندہ مثال کہ تخیل کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور بیلنس شیٹ کہاں اپنی بات منواتی ہے۔
Saudi Arabia Reconsiders Neom’s 100-Mile City Amid Rising Costs and Delays





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں