کوہیر ظہیر آباد کی مشہور درگاہ - حضرت خواجہ مولانا معیزالدین ترکی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2022-12-19

کوہیر ظہیر آباد کی مشہور درگاہ - حضرت خواجہ مولانا معیزالدین ترکی

ہندوستان کثرت میں وحدت والا عظیم تہذیبی ملک ہے۔ یہاں مسلمانوں کی بیرون ملک سے آنے کی ایک وجہہ تبلیغ و اشاعت دین ہے۔ جنوب میں کیرالا کے ساحل سے لے کر شمال میں اجمیر تک کئی بزرگان دین ہندوستان میں وارد ہوئے اور تبلیغ دین کے بعد یہیں کی زمین میں پیوند خاک ہوئے۔ دکن کی سرزمین بھی بزرگان دین کی آماجگاہ رہی ہے اور شاہی دور میں کئی بزرگان دین بیرونی ممالک سے ہندوستان اور دکن میں وارد ہوئے۔ کوہیر حیدرآباد گلبرگہ کے راستے پر تاریخی علاقہ ہے کہا جاتا ہے کہ نظام حیدرآباد کے گھر کے لیے کوہیر سے پینے کا پانی بھیجا جاتا تھا کیوں کہ یہاں کے پانی میں صحت افزاء معدنیات پائے جاتے ہیں۔ کوہیر آم اور ادرک کی پیداوار کے لیے مشہورہ ہے وہیں کوہیر اپنی مخصوص تہذیبی روایات کے لیے مشہور ہے آج دنیا بھر میں کوہیر کے لوگ پھیلے ہوئے ہیں۔ کوہیر میں ایک مشہور بزرگ حضرت سید خواجہ مولانا معیزالدین کی درگاہ مشہور ہے جس سے بلالحاظ مذہب و ملت لوگ دعائیں لیتے ہیں۔ اس درگاہ اور یہاں ہونے والے عرس کی تفصیلات ذیل میں پیش کی جارہی ہیں۔
جناب محمد یوسف علی صاحب کے فرزند جناب محمد شوکت علی صاحب دور حاضر میں درگاہ کمیٹی کے صدر ہیں۔ سنہ 2022 کا گزرا ہوا عرس جناب محمد شوکت علی صاحب کی زیر نگرانی میں ہی عمل میں آیا ہے


تاریخی اعتبار سے یہ تقریبا آٹھ سو سالہ قدیم درگاہ ہے، یعنی مولانا معیز الدین ترکی رحمۃ اللہ علیہ کو کوہیر آکر آٹھ سو سال کا وقفہ گزر چکا ہے_ مولانا معیز الدین ترکی میں بادشاہ کی نسل سے تعلق رکھنے والے تھے یہ جب مدینہ منورہ کو گئے تب مدینے سے لوٹتے ہوئے دعوت دین کو پھیلاتے ہوئے ترکی کو چھوڑ کر دہلی آگئے تب ان کے استاد خواجہ فقر الدین رحمۃ اللہ علیہ بھی ان کے ساتھ چلے آئے حضرت مولانا معیز الدین کے استاد محترم خواجہ فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ مولانا معیز الدین کے ساتھ ہی مدینےسے ثقافت دین کا سفر طے کرتے ہوئے یہاں پر آئے اور انہیں کی زیر نگرانی میں مولانا معیز الدین نے تعلیم حاصل کی ہے_۔ دعوت دین کو پھیلانے والے ان کے اس قافلے میں مولانا شام، مولانا روم، گوالیار کے دو شہزادے، حضرت محمد شاہنواز حسین، اور ان کے کئ ساتھی اور صحابہ وغیرہ بھی ان کے ساتھ دعوت دین کو پھیلاتے ہوئے نکل پڑے۔


جب حضرت مولانا معیز دین کا قافلہ مدینہ منورہ سے دعوت دین کے لئے نکل پڑا تھا تب یہ ترکی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ترکی کو واپس نہیں لوٹے سیدھا مدینے سے ہوتے ہوئے شام، روم، عراق، ایران سے گزرتے ہوئے دہلی چلے آئے اور وہاں سے کوہیر تشریف لے کر آئے تب انہی کے ساتھ مولانا روم مولانا شام ان کے قافلے میں شامل ہوگئے اور یہاں آکر یہیں کے ہو کر رہ گئے_ ان کے اس دین کو پھیلانے والے قافلے میں تقریبا دو ہزار لوگ یہاں پر آئے تھے۔ مولانا معیز الدین کو دہلی پہنچنے کے بعد یہ پیغام ملا کہ آپ ہند کے علاقہ میں جائیے۔ تب وہ دعوت دین کو پھیلانے کے لیے کوہیر آئے تب اس گاؤں میں ہندو لوگ بسے ہوئے تھے اور بت پرستی کرنے والے لوگوں کا یہاں پر بسیرا تھا ان کے آنے سے ہی یہاں پر مسلم قوم آباد ہوئی ہے۔ مولانا معیز الدین یہیں پر وصال پائے تب سے یہ درگاہ بنی ہے۔ اور ان کا فیض اتنا زیادہ یہ ہے کہ یہاں پر عوام بلا مذہب و ملت کی اپنی مراد لے کر یہاں پر آتے ہیں ہے۔


اور اس درگاہ میں حضرت مولانا معیزالدین کی مزار کے اطراف چار بڑی کمانیں موجود ہے جن میں سے دور حاضر میں دو کمانوں سے گزر ہوا کرتا ہے میرا خیال ہے کہ قدیم دور میں ان چار کمانوں سے بھی گزر ہوا کرتا تھا۔ مولانا معیزالدین کی مزار کے اطراف موجود چار کمانوں کے علاوہ ایک سب سے بڑی کمان ہے جو خانہ پور روڈ کے سامنے ہیں عرس کے وقت صندل وغیرہ لے کر یہیں سے اندر داخل ہوتے ہیں اور اسی کمان کے مقابلے میں قوالیوں کا پروگرام ہوتا ہے اس کمان سے اندر داخل ہونے کے بعد ایک مزار بنی ہوئی ہے جو حضرت محمد شاہنواز ترکی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے یہ اور حضرت سید تاج الدین ان کے ساتھی ہیں۔ مولانا معیز الدین کی درگاہ میں درگاہ کے باہر اور اطراف و اکناف کے علاقے میں ان کے ساتھ آنے والے ساتھیوں کی خبریں وغیرہ بھی موجود ہے یہاں پر درگاہ کے پاس قبرستان بھی موجود ہے جس میں گاؤں کے مرنے والے لوگوں کی تدفین کی جاتی ہے۔


گوالیار گنبد: مولانا معیز الدین کے ساتھ گوالیار کے رہنے والے دو شہزادے بھی ان کے قافلے میں شامل ہوکر یہاں پر آئے تھے انہیں کی یاد میں یہاں پر گوالیار گنبد بنائی گئی ہے۔ جو معزالدین صاحب کی درگاہ سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔
مولانا معیز الدین ترکی رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ میں شفا، پریشانی، اور مشکلات کے حل کے لئے یہاں پر دوسرے گاؤں یا بیرونی ممالک کے لوگ آکر قیام پذیر ہوتے ہیں۔ تقریبا دس پندرہ سال پہلے یہاں پر قیام پذیر ہونے والے لوگوں کے لئے قیام گاہ کا انتظام نہیں ہوا کرتا تھا لیکن اب خواتین کو عبادت کرنے کے لیے مسجد اور مرد حضرات کے لئے بھی مسجد اور رہن سہن کے لئے کمرے، وضو خانے، اور طہارت خانوں وغیرہ کا انتظام کیا گیا ہے۔


عرس:
ہر سال اسلامی تاریخی لحاظ سے مولانا معیز الدین کی درگاہ کے پاس ان کی یاد میں عرس منایا جاتا ہے اور اس میں بلا مذہب و ملت بیرونی ممالک کے لوگ وغیرہ ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرتے ہیں ہر سال 15۔16۔17 جمادی الثانی کوعرس منایا جاتا ہے 15 جمادی الثانی کو سرکاری صندل ہوتا ہے۔ یہ بادشاہی دور میں حکومت کی جانب سے نکالا جاتا تھا اور آج بھی یہ رواج برقرار ہے۔ 16 جمادی الثانی کو ہیرا من کا صندل نکالا جاتا ہے یہ نوجوانان کوہیر کی طرف سے ہوتا ہے اور شام میں قوالیوں کا پروگرام منعقد کیا جاتا ہے۔ ہیرا من کا صندل مولانا معیزالدین کی بارگاہ میں پیش ہونے کے بعد گڑہ کا شربت تقسیم ہوتا ہے اور اسی دن صبح یعنی 17 جمادی الثانی کو صبح کے وقت عوام کے لئے بڑے پیمانے پر دنگل کا کھانا پکایا جاتا ہے جس میں تقریبا دس یا بارہ کنٹل چاول بنائے جاتے ہیں اور اسی دن صبح میں 17 جمادی الثانی کو چار بجے کُشتیوں کا پروگرام ہوتا ہے جس میں تلنگانہ، آندھراپردیش، مہاراشٹرا ، کرناٹک وغیرہ کے پہلوان حصہ لیتے ہیں ہیں اور شام میں جلسہ منعقد کیا جاتا ہے اور جلسے کے بعد کُشتی جیتنے والوں کو انعام دیا جاتا ہے جو درگاہ کمیٹی کے صدر کی جانب سے ہوتا ہے _ 17 جمادی الثانی کو قریشیوں کا صندل مسجد زم زم سے نکالا جاتا ہے جو بہت ہی بہترین طریقے سے ہوتا ہے جس میں مرفہ اور باجے بہی بجائے جاتے ہیں۔ پٹاخے بھی جلائے جاتے ہیں۔جلسے کے بعد قوالیوں کا پروگرام منعقد کیا جاتا ہے جو صبح تک ہوتا ہے اور فجر کے وقت ان کی بارگاہ میں صندل کو پیش کیا جاتا ہے ان تین دنوں میں لائے جانے والے صندل گُرجوڑا، ماچریڈّی پلاّ، ماڈگی، امیر پیٹ وغیرہ سے لایا جاتا ہے۔


عرس میں بہت بڑا میلہ لگایا جاتا ہے جس میں کئی طرح کی دکانیں جھولے وغیرہ موجود ہوتے ہیں جن میں سے چند حسب ذیل ہیں۔ دکانوں میں خواتین کے لیے بناؤ سنگھار اور لباس کی دکانیں، مرد حضرات کے لئے عطر، انگوٹھیاں گھڑیاں اور دیگر کئی دوسرے اشیاء کی دکانیں بھی لگائی جاتی ہیں۔ ناریل اور حلوائی وغیرہ کی بھی دکانیں موجود ہوتی ہیں۔ لطف اندوز ہونے کے لیے Break dance ،Giantwheel ، سرکس ، موت کا کنواں، اور چھوٹے بچوں کے لئے۔گاڑی گھوڑے وغیرہ کے جھولے پائے جاتے ہیں۔ اور بہت سارے کھلونوں کی دکانیں اور ذائقے دار کھانے جیسا کہ گول گپے، چکن فرائی، نوڈلز ، آئسکریم، اور چائے کی ہوٹل کلیانی بریانی وغیرہ کی ہوٹلیں بھی پائی جاتی ہے۔ اور اس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں اور اسی طرح سے ہر سال عرس منایا جاتا ہے۔ 2022 کا گزرا ہوا عرس 763 واں عرس گزرا ہے۔ عرس مناتے ہوئے تقریباً سات سو تریسٹھ سال گزر چکے ہیں۔۔


بسے ہوئے ہیں تاریخ میں زندہ مثال بن کر یہی ہے
وہ مولانا معیز جو آئے ہوئے ہیں ترکستان چھوڑ کر

***
عظمی بیگم (کوہیر، ظہیرآباد، تلنگانہ)

Email: sameermd7063[@]gmail.com


Dargah Hazrat Khaja Syed Moizuddin Turkey Chishti Nazimi, Kohir. - Essay: Uzma Begum.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں