گلزار دہلوی - دلی کی محفلوں کا آخری روشن چراغ - چہارسو خصوصی شمارہ ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-06-13

گلزار دہلوی - دلی کی محفلوں کا آخری روشن چراغ - چہارسو خصوصی شمارہ ڈاؤن لوڈ


اردو جریدہ "چہارسو" (بانی مدیر اعلیٰ: سید ضمیر جعفری، راولپنڈی ، پاکستان) کی جلد 26 کے شمارہ ستمبر-اکتوبر 2017 میں گلزار دہلوی پر خصوصی گوشہ شامل کیا گیا ہے۔
124 صفحات کا یہ جریدہ، پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں، نیچے دئے گئے ربط سے مفت میں ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

پنڈت آنند موہن زتشی
جن کا قلمی نام گلزار دہلوی تھا، نسلاً کشمیری تھے، ہندوستان کی گنگا جمنی مشترکہ تہذیب کے منفرد نمائندہ اور اردو دنیا کا جانا پہچانا چہرہ تھے۔
7/جولائی انیس سو چھبیس کو پیدا ہونے والا اردو کا یہ عظیم شاعر جمعہ 12/جون دو ہزار بیس کی دوپہر دنیا سے وداع ہو گیا۔
گلزار دہلوی مجاہد آزادی اور ایک اہم انقلابی شاعر تھے۔ انیس سو تینتالیس سے وہ ہندوستان کے مشاعروں کے علاوہ عالمی مشاعروں میں بھی شامل ہوتے رہے اور لگ بھگ 50 ممالک کے مشاعروں میں شرکت کر چکے تھے۔ متعدد تمغہ جات اور اعزازات سے وہ نوازے گئے۔ جن میں مجاہد اردو اور شاعر قوم کا خطاب، پاکستان کا نشان امتیاز، غالب ایوارڈ، اندرا گاندھی میموریل قومی ایوارڈ کے علاوہ مختلف ممالک میں القاب و خطابات سے سرفراز کیے گئے۔

گلزار دہلوی اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ انہوں نے بچپن ہی میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا اور اپنا کلام اپنے والد ماجد حضرت زار دہلوی کو دکھایا کرتے تھے۔
یہاں ایک بات واضح رہے کہ پنڈت زار دہلوی دہلی کے ایک کالج میں برسہا برس تک اردو اور فارسی کے استاد تھے۔ قرۃ العین حیدر بھی پنڈت زار دہلوی کی شاگرد تھیں اور اپنے ایک مضمون میں انہوں نے انکشاف کیا کہ پنڈت جی باضابطہ مولوی صاحب کہلاتے تھے اور ساری دلی میں مولوی صاحب ہی کے لقب سے مشہور تھے۔ چنانچہ جاننا چاہیے کہ ہندو مسلم اتحاد ۔۔ سرکاری پالیسی، سیمینار اور کانفرنسوں کے ذریعے تخلیق نہیں کیا جاتا بلکہ یہ ایسا گلشن ہے جو صدیوں کی رواداری اور تہذیبی یگانگت کے ذریعے پیدا ہوا ہے۔

دسمبر انیس سو چھتیس میں انجمن ترقی اردو ہند کی کل ہند کانفرنس دہلی میں منعقد ہوئی تھی جس کا افتتاح گلزار دہلوی کی نظم سے ہوا تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد بھی گلزار دہلوی کی شاعری کے معترف تھے اور انہوں نے انیس سو اٹھاون کی کل ہند اردو کانفرنس کا سیکرٹری گلزار دہلوی کو بنایا۔ پھر "کونسل آف سائنٹفک انڈسٹریل ریسرچ سنٹر" کا ڈائرکٹر بھی مقرر کیا۔ اسی ادارے کے تحت گلزار دہلوی نے "سائنس کی دنیا" نامی اردو رسالہ جاری کیا۔ اور یوں بحیثیت ایڈیٹر سائنس کی دنیا، گلزار دہلوی کی اتنی شہرت ہوئی کہ لوگ انہیں "سائنسی شاعر" کہنے لگے۔

گلزار دہلوی اردو زبان کے ایسے پہلے ادیب ہیں جنہیں اقوام متحدہ یعنی یو۔این۔او نے اردو میں خطاب کا شرف بخشا تھا۔ سن دو ہزار میں اقوام متحدہ نے چھتیس ممالک کے شعرا کی کانفرنس کا امریکہ میں انعقاد کیا تھا جس میں گلزار دہلوی نے ہندوستان کی نمائندگی کرنے کے علاوہ اس کانفرنس کی صدارت بھی کی تھی۔

معروف صحافی معصوم مرادآبادی نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے۔۔۔
گلزار دہلوی کی شخصیت کا سب سے بڑا حسن یہ تھا کہ وہ مذہبی طور پر خالص برہمن ہونے کے باوجود اپنے عادات و اطوار اور بود و باش سے مسلمان نظر آتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی کمزوری یا طاقت اردو زبان اور تہذیب تھی ، جس کی بقاءکے لئے وہ آخری دم تک جدوجہد کرتے رہے۔ وہ اردو تعلیم کے سب سے بڑے وکیل تھے اور اس کے رسم الخط پر سب سے زیادہ اصرار کرتے تھے۔ہر محفل میں وہ شرکاء سے یہ ضرور کہتے تھے کہ اپنے بچوں کو آٹھویں کلاس تک اردو ضرور پڑھائیں۔ اردو زبان اور اس کی مٹتی ہوئی تہذیب کو زندہ کرنے کی انھوں نے ہر ممکن کوشش کی۔

گلزار دہلوی کے متعلق جوش ملیح آبادی نے کبھی کہا تھا:
میاں گلزار میرے محترم بزرگ حضرت زار دہلوی کے قابل ناز فرزند اور نہایت ہونہار شاعر ہیں۔ ان کی جو روش سب سے زیادہ مجھ کو پسند ہے وہ ان کی اردو سے والہانہ شگفتگی اور مردانہ تبلیٖغ ہے۔

جگر مرادآبادی نے بھی گلزار دہلوی کے بارے میں لکھا تھا ۔۔۔
پنڈت آنند موہن زتشی گلزار ایک خاندانی و موروثی شاعر ہیں، اہل زبان ہیں، دلی کی ٹکسالی زبان بولتے ہیں۔ انہیں ہر صنفِ سخن پر قدرت حاصل ہے۔ غزل، نظم، رباعی، قطعہ، نعت و منقبت ہر میدان میں انہوں نے دادِ سخن دی ہے۔ وہ اردو کے مجاہد ہیں، برصغیر ہند و پاک میں ہر جگہ مقبول ہیں۔ اللہ نے انہیں ایک درد مند اور انصاف پسند دل بھی عطا کیا ہے۔ میں نے انہیں ہر صحبت میں مہذب، نیک انسان، روادار اور عاشقِ رسول پایا ہے۔ اردو پر تو ان کی رباعیاں بےمثال ہیں۔ گلزار صاحب نہ صرف ایک کامیاب اور مقبول غزل گو شاعر ہیں بلکہ اعلیٰ انسانی قدروں اور اردو کی ہچکولے کھاتی نیا کے محافظ بھی ہیں۔ میرا خیال ہے اب یہ زمان اور اس کردار کے سانچے ڈھانچے ان کی ذات پر ختم ہیں۔ یہ دلی کی محفلوں کے آخری روشن چراغ ہیں۔

گلزار صاحب کے پاکستان دورے کے متعلق اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے کہا تھا:
گلزار صاحب کراچی کیا آئے گویا بہار آ گئی کہ دلی کی اردو سراپا ہو کر ان کی صورت میں کراچی کی ادبی محفلوں میں چھا گئی۔ کراچی والے ان کی زبان دانی اور قدرتِ بیان پر حیران بھی تھے اور داد و تحسین بھی کر رہے تھے۔ گلزار صاحب اردو کی جو بےلوث خدمت کر رہے ہیں وہ قابلِ صد تحسین ہے۔ خدا ان کی عمر دراز کرے اور ان کی کوششوں میں برکت عطا فرمائے۔ مجھے یقین ہے وہ اردو ادب میں حضرت علامہ دتاتریہ کیفی و سائل دہلوی اور زار دہلوی کے جانشین و یادگار ثابت ہوں گے۔

گلزار دہلوی کا ایک مشہور قطعہ ہے:
دونوں کی رگ و پے میں خون اپنا ہی جاری ہے
اردو بھی ہماری ہے ، ہندی بھی ہماری ہے
اردو سے مگر غفلت کس واسطے ہے ہمدم
تہذیب کی ضامن یہ خسرو کی دلاری ہے

گلزار دہلوی نے بجا فرمایا تھا کہ:
تاریخ اب جو ہوگی مرتب زبان کی
گلزار دہلوی کو بھلایا نہ جائے گا


مجلہ "چہار سو" کے اسی خصوصی شمارہ کے اپنے مضمون "گلزار دہلوی : اردو کا سچا عاشق اور رومانیت میں ڈوبا شاعر" میں احمد سہیل لکھتے ہیں ۔۔۔
میری پچھلے دنوں دہلی میں سفید شیروانی کی جیب میں گلاب کا پھول ، سفید چوڑی دار پاجامہ اور سر پر نہرو کٹ ٹوپی میں زیب تن اردو کے باغ و بہار شاعر گلزار دہلوی سے یادگار اور دلچسپ ملاقات رہی۔
گلزار دہلوی کا پورا نام پنڈت آنند کمار موہن زتشی گلزار دہلوی ہے۔ 7 جولائی 1926 میں پرانی دہلی کے محلے کشمیرن میں ولادت ہوئی۔ نسلاً کشمیری ہیں۔ ان کے والد کا نام پنڈت تربھون ناتھ زتشی زار دہلوی تحا جو خود بھی شاعر تھے۔ ان کی ابتدای تعلیم رام جیشن اسکول اور بی۔ وی، جے سنسکرت اسکول میں ہوئی۔ انحوں نے ہندو کالج سے ایم اے کیا اور قانوں کی سند حاصل کی۔ گلزار صاحب نے انجمن ترقی اردو ہند سے ادیب فاضل کا امتحان پاس کیا۔
وہ بابائے اردو مولوی عبد الحق اور علامّہ دترا کیفی کے بہت قریب رہے۔ ان کا کینا ہے:
" اردو محض زبان نہیں ہے یہ محبت اور امن کی زبان ہے جو اصل ہندوستان کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کی جو شخص اردو بولتا ہے کہ وہ اپنے خاندان میں گھر کے افراد کو اردو سیکھائے۔ اور چھٹی جماعت تک اردو بولنا، لکھنا اور پڑھنا سیکھنا چاہیے"۔

وہ ہندو۔ مسلماں کے اتحاد کی علامت ہیں۔ آزادی کے بعد ہندی کے جریدہ " ویگان پرگتی" کے وقائع نگار بنے۔ بھارت کے پہلے وزیر تعلیم نے انھیں اردو کے پہلے سائنسی جریدے " سائنس کی دینا" کر مدیر کی خدمات سونپی۔ ان کا ایک مجموعہ کلام " کلیات گلزار" کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ بہت بذلہ سنج انسان ہیں۔ اچھے لطیفہ گو ہیں۔ جس محفل میں ہوں اسے گل و گلزار بنادیتے ہیں۔ داستان گو ئی کے انداز میں پرانے واقعات سناتے ہیں۔ ان کا ایک دلچسپ لطیفے نما واقعہ سن لین:

علیگڑھ نمائش کا مشاعرہ تھا۔ ۔ انور صابری اور گلزار دہلوی ایک ساتھ ہی آئے تھے۔ مشاعرہ میں بے ضرورت ہوٹنگ چل رہی تھی۔ ناظم مشاعرہ نے حالات ( اور طلبہ) پر قابو پانے کے لئے گلزار دہلوی کو دعوت کلام دی۔ وہ مشاعروں کے سرد و گرم چشیدہ تھے۔ انہوں جگہ، موقعہ اور سامعین کا لحاظ کرتے ہوئے نعتیہ قطعات پڑھنے شروع کئے۔ مگر سامعین میں موجود لڑکے ہلڑ کے موڈ میں تھے۔ آخر انور صابری مائک پر آئے اور لڑکوں کو شرم و غیرت دلائی کہ ایک غیر مسلم نعتیہ قطعات پڑھ رہا ہے اور آپ لوگ چیخ پکا ر کر رہے ہیں۔ بات درست تھی۔ طلبہ شرمندہ ہوئے، اور اتنے کہ گلزار دہلوی کو داد دینے کے لئے بھی کسی نے لب نہ ہلائے۔ انور صابری پر اس بات کا بھی تاثر ہوا۔ چنانچہ جب ان کو بلایا گیا تو انہوں نے مکدر مزاجی کے لئے ناسازی طبع کا بہانہ بنا کر کہا بس دو شعر پڑھوں گا۔
مجمع میں سے ایک دل جلے طالب علم نے آواز ماری:
"دو روپے ملیں گے !"
طلبہ میں قہقہہ پڑا اور انور صابری نے دو شعر بھی نہ سنائے۔ بعد میں گلزار دہلوی کی درخواست پر انہوں نے بے دلی سے چند شعر سنا دئے تھے۔
ان کے چند اشعار سن لیں :
حُسنِ توحید کا خزینہ ہیں، خاتمِ علم کا نگینہ ہیں
ہر طرف تو خُدا کا جلوہ ہے، میرے دل میں شہ مدینہ ہیں
--------
زندگی تیرے دم قدم سے ہے
زیست کا لطف تیرے غم سے ہے
مجھ کو فردوس کی ضرورت کیا
میری جنت تو تیرے دم سے ہے
----------
جہاں انسانیت وحشت کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہو
وہاں تذلیل ہے جینا وہاں بہتر ہے مر جانا
----
مٹ مٹ کے ابھرتی ہیں قسمت کی لکیریں
ہم وقت کے ماتھے پہ شکن بن کے رہے ہیں

***
نام رسالہ: چہار سو (گوشۂ گلزار دہلوی)
مدیر اعلیٰ: سید ضمیر جعفری
تعداد صفحات: 124
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 3 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک: (بشکریہ: چہارسو ویب سائٹ)

Archive.org Download link:

چہار سو - خصوصی گوشہ برائے گلزار دہلوی :: فہرست
نمبر شمارتخلیقتخلیق کارصفحہ نمبر
1ملت کا نشاںاقبال بھٹی6
2جز و کل کا سفیرمحمد انعام الحق8
3کلیاتِ گلزارگلزار دہلوی10
4براہ راستگلزار جاوید12
5حسرتِ عمرفاری شا18
6اردو تہذیب کا دوسرا نامقرۃ العین حیدر24
7سائنس اور شاعریخواجہ احمد عباس26
8صحبتِ آدمی مبارکسید ضمیر احمد دہلوی28
9ہفت زبان مجموعۂ خوبیسید حامد30
10اردو کا سچا عاشقاحمد سہیل31
11تیغِ بےنیامفاروق ارگلی32
12غازئ ملتعطیہ سکندر علی35
13دلی کی مشترکہ تہذیبگلزار دہلوی41

Chaharsu, Gulzar Dehlvi number, pdf download.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں