مضمون نگاری - از علامہ اخلاق دہلوی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-06-10

مضمون نگاری - از علامہ اخلاق دہلوی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ


مضمون نگاری کی مشق و مہارت سے خیالات اور جذبات کی ترجمانی میں مدد ملتی ہے اور یہ چیز معاصرین ہی کے لیے نفع بخش نہیں بلکہ آئیندہ نسلوں و قوموں کے لیے بھی موجبِ فلاح و بہبود ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دل سے نکلنے والی بات اثر رکھتی ہے مگر حسنِ ترتیب، لطافتِ زبان اور انداز بیان اس بات کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔
بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں علامہ اخلاق دہلوی نے مضمون نگاری کے زیرعنوان مختلف موضوعات پر اپنے دیرینہ تجربات قلم بند کرنا شروع کیے جو جو اسی زمانے میں (1931 تا 1933) اردو اور ہندی کے تعلیمی رسائل میں اشاعت پذیر ہوئے اور قبولیت کی نگاہ سے دیکھے گئے۔ 1937 میں پہلی بار یہ تمام مضامین، کتابی شکل میں "مضمون نگاری" کے زیرعنوان شائع ہوئے۔ اور اس کا پانچواں ایڈیشن 1968 میں انجمن ترقی اردو ہند کے کتب خانے سے شائع ہوا۔
یہی ایڈیشن تعمیرنیوز کے ذریعے پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں پیش خدمت ہے۔ تقریباً پونے تین سو صفحات کی اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا حجم صرف 12 میگابائٹس ہے۔
کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک نیچے درج ہے۔

اس کتاب کے پہلے باب بعنوان "مضمون نگاری" کا ایک اقتباس ہے ۔۔۔
قلم کی وساطت سے دل نشین انداز میں جذبات و خیالات کے ادا کرنے کو 'مضمون نگاری' کہتے ہیں۔
قدرت نے انسان کو محاسن و کمالات کا مرقع بنایا ہے اور بعض صلاحیتیں ایسی عنایت فرمائی ہیں جنہیں تربیت دینے اور بروئے کار لانے سے انسانی کمالات جگمگا اٹھتے ہیں اور انسان معراج کمال حاصل کر لیتا ہے۔
ان ہی میں سے ایک ملکہ مضمون نگاری ہے، جس کی مشق و مہارت سے خیالات و جذبات کی ترجمانی میں مدد ملتی ہے اور حسنِ قبول کی دولت نصیب ہوتی ہے جو نہ صرف معاصرین کے لیے نفع بخش اور باعثِ افتخار ہے بلکہ آئیندہ نسلوں اور قوموں کے لیے بھی موجبِ فلاح و بہبود ہے۔
اس میں شک نہیں کہ "دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے" مگر اس سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ حسنِ ترتیب، لطافتِ زبان اور اندازِ بیان اس میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔ چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ ایک مصنف محض اپنی ایک تصنیف کی بدولت زمانے سے وہ خراجِ تحسین حاصل کر لیتا ہے جو بادشاہِ ہفت اقلیم کو میسر نہیں۔
یہی قدرتی صناع 'مضمون نگار' اپنی سحرکاری اور فسوں سازی سے لفظوں کے وہ گل کھلاتا، فقروں سے وہ نخل بندی کرتا اور حسن ترتیب سے وہ چمن آرائی دکھاتا ہے کہ ناظرین فرط مسرت سے اچھل اچھل پڑتے ہیں۔ امنگوں کے ولولے اور امید کی خوشیاں ان کا چلوؤں خون بڑھا دیتی ہیں۔
۔۔۔ روتوں کو ہنسانا اور ہنستوں کو رلا دینا، روٹھوں کو منانا، اپنوں کو بیگانہ اور بیگانوں کو اپنا کر دکھانا، دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا دینا، شاہان ذی جبروت کے رعب اور دبدبے کو خاک میں ملا دینا یا ان کے جاہ و جلال کا سکہ بٹھا دینا، احساسات کو ابھارنا، جذبات کو بھڑکانا، خیالات کو برانگیختہ کرنا، دلوں پر ہیجان و اضمحلال کی کیفیت طاری کر دینا ۔۔۔ مضمون نگار کے بائیں ہاتھ کا کھیل اور ادنی درجے کا کرشمہ ہے۔
چنانچہ ایک مصور، نقاش اور صنعت گر جو کام اپنی مصوری، نقاشی اور صنعت گری سے لیتا ہے وہی کام یہ لفظوں کے ہیر پھیر اور بناؤ سنگھار سے کر دکھاتا ہے۔
اسی اعتبار سے ایک مضمون نگار اعلی درجے کا مصور، نقاش اور بہترین صنعت گر ہے۔ وہ بےمثل ادیب، لائق مصنف، باکمال افسانہ نگار، معتبر مورخ، نام آور مدیر، پسندیدہ ناول نویس، ناصح مشفق اور باخبر راہ نما ہو سکتا ہے۔

میرامن دہلوی، مرزا غالب، محمد حسین آزاد، خواجہ حالی، علامہ شبلی، پنڈت برج نارائن چکبست، ڈاکٹر مولوی عبدالحق، لالہ سری رام (خم خانۂ جاوید)، پنڈت رتن ناتھ سرشار، عبدالحلیم شرر، راشد الخیری، مہاشے سدرشن، مولانا ابوالکلام آزاد اور پنڈت برج موہن کیفی دتاتریہ ۔۔۔ آج کیوں روشناس عالم اور شہرہ آفاق شخصیت کے مالک ہیں؟ کیا اہل قلم اور مضمون نگار ہونے سے قبل ان کی یہی شہرت تھی اور یہی نام آوری اور یہی ہر دلعزیزی؟ نہیں نہیں، حقیقت میں یہ اسی عطیۂ الہی کی برکت ہے جو مبدائے فیاض نے انہیں کرامت فرمایا اور انہوں نے اس سے کامل تمتع حاصل کیا۔
زمانے بدل جاتے ہیں طبقے الٹ جاتے ہیں۔ انقلاب روزگار سے ملکوں شہروں قوموں اور خاندانوں کے نام و نشان نیست و نابود ہو جاتے ہیں، مگر ایک مصنف، مضمون نگار اور انشا پرداز کا نام اسی طرح زندہ اور لوحِ قلب پر مرقسم رہتا ہے۔

***
نام کتاب: مضمون نگاری
مصنف: علامہ اخلاق دہلوی
تعداد صفحات: 272
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 12 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک: (بشکریہ: archive.org)
Mazmoon nigari.pdf

Archive.org Download link:

GoogleDrive Download link:

Mazmoon Nigari by Allama Akhlaq Dehlvi, pdf download.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں