برصغیر ہند و پاک کی جھیلیں اور دریا - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-06-02

برصغیر ہند و پاک کی جھیلیں اور دریا

subcontinent-lakes-rivers

ہندوستان میں گنتی کی چند اور وہ بھی چھوٹی جھیلیں ہیں۔ ان میں سے دو قطعات مرتفعہ پر اور دو پایاب جھیلیں مشرقی ساحل پر واقع ہیں۔


1۔ جھیل وولر:
سمندر کی سطح سے 5180 فٹ بلند، کشمیر میں بارہ مربع میل کے رقبہ پر پھیلی ہوئی ہے۔ مگر طغیانی کے زمانے میں اس کا پھیلاؤ ، سو (100) مربع میل ہو جاتا ہے۔ دریائے جہلم اور بعض پہاڑی ندیوں کا پانی اس میں شامل ہو گیا ہے۔ اور اس کے گرد کا منظر نہایت دلکش ہے۔


2۔ جھیل کولر:
احاطۂ مدراس کے شمال اور گوداوری اور کرشنا کے دہانوں کے درمیان واقع ہے۔ پوری بھر جانے کی حالت میں اس کی وسعت سو (100) مربع میل ہو جاتی ہے۔ اس میں چند پہاڑی ندیاں آکر گرتیں اور اپنی گاد اور مٹی لا لا کر ڈالتی ہیں۔ مرغابیوں کی یہاں کثرت ہے اور مچھلیاں بھی خوب ہیں، جھیل کے بیچ میں متعدد چھوٹے چھوٹے سر سبز ٹاپو واقع ہیں، اور ان پر چوبیس ، پچیس گاؤں آباد ہیں۔


3۔ جھیل چلکا:
شہر پری کے قریب اڑیسہ میں پایاب جھیل چلکا واقع ہے۔ یہ ساحل سے اس قدر متصل چلی جاتی ہے کہ اکثر مقامات پر دو سو گز سے بھی کم عرض کے ٹیلے اس کے اور خلیج بنگال کے درمیان حائل ہیں اور اسی وجہ سے اسے 'بند خلیج' بھی کہہ سکتے ہیں۔ جھیل کی لمبائی 44 میل اور چوڑائی بالاوسط بیس میل ہے لیکن گہرائی صرف تین فیٹ سے پانچ فیٹ تک۔ برسات میں جب ہوائے برشگال آتی ہے تو اس کا پانی شیریں ہوتا ہے، لیکن گرمی میں کھارا، مرغابیوں کی یہاں بھی کثرت ہے۔


4۔ جھیل سانبھر:
مغربی راجپوتانے میں اجمیر سے پچاس میل شمال مشرق کی طرف نمک کی مشہور جھیل سانبھر واقع ہے۔ سمندر کی سطح سے اس کی بلندی بارہ سو فیٹ کے قریب ، اور اس کا رقبہ تقریباً 90 مربع میل ہے۔ اس میں جو ندیاں گرتی ہیں وہ شورے کی زمین پر سے بہتی ہوئی آتی ہیں، اور جھیل کی سطح پر نمک کا ایک پتلا چھلکا بن جاتا ہے۔ لاکھوں روپے کا لاکھوں ہی من نمک اس جھیل سے ہر سال نکالا جاتا ہے۔


ہندوستان کے دریا

ہندوستان کے دریاؤں کو تین قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے کیونکہ جن کوہستانوں سے دریا نکلتے ہیں ان کے بھی بڑے بڑے تین سلسلے ہیں ، یعنی:
(1) کوہستان ہمالیہ کے دریا جو ہمالیہ ہندوستان کے شمال مشرق یا شمال مغرب میں ہمالیہ کی پھیلی ہوئی شاخوں سے نکلتے ہیں۔
(2) وہ دریا جن کا منبع بندھیاچل یا اسی سلسلے کے پہاڑوں میں ہے۔
(3) مغربی گھاٹ کے دریا۔


ان میں سب سے بڑے ہمالیہ کے دریا ہیں کیونکہ بارش کے پانی کے علاوہ ان میں برف بھی پگھل پگھل کر آتی ہے۔ دوسرے دو دریاؤں یعنی سندھ اور برہم پتر میں ہمالیہ کے دونوں کی طرف کی ڈھلانوں سے پانی بہہ بہہ کر آتا ہے کیونکہ ان کی گزر گاہ پہاڑ کے شمال میں بھی ہے اور پھر دوسری طرف جنوب میں بھی۔
باقی دو گروہوں کے دریا جو جزیرہ نمائے ہند میں بہتے ہیں ایسے پہاڑوں سے نکلے ہیں جن پر برف نہیں ہوتی۔ اس لئے ان میں بارش کا پانی اور وہ بھی پہاڑوں کے صرف ایک رخ کا جدھر سے وہ نکلتے ہیں جمع ہو کر بہتا ہے۔


دریا کی گزر گاہ کے بالائی وسطی اور زیریں حصوں کا فرق ہندوستان ،خصوصاً ہمالیہ کے دریاؤں میں بخوبی نمایاں ہے۔ ان کی بالائی گزر گاہ نہایت بلند پہاڑوں میں ہوتی ہے حتی کہ بعضوں کا منبع سیل ہائے یخ میں سمندر کی سطح سے دس تا سترہ ہزار فیٹ کی بلندی پر ہے اور وہاں سے وہ نہایت تیزی کے ساتھ ان دروں اور تنگ راستوں سے، جو ان کے بہاؤ نے ٹھوس چٹانوں میں کاٹ کاٹ کر بنائے ہیں، میدانوں میں پہنچتے ہیں۔ اور یہاں بھی ان کے بہاؤ کا زور اپنی گزرگاہوں کو کاٹتا اور چوڑا کرتا رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اپنی تہ کو بھی گہرا کرتے جاتے ہیں ، اور ان کے تیز بہاؤ میں بہت سے پہاڑوں کے کنکر پتھر بھی بہہ بہہ کر میدانوں تک پہنچتے ہیں۔ پہاڑوں پر ان کی بالائی گزر گاہ زمانہ ہائے دراز تک یکساں رہتی ہے اوربدل نہیں سکتی۔ اور اگر راستے میں کوئی نشیب آ جاتا ہے تو اسے وہ اپنے پانی سے بھر کر اور چوڑا کر دیتے ہیں اور وہاں ایک چوڑی وادی یا جھیل بن جاتی ہے۔ چنانچہ خود وادی کشمیر اور صوبہ متحدہ میں نینی تال کی جھیل اسی طرح دریا کی گزرگاہوں نے بنا دی ہیں۔


ہندوستان کا سب سے مشہور و مقدس دریا "گنگا" ہے جو ہندوستان کے میدانوں میں1557 میل تک بہہ کر خلیج بنگالہ میں آ گرتا ہے۔ اس کے گرد چار لاکھ مربع میل کے رقبے میں جو پانی برستا ہے وہ تمام، سوا اس حصے کے جو زمین میں جذب ہو جائے، ندی نالوں کے ذریعہ بہہ کر گنگا میں پہنچ جاتا ہے۔ اس تمام رقبے کو (جس کا پانی اس طرح بہہ بہہ کر کسی دریا میں پہنچ جائے) دریا کا "تگاب" یا "آب گیر" کہتے ہیں۔


سطح بحر سے تیرہ ہزار فیٹ کی بلندی پر برف کی تین سو فیٹ موٹی اور منجمد تہہ میں "گئو مکھ" دریائے گنگا کا منبع ہے اور اس مقام کا نام 'گنگوتری' ہے۔ جو صوبہ جات متحدہ کی ایک چھوٹی سی دیسی ریاست 'تہری گڑھوال' کے علاقہ میں واقع ہے۔ اس جگہ گنگا کا نام "بھاگیرتی"، اور تھوڑی دور آگے چل کر جب وہ منصوری کی پہاڑیوں کے پیچھے، 'الک نند' ندی سے مل کر آگے بڑھتی ہے تو اسے "گنگا" یا ازرہ ادب، "گنگا مائی" کہتے ہیں۔ الک نند ندی بھی 'گئو مکھ' کے قریب ہی کیدراناتھ کے پہاڑوں سے نکلتی ہے جس کی چار سر بہ فلک چوٹیاں تصویروں میں برف سے مستور نظر آتی ہیں۔


گنگا کا منبع: گنگوتری
گنگا کے منبع سے ہردوار تک 180 میل کا فاصلہ ہے اور بلندی کے اعتبار سے یہ مقام 'گئو مکھ' سے ایک ہزار فیٹ نیچا ہے۔ لہذا یہاں تک گنگا پہاڑی رو کی طرح نہایت تیز بہتی ہوئی آتی ہے۔ لیکن اس کے آگے تقریباً ایک ہزار میل یعنی مقام راج محل واقع بنگالہ تک جو اس کی گزرگاہ کی وسطی منزل سمجھنی چاہئے ، یہاں پہنچ کر گنگا، ایک ذخار دریا بن گئی ہے۔ اور طغیانی کے زمانے میں ہر ثانیے پر اس کا بیس لاکھ مکعب فٹ پانی اس مقام سے گزرتا رہتا ہے۔ یہاں سے اس کے دہانے یا سمندر تک چار سو میل کا فاصلہ اور گزرگاہ کی گویا منزل زیریں ہے۔ خاص دہانے پر اس کا وسیع اور دو سو میل چوڑا ڈیلٹا قریب قریب سارے ساحل بنگالہ پر پھیلا ہوا ہے۔


دریائے گنگا کی عظمت و وسعت کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ اپنے منبع سے صرف دو سو میل چل کر یعنی میدانی علاقے میں داخل ہوتے ہی اس کا پاٹ جہاز رانی کے قابل ہو گیا ہے ، اور اس سے متعدد نہریں نکال کر 'صوبہ جات متحدہ' کے اکثر حصوں میں آب پاشی ہوتی ہے۔ اس کے کناروں کو ہندو نہایت مقدس زمین جانتے ہیں، اور ان کے اکثر مقامات پر اشنان کی غرض سے گھاٹ تعمیر کئے گئے ہیں کہ لوگ سہولت کے ساتھ گنگا کے متبرک پانی میں غسل کر سکیں۔


جس مقام سے گنگا شاخوں میں بٹی، یا اس کا ڈیلٹا شروع ہوتا ہے وہ سمندر سے تقریباً تین سو میل کے فاصلے پر ہے۔ ان میں اس کی مغربی شاخ کا نام 'ہگلی' ہے جو کہ جہاز رانی کے واسطے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ مگر گنگا کی اصلی دھار کا نام پدما ہو جاتا ہے اور اسی کا سب سے بڑا مشرقی دہانہ میگھنا ہے جہاں دریائے برہم پتر، پدما سے آ ملتا ہے اور یہاں مل کر ان دونوں کا پاٹ تیس میل عریض ہو گیا ہے اگرچہ اس کی گہرائی دس گز سے زیادہ نہیں ہے۔ بہرحال میگھنا اور ہگلی گویا وہ حدود ہیں جن کے درمیان گنگا کا ڈیلٹا واقع ہے۔ خاص خاص ندیاں جو گنگا سے آن کر ملتی ہیں ، یہ ہیں:
بائیں کنارے سے گومتی، گاگرا (جسے کرنالی بھی کہتے ہیں)، راپتی، گنڈک ، بھاگ متی اور کوسی یا دائیں کنارے سے سون اور جمنا مع اپنے معاون چنبل کے۔


ان میں جمنا بجائے خود ایک بڑا دریا ہے جو 860 میل تک تنہا بہنے کے بعد الہ آباد پر گنگا سے آ ملا ہے اس کا منبع بھی تہری گڑھوال کے علاقے میں ایک برفانی چوٹی کے قریب ہے جہاں سے نوے میل تک شوالک کی پہاڑیوں میں پیچ و خم کھانے کے بعد وہ میدانی علاقے میں نمودار ہوتی ہے اور یہیں اس کی گزرگاہ کی وسطی منزل شروع ہوئی ہے۔ پہلے وہ جنوب کی طرف بڑھ کر ایک بڑا دریا بن گئی ہے اور اس سے دو نہریں نکالی گئی ہیں۔ پھر کچھ دور تک وہ صوبہ جات متحدہ اور پنجاب کی سرحد بناتی ہے اور شہر متھرا سے کچھ اوپر مشرق میں مڑ کر صوبہ جات متحدہ کے اندر بہتی ہوئی گنگا میں جا ملی ہے۔ اس کے جنوب سے چنبل ندی اور بٹوا، مالوے کی سطح مرتفع اور 'ارولی پربت' کا پانی جمع کر کر کے لاتیں اور اس میں آ ملتی ہیں۔ ہندوستان کے کئی بڑے شہر یعنی دہلی، متھرا، آگرہ، الہ آباد ، جمنا کے کنارے پر آباد ہیں اور اس کے اوپر کئی جگہ ریل کے پل باندھے گئے ہیں جن میں الہ آباد کا پل 3200 فیٹ لمبا ہے۔


ہندوستان کا سب سے لمبار دریا سندھ یا اٹک ہے جو تبت کے علاقے سے نکلتا اور ریاست کشمیر ، صوبۂ سرحدی، پنجاب، اور سندھ سے گزرتا ہوا بحیرہ عرب میں آ گرا ہے۔ اس کا طول 18 سو میل اور منبع کوہ کیلاش ہے جو جھیل مان سرووَر کے قریب 16 سو فیٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ دریا ایک سو ساٹھ میل تک، 'سنگھ کا باب' کہلاتا اور اول اول تبت کی وسیع شمالی وادی کے ساتھ ساتھ شمال مغرب کے رخ بہتا ہے ، پھر ہمالیہ کی سربہ فلک چوٹی نانگا پربت کے گرد چکر کھا کے جنوب مغرب کو سمندر کی طرف مڑ گیا ہے۔
اس طرح آٹھ سو میل تک اس کی گزرگاہ کوہستان ہمالیہ میں اور باقی ایک ہزار میل تک وادی سندھ یا میدانی علاقے میں ہے۔ اپنے منبع سے گیارہ سو میل طے کر کے وہ مقام اٹک پر صوبۂ پنجاب میں داخل ہوتا ہے اور یہاں وہ اپنے منبع کی نسبت سولہ ہزار فیٹ نشیب میں ہے گویا ہر میل پر پندرہ فیٹ نیچا ہوتا گیا ہے اور اس سبب سے اس کا بہاؤ اس قدر تیز ہے کہ ہر جگہ اس نے پہاڑوں میں کٹاؤ ڈال کر نہایت عمیق کھائیاں بنا دی ہیں۔ ایک مقام پر وہ ایسی تنگ نالے سے گزرتا ہے جس کے پہاڑی کنارے دونوں طرف چودہ ہزار فیٹ بلند ہیں، حقیقت میں جیسی گہری وادی اس دریا نے کوہستان ہمالیہ میں کاٹ دی ہے ایسی دنیا میں اور کہیں نہیں دریافت ہوئی۔


دریائے سندھ کے معاون بہت ہیں، اس کے مشرقی یا بائیں کنارے سے پنجاب کے پانچوں دریا جہلم، چناب، راوی ، ستلج اور بیاس ملتے ہیں۔ اور دوسری طرف سے دریائے کابل شیوک اور کوہ سفید و سلیمان کی بہت سی ندیاں کرم، گومل، ٹوچی بولان وغیرہ اس میں آ ملی ہیں۔ مگر پنجاب کے پانچوں دریا اس میں آ گرنے سے پہلے آپس میں مل گئے ہیں اور ان کا ملنے کے بعد "پنچ ند" نام ہو جاتا ہے۔ دریائے سندھ سے ان کا سنگم مٹھن کوٹ کے مقام پر ہوتا ہے جو سندھ کے دہانے سے 490 میل شمال میں واقع ہے۔


مقام اٹک پر دریائے کابل تمام افغانستان کا پانی جمع کر کے لاتا اور سندھ سے آ ملتا ہے۔ اس مقام سے سمندر یعنی 960 میل تک سندھ میں جہاز رانی ہو سکتی ہے۔ یہاں بھی دریا کی تہ سطح سمندر سے دو ہزار فیٹ اونچی ہے اور اس کے اوپر لاہورسے پشاور جانے والی ریل کا پل بنایا گیا ہے۔


دریائے سندھ کا ڈیلٹا 125 میل تک ساحل پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی اصلی دھار اپنی گزرگاہ اکثر بدلتی رہتی ہے۔ وادی سندھ میں بارش کا سالانہ اوسط دس انچ سے زیادہ نہیں ہے اور اس کا آخری حصہ صحرا میں ہے جسے اب نہریں کاٹ کاٹ کر آب پاشی کے وسائل سے قابل زراعت اور ایک حاصل خیز زمین بنا لیا ہے۔ اور وہ رقبہ جس میں سندھ کے پانی سے آب پاشی ہوتی ہے چھ ہزار مربع میل ہے۔

کوہستان ہمالیہ کا تیسرا بڑا دریا برہم پتر ہے اور یہ بھی جھیل مان سرووَر کے قریب سمندر کی سطح سے سولہ ہزار فیٹ کی بلندی سے نکلتا ہے، 860 میل تک وہ وادی تبت کے بالائی حصے کے ساتھ ساتھ مشرق کی جانب بہتا اور اپنے تبتی نام "نسان پو" سے موسوم ہوتا ہے ، پھر ہمالیہ کے مشرقی سرے کے گرد چکر کھا کے وہ آسام میں جنوب کی طرف مڑ جاتا ہے۔ اس کے اس موڑ کا نام 'دھانگ' ہے یہاں سے 450 میل تک اس کے بہاؤ کا رخ مغرب کی طرف رہتا ہے اور یہاں جنوب سے آسام کی پہاڑیوں کا اور شمال سے ہمالیہ کے اس مشرقی حصے کا تمام پانی بہہ کر اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ آسام میں اس کا نام برہم پتر ہے مگر آسام کی پہاڑیوں سے گزر کر جب 150 میل تک وہ جنوب کی طرف بہتا ہے تو وہاں اسے 'جمونا' کہتے ہیں، یہاں تک کہ 'گولندو' کے مقام پر وہ گنگا یا پدما سے آ ملا ہے۔ اور یہاں سے یہ دونوں دریا مل کر میگھنا کہلاتے اور خلیج بنگالہ میں جا گرتے ہیں۔


برہم پتر کے ایسے بڑے بڑے معاون نہیں جیسے کہ سندھ یا گنگا کے ہیں۔ تاہم سبان سری، ماناٹس، تستا دائیں کنارے سے اور دھنگ ، دھن سری اور کالانگ ندیاں بائیں کنارے سے اس میں آ کر ملتی ہیں اور دبرو گڑھ سے سمندر تک آٹھ سو میل اس کا پاٹ قابل جہاز رانی ہے۔ سادیا، دبرو گڑھ، گوہاٹی اور گول پاڑا اس کنارے کے مشہور مقامات ہیں اور آسام خاص کا وہ تمام علاقہ یا وادی جو آسام کی پہاڑیوں کے شمال میں واقع ہے اسی دریا کی مٹی اور گاد سے بنی ہے۔


شمالی ہندوستان کے دریاؤں کے بعد اب ہم وسط ہند کے دریاؤں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا "نربدا" ہے جو ست پڑا پہاڑ کے شمال مشرقی گوشے، یعنی امر کنٹک کی سطح مرتفع سے شروع ہوتا ہے اور آٹھ سو میل تک جانب مغرب بہہ کر خلیج کمبے میں آگرتا ہے۔ جبل پور کے قریب اس کی گزرگاہ صرف بیس گز چوڑی ایک پہاڑی تنگ نائے ہے، جسے عرف عام میں 'مرمر کی پہاڑی' کہتے ہیں۔ اس کی وسطی گزر گاہ اس تنگ اور سرسبز وادی میں ہے جو اس کے نام سے موسوم اور اسی کی لائی ہوئی گاد سے معمور ہے۔ اپنے آخری حصے میں 170 میل تک وہ احاطۂ بمبئی سے گزرتا ہے ، اور دہانے کے قریب شہر بڑوچ کے جنوب میں اس کی سترہ میل چوڑی کھاڑی بن گئی ہے۔ نربدا کو عام طور پر ہندوستان کی جنوبی سرحد سمجھتے ہیں جس کے آگے جزیرہ نمائے دکن شروع ہو جاتا ہے۔


صوبہ جات متوسط کا دوسرا دریا "تاپتی" ہے جو ست پڑا سے نکل کر اسی پہاڑ کے دامن میں بہتا ہوا سورت کے قریب خلیج کمبے میں آ گرا ہے۔ 150 میل تک اس دریا کی گزرگاہ ایک سنگستانی وادی میں ہے، مگر حصہ زیریں اس زرخیز اور گاد ملے میدان میں ہے جو اسی کی پہاڑیوں سے لائی ہوئی گاد سے بنا ہے۔ سمندر سے صرف بیس میل اوپر تک، اس میں جہاز رانی ہو سکتی ہے اور سورت کے قریب اس پر بمبئی ، بڑودہ کا اور بھساول پر گریٹ انڈین پنن سلا ریلوے کا پل بنا ہوا ہے۔


مہاندی:
میکال کی پہاڑیوں سے مہاندی نکلی ہے اور یہ جانب مشرق 550 میل بہہ کر کٹک کے قریب خلیج بنگالہ میں جا گرتی ہے۔ اس کی نصف گزرگاہ صوبہ جات متوسط اور نصف اڑیسہ میں ہے اور یہاں نہروں کے ذریعہ اس کا پانی دور دور تک پھیلا دیا گیا ہے۔ اس کے کنارے پر مشہور شہر سنبھل پور ، کٹک اور پُری ہیں۔


گوداوری:
یہ دریا شہر ناسک کے قریب مغربی گھاٹ کے پہاڑوں سے نکلا ہے۔ اس کا منبع بحیرۂ عرب کے ساحل سے صرف پچاس میل دور ہے۔ مگر خلیج بنگالہ تک پہنچنے میں اسے نو سو میل ، علاقہ بمبئی اور ریاست حیدرآباد سے گزرنا ہوتا ہے۔ پھر مشرقی گھاٹ کی ایک گہری تنگنگائے سے نکل کر مدراس کے ساحلی میدانوں کو عبور کرتا ہے۔ سمندر سے چالیس میل دور تمقام دولیش ورم پر اس کی شاخیں ہو گئی ہیں ، اور یہیں ایک بہت بڑا بند باندھ کے نہریں نکالی ہیں جن کا مجموعی طول 26 سو میل ہے، ان سے آس پاس کی اور خود ڈیلٹا کی زمینوں کی آب پاشی ہوتی ہے۔ اس مقام سے آگے راج مندری پر ریل کا ایک لمبا پل بنایا گیا ہے اور مدراس سے کلکتہ جانے والی ریل گوداوری کو یہاں عبور کرتی ہے۔


دریائے کرشنا:
مہابلیشور کے قریب مغربی ساحل سے چالیس میل کے فاصلے سے نکلا ہے اور جنوبی دکن میں آٹھ سو میل سے زیادہ بہہ کر خلیج بنگالہ میں جا گرا ہے۔ اس کی بالائی گزرگاہ تین سو میل تک احاطۂ بمبئی میں اور وسطی حصہ چار سو میل تک ریاست حیدرآباد میں اور دو سو میل کا آخری ٹکڑا احاطۂ مدراس میں ہے۔ بھیما اور موسی ندی بائیں کنارے پر اور "تنگ بھدرا" (جو خود تنگا اور بھدرا سے مل کر بنی ہے) دائیں کنارے پر، کرشنا کے مشہور معاون ہیں۔ مقام بجواڑہ یعنی سمندر سے پینتالیس میل کے فاصلے پر کرشنا کا ڈیلٹا شروع ہوتا ہے لیکن شاخوں میں منقسم ہونے سے پہلے وہ نیچی نیچی پہاڑیوں کے درمیان تیرہ سو گز عریض گھاٹی سے گزرا ہے جس میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بند باندھ کے پانی روکا اور اس سے دو ہزار میل لمبی نہریں بنائی ہیں جو ایک ہزار مربع میل کے رقبے کو سیراب کرتی ہیں۔


کورگ کے ایک پہاڑ برہما گری، نامی سے "کاویری" نکلتی ہے اور 475 میل جنوب مشرق کی سمت ، کورگ، میسور، اور کرناٹک کے میدانوں سے گزرتی ہوئی خلیج بنگالہ میں جا گرتی ہے۔ ریاست میسور میں اس دریا پر بارہ جگہ بند باندھ کر ایک ہزار میل لمبی نہریں کاٹی ہیں۔ یہاں اس دریا میں سری رنگ پٹن یا سرنگا پٹم کا مشہور ٹاپو واقع ہے، جہاں شیر میسور، حیدر علی ، اور اس کے بیٹے شاہ فتح علی سلطان کا مضبوط قلعہ تھا۔
ایک اور ٹاپو سیوا سمدرم ہے جہاں کاویری کے خوبصورت آبشار 330 فٹ اونچی چٹانوں سے نیچے زمین پر گرتے ہیں اور یہیں بند تعمیر کر کے برقی قوت پیدا کی گئی ہے۔ جس سے کولار کے معدن میں کام لیتے اور بنگلور میں روشنی کرتے ہیں۔ ترچنا پلی کے نیچے کاویری کی دو شاخیں ہیں جن کی نہروں سے دس لاکھ ایکڑ زمین میں آب پاشی ہوتی ہے، خود اس کے ڈیلٹا کا قطعہ یعنی تنجور سر سبزاور شادابی میں جنوبی ہند کا چمن کہلاتا ہے۔

***
ماخوذ از کتاب: جغرافیہ عالم (حصۂ اول)۔
تالیف: ای۔ مارسڈن ، وٹی۔ آلفورڈسمتھ / ترجمہ: مولوی سید ہاشمی فریدآبادی
ناشر: دارالطبع جامعہ عثمانیہ سرکار عالی حیدرآباد دکن، (طبع چہارم، 1934ء)۔

Lakes and rivers of the Indian subcontinent.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں