ابنِ صفی اور شاعری - جیسے چاند اور چاندنی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-06-18

ابنِ صفی اور شاعری - جیسے چاند اور چاندنی

ibne-safi-poetry

حقیقت یہ ہے کہ "کسی بھی انسان کو اس وقت تک کسی کارِ خاص کی ذمہ داری نہیں دی جا سکتی جب تک وہ اُس کام سے متعلق مکمل جانکاری نہ رکھتا ہو۔۔۔۔!"

اسی لئے جب سن 1948ء میں عباس حسینی نے ماہنامہ نکہت کا آغاز کیا تو شعبہ نثر کا نگران ابن سعید (پروفیسر مجاور حسین رضوی) کو بنایا جبکہ شعبہ شاعری ابن صفی کے ذمہ رکھا کیونکہ وہ ابنِ صفی صاحب کو بہت قریب سے جانتے تھے اور انہیں معلوم تھا کہ ابنِ صفی نہ صرف ایک بہترین شاعر ہیں بلکہ شاعری کے سبھی پہلوؤں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
اس ذمہ داری کے باوجود ابن صفی صاحب نے شاعری پر ہی تکیہ نہیں کیا بلکہ رفتہ رفتہ وہ مختلف قلمی ناموں سے طنز و مزاح اور مختصر کہانیاں بھی لکھتے رہے، ان قلمی ناموں میں طغرل فرغان، سنکی سولجر اور عقرب بہارستانی جیسے اچھوتے نام شامل تھے جو ان کی شاعرانہ طبیعت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اور پھر ابن صفی صاحب کی زندگی میں ایک ایسا موڑ بھی آیا جب وہ شاعری کے "روشن ہیولیٰ" کو چھوڑ کر نثر کی "کالی کہکشاں" کی جانب عازمِ سفر ہوئے اور سِری ادب کے "پر اسرار موجد" بنے۔
گو کہ اب ان کا قلم مجرموں کی خطرناک حرکتوں، حالات کے ستائے لوگوں کی پریشانیوں اور جاسوس کی مشقتوں کو تحریر کرتا تھا پھر بھی قار ئین کو ان میں ہر جگہ ان کے شاعرانہ ذوق کی جھلک ملتی رہی۔
جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے عنوانات کو ہی لے لیجئے، ہر نام اپنے انداز میں ایک عجیب سی کشش رکھتا ہے کہ صرف عنوان پڑھ کر ہی آپ کا دل چاہنے لگے گا کہ آپ وہ ناول پڑھیں۔

جب میں نے ابنِ صفی کو پڑھنا شروع کیا تو اس وقت کی کتابوں سے پڑھا جب اُن کے آخری صفحات پر گزشتہ ناولوں کی فہرست ہوا کرتی تھی اور وہ نام اتنے خوب صورت لگتے تھے کہ بار بار فہرست پڑھنا بھی اچھا لگتا تھا اور پھر ان ناموں سے متعلق سوچنا کہ کہانی کیا ہو سکتی ہے یہ بھی ایک مشغلہ تھا۔

یوں تو سب ہی عنوان زبردست ہیں لیکن میرا پسندیدہ عنوان "معصوم درندہ" ہے اور جب وہ ناول پڑھا تو معلوم ہوا کہ اس سے بہتر اس ناول کا نام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

اس کے بعد جس عنوان میں سب سے زیادہ نغمگی محسوس ہوئی وہ ہے "گیت اور خون" اس کے علاوہ ڈیڑھ متوالے، خیر اندیش، خوشبو کا حملہ، مہکتے محافظ، لاش گاتی رہی، رات کا شہزادہ، ”صحرائی دیوانہ، ہولناک ویرانے، رائفل کا نغمہ، سہمی ہوئی لڑکی، زمین کے بادل، پیاسا سمندر، ٹھنڈا سورج، ٹھنڈی آگ، زہریلا آدمی، شیطان کی محبوبہ، ظلمات کا دیوتا، پتھر کا آدمی، لرزتی لکیریں، متحرک دھاریاں، فرشتے کا دشمن، بیباکوں کی تلاش، لاش کا بلاوہ اور فرہاد 59 وغیرہ۔

یہ اور ان جیسے بہت سے نام، کہاں تک لکھا جائے، ایک سیریز اور تھی جس کے ناموں نے مجھے بہت متاثر کیا بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کے شاعرانہ ناموں کی وجہ سے ہی میں اس سیریز کو پڑھنے کے لئے بے چین رہی۔

جس طرح اس سیریز کے چاروں ناول کہانی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اسی طرح اس کے ناموں میں بھی ایک شاعرانہ ربط محسوس ہوتا ہے، ایسا شاعرانہ ربط شاید ہی کسی دوسرے مصنف کی کہانیوں میں ملے، پرچھائیں، سائے، اور ہمزاد کے مترادفات نے اس سلسلہ کے ناموں کو ایک اچھوتا سا شاعرانہ رنگ دے دیدیا ہے، آپ خود دیکھیں۔
  • شکاری پرچھائیاں
  • پرچھائیوں کے حملے
  • سایوں کا ٹکراؤ
  • ہمزاد کا مسکن

ان چاروں ناولوں کے نام خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر موجود کہانی کے بہترین عکاس بھی ہیں اور اس کی خاص وجہ یہی ہے کہ ابن صفی صاحب بنیادی طور پر شاعر تھے، ایک چیلنج کی صورت نثر (خاص کر سِرّی ادب) کی طرف آئے تو ان کا شاعرانہ مزاج نثر میں بھی جِھل مِل کرتا رہا۔

کیپٹن حمید کی شاعرانہ تشبیہات، جمن مراکشی کی بر محل شاعری، کیپٹن ناشاد کی نو آموز شاعری اور مختلف کرداروں کے شاعرانہ جملے در اصل ان کے اندر موجود شاعر کے قلم کا اعجاز ہے۔

اکثر کرداروں کے منہ سے نکلے ہوئے جملے اتنے برجستہ ہوتے ہیں کہ گفتگو کے دوران فی البدیہ گِرہ کا تاثر پیدا کرتے ہیں، مثال کے طور پر ان کے یہ مکالمے اپنا جواب نہیں رکھتے، کسی شاعر کے اسٹائل کی مثال اس طرح وہی دے سکتا ہے جو خود بھی بنیادی طور پر شاعر ہو اور شاعری کی باریکیوں کو بخوبی سمجھتا ہو۔۔۔!

"میں یقین نہیں کر سکتا کہ تم اپنی یادداشت کھو چکے ہو۔۔۔!"
"یہ آئیڈیا بھی پرانا ہو چکا ہے۔۔۔۔ کئی فلمیں بن چکی ہیں یادداشت کھو بیٹھنے کے موضوع پر۔۔۔!"
"بڑی مشکلات میں پھنسنے والے ہو، سنبھل جاؤ۔۔۔!" فیاض آنکھیں نکال کر بولا۔
"تم زمین میں دھنسنے والے ہو۔۔۔۔ نکل جاؤ۔۔۔۔!" عمران نے آغا حشر اسٹائل میں گرہ لگائی۔
[دلچسپ_حادثہ]

"کیا بک رہے ہو۔۔۔۔؟ تم نے سنا نہیں۔۔۔۔ یہ ایکس ٹو کا حکم ہے۔"
"جولیا یہ عشق ٹو کا موسم ہے۔۔۔!"
[دھوئیں_کی_تحریر]

تنویر کا یہ جملہ اتنا برجستہ اور ہم قافیہ ہے کہ بے اختیار داد دینے کو دل چاہتا ہے، کرداروں کی فطرت سے مطابقت رکھنے والے جملے اور مکالموں سے ابن صفی کے ناول بھری پڑے ہیں، بالکل اس طرح جس طرح یہ مکالمے تنویر کے مزاج کے مطابق ہیں۔

عمران کو دیکھ کر خالص کلاسیکی انداز میں کراہنے لگا۔
"آہ چرخِ کج رفتار کو میری صحت ایک آنکھ نہ بھائی،
تقدیر نے حادثات سے چغلی کھائی،
اور اس بھوت کے آگے کچھ بن نہ آئی۔"
"میں تمہارے لئے توبتہ النصوح لایا ہوں۔" عمران نے آبدیدہ ہو کر کہا۔
"شکریہ۔۔۔۔ شکریہ۔۔۔۔ جناب۔۔۔۔ پڑھنے کو کچھ بھی نہیں رہا۔"
[سبز_لہو]

جیمسن کے جملے جگہ جگہ مضمون کی خوبصورتی بڑھاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اکثر قارئین اس دلچسپ انداز گفتگو کو اپنا لیتے ہیں، انہو ں نے اپنے ناولوں سے عام آد می کے طرزِ گفتگو کو بہتر بنا دیا، یہ اقتباس دیکھیے، مصنف نے نثر میں شاعری کی ہے۔

ایک دن اُسے یاد آیا کہ اُس کے دادا کے کباڑ خانے میں بھانت بھانت کی چیزوں کے علاوہ ایک دوربین بھی موجود ہے، اُس نے اُسے نکال کر صفائی کرنے کے بعد بہت احتیاط سے سوٹ کیس میں رکھ دیا اور منتظر رہا کہ دھوئیں کی تصویر پھر کب سامنے والے پہاڑ کی چوٹی پر نمودار ہوتی ہے۔

سارا سارا دن ٹکٹکی لگائے چوٹی کی طرف دیکھتا رہتا، کبھی سوچتا وہ یقیناً کوئی بے چین روح ہے اور اسے رائیڈر ہیگرڈ کے بعض کردار یاد آنے لگتے جو عالمِ ارواح سے عالم اجسام میں آکر اپنے متعلقین کو اپنی پُر اسرار جھلکیاں دکھایا کرتے تھے اور اسے وہ عورت بھی یاد آتی جو ہزاروں سال سے زندہ اور جوان تھی، وہ جو اپنے محبوب کی تلاش میں ہر زمانے میں بھٹکتی پھرتی تھی۔

آج جیسے ہی دھوئیں کے مرغولے چوٹی سے اٹھنے شروع ہوئے، اور لوگ تو گھروں سے نکل کر اسی سمت دوڑ پڑے لیکن راحیل وہیں ایک درخت کے تنے سے ٹک کر کھڑا ہو گیا، دوربین اس کے ہاتھوں میں تھی، جب دھوئیں کے مرغولے ستار بجاتی ہوئی عورت کے ہیولے کی شکل اختیار کر چکے تو اس نے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ دوربین اوپر اٹھائی، اس کے شیشے ایڈجسٹ کئے اور دھوئیں کے ہیولے پر نظر جما دی۔

بل کھائی ہوئی دھوئیں کی دھندلی چادر میں کوئی متحرک چیز دکھائی دی۔ دل کی دھڑکن بڑھ گئی، ستار ہی تھا، سچ مچ کا ستار، اُس عورت کی شکل دھندلی تھی اور دھوئیں کے مرغولے اس ترتیب کے ساتھ اُس کے گرد پھیلتے چلے گئے تھے کہ ایک بڑی تصویر بن گئی تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اپنی پرچھائیں کے پیش منظر میں بیٹھی ستار بجا رہی ہو۔

ٹھنڈک کے باوجود بھی راحیل کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں پھوٹ آئیں، دل اُسے اپنی کھوپڑی میں دھڑکتا ہوا محسوس ہورہا تھا، دوسری بار اُس نے دوربین اٹھائی اور پھر اُسے دیکھنے لگا، زبان خشک ہو کر تالو سے لگ گئی تھی، وہ اُسے دیکھتا رہا حتیٰ کہ آہستہ آہستہ دھوئیں کی تصویر فضاء میں تحلیل ہو گئی، اب چوٹی پر کچھ نہیں تھا لیکن راحیل دوربین آنکھوں سے ہی لگائے رہا۔
[شوگر_بینک]

کتنی خوب صورت عکاسی ہے اس منظر میں، ناول کے آغاز سے کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ کہانی آگے چل کر ایک خطرناک "فضائی ہنگامہ" برپا کرے گی، ابن صفی صاحب کے قلم کی یہی چاشنی ہمیں آج تک سحر سے آزاد نہیں ہونے دیتی، جب جب ناول کا یہ اقتباس پڑھا، ذہن میں ایک الگ ہی تصویر ابھر کر آئی، نثر میں شاعری انہی کا کمال ہے۔

نثر میں شاعری کی ایک اور مثال اس منظر میں دیکھئے۔
جیمسن کان پر ہاتھ کر دھیرے دھیرے رینکنے لگا۔
"چل چلئے دنیا دی اس ٹکڑے جتھے سالا نہ سالے دا باپ ہوئے۔"
"چُپ رہو ورنہ گلا گھونٹ دوں گا۔" عمران غرایا۔
"اب گانے بھی نہ دیجئے گا۔"
"اگر اُسے متاثر ہی کرنا چاہتے ہو تو ہیر وارث شاہ سناؤ۔۔۔۔ مجھے بھی پسند ہے۔"
"تھوڑی سی یاد ہے۔"
"کچھ بھی سہی۔"

جیمسن نے سنجیدگی سے ہیر وارث شاہ شروع کی تھی، اجنبی ماحول کا سناٹا، فضاؤں میں رچی بسی خوشبو میں تاروں کی چھاؤں اور ہیر وارث شاہ کی لہک، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے آسمان سے نغموں کی بارش ہو رہی ہو، عجیب سی پاکیزگی کا احساس ہوتا تھا۔

جیمسن خاموش ہوا تو ایسا لگا جیسے زمین کی گردش تھم گئی ہو، میریانا دم بخود تھی، تھوڑی دیر بعد سنجیدگی سے بولی۔ "مفہوم میری سمجھ میں نہیں آیا لیکن تمہاری آواز بہت اچھی ہے، لَے میں اجنبیت نہیں تھی لیکن میں نہ جانے کیا محسوس کررہی ہوں۔"
[پوائنٹ_نمبر_بارہ]

اس منظر میں نہ تو ہیر وارث شاہ کے بول لکھے ہوئے ہیں اور نہ ہی ہر کسی نے یہ منظر چاندنی رات کے سناٹے میں پڑھا ہوگا لیکن جس وقت بھی پڑھا گیا ہوگا قاری نے خود کو چاندنی رات کے فسوں خیز سناٹے میں پھیلی خوشبوؤں کے درمیان پایا ہوگا، اور یہی شاعرانہ انداز ان کے ناولوں کی خوبی ہے، اگر کوئی اس منظر سے پڑھنا شروع کرے تو قیاس بھی نہیں کر سکتا کہ کچھ دیر پہلے یہ لوگ دشمن کے ہتھیار تباہ کرکے چھپ چھپا کر ادھر آئے ہیں۔

کئی جگہ کرداروں سے اشعار اس طرح کہلوائے گئے کہ ان کی پہچان بھی ظاہر نہ ہو اور جس کو پہچاننا ضروری ہے وہ پہچان بھی لے، ایک ایسا شعر عمران سے کہلوانا کہ وہ فون پر اپنا نام بتائے بنا دوسری طرف سے پہچان لیا گیا، جیسے یہ منظر۔
"کون۔۔۔؟" شلی غرائی۔
"جب سے پیدا ہوا ہوں ملک و قوم کے کسی نہ کسی طرح کام آتا رہا ہوں۔۔۔۔ لہٰذا ایک عدد نغمہ عرض ہے۔"
"احمقوں کی طرح ایک ایک کی شکل تک رہا ہوں،
کبھی اِدھر کبھی اُدھر نہ جانے کیوں بھٹک رہا ہوں۔"
"اوہ سمجھی۔" وہ دانت پیس کر بولی۔ "تو یہ تم ہو۔"
[خونی_فنکار]

یہ بھی دیکھئے یہاں ابنِ صفی صاحب نے اس موڈ کا تذکرہ بھی کیا جس میں شعراء کا تخیل شعر کہنے لگتا ہے اور ساتھ میں ایک نصیحت بھی۔
"کس مصیبت میں پھنسا دیا تم نے۔۔۔۔ اور پھر یہ مصیبت بھی نہ معلوم ہو اگر تم روز ملتے رہو۔"
"یہی تو مصیبت ہے۔"
"اوہ تو یہ مصیبت ہے تمہارے لئے؟"
"بالکل ہے۔۔۔۔ اسی لئے میں نے شاعری شروع کر دی ہے، کچھ لڑکیاں مجھے گھورتی ہوئی قریب سے گزری تھیں، کہا ہے۔"
"اے زہرہ جبینوں مجھے اس طرح نہ دیکھو
میں ہوں تو تماشہ مگر اتنا بھی نہیں ہوں۔"
"اوہ تو تم بھی محسوس کر سکتے ہو کہ تمہیں کوئی گھور رہا ہے؟"
"بھئی گھورے جائیں گے تو ضرور محسوس کریں گے، ان میں مجھے ایک چھوٹے قد کی لڑکی بہت اچھی لگی تھی جو غالباً گاؤن پہنے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلتی، میرا خیال ہے کہ تم بھی اپنے چست لباس پر گاؤن پہنے بغیر باہر نہ نکلا کرو۔"
[بیباکوں_کی_تلاش]

یہ اور اسی طرح کے اور بہت سے خوب صورت اقتباس ان کی نثر کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں، یہ ان کا اپنے فن پر عبور تھا کہ انھوں نے جو کچھ لکھا وہ عین فطرت کے مطابق تھا، ایک ایک بات، ایک ایک جملہ دل میں اتر جاتا ہے۔

خیر آگے دیکھئے ان شاعروں کے بارے میں کتنے انوکھے انداز سے بیان کیا ہے جو شعر تو کہہ لیتے ہیں لیکن اشعار کی تقطیع اور بحر کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے۔

سارجنٹ ناشاد ایک غزل کہہ رہا تھا، سامنے رکھے ہوئے کاغذ پر اُس نے بہت سے قوافی لکھ رکھے تھے، ان قافیوں میں ایک ایک مصرع کہہ کر گرہیں لگاتا جا رہا تھا، اچانک ایک مصرع میں اسے گاڑی رکتی ہوئی سی محسوس ہونے لگی، اس نے اس کی تقطیع شروع کر دی۔

"غمِ جاناں۔۔۔۔ ابے کھٹ کھٹ۔۔۔۔ لہو بن کر۔۔۔۔ ابے کھٹ کھٹ۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔ غمِ جاناں لہو بن کر ٹپک آنکھوں سے کچھ یوں بھی۔۔۔۔ ابے کھٹ کھٹ۔۔۔۔ ابے کھٹ کھٹ۔۔۔۔ ابے کھٹ کھٹ۔۔۔۔ ابے کھٹ کھٹ۔"
[لڑکیوں کا جزیرہ]

بہت سے ایسے نو آموز شاعر ہیں جو اسی طرح شعر کہتے ہیں لیکن یہ باتیں ایک شاعر ہی لکھ سکتا ہے عام آدمی یہ بکھیڑے کیا جانے۔

یہ اقتباس اور یہ شعر بھی دیکھیں، شعر و شاعری سے متعلق پوسٹ میں اس عجیب و غریب شعر کا تذکرہ نہ ہو تو ادھورا پن محسوس ہوگا۔
"لیڈی جہانگیر۔۔۔۔!" عمران نے ایک طویل سانس لے کر مغموم لہجے میں کہا۔ "میں یہی دریافت کرنے آیا ہوں کہ آج کل وہ کیوں نہیں آتیں۔۔۔۔؟"
"مجھ سے زیادہ آپ جانتے ہوں گے۔" مینیجر مسکرایا۔
"آہا۔"
"بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز"
"کیا پیئیں گے آپ؟" مینیجر نے گھنٹی کے بٹن پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔
"خونِ جگر کے علاوہ آج کل کچھ اور نہیں پیتا۔"
"اوہ تو آج کل آپ شاعر ہو رہے ہیں۔"
"ہاں۔۔۔۔آں۔۔۔۔ گریباں پھاڑتا ہے، تنگ، جب دیوانہ آتا ہے۔"
"خدا جانے، کہاں سے، کس طرح، پروانہ، دیوانہ، مستانہ آتا ہے۔"
"دوسرا مصرعہ تو کچھ بڑھا ہوا سا معلوم ہو تا ہے!"
"ہاں میں اپنے ہوش میں نہیں ہوں، بے خودی میں مصرعہ بڑھ گیا ہوگا، جب سے میمی بیڈ فورڈ کے متعلق اخبارات میں پڑھا ہے بھولی بسری یادیں تازہ ہوگئیں ہیں۔
[قبر_اور_خنجر]

جب پہلی دوسری بار یہ ناول پڑھا تھا تو اس میں صرف مزاح ہی ںظر آیا تھا، لیکن ابن صفی صاحب کے بارے میں جاننے کے بعد جب بھی یہ ناول پڑھا تو اس اقتباس میں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے اپنے محسوسات رقم کر دئے ہیں کہ قلم نثر ہی لکھ رہا ہے لیکن ذہن شاعری کی طرف مائل ہے، اور یہ کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں۔

دوسری چیز اس میں جو خاص ہے وہ یہ کہ دو الگ الگ مصرعوں کو اس طرح ایک دوسرے میں ملا دینا کہ کچھ نہ کچھ ربط بھی محسوس ہو یہ انہیں کا کمال تھا، اسی کو پڑھ کر ہم کچھ دوستوں کے ساتھ شاعری کی محفل میں اس طرح اشعار میں پیوند کاری کیا کرتے۔

مضمون کے اس موڑ پر یہ کہنا ضروری ہے کہ میرا موضوع ایسا ہے کہ ناول کے حوالوں کے بغیر اپنی بات کو سمجھانا مشکل ہے، آپ لوگ اِن سے محظوظ بھی ہوں گے اور پھر دوبارہ ناولوں کو اِس نظریہ سے پڑھنا بھی چاہیں گے۔

یہ مناظر دیکھئے۔

منظر نمبر (1)
"وہ آدمی کون تھا یور ہائی نس؟" جیمسن نے پوچھا۔
"میں نہیں جانتا۔"
"دیکھو اب شامت کہاں لے جائے؟"
"تم عورتوں کے سے انداز میں کیوں گفتگو کرنے لگے ہو؟"
"اسے چھوڑیئے جناب والا، میں بہت سنجیدگی سے اس مسئلے پر غور کرنے لگا ہوں۔"
"کس مسئلے پر؟"
"اگر آپ نے اس سرپھرے آدمی کا ساتھ نہ چھوڑا۔"
"خاموش۔۔۔۔!" ظفر آہستہ سے بولا۔ "اگر تم نے کسی کا نام لیا تو گلا گھونٹ دوں گا۔"
"میں کسی پردہ نشین خاتون کا نام لینے نہیں جا رہا تھا کہ آپ اس طرح برافروختہ ہو گئے۔"
"برافروختہ کیا؟"
"مطلب یہ کہ آپے سے باہر ہو گئے، خیر اسے بھی چھوڑئیے، اس بات پر ایک شعر یاد آگیا۔"
"داورِ حشر میرا نامہ اعمال نہ دیکھ!
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں"

منظر نمبر (2)
دوسری صبح وہ فریدی کے جھنجھوڑنے پر ہی بیدار ہوا، خانم بھی بیدار ہوچکی تھی اور وہ اس وقت رات سے زیادہ حسین لگ رہی تھی، حمید اٹھتے ہی گنگنانے لگا۔
"شبِ وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست
تیرے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی"

فریدی اس پر چرا غ پا ہوگیا لیکن حمید گنگناتا رہا، پھر بولا۔
"آپ خفا کیو‍ں ہوتے ہیں؟ جن صاحب کا یہ شعر ہے اب وہ بھی عورتوں سے عشق کرنے لگے ہیں، خدا آپ کو بھی توفیق عطا فرمائے۔"
"بکواس مت کرو۔"
[تیسرا_شعلہ]

منظر نمبر (3)
لیکن یہ نمائش اپنی نوعیت کی انوکھی نمائش تھی، یہاں صرف پرندوں کی تصاویر رکھی گئیں تھیں، دنیا بھر کے خوبصورت اور بد ہئیت پرندے، صرف پرندوں کی اڑانیں تھیں یہاں، ایسی کوئی اڑان نہیں تھی کہ شاعر کو دل تھام کر کہنا پڑتا۔
"اپنے مرکز کی طرف مائلِ پرواز تھا حسن
بھو لتا ہی نہیں عا لم تیر ی ا نگڑ ا ئی کا"

لہٰذا نمائش گاہ میں جہاں تل رکھنے کو جی چاہے، وہاں تل کی بوریاں بھی رکھ دیتے تو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔
[تصویر_کی_اڑان]

منظر نمبر (4)
آخر کار عمران نے کہا۔ "مجھے تمہاری میم صاحب سے محبت ہو گئی ہے۔"
"کیا۔۔۔؟" دفعتاً بیرا سنجیدہ ہو کر اتنی زور سے اچھلا کہ کرسی الٹ گئی۔
وہ اس طرح عمران کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا جیسے عمران نے اسے قیامت کی آمد کی اطلاع دی ہو۔
"کرسی سیدھی کرو۔۔۔۔!" عمران نے دردناک لہجے میں کہا۔ "ورنہ میری ولیری ڈارلنگ تمہیں کچا چبا جائے گی۔"
بیرے نے کرسی سیدھی کی اور چپ چاپ کاؤنٹر کے پیچھے چلا گیا، وہ متحیر ہونے میں قطعی حق بجانب تھا، وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عمران جیسا بانکا سجیلا نو جوان ولیری جیسی سیاہ فام بڑھیا پر عاشق بھی ہو سکتا ہے۔
عمران پھر اخبار پڑھنے میں مشغول ہو گیا، بیرا تھوڑی دیر کھڑا سوچتا رہا، پھر کاؤنٹر کے پیچھے سے نکل کر دوبارہ عمران کے قریب آیا۔
"مگر صاحب۔۔۔۔!" اس نے پوچھا۔ "آپ میم صاحب کے دھندے میں کیوں گھپلا کرتے ہیں؟"
"ہائے۔۔۔۔ تم نہیں سمجھ سکتے۔" عمران نے سینے پر ہاتھ مار کر شعر پڑھا۔
"محبت معنی و الفا ظ میں لا ئی نہیں جاتی
یہ وہ نازک حقیقت ہے کہ سمجھائی نہیں جاتی"
[دھوئیں_کی_تحریر]

منظر ‌نمبر (5)
فریدی برآمدے کے کمپاؤنڈ میں اتر گیا، حمید پر ابھی بھی اُسی لڑکی کی گمشدگی کی فکر سوار تھی، وہ سوچ رہا تھا کہ آخر وہ اس طرح اور اتنی جلدی کہاں غائب ہو گئی، اب وہ پھر مینیجر کے کمرے کی طرف جا رہا تھا، مینیجر نے اسے دیکھ کر ٹھنڈی سانس لی اور کرسی کی پشت سے ٹک گیا، حمید نے اس بار اُس سے کوئی برا برتاؤ نہیں کیا۔
"کیا تم نے اسے کمرے سے نکلتے دیکھا تھا؟" حمید نے اس سے پوچھا۔
"پروا نہ کیجیے کپتان صاحب یہ سنگ دل ایسے ہی ہوتے ہیں۔"
"دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے
تھے وہی بت وہی خدا ٹھہرے"

منظر نمبر (6)
"لیکن یہ کام بہت خاموشی سے ہونا چاہیے۔" بوڑھے نے ملتجیانہ انداز میں کہا۔ "میں نہیں چاہتا کہ میرے بیٹوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع ملے۔"
"آپ مطمئن رہیے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے پائے گی۔"
پھر بوڑھے کے چلے جانے کے بعد فریدی ٹھنڈی سانس لے کر بولا تھا۔ "یہ بیماری کسی عمر میں بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔"
حمید نے لہک کر شعر پڑھا۔
"بہتر ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے"

"کبھی کبھی سے کیا مرادہے؟" شعر پڑھ کر اس نے فریدی سے پوچھا۔
"کان نہ کھاؤ۔"
"علامہ اقبال کا شعر ہے۔"
"انہیں سے پوچھو جا کر۔"

منظر نمبر (7)
"کرنل صاحب بھی یہاں تشریف رکھتے ہیں۔" اس نے کہا اور لڑکی کو گھورنے لگا۔
"کہاں تشریف رکھتے ہیں؟" حمید بوکھلا گیا۔
"ہال میں۔۔۔۔ ہو سکتاہے انہیں علم ہو گیا ہو کہ آپ ایک سرو گلزار شباب کے ساتھ یہاں قدم رنجہ فرمائیں گے۔"
"شٹ اپ۔" حمید جھنجلا گیا۔
"ارے نہیں کپتان صاحب۔"
"د ل بلبلِ شید ا کا ہے نا ز ک گلچیں
پھول گلزار میں یوں توڑ کہ آواز نہ ہو"
"فرنیچر ٹوٹنے کی آواز پسند کروگے؟" حمید آگے بڑھتا ہوا بولا۔

منظر نمبر (8)
اس کی ٹائی کھول کر اس نے اس کے ہاتھ پیر باندھ دیے تھے اور حمید زمین پر بیٹھا گرہیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا، جب گرہیں کسی طرح نہ کھلیں تو اس نے کان پر ہاتھ رکھ کر گانا شروع کر دیا۔
"بلبلو مت روؤ یہاں آنسو بہانا ہے منع
ان قفس کے قیدیوں کو غل مچانا ہے منع"
"او بلبلوں کے بچے میں تمہارے حلق میں کپڑا ٹھونس دوں گا۔" فریدی پیر پٹخ کر بولا۔
"تم مجھے رونے بھی نہیں دیتے، ہائے ہائے رے ظالم زمانہ۔" اس نے کان پر ہاتھ رکھ کر پھر ہانک لگائی اور فریدی نے آگے بڑھ کر اس کے گالوں پر تھپڑ رسید کرنے شروع کر دیے۔

یہ سبھی اقتباسات اور ان کے علاوہ بھی متعدد مناظر ایسے ہیں کہ جن میں اشعار کا بر محل استعمال ایک طرف نثر کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے تو دوسری طرف ابن صفی صاحب کے مزاج میں موجود شاعر کی جھلکیاں دکھاتا ہے، نثر کے دوران بار بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا قلم شاعری کا زمانہ یاد کر رہا ہو۔ (جیسا کہ کچھ لوگوں نے ان سے شکایت کی تھی کہ آپ نے شاعری چھوڑ کر اچھا نہیں کیا)

میں نے جب ان کا یہ شعر پڑھا تو بالکل ان کی ذات کا ترجمان نظر آیا۔
"چاند کا حسن تو زمین سے ہے
چاند پر چاندنی نہیں ہوتی"

اگر وہ صرف شاعری ہی کرتے رہے ہوتے تو یقیناً ایک الگ انداز کے شاعر ہوتے مگر ان کا کلام ان کے شاعرانہ اوصاف صرف شاعری پسند لوگوں تک ہی پہونچ پاتے جب کہ سری ادب کے موجد بن کر وہ نثر کے آسمان کا دمکتا ہوا مہتاب بن گئے اور ان کے نثر پارے عام انسان کے تکیوں کے نیچے پہونچ گئے۔

آج بھی ان کی چاندنی جا بجا نظر آرہی ہے۔۔۔ کہ چاندنی کا حسن تو زمین پر ہی ہے اور سب لوگ اس کی دمک محسوس کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، اگر وہ صرف شاعری ہی کرتے رہے ہوتے اور نثر (لازوال سری ادب) کی طرف نہیں آئے ہوتے تو شاید (بلکہ یقیناً) عام انسان ان کے مزاج کی چاشنی اور ان کے شاعرانہ اندازِ گفتگو سے محروم رہ جاتے اور نہ ہی ان کے قلم کے جوہر ان کے قارئین کی گفتگو اور تحریر میں نظر آتے۔

ان کی نثر ادب کا بہترین سرمایہ ہے اور یہ چاندنی یونہی آسمانِ ادب کے چاند سے نکل ذہنوں کو منور کرتی رہے گی، ابنِ صفی صاحب کے ناولوں کے لیے بطور خاص یہ شعر:

یہ سُنے اور سُنائے جاتے ہیں
رات بھر کی کہانیاں ہیں یہ

بشکریہ فیس بک گروپ: دی گریٹ ابن صفی فینز کلب

Ibn-e-Safi & his poetry. Article: Khushi Abidi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں