اپنا کندھا اپنی لاش - افسانہ از دلیپ سنگھ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2023-05-17

اپنا کندھا اپنی لاش - افسانہ از دلیپ سنگھ

میرے دفتر میں ایک افسر تھے چکرورتی۔ آج سے چھ سال پہلے جب وہ ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو میرا تقرر ان کی جگہ ہو گیا۔ انہوں نے سبکدوشی کے بعد ایک سرکاری کالونی میں ایک چھوٹا سا مکان بنایا جہاں وہ اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہنے لگے۔ میری اکثر ان سے فون پر بات چیت رہتی ہے۔ جب کبھی کوئی پرانی فائل نہ ملے تو میں انہی سے پوچھا کرتا ہوں۔ کسی کیس کی نوعیت میری سمجھ میں نہ آئے تو میں ان سے مشورہ کرتا ہوں۔ انہیں بھی اپنی پنشن کے سلسلے میں اپنے پرانے دفتر سے کچھ کہا سننا ہو تو مجھے ہی فون کرتے ہیں۔ باہمی مفاد کی وجہ سے ہماری اچھی خاصی دوستی ہو گئی ہے۔


ایک دن انہوں نے مجھے فون پر اطلاع دی کہ ان کی بوڑھی ماں کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں نے فوراً وہ تمام جملے جو ایسے موقع پر بولے جاتے ہیں بولنا شروع کر دئیے۔ یعنی ان کے دکھ میں میں برابر کا شریک ہوں۔ ماں کے سائے سے محروم ہوکر زندگی کی دھوپ برداشت کرنا بہت مشکل کام ہے۔ بھگوان مرحومہ کو سورگ میں جگہ دے۔ وغیرہ۔ انہوں نے مجھے ٹوکتے ہوئے کہا:
"یار جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ اپنی جگہ درست سہی لیکن اس وقت یہ کہنے کا موقع نہیں ہے۔ میں نے فون تمہیں تہنیت وصول کرنے کے لئے نہیں کیا بلکہ مدد حاصل کرنے کے لئے کیا ہے۔"
میں نے کہا۔ "فرمائیے۔"
کہنے لگے: "یار دفتر سے تین چار کلرک بھیج دو۔ ماتاجی کو شمشان لے جانا ہے۔"
میں ان کی درخواست سن کر چکرا گیا۔ جب ذرا سنبھلا تو کہا۔ "سر، مرنے والے کو شمشان لے جانے کے لئے تو عام طور پر رشتے دار کام میں لائے جاتے ہیں۔"
کہنے لگے:"جانتا ہوں ، مگر دلی میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔"
"اور پڑوسی؟" میں نے پوچھا۔
کہنے لگے: "ماتا جی کچھ ایسے بے وقت پر لوک سدھاریں کہ سب پڑوسی دفتروں کے لئے نکل چکے ہیں۔ اس وقت پوری کالونی میں میں اکیلا مرد ہوں اور ماں کو شمشان لے جانے کے لئے کم از کم چار مردوں کی ضرورت ہے۔ اسی لئے تم سے درخواست کر رہا ہوں۔ یوں تو ماں کا وزن اتنا کم ہے کہ میں اکیلا بھی انہیں اٹھا کر لے جاسکتا ہوں لیکن اس طرح پہلے کوئی لاش شمشان لے جائی نہیں گئی۔ اسی لئے شاید مناسب نہ لگے۔"


میں نے کلرک بھیج کر چکرورتی صاحب کا کام کروا دیا۔ لیکن میرے دل میں ایک خیال سا بیٹھ گیا کہ جب ہمارا شمشان جانے کا وقت آئے گا اور اگر کسی وجہ سے کلرک نہ ملے تو ہماری لاش شمشان کیسے پہنچے گی۔
میں ںے جب چکرورتی صاحب سے اس مسئلے پربات کی تو کہنے لگے: "بدلتے ہوئے حالات میں تمہیں خود چل کر شمشان جانا ہوگا۔"
میں نے کہا:" مردیے کا خود چل کر شمشان جانا کچھ ناممکن سا ہوگا۔"
کہنے لگے۔ "ناممکن تم اس لئے کہہ رہے ہو کہ اس مسئلے پر پوری طرح غور نہیں کیا۔ غور کروگے تو کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔ زمانہ بدل رہا ہے بھیا۔ یہ سیلف سروس یعنی اپنا کام خود کرنے کا زمانہ ہے۔ ہوٹلوں میں گاہک خود اپنی پلیٹوں میں کھانا ڈال کر کھارہے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں خود ہی نل خراب کر رہے ہیں اور خود ہی ٹھیک کررہے ہیں۔ لڑکے تو لڑکے لڑکیاں بھی اپنے ور خود تلاش کررہی ہیں، تو مردہ شمشان تک خود کیوں نہیں جا سکتا۔ مجھے تو افسوس ہے کہ یہ میرے زمانے میں نہ ہوا۔"
میں نے حیران ہوکر پوچھا۔ " کیا آپ کئی سال پہ لے شمشان جانے کی سوچ رہہے تھے۔"
کہنے لگے۔ "میں شمشان جانے کی نہیں ،ر شتہ ڈھونڈنے کی بات کر رہا ہوں۔ دیکھئے نا ہمارے زمانے میں رشتہ ڈھونڈنا والدین کا کام تھا، چونکہ میرے والدین یہ فرض نبھانے مین نا اہل ثابت ہوئے اس لئے میں کنوارہ رہ گیا۔"


میں نے کہا۔" چکرورتی صاحب، رشتے کی بات تو اس وقت نہ چھیڑئیے کہ آپ عمر کی جس منزل پر ہیں، رشتے کی بات بے وقت کی راگنی سنائی دیتی ہے۔ اب تو آپ اپنے مردے کو شمشان پہنچانے کی فکر کیجئے۔" کہنے لگے۔" وہ تو میں کر ہی رہا ہوں۔ آپ بھی ادھر دھیان دیجئے۔ ورنہ آپ کا مردہ گھر میں ہی پڑا رہ جائے گا اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔"
میں نے بہتیرا دھیان دیا لیکن بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ اپنے مردے کو خود شمشان تک کیسے پہنچایا جاسکتا ہے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ جب آپ کو موت کا فرشتہ دکھائی دینے لگے تو شمشان کی طرف دوڑ پڑئیے۔ اس تجویز میں قباحت یہ نظر آئی کہ موت کا فرشتہ پولیس کا انسپکٹر تو ہے کہ آپ نے کہا۔ "حضور ذرا سی مہلت دیجئے، میں کپڑے بدل کر آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔" عام طور پر وہ مان جاتا ہے اور اگر نہ مانے تو اسے منانے کا ایک ایسا نسخہ ہے جو سب کو معلوم ہے لیکن ملک الموت تو کہتے ہیں ایک سیکنڈ کی مہلت بھی نہیں دیتا۔
کسی نے مشورہ دیا۔" شمشان والوں سے بات کرو، وہ ضرور کوئی راستہ بتا دیں گے۔"


میں جب شمشان پہنچا تو وہاں ایک کونے میں چار پانچ پنڈے سلفہ پی رہے تھے۔ باقی شمشان میں شمشان کی سی خاموشی تھی۔
میں نے اپنا مسئلہ بیان کیا۔
"میں اپنے کندھوں پر سوار ہوکر شمشان پہنچنا چاہتا ہوں ، کوئی نسخہ بتائیے۔"
ایک پنڈے نے پوچھا۔ "آپ کی موت کب تک واقع ہوگی؟"
میں نے کہا۔" موت کا کیا ہے کسی وقت بھی آ سکتی ہے۔ شاید کل ہی آجائے۔ "
کہنے لگا۔" اگر یہ بات ہے تو اپنے کریہ کرم کا خرچ ہمارے پاس جمع کروا دیجئے اور رات یہیں ہمارے ساتھ گزارئیے۔ کل بھگوان کی دیا سے آپ کا کریہ کرم اس طرح کریں گے کہ آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔"
میں نے پوچھا۔" کتنا خرچ؟"
کہنے لگا۔ "یہ تو آپ پر منحصر ہے۔ کریہ کرم پانچ سو روپیوں میں بھی ہوسکتا ہے اور پانچ ہزار میں بھی۔ صرف اتنا یاد رکھئے کہ جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہوگا۔"
مجھے یہ مثال کچھ غیر مناسب سی لگی۔ لیکن اس وقت ادب کے مسائل پر بحث کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
میں نے پوچھا۔ "اگر میری موت کل تک نہ ہوئی تو؟"
کہنے لگے۔ " ایک آدھ دن اور صبر کرلیں گے۔ لیکن اس سے زیادہ نہیں۔ یہ شمشان ہے ، کوئی دھرم شالہ نہیں ہے۔"
میں نے کہا۔ "آپ غلط سمجھے، میرا ارادہ شمشان میں پڑے رہنے کا بالکل نہیں ہے۔ میرا تو مطلب صرف اتنا ہے کہ مجھے اپنے کریہ کرم میں کسی کا احسان نہ اٹھانا پڑے۔ یوں لگنا چاہئے جیسے میں اپنی لاش اپنے کندھوں پر اٹھا کر لایا ہوں۔ میں نے ہی اپنی چتا کو آگ دی ہے۔ میں نے ہی منتر پڑھے ہیں۔ میں نے ہی اپنی موت پر آنسو بہائے ہیں۔ اور میں ہی اپنے پھول گنگا جی میں بہاکر آیا ہوں۔"


ایک اور پنڈا سلفے کے نشے سے ایک منٹ کے لئے ابھرا اور کہنے لگا۔ "میں آپ کا مطلب سمجھ گیا ہوں۔ آپ سیلف سروس فیونرل چاہتے ہیں ، جیسے کہ آج کل امریکہ میں ہو رہا ہے۔"
میں نے پوچھا۔" مہنت جی، آپ کبھی امریکہ گئے ہیں؟"
کہنے لگا۔ " گیا ہوں تبھی تو جانتا ہوں۔"
میں نے پوچھا۔" کس سلسلے میں گئے تھے؟"
کہنے لگے۔"مردہ ہی جلانے گیا تھا۔ کوئی کمپیوٹر بنانے تھوڑے ہی گیا تھا۔ کوئی امیر ہندوستانی وہاں مر گیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ جب وہ سورگ کے سفر پر روانہ ہو تو کوئی ہندوستانی پنڈا ہی اسے رخصت کرے، چنانچہ ٹکٹ بھیج کر مجھے بلوایا گیا۔ وہیں پتہ چلا کہ امریکہ میں آج کل سیلف سروس فیونرل کا رواج چل پڑا ہے۔ ہوتا اس میں یوں ہے کہ مرنے والا کفن دفن کی فرم میں اک طے شدہ رقم جمع کرا دیتا ہے۔ اس کے مرنے کے بعد فرم والے اس کے کفن دفن کی مکمل ذمہ داری اپنے سر لے لیتے ہیں۔ قبر وہ کھدوائیں گے۔ کفن وہ سلوائیں گے ، مرحوم کی خوبیاں گنوانے والی تقریریں وہ لکھوائیں گے ، وہی پڑھوائیں گے ، آپ اپنے بارے میں کچھ اس طرح کا انتظام کرنے کی تو نہیں سوچ رہے؟"
"بالکل یہی سوچ رہا ہوں۔ کیا یہاں کوئی ایسی فرم ہے ؟"
"فرم تو شاید نہں ہے ، لیکن فرم کھولنے میں کون سی دیر لگتی ہے۔ مردے تو ہم نے بہت جلائے ہیں ، لیکن مردے جلانے کا بزنس آج تک نہیں کیا۔ اب یہ بھی کر دیکھتے ہیں۔"


میں نے پوچھا:" خرچ کیا ہوگا؟"
کہنے لگا۔ "پانچ ہزار روپے جمع کروادیجئے۔ آپ پہلے گاہک ہیں، بہنی کے وقت میں زیادہ نہیں مانگوں گا۔"
میں نے پوچھا۔"’پانچ ہزار روپے میں کیا کیا ہوگا؟"
کہنے لگا۔ " آپ کی لاش یہاں تک لانا، کفن سلوانا، لاش پر ایک قیمتی شال ڈالنا، جلانے کے لئے لکڑی خریدنا، رونے اور بین کرنے کے لئے عورتوں کا بندوبست کرنا، اور جلانے کے بعد آپ کے متعلق ایک تعریفی تقریر۔"
میں نے کہا۔ "رونے پیٹنے کے لئے پرائی عورتیں کچھ اچھی نہیں لگیں گی۔"
کہنے لگا۔" نہیں صاحب، یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ آپ کی بیوی آپ سے لاکھ محبت کرے لیکن سری دیوی کی طرح محبت کا اظہار نہیں کر سکتی۔ اپنی عورتوں میں وہ سر تال کہاں جو کرائے کی عورتوں میں ہوگا۔ ہم جو عورتیں آپ کا بین کرنے کے لئے لائیں گے وہ بین کریں گی تو آپ کو یوں لگے گا جیسے راگ کیدارا گایاجارہا ہے۔ چھاتی پیٹیںگی تو کچھ اس طرح لگے گا جیسے طبلے پر تین تال بج رہا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شکل و صورت ان کی ایسی ہوگی کہ وہ بالکل رشتے دار عورتیں لگیں گی۔"


میں نے سوچا تو پانچ ہزار کا خرچ مجھے کچھ زیادہ نہیں لگا۔
میں نے کہا۔ "ٹھیک ہے مجھے یہ سودا منظور ہے ، لیکن یہ بتائیے آپ معلوم کیسے کریں گے کہ میں مر گیا ہوں۔"
کہنے لگا۔"صاحب جب بزنس کھولا ہے تو کام تو کرنا ہی پڑے گا۔ ہر روز میرا آدمی آپ کے گھر جاکر دیکھ آیا کرے گا کہ آپ کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا ہے یا نہیں۔"
چنانچہ اس کا آدمی باقاعدہ صبح آکر مجھے دیکھ جایا کرتا تھا۔ اسی طرح پندرہ دن گزر گئے۔ ایک دن ملازم کی جگہ پنڈا خود آیا۔ اس وقت میں یوگا کر رہا تھا۔ پنڈا پوچھنے لگا۔
"کہئے جناب کیا حال ہے ؟"
میں نے کہا۔"بھگوان کی کرپا ہے"۔
کہنے لگا۔"’ آپ پر تو بھگوان کی کرپا ہے لیکن ہمارا دیوالہ پٹ رہا ہے۔"
میں نے پوچھا۔" کیسے؟"
کہنے لگا۔" کچھ آپ کو پتہ ہے کہ لٹھا کتنا مہنگا ہو رہا ہے ؟"
"لٹھے سے میری موت کا کیا تعلق ہے ؟"
"آپ کی لاش کو لپیٹنا نہیں ہے لٹھے میں کیا؟ لکڑی دن پر دن مہنگی ہوتی جارہی ہے۔ گھی کل تک چھیانوے روپے کلو تھا، آج سو روپے کلو ہوگیا ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور آپ ہیں کہ جئے چلے جا رہے ہیں۔"


"اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ میں خود کشی کرلوں۔"
"خود کشی نہ کرئیے لیکن یہ یوگا ووگا تو بند کرئیے ، اس سے عمر بڑھتی ہے ، آپ تو بھگوان کے کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔"
ہماری دونوں کی آپس میں خوب تو تو میں میں ہوئی، وہ کہتا تھا۔ "اگر مرنا ہی نہیں ہے تو پھر کفن دفن بک ہی کیوں کیا۔"
میں کہتا تھا۔" آپ نے میری لاش کو ٹھکانے لگانے کا ٹھیکہ لیا ہے۔ لاش میں تبدیل ہونے سے پہلے آپ مجھے ہاتھ نہیں لگا سکتے۔"


مختصر یہ کہ میں جیتا چلا گیا اور لکڑی، گھی، لٹھا، رونے پیٹنے والی عورتوں کا ریٹ بڑھتا چلا گیا۔ ایک دن پنڈے جی آئے تو چہرے پر مردنی چھائی ہوئی تھی ، تقریباً روتے ہوئے پوچھا۔
"طبیعت کیسی ہے ؟"
"ایک دم بڑھیا۔" میں نے جواب دیا۔


انہوں نے جیب سے پانچ ہزار روپے نکالے اور میرے منہ پر مارتے ہوئے کہا۔
"یہ لیجئے اپنے پیسے ، آج کی قیمتوں کے حساب سے تو اس میں ایک لاوارث لاش بھی جلائی نہیں جا سکتی۔ ہمیں نہیں کرنا ہے گھاٹے کا بزنس ، خود ہی چلے جانا شمشان۔ خود ہی لکڑیاں خریدنا اور اپنے آپ کو جلا لینا۔ اور اگر ممکن ہو تو جل جانے کے بعد خود ہی غالب کا یہ مصرعہ دہرا لینا ؎
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

***
ماخوذ از رسالہ: ماہنامہ انشاء (کلکتہ) - عالمی اردو افسانے نمبر (1992ء)
مدیر و مرتب : ف۔ س۔ اعجاز

Apna kandha apni laash, short-story by: Dileep Singh.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں