ابن صفی کا ناول - زمین کے بادل - ایک تجزیہ - ڈاکٹر حامد حسن - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-03-01

ابن صفی کا ناول - زمین کے بادل - ایک تجزیہ - ڈاکٹر حامد حسن

zameen-ke-badal-ibne-safi
بشکریہ:
فیس بک گروپ
دی گریٹ ابن صفی فینز کلب [The Great Ibn-E-Safi Fans Club]
ڈاکٹر حامد حسن حامی متذکرہ بالا فیس بک گروپ کی ایک پوسٹ میں لکھتے ہیں:
احباب کو اقتباسات کا تحفہ دینے کا ایک رواج سا ہو گیا ہے تو سوچا کہ ایک آدھ اقتباس میں بھی دوستوں کی نذر کر دوں۔ ناول اٹھایا اور پڑھنے بیٹھ گیا پہلے صفحے پر ایک جملہ اچھا لگا تو فوراً تصویر بنا لی کہ اس کو بھیجوں گا پہلے کہانی پڑھ لوں۔ دوسرے پھر تیسرے اور پھر پانچویں صفحے کی بھی تصویر بن گئی۔ حالانکہ کہانی پہلی بار نہیں پڑھ رہا تھا لیکن کچھ ایسا مزہ آ رہا تھا کہ درمیان میں چھوڑنے کو دل نہیں کیا۔ کہانی ختم ہو گئی تو تصاویر کا جائزہ لینے پر احساس ہوا کہ آدھا ناول بصورت تصاویر محفوظ ہو چکا ہے۔ سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ اتنے سارے اقتباسات کیسے اور کتنے عرصے میں دئیے جائیں گے؟ اچانک خیال آیا کیوں نا ایک تفصیلی تبصرہ مع اقتباسات ہو جائے۔ دل کو مشورہ پسند آیا۔ لہٰذا اب قلم اٹھا کر "زمین کے بادل" پر تبصرہ کرنے لگا ہوں۔
احبابِ من تیار ہو جائیں ایک "تحقیق کم تبصرہ" حاضر ہونے کو ہے۔۔۔

ابتدا کرتے ہیں پیشرس سے۔۔۔
"یہ میری ایک سو دوسری کہانی ہے۔۔۔"
اٹھائیس عمران اور چوہتر فریدی کی کہانیوں کے بعد فریدی کی جاسوسی دنیا کا گولڈن جوبلی نمبر "زمین کے بادل" کے عنوان سے پیش ہوا جس کے ابتدائیے کا آغاز ابنِ صفی اپنے ناولوں کی تعداد بتا کر کر رہے ہیں جو درحقیقت پیش بندی ہے اپنے کام کی تفصیل بتانے کی اور ساتھ ہی اپنے مخصوص انداز میں ناول کی دیر سے اشاعت کی وجہ بھی بتا رہے ہیں کہ کبھی کبھی ذہن "مائل بہ لکھائی" نہیں ہوتا وغیرہ۔
اس پیشرس میں ان پانچ ناولوں اور ایک کردار کا تذکرہ ہے جو پردیسی ادب سے بصورت پلاٹ ان کے ایک سو دو ناولوں میں شامل ہوئے اور ابنِ صفی کی اختراع بن کر نمودار ہوئے۔ اب یہ ناقدین جانیں کہ ایک سو دو کے مقابلے میں پانچ زیادہ ہیں یا کم، ہم تو پڑھنے اور پڑھ کر پسند کرنے والے ہیں اور بس!
پیشرس کے اختتامیے میں ابنِ صفی صاحب ناول کے بارے میں دو فرمائشیں پوری ہونے یعنی تاریک وادی کے دیدار اور عمران و فریدی کے ملاپ کی خوشخبری دینے کے بعد دو باتوں پر غور کرنے کا کہہ رہے ہیں ایک عمران اور قاسم کا گٹھ جوڑ اور دوسرا حمید کا ردعمل۔ باقی عمران اور فریدی کے ملاپ کا قارئین پر کیا اثر ہوتا ہے وہ بعد کی بات تھی۔
-------------
باب اول بعنوان دیو کی بیہوشی، تذکرہ ہے ایک دیو کا جس کا نام قاسم ہے اور اس منظر میں قاسم کا ہوائی جہاز کے زمین چھوڑنے پر ہونے والا ردعمل بتایا گیا ہے جو حلق میں کسی چیز کے اٹک جانے سے شروع ہوا اور جنگلی بھینسے کی طرح چنگھاڑتے ہوئے حلق پھاڑ قے کی متعدد اقساط کے بعد بتدریج خاموشی پر منتج ہوا۔ یہ بھینسے کی طرح ڈکرانا حمید کی حسِ مزاح کے لیے ٹانک تھا تو وہ کیوں خاموش رہتا۔ کوسنوں، طعنوں اور بددعاؤں سے بھرپور مذاق عین مقام عروج پر فریدی کے فون کی وجہ سے ختم ہو جاتا ہے کہ جس میں فریدی حمید کو قاسم کے ساتھ لندن کی بجائے میڈرڈ میں ہی اتر جانے کا حکم دیتا ہے۔ یہاں قاسم کے ساتھ کوئی حادثہ ہوتا ہے اور قاسم بیہوش ہو جاتا ہے۔ یہ تھا باب اول کا خلاصہ۔
اس منظر کی مزاحیات میں اکثر تو حمید اور قاسم کے مکالمے ہیں لیکن دو مرتبہ منظر میں ایس صورتحال پیش آتی ہے کہ ہنسی بےساختہ لبوں سے پھسل جاتی ہے۔ ایک تو ہوٹل انتظامیہ کی طرف سے قاسم کے دیدار پر ٹکٹ کا لگا دینا اور کمائی میں سے حصے کی آفر بھی ساتھ۔ دوسرے بیہوشی کے بعد قاسم کی کایا پلٹ جانا۔ گو اس کا کہانی کے پلاٹ کے ساتھ براہ راست تعلق ہے لیکن انداز بیاں نہایت عمدہ ہے۔ جیسے۔۔۔
"ابے کیوں شامت آئی ہے قاسم کے بچے۔۔۔ میں پوچھتا ہوں یہ کیا حرکت ہے؟"
"ہائے اللہ!۔۔۔۔ میرا دوپٹہ۔۔۔!" قاسم نے بدن چراتے ہوئے کہا۔ "نکلو یہاں سے۔۔۔۔۔ ڈھیٹ۔۔۔۔ کم۔۔۔ باخت۔۔۔۔ اے۔۔۔۔ امی جان!"
اور پھر اس منظر کے آخری الفاظ۔
"دفعتاً حمید کو خیال آیا کہ کہیں وہ اپنی یادداشت تو نہیں کھو بیٹھا۔ قاسم کے لیے یہ بھی ممکن تھا کیونکہ وہ پہلے ہی سے ذہنی رَو بہکنے کا مریض تھا۔ تو کیا وہ بیہوشی اس کی یادداشت پر اثر انداز ہوئی تھی؟ اس خیال نے حمید کو بوکھلا دیا۔"

باب دوم۔۔۔ کانفرنس: ابتدا ہے "زہر کی پُڑیا" کے تعارف سے کہ وہ ظاہراً کاہل اور کام چور لگتی ہے۔ لیکن اتنی بڑی کانفرنس میں شرکت کے لیے ملک کی سب سے اہم ایجنٹ ہے جس کا ثانی کوئی نہیں۔ اس کیلی گراہم حلیے میں ایک خاص بات پوشیدہ ہے۔ یعنی اس کی آنکھیں۔۔۔
"آنکھیں بڑی بڑی اور نشیلی تھیں جن پر ہر وقت غنودگی کی کیفیت طاری رہا کرتی تھی۔۔۔"
آنکھوں کا ایسا ہی حلیہ ابنِ صفی صاحب نے فریدی کے بارے میں بھی بیان کیا ہے یعنی،
"۔۔۔۔دو بڑی بڑی خواب آلود آنکھیں۔۔۔" (جاسوسی دنیا نمبر ایک ۔۔ دلیر مجرم)
اور دونوں میں صرف بیان کا فرق لفظ "نشیلی"، لڑکی کے لیے لکھ کر ڈالا گیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ابن صفی صاحب ایسی آنکھوں کو کیوں پسند کر بیٹھے؟
اگر میں اپنی بات کروں تو یہ آنکھیں مجھے بہت پسند ہیں۔ گو بہت کم نظر آتی ہیں لیکن جس چہرے پر ہوں وہ چہرہ دلکشی میں اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اگر ابنِ صفی صاحب کی جوانی کی تصاویر دیکھی جائیں تو خود ان کی آنکھیں بھی ایسی ہی ملتی ہیں۔ گویا انھوں نے (ظاہراً) فریدی کے روپ میں خود کو پیش کیا ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا لاشعوری طور پر ہوا ہو مگر خوب ہوا ہے۔
چلیں آگے چلتے ہیں۔ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد کیا تھا؟ تو جواب ملتا ہے، "زیرو لینڈ کی تلاش کا مسئلہ درپیش تھا۔"
وجہ تنازعہ تھے وہ جاسوس جو ان ممالک میں پکڑے گئے تھے،
"اور ان کے پاس سے ایسی حیرت انگیز چیزیں برآمد ہوئی تھیں جنہوں نے انتہائی ترقی یافتہ ممالک کو بھی حیرت میں ڈال دیا تھا۔" تو اس کانفرنس کا مقصد زیرو لینڈ کی چھان بین تھی۔ کیلی کی ملاقات نوبل ہنٹر سے ہوتی ہے جو اسے عارضی ہیڈ کوارٹر لے جاتا ہے۔ وہاں دو ایشیائی پہلے سے موجود ہوتے ہیں علی عمران اور صفدر سعید۔ عمران پسندوں کی واہ وا۔۔۔۔
اس منظر میں ابنِ صفی صاحب نے مغرب کے ترقی یافتہ لوگوں کی مشرق بارے سوچ بیان کی ہے کہ وہ مشرق کو پسماندہ، کم فہم اور بےوقوف سمجھتے ہیں۔ اس حقارت بھری سوچ کا اظہار کیلی کے ان الفاظ سے بخوبی ہوتا ہے کہ جب عمران اپنے عمرانی مزاج کا مظاہرہ کرتے ہوئے کتوں کی آوازیں نکالنے لگتا ہے۔
"کمال ہے۔" کیلی نے متحیرانہ لہجے میں کہا۔ "یہ بالکل آپ کی مادری زبان معلوم ہوتی ہے۔"
"دنیا کی ہر عورت میری ماں ہے۔" عمران نے ٹھنڈی سانس لی۔
عمران کا جملہ جہاں ان الفاظ کا جواب ہے تو عمران کی "ٹھنڈی سانس" اس سوچ کا جواب لگتی ہے جس میں افسوس شامل ہے۔

عمران کو دیکھ کر کیلی کے ناک بھوں چڑھانے پر کہ ایک حد درجے احمق انسان نہ جانے کیوں ایسی مجلس میں شامل کیا گیا ہے۔ ناظمین مجلس جواب دیتے ہیں کہ عمران کے ملک میں بھی زیرو لینڈ کے جاسوس پکڑے گئے ہیں اس لیے شرکت کا کہا تھا لیکن اس ملک کی جانب سے عمران جیسے شخص کو بھیجنا مذاق ہی کے مترادف ہے۔
بہرحال ترقی یافتہ مغرب کے نمائندے اس وقت حیرت زدہ رہ جاتے ہیں جب عمران نہ صرف کانفرنس میں شامل غدار کو افشا کرتا ہے بلکہ زیرو لینڈ کے عجیب و غریب سنہری اسفنج کی حقیقت بھی عیاں کر کے اپنا دعوی سچ ثابت کرتا ہے۔
"اُن کی آنکھیں متحیرانہ انداز میں پھٹی ہوئی تھیں۔ ہونٹ کھل گئے تھے اور ایک آدھ کی سانسیں تیزی سے چلنے لگی تھیں۔"

باب سوم، پراسرار چینی: جو حمید کی تحقیق کے مطابق قاسم کی بےہوشی کا ذمہ دار تھا، نہ صرف روابط بنانے میں بلکہ اسے اغوا کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے اور حمید کو بعد از اغوا علم ہو پاتا ہے۔ یہاں ایک ایسا کردار ڈان میگائرے سامنے آتا ہے جو میڈرڈ کا بادشاہِ جرائم ہے اور فریدی کا دوست۔ یہ کیسے ممکن ہوا تو اس کا جواب اگلے باب میں ملتا ہے۔ بہرحال ڈان کی کوششوں سے معلوم ہو پاتا ہے کہ وہ پراسرار چینی سنگاپور سے آیا تھا اور امریکہ جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
غیر متوقع حملہ: کانفرنس کے شرکا مبہوت ہیں اور اچانک صدرِ مجلس، اوبران کو خیال آتا ہے کہ عمران اور صفدر بھی کہیں زیرو لینڈ کے ایجنٹ تو نہیں ہیں جو اس حیرت انگیز چیز کا استعمال جانتے ہیں۔ لیکن یہ صرف خیال ہی ثابت ہوتا ہے اور گفتگو دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ اس دوران عمران دو مرتبہ زیرو لینڈ کے جاسوس کی لاش کی بابت پوچھتا ہے تو اوبران ناگواری کا اظہار کرتا ہے۔ اس پر عمران اس جگہ کو چھوڑنے کا کہتا ہے کہ یہ جاسوس تنہا نہیں ہو گا۔ لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ دو مسلح نقاب پوش وارد ہوتے ہیں اور،
"بہت دیر میں ہوش آیا تمہیں۔"
اس مقام پر عمران کا ایکشن دیکھنے (پڑھنے) سے تعلق رکھتا ہے۔ مختصر یہ کہ عمران اسی نقاب پوش کے روپ میں اپنے ہی ساتھیوں کو اغوا کر کے باقی نقاب پوشوں کے ساتھ چل پڑتا ہے تاکہ ان کے ٹھکانے تک پہنچ سکے۔
کیا یہ ترکیب ایک جاگتے ہوئے ذہن کی پیداوار نہیں ہے؟ کیا ایک بےوقوف ایسا سوچ سکتا ہے؟

فریدی کی آمد: پانچویں باب یا منظر میں فریدی کی آمد ہو رہی ہے۔ اسی منظر میں معلوم ہوتا ہے کہ قاسم کے حصول کے لیے ایک جال بچھایا گیا تھا، فریدی اور حمید جس کا شکار بنتے ہیں اور نتیجے میں قاسم اغوا ہو جاتا ہے۔ اس دوران چونکہ ڈان میگائرے کے نام پر حرف آتا ہے اس لیے وہ چینیوں سے انتقام کا عندیہ دیتا ہے۔ فریدی منع کرتا ہے لیکن ڈان کے ارادے دیکھ کر چپ ہو جاتا ہے۔ یہاں فریدی کو "تن لین" کی راہ مل چکی ہے جس پر چل کر قاسم تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ویسے اس منظر میں فریدی کا ایکشن بھی دیکھنے (پڑھنے) سے تعلق رکھتا ہے۔
وہ کون تھا؟ سوال ہے نقاب پوشوں کے بڑے کے بارے میں کہ وہ کون تھا۔ عمران کی بدولت معلوم ہوتا ہے کہ وہ اوبران کے ملک کی سکریٹ سروس میں اوبران کے برابر کا عہدے دار ہے جو اس وقت تو فرار ہو جاتا ہے لیکن اسی منظر کے آخر میں عمران کی چلائی گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔ عمران کی پیش بندی کامیاب ہوتی ہے۔
بری خبر: منظر کا عنوان ایک بری خبر کی اطلاع ہے لیکن منظر کے شروع میں بےگناہ چینیوں کے متعلق بری خبر ملتی ہے تو آخر میں فریدی کے متعلق۔ فریدی ڈان کی اس حرکت پر مغموم ہو جاتا ہے اور حمید کے استفسار پر کہ ایسے مجرم کے ذریعے ہمارا انتظام کیوں کرایا گیا، جواب دیتا ہے۔
"میڈرڈ میں بس یہی جان پہچان والا تھا اور اس کا پتا بھی سیدھا سادا ہے۔ ڈان میگائرے لکھ دو۔ بس کافی ہے۔" اس جان پہچان کے ساتھ ہی فریدی اپنے دھوکا کھانے کی داستان بھی بیان کرتا ہے اور قاسم کی کایا پلٹ و اغوا پر بھی قیاس آرائی کرتا ہے۔ بہرحال نیویارک کا سفر ہوتا ہے اور یہاں حمید اپنے آپ کو تازہ دم کرنے کے لیے ویٹریس لڑکی کے ساتھ "بکواسیات" کے تحت سنجیدہ و پرتجسس مذاق کرتا ہے۔ قاری جہاں اس مذاق سے حظ اٹھاتا ہے وہیں لڑکی کا ردعمل صورتحال کو اور پرلطف بنا دیتا ہے اور پھر ایک مقامی اجنبی عنوان والی بری خبر لے کر نازل ہوتا ہے۔
"مجھے کرنل فریدی نے بھیجا ہے۔ ان کے کسی نے چھرا مار دیا ہے اور وہ اس وقت شکاگو اسپتال میں ہیں۔ حالت زیادہ اچھی نہیں ہے۔"

گھوڑے پر پرندہ:
"وہ ایک دل دہلا دینے والا منظر تھا۔ ان کے قریب ایک لاش پڑی تھی اور جلتی ہوئی لکڑیاں اس طرح چٹک رہی تھیں جیسے وہ عرصے سے اسی رات کی منتظر رہی ہوں۔"
عمران کا مغرب کے نمائندوں کی نظر میں مقام۔۔۔
"جیسے کسی الو کو پکڑ کر دھوپ میں بٹھا دیا گیا ہو۔"
جب عمران کو الو سمجھنے والے، ریڈ انڈینز کے گھیرے میں آتے ہیں تو مزاحمت کے چکر میں مقابلے پر ڈٹ جاتے ہیں جبکہ عمران چپکے سے صفدر کے ساتھ غار کی پچھلی جانب سے اتر کر غائب ہو جاتا ہے۔
اس منظر میں عمران کا طریقہ واردات دکھایا گیا ہے۔ اگرچے عمران کی آمد سے اس منظر تک اس کے صرف مزاحیہ جملے اور احمقانہ حرکات ہی ملتی ہیں۔ لیکن ان جملوں کو مجذوب کی بڑ نہیں کہا جا سکتا۔ اس مقام پر آ کر محسوس ہوتا ہے کہ عمران کی کہی ہوئی ہر بات کا کوئی نہ کوئی مطلب تھا۔ اگر فریدی اور عمران کا تجزیہ کیا جائے تو اب تک نہ ہی کوئی ایکشن میں کم رہا ہے اور نہ ہی پیش بینی میں۔ پیش بینی کی بات اگر کریں تو ہمیں فریدی اور عمران دونوں حالات کا فوری تجزیہ کرنے والے اور ان حالات کے متعلق سو فیصد متوقع پیشین گوئی کر دیے والے ملتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ پیش بندی و انتظامات بھی ہو جاتے ہیں۔ یعنی دونوں کی ذہانت میں کوئی شبہ نہی۔ ہاں فرق صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ فریدی کی بات سولہ آنے مانی جاتی ہے اور اس کی بات سے کوئی روگردانی کی جرات نہیں کر سکتا۔ حتی کہ حمید بھی اعتراض برائے اعتراض ہی کرتا ہے بات نہ ماننا اسے بھی نقصان دہ لگتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف عمران کی ہر پیش بینی کو مجذوب کی بڑ سمجھا جاتا ہے اور پیش بندی نہیں کی جاتی۔ لیکن جب غیر متوقع طور پر "مجذوب کی بڑ" سچ ہوتی ہے تو لوگ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ عمران کو بھی کوئی شوق نہیں ہوتا کہ اس کی بات مانی جائے ہاں جب ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اب سنجیدگی کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا تو وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے سے بھی نہیں چوکتا۔ جیسا کہ پچھلے منظر میں پستول نکال کر جاسوس کو نشانے پر لینا۔ بہرحال فریدی اگر راہنما کی طرح سب سے آگے رہتا ہے تو عمران ایک دیوانے کے روپ میں سب کو اپنے پیچھے لگائے رکھتا ہے۔

محتاج خانہ: حمید کا "پرانے" شکاری کے جال میں پھنس جانا اور پھر ایک بھرپور چالاکی کر جانا اس منظر کا خلاصہ ہے۔ شکاری وہی ہے جو قاسم کو اغوا کر چکا ہے اب حمید بھی اس کی قید میں آ پہنچا ہے اور اس "تن لین" کا اگلا ہدف فریدی ہے جو پہلے بھی اس شکاری کے ہاتھوں بےوقوف بن چکا ہے۔ کیا اب بچ سکے گا؟
تو ہر قاری جواب میں کہتا ہے کہ فریدی اب بےوقوف نہیں بن سکتا۔ ایک تو یہ کہ فریدی اب ہوشیار ہے، دوسرے یہ کہ حمید نے نہایت چالاکی سے فریدی کے لیے خفیہ پیغام بھیج دیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اب میں (یعنی قاری) فریدی کے ساتھ ہوں۔ بہرحال حمید کی فریدی کے ساتھ بےمثال محبت اور چالاکی، دونوں اس منظر کا خاصا ہیں۔ جہاں حمید کو لایا گیا ہے قاسم بھی وہیں موجود ہے مگر ذہنی طور پر مفلوج حالت میں۔ تن لین حمید کو خبر دیتا ہے کہ اس "محتاج خانے" میں فریدی اور تم بھوکے پیاسے مر جاؤ گے کیونکہ اس ویرانے میں کوئی نہیں آتا جاتا کہ تم لوگوں کو مدد مل سکے۔

نیلی قمیض والا: کہانی ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے کہ اب ہر منظر میں ایکشن مل رہا ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ ابن صفی صاحب کے ناولوں میں آج کل کا مار دھاڑ سے بھرپور ہیجان خیز ایکشن بالکل نہیں ہے۔ جو اور جتنا ایکشن ہے اسے تجسس آمیز ایکشن کا نام ضرور دیا جا سکتا ہے جو ہیجان خیز ہرگز نہیں۔
منظر کی طرف لوٹتے ہیں۔ پچھلے منظر میں حمید کا ذکر ہوا تو اس میں صفدر کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ عمران جیسے مجذوب سے صفدر کی عقیدت پوری ٹیم میں سب سے زیادہ ہے بقول صفدر "اگر عمران سنجیدہ ہو جائے تو ایکسٹو سے کسی طرح کم نہیں۔" (ماخذ مجھے یاد نہیں ہے) تو اس منظر میں صفدر کا یقین ملاحظہ کریں۔
"صفدر کچھ نہ بولا۔ اسے یقین تھا کہ عمران کے ذہن میں کوئی نہ کوئی سکیم ضرور ہو گی۔ وہ اس کے ساتھ ڈھلوان راستے پر چلتا رہا۔"
دونوں دور جا کر جائزہ لیتے ہیں اور ریڈ انڈینز کے ہاتھوں اپنے ساتھیوں کی گرفتاری بھی دیکھتے ہیں۔ لیکن ایک فرد جو نیلی قمیض میں ملبوس ہوتا ہے اسی جگہ رہ جاتا ہے۔ کیوں؟ تو اس کا جواب عمران کو معلوم ہے یعنی اس ہیلی کاپٹر کے لیے جو کانفرنس کے شرکا کو واپس لے جانے کے لیے آنے والا ہے تاکہ اسے بھٹکایا جا سکے۔ اب ذرا عمران کا طریقہ تفتیش ملاحظہ کریں۔

"کیا تم بھی پچھلی رات یہاں تھے؟"
"ہاں تھا اور اس وقت یہاں سے گیا تھا جب تمہارے کسی آدمی نے مارشل کو ختم کر دیا تھا۔"
"تو تم نے رات ہی کو ہم لوگوں پر حملہ کیوں نہیں کرایا؟"
"مجھے علم تھا کہ تم لوگ ہیلی کاپٹر کے آئے بغیر واپس نہیں جا سکو گے۔ اس لیے اندھیرے میں ٹھوکریں کھانا فضول ہی تھا۔"
"آخر اس قسم کے سوالات سے کیا فائدہ؟" صفدر اردو میں بڑبڑایا۔
" آہا۔۔۔ کیا ابھی تک تمہیں فائدہ نہیں سجھائی دیا؟"
"نہیں! مجھے تو اس میں کوئی بھی کام کی بات نہیں نظر آئی۔"
"میں نے اس سے یہ معلوم کر لیا ہے کہ انڈینوں کی بستی یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔"
"یہ کس بات سے ظاہر ہوتا ہے؟"
"اس بات سے کہ انھوں نے رات کی بجائے دن کو حملہ کیا تھا۔ کیونکہ وہ اندھیرے میں ٹھوکریں نہیں کھانا چاہتے تھے۔ اگر دوری کا معاملہ ہوتا تو وہ اندھیرے کی بجائے اُسی دشواری کا حوالہ دیتا۔"
یہ انداز تفتیش فریدی سے کتنا مختلف ہے؟

تین کرسیاں: اب فریدی کا ایکشن ملاحظہ ہو۔ دو آدمی جو حمید کا خط لے کر فریدی کو محتاج خانے تک لے جانے کے لیے آتے ہیں، فریدی کے ہاتھوں اسیر ہو کر اس سازش کا شکار ہو کر قید ہو جاتے ہیں جو فریدی کے لیے تیار کی گئی ہوتی ہے فریدی اس دوران ایف بی آئی کے جیری کپلنگ سے رابطہ کر چکا ہے جو نیویارک میں قانون کا رکھوالا ہے۔ بہرحال حمید مقید حالت میں مل چکا ہے اور فریدی جیری کے ساتھ مل کر اسے آزاد کرانے کی سعی کرنے لگا ہے۔

دو لڑاکے: تذکرہ ہے دو لڑاکوں کا لیکن پہلے مغرب کے لوگوں کا ایک اقرار نامہ۔۔۔
"مگر وہ نیلی قمیض والا یہاں دکھائی نہیں دیا۔" کرامویل نے کہا۔
"وہ وہیں رہ گیا تھا۔ شاید اسے عمران اور صفدر کی تلاش تھی۔"
"لڑکے چالاک نکلے وہ دونوں۔" کیلی نے کہا۔
"وہ یقیناً چالاک ہیں۔ مشرق ہم سے کمتر نہیں ہے بلکہ اسے آگے بڑھنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ صدیوں سے سفید فام قومیں اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہی ہیں اور انھوں نے اسے ابھرنے ہی نہیں دیا۔ لیکن اب وہ بھی آہستہ آہستہ بیدار ہو رہا ہے "
کیلی کے عمران کا تذکرہ کرنے پر کرامویل کہتا ہے۔
"بہت گہرا آدمی معلوم ہوتا ہے۔ یہ مشرقی آدمی مٹی کے ڈھیر معلوم ہوتے ہیں لیکن جب انھیں کریدو تو ایسے جواہرات نکلتے ہیں کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ کرنل فریدی کو ہی لے لو۔ وہ بین الاقوامی شہرت کا مالک ہے لیکن اگر تم اسے دیکھو تو ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ یہ فریدی ہے، جس نے اتنے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اس کی صحت بڑی شاندار ہے۔ بڑے مضبوط جسم کا آدمی ہے۔ لیکن اس کی آنکھیں ہر وقت نیند میں ڈوبی ہوئی سی معلوم ہوتی ہیں اور انھیں آنکھوں کی وجہ سے تم اسے ایک کاہل اور کام چور تاجر سے زیادہ نہیں سمجھ سکتے۔" اور اس کے بعد فریدی کا ذرا سا تعارف ہے کیونکہ کرامویل فریدی کے ساتھ آکسفورڈ میں پڑھ چکا ہے۔
اب اس منظر کا خلاصہ صفدر کی زبانی سنیں۔
" جب ہیلی کاپٹر آیا تو عمران صاحب نے رسد لانے والے کو حالات سے آگاہ کیا۔ پھر ہم اسی ہیلی کاپٹر کے ذریعے نیلی قمیض والے سمیت ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ نیلی قمیض والے نے اپنی زبان بند کر لی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اب کبھی نہیں کھلے گی۔ ہیڈ کوارٹر میں اس وقت صرف تین جہاز اور تین ہیلی کاپٹر موجود تھے۔ کمانڈر سوچ میں پڑ گیا تھا۔ آخر عمران صاحب نے صرف چھ آدمی مانگے اور تجویز پیش کی کہ انھیں پیراشوٹوں سے نیچے اتارا جائے۔ اس پر کمانڈر نے زہریلے اور آتشی تیروں کا خوف دلایا۔ عمران صاحب نے بلٹ پروف کی تجویز پیش کی اور جھلاہٹ میں یہاں تک کہہ دیا کہ صرف ہم دو آدمی نیچے اتریں گے اس لیے کمانڈر کو اس کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے۔ آخرکار کافی بحث و تکرار کے بعد یہ تجویز منظور ہو گئی۔"
اور اسی تجویز کے مطابق کافی خون ریزی کے بعد عمران سب کو بچا کر لا رہا ہوتا ہے۔ لیکن جب کرامویل فریدی کا ذکر کرتا ہے تو عمران بڑا عجیب ردعمل دکھاتا ہے۔ یعنی ہنسی اڑا کر چپ ہو جاتا ہے۔ جب وجہ پوچھی جاتی ہے تو کہتا ہے۔
"آپ ایک ایسے آدمی کا تذکرہ کر رہے ہیں جس کا کوئی وجود نہیں ہے۔"
"کیا مطلب؟"
" کرنل فریدی صرف ایک کہانی ہے۔"
"آپ کہاں کی بات کر رہے ہیں؟"
"وہیں کی جہاں بڑوں بڑوں کی عقلیں خبط ہو جاتی ہیں۔"
"شاید اس واقعے نے آپ کے ذہن پر برا اثر ڈالا ہے۔"
"اتنا بُرا کہ میں اپنے نام کے ہجے تک بھول گیا ہوں۔ ٹی ۔۔آئی ۔۔ایل۔۔ بی۔۔ اے۔۔ این۔۔ عمران ۔۔مگر مجھے اس میں شبہ ہے۔"

اب عمران کے اس ردعمل کی کوئی توجیہہ سمجھ نہیں آتی سوائے اس کے کہ یہ شکریہ تک ادا نہ کرنے کا ردعمل تھا۔ جتنی بہادری سے اپنی جان پر کھیل کر ان کی جان پورے قبیلے سے بچائی گئی تھی اس پر بجائے پذیرائی کرنے کے عمران سے پہلا سوال یہی کیا جاتا ہے کہ" کیا تم فریدی کو جانتے ہو؟"
شاید اسی لیے عمران صفدر کو کہتا ہے،
"تم نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ میں خواہ کسی عرض البلد یا طول البلد پر پہنچ جاؤں مگر لوگ مجھے بیوقوف ہی سمجھیں گے۔"
"اوہ۔۔یہ مطلب ہرگز نہیں!" اوبران گڑبڑا کر بولا۔ "آپ غلط سمجھے ہیں۔"
"میں بہت بد نصیب آدمی ہوں۔ میں چھوٹا ہی تھا کہ میرا کتا مر گیا تھا۔ ذرا ہوش سنبھالا تو گھوڑا بھی مر گیا۔ اب میں دنیا میں بالکل اکیلا ہوں اور لوگ مجھے گدھا سمجھتے ہیں اور میں کسی نیل کنٹھ کی طرح اداس ہوں۔"
اب اس دکھ کی داستان اور ساتویں منظر میں بیان کردہ حمید کی داستان میں کیا فرق ہے، یہ آپ بھی سوچیں۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ وہ صرف وقت گزاری تھی جبکہ یہ طنز سے بھرپور طمانچہ جو اہلِ مغرب کی بےاعتنائی پر برسایا گیا ہے۔

رہائی اور شرارت: حمید کو آزادی مل گئی اور واپسی پر فریدی بتاتا ہے کہ ایک چینی "روزا" کو بھی تاریک وادی کے سفر کے لیے تیار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور وہ وہی تن لین ہے جو قاسم کا اغوا کار ہے۔ پس ثابت ہوا کہ قاسم کا اغوا تاریک وادی کے لیے ہی ہوا ہے۔ اب قاسم کے پیچھے سفر ضروری ہو گیا تھا۔ روزا ساتھ جانے کی خواہش کرتی ہے تو فریدی انکار کر دیتا ہے۔ لیکن حمید اسے اگلی منزل کا بتا کر پہلے سے پہنچنے اور وہاں طارق سے ملنے کا کہہ دیتا ہے۔
یہاں روزا اور طارق کا تعارف کراتے ہیں۔ روزا وہ لڑکی ہے جس کے والد کی وجہ سے تاریک وادی کا سفر ممکن ہوا تھا۔ جبکہ طارق ایک مہا شکاری اور سیاح ہے جو ساری زندگی ہیروں کی تلاش میں سیاحت کی نذر کر چکا ہے۔ جہاں دیدہ اور کئی زبانوں کا ماہر ہے۔ فریدی اس کی بزرگوں کی طرح عزت کیا کرتا ہے۔ اب کرتے ہیں حمید کی بات۔ اس منظر میں گزشتہ منظر کی طرح حمید ایک لڑکی یعنی روزا کو ایک لمبی سی فرضی داستان سنا کر آخر مطلب کی بات کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عمران اتنی لمبی تمہید کبھی نہیں باندھتا۔ اس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ حمید صنف مخالف کی قربت سے حظ اٹھاتا ہے جبکہ عمران کترایا کرتا ہے۔ اسی قربت کی خاطر حمید کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت گزر جائے۔ یاد رہے کہ اس قربت میں جنسیت کبھی داخل نہیں ہوتی۔ اس منظر کی خاص بات یہ کہ جب حمید فریدی سے دوبارہ پوچھتا ہے کہ آخر آپ اس چکر میں پھنس کیسے گئے تو فریدی کہتا ہے۔
"مقدرات نہیں ٹلتے اور جب ستارے گردش میں آتے ہیں تو اونچے سے اونچا آدمی بھی مینڈکوں کے سے انداز میں سوچنے لگتا ہے۔" یہاں مینڈک کا تذکرہ شاید جھلاہٹ میں ہی کیا گیا ہے۔

داؤ پیچ:
"میری بہتیری حیرت انگیز صلاحیتوں پر لوگوں کو یقین نہیں آتا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔۔۔" یہ بھی شاید کیلی پر طنز ہی تھا جس کو عمران فوراً مزاح میں تبدیل کر کے چائے کی کہانی شروع کر دیتا ہے۔ ایکواڈور کے شہر ریوبامبا کے ایک ہوٹل میں دس بارہ لوگوں کا گروہ مقیم تھا اور یہاں سے آگے سفر شروع کرنا تھا۔
اس ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں عمران، صفدر اور کیلی کو دیو نما قاسم نظر آتا ہے۔ عمران سفر کے لیے اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے تو چینی لوگوں سے قاسم کو چھیننے کے لیے داؤ پیچ سوچنے لگتا ہے۔ حالانکہ وہ ابھی قاسم کے نام اور اہمیت سے ناآشنا ہے۔ آگے آگے دیکھتے ہیں ہوتا ہے کیا۔

ذہنی فتور: طارق اور روزا، فریدی اور حمید سے ملاقات کے بعد پہلے قاسم کی تلاش کیتو میں کرتے ہیں۔ لیکن بقول طارق، قاسم کو یہاں کیتو لانے کی غلطی نہیں کی جائے گی۔ وہ براستہ ریوبامبا بھی کوٹی کی زیارت گاہ تک پہنچ سکتے ہیں اور اصل سفر تو وہیں سے شروع ہونا تھا۔ لہذا یہ لوگ آگے کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ اسی دوران ایک چینی کے چکر میں حسبِ معمول فریدی غائب ہو جاتا ہے۔

خالہ زاد بھائی: صفدر اپنا کام بخوبی سرانجام دے کر عمران کو رپورٹ دیتا ہے کہ موٹا آدمی چینیوں کو کوٹی کی زیارت گاہ سے کسی تاریک وادی میں لے جانے کے لیے رہنمائی کرنے والا ہے۔ تاریک وادی کا سن کر عمران کہتا ہے کہ اگر ایسی کوئی وادی موجود ہے تو وہی ہماری منزل ہو سکتی ہے۔ پارٹی لیڈر اوبران کے پاس منزل کا پوچھنے جاتے ہیں تو وہ تاریک وادی اور سنگ ہی کی کہانی سناتا ہے۔ جس پر عمران موٹے کا بتاتا ہے کہ وہ ہمیں وہاں لے کر جا سکتا ہے تو کیوں نہ اسے بھی ساتھ لے لیا جائے۔ اوبران اعتراض کرتا ہے کہ اگر وہ چینی سنگ ہی یا فریدی کے ساتھ ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اسے ہمارے ساتھ جانے دیں گے؟ عمران کہتا ہے کہ یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ پھر جب ان کا قافلہ جانے کے لیے تیار ہو چکا ہوتا ہے تو عمران مع قاسم نازل ہوتا ہے اور کیلی سے تعارف کرا کر بیٹھ جاتا ہے۔ صفدر کے پوچھنے پر اسے لانے کی تفصیل بتاتا ہے اور کہتا ہے۔
"میں نے اسے یقین دلایا ہے کہ وہ میرا خالہ زاد بھائی ہے اور تایا زاد ماموں ہے۔"
یہاں میں حمید پسندوں سے سوال کرنا چاہوں گا۔ کیا اتنی مختصر ملاقات میں حمید کسی اجنبی کو اپنا قریبی بنا سکتا ہے؟
میرا جواب ہو گا اگر اجنبی جنس مخالف سے ہوئی تو بالکل کیونکہ اس معاملے میں حمید لاثانی ہے۔ لیکن اگر اجنبی مرد ہوا تو حمید کے لیے یہ بہت مشکل ہے۔ شاید اسی لیے ہر ایسی جگہ پر فریدی کو خود قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ میری اس بات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔

بھوکا بھوت: فریدی کا قافلہ گھوڑوں پر کوٹی کی زیارت گاہ کی طرف چل پڑتا ہے۔ دو دن کے سفر کے بعد چند چینیوں کی گھوڑا گاڑی ریوبامبا سے آتی دکھائی دیتی ہے۔ اسے گھیرنے کے لیے یہ لوگ فائرنگ کرتے ہیں تو حمید کا گھوڑا بدک کر بھاگ اٹھتا ہے اور حمید سمیت نہ جانے کہاں جا پہنچتا ہے۔ دو جنگلی حمید پر حملہ کرتے ہیں تو وہ بمشکل اپنی جان بچا پاتا ہے۔ پھر ان کا حلیہ بنانے کے لیے ان میں سے ایک کی پتلون پہنتا ہے اور رنگت چھپانے کے لیے اوپری جسم پر بالوں اور چہرے سمیت کیچڑ لگا کر چل پڑتا ہے کہ اچانک قاسم کی سفید فام پارٹی سے جا ٹکراتا ہے۔ جو اسے ریوالور تانے گھیر لیتے ہیں اور قاسم ایک سر تا پا حماقت والے آدمی کے شانے پر ہاتھ مار کر کہتا ہے۔
"پیارے کھالہ جاد زاد۔۔ دیکھو سالے کو بالکل بھوت معلوم ہوتا ہے۔"
یہ تھی حمید کی عمران سے پہلی ملاقات۔ اس منظر میں حمید سے سوائے حلیہ بدلنے کے باقی جو بھی افعال سرزد ہوئے ہیں وہ سب بدحواسی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

رہائی اور گرفتاری: عمران کی بدولت حمید کا جنگلی نہ ہونا اسی وقت ظاہر ہو جاتا ہے۔ جب قاسم حمید کی تفصیل بتاتا ہے تو سب حمید سے گفتگو کرنے آتے ہیں لیکن حمید ہنگامہ کر کے ریوالور حاصل کرتا اور قاسم کی واپسی کا مطالبہ کر دیتا ہے۔ جس پر عمران کہتا ہے لے جاؤ اس کو اور سب واپس چل پڑتے ہیں۔ لیکن اگلے ہی لمحے عمران چالاکی سے حمید کو دوبارہ گرفتار کر لیتا ہے۔
نئی افتاد: حمید احمق کی چالاکی پر بہت کڑھتا ہے لیکن احمق اس سے دوستانہ رویہ روا رکھتا ہے۔ حمید کو عمران کے نام کا علم ہوتا ہے تو وہ عمران کو کہتا ہے۔
"کرنل صاحب تم سے بخوبی واقف ہیں۔"
"اور میں ان سے واقف ہوں۔" عمران مسکرایا۔
اس بات کے علاوہ حمید جو کچھ بھی پوچھنے کی کوشش کرتا ہے عمران اسے چٹکیوں میں اڑا دیتا ہے۔ کوٹی کی زیارت گاہ پر بھی حمید کو فریدی نہیں مل پاتا۔ ایک رات جنگلی ان سب کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ اس دوران حمید قاسم کو ورغلا کر دو مرتبہ ہنگامہ کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ فرار ہو سکے لیکن دونوں بار عمران اس کی کوششوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔

مشترکہ مہم: یہ آخری باب ہے جو عنوان کے ساتھ لکھا گیا۔ شاید اس لیے کہ اس میں عمران اور فریدی یکجا ہو گئے ہیں۔ اوبران کی مکمل ٹیم گرفتار کر کے جنگلیوں کی بستی میں لے جائی جاتی ہے جہاں طارق کے سیاہ نیولے، شکاکی کی بدولت فریدی کی ٹیم پہلے ہی معزز رتبہ حاصل کر چکی ہے۔ فریدی اور عمران کی پہلی ملاقات بہت زیادہ گرم جوشی والی نہیں ہے۔ فریدی مسکرا کر عمران کا خیر مقدم کرتا ہے تو عمران احمقانہ انداز میں فریدی کو دیکھتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ، شاید دونوں کی بہت زیادہ قربت نہیں یا پھر حالات کا تقاضا یہی تھا۔
فریدی روزا اور طارق آزاد تھے جبکہ باقی سب قید میں۔ اس منظر میں سب کیلی کے بارے میں سوچ رہے ہیں کہ یہاں سب سے زیادہ خطرہ کیلی کے لیے ہی ہو سکتا ہے۔ عمران سے حل پوچھنے آتے ہیں تو عمران ٹال دیتا ہے۔
اگلا منظر ناول میں دوسرے نمبر پر بہترین منظر ہے۔ امتحان ہے دونوں بڑے جاسوسوں کا کہ کیلی کو کیسے جنگلیوں کے سردار سے بچایا جائے۔ فریدی اور طارق سب کے لیے بحفاظت واپسی کا انتظام کر چکے ہیں لیکن سردار کیلی کے سلسلے میں انکاری ہے۔
عمران ایک مزاحیہ جملہ تدابیر سننے کے درمیان بولتا ہے، "میں تو اب اپنی بقیہ زندگی اُس درویش کی خدمت میں گزار دینا چاہتا ہوں جس کے کاندھے پر سیاہ نیولے سواری کرتے ہیں۔"
اور فریدی اس کی مکمل سکیم سمجھ جاتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ نقصان کا خدشہ ظاہر کرتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی منع نہیں کرتا۔
"اگر تمہارے ذہن میں وہی سکیم ہو جس کا تذکرہ میں نے ابھی کیا تھا۔۔ خیر ہو گا۔۔ اس پر اچھی طرح غور کر لینا۔"
سردار کا موقف ہے کہ جو کیلی کا دعوےدار ہو وہ مجھے مار ڈالے۔ فریدی مقابلے کی سوچتا ہے تو طارق اسے بھی بے کار قرار دیتا ہے۔ یعنی دونوں جاسوسوں کی سکیموں میں سقم موجود ہیں۔

رات ہوتے ہی جنگلیوں نے آگ، رقص اور گیتوں کے بعد للکارنا شروع کر دیا۔ فریدی میدان جنگ میں آیا تو حمید عمران کو طعنے دینے لگا کہ کیلی تمھاری ساتھی ہے لیکن اس کے لیے تمہاری بجائے فریدی لڑنے لگا ہے۔ عمران ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔
"میں پرلے سرے کا گاؤدی ہوں۔ اس لیے کسی کے معاملات میں دخل دینا پسند نہیں کرتا۔ اگر میں کہتا کہ میں اس سردار سے کشتی لڑوں گا تو کرنل کا دل ٹوٹ جاتا۔ لہذا چلنے دو۔" یہاں عمران کے مزاج بارے کچھ جملے ابنِ صفی صاحب نے لکھے۔
"حقیقتاً وہ ایسا ہی آدمی تھا۔ نہ اسے اپنی آن کی پرواہ تھی اور نہ بدنامی کی۔ وہ تو بس کام نکالنا جانتا تھا۔ خواہ کسی صورت سے نکلے۔ اس کا نظریہ تھا کہ اگر محض مکاری سے کوئی مسئلہ حل ہو سکے تو اس کے لیے جسم یا ذہن کو تھکانے سے کیا فائدہ۔" عمران کے اس مزاج پر تبصرہ آخر کے لیے رکھتا ہوں۔
خلاصہ یہ کہ جب فریدی سردار سے مقابلہ شروع کرنے لگتا ہے عین اسی وقت عمران اور حمید کی آپسی لڑائی کا ہنگامہ شروع ہو جاتا ہے اور سب حیرت سے اس ہنگامے میں محو ہو جاتے ہیں۔ اسی دوران عمران کہتا ہے کہ وہ گرفتاری کے وقت ہی کچھ اسلحہ چھپا چکا ہے اس کو اٹھا کر جنگلیوں پر حملہ کر دیا جائے۔ لیکن اس سے پہلے ہی کچھ ہو جاتا ہے۔ ایک تیز قسم کی بو ماحول پر چھا جاتی ہے اور سب لوگ بےہوش ہو جاتے ہیں۔
یہ وہ مقام تھا کہ جہاں برملا کہا جا سکتا ہے کہ حمید دو بار ہنگامہ کرنے کی کوشش میں عمران کی وجہ سے ناکام ہوتا ہے جبکہ وہی عمران حمید کو غصہ دلا کر ہنگامہ برپا کرنے میں لمحوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ عمران کی حکمت عملی اس وقت سے شروع ہو چکی تھی جب وہ گرفتار ہی نہیں ہوئے تھے یعنی عین حملے کے وقت۔ اس عمل کو کیا کہا جائے گا؟ اس کے باوجود عمران دوسری اسکیم بھی تیار کرتا ہے جس پر فریدی اسے اچھی طرح غور کر لینے کا کہتا ہے کہ ناکام نہ ہو تو ضرور کوشش کرو۔ یہاں اگر عمران کی پیش بندی و عقل مندی نظر آتی ہے تو فریدی کا عمران پر بھروسا بھی سامنے آتا ہے کہ وہ عمران سے مزید تفصیلات نہیں پوچھتا بلکہ تنبیہ کرتا ہے کہ ناکامی مقدر نہ ٹھہرے تو ضرور کوشش کرو۔ اب اگر عمران کی ایک تدبیر کارگر نہیں ہوتی تو وہ دوسری کوشش کرتا ہے جس پر یقینی کامیابی تھی کیونکہ خود فریدی اس کی تعریف کرتا ہے۔
وہ سب کس طرح ہوش میں آئے اور کس جگہ، یہ باتیں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ مختصراً بقول فریدی، "بس یہ سمجھ لو کہ ہم زیرو لینڈ والوں کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ عمران کا اندازہ غلط نہیں تھا۔"
ایک جگہ حمید عمران سے کیلی کے بارے میں پوچھتا ہے، "کیا تم اس کے چکر میں ہو؟"
"میرے باپ جو اس چکر میں پڑے تھے آج تک پچھتا رہے ہیں۔ پھر میں بیچارہ کیا پڑوں گا اس چکر میں!"
"بڑے بےہودے ہو۔" فریدی مسکرا کر بولا۔
یہ حمید اور عمران کا فرق بتایا ہے ابنِ صفی صاحب نے۔
اب ہم اس مقام پر آ گئے ہیں کہ اس منظر کے بعد کہانی پر تبصرہ بالکل نہ کیا جائے۔ تو اس آخری اور سب سے اہم منظر کی خاص باتیں:
فریدی عمران پر اتنا بھروسا کر رہا ہے کہ عمران کو زیرو لینڈ کے ایجنٹوں کے آگے بطور لیڈر رہنے کا کہتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ، "میں اس گفتگو سے مطمئن ہوں!" بھی کہتا ہے۔ اس پر حمید کا ردعمل اور فریدی کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

"حمید نے جب دیکھا کہ فریدی تنہا ہے تو وہ اس کے قریب آیا۔"
"یہ آپ کی کسی تجویز پر عمل نہیں کرے گا۔ اپنا وقت نہ برباد کیجئے۔ یہ پکا فراڈ ہے۔"
" کوئی غلط قدم اٹھائے گا تو خود ہی بھگتے گا۔ مجھے تو اپنے ساتھیوں کو صحیح سلامت نکال کر لے جانا ہے۔ مگر تم اسے فراڈ کیوں کہہ رہے ہو؟"
"ارے اُس رات وہ ڈنڈا اس ڈفر نے میرے ہاتھ میں دیا تھا اور بولا تھا، بڑے بھائی! تھوڑی دیر اسے پکڑے رہو ورنہ کسی کے کھینچ ماروں گا کیونکہ مجھے اختلاج ہو رہا ہے۔ اس طرح وہ اپنی سکیم بروئے کار لایا تھا۔" فریدی ہنسنے لگا پھر بولا۔
"اس کی حرکتیں بعض اوقات بڑی پیاری لگتی ہیں۔ اچھی سوجھ بوجھ کا آدمی ہے۔"
"ارے جگلر ہے۔ اندازِ گفتگو بھی مداریوں ہی کا سا ہے۔ شاید ہمیشہ بد سلیقہ اور جاہل آدمیوں میں اٹھتا بیٹھتا رہا ہے۔"۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ "بھئی وہ اسی قسم کا آدمی ہے۔ کسی نہ کسی طرح اپنا کام نکال لیتا ہے خواہ اس کے لیے کچھ ہی کرنا پڑے۔ با اصول آدمی نہیں ہے لیکن اس کی ذہانت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کیا بتاؤں، کاش! یہ میرے ساتھ صرف ایک سال ہی گزار سکتا۔"
فریدی کی عمران کے لیے پسندیدگی واضح ہے۔ اس کی حکمت عملی پر ردعمل بھی خوشی کا ہے کہ "اس کی حرکتیں بڑی پیاری لگتی ہیں۔" مطلب یہ کہ نہ صرف عمران کی سوجھ بوجھ بلکہ اس کی حکمت عملی کی بھی فریدی تعریف کر رہا ہے۔ صرف ایک چیز جو فریدی کو عمران میں اگر کہا جائے کہ بری لگی ہے تو وہ ہے اس کی بے اصولی۔ جسے رحمان صاحب بھی ٹھیک نہیں کر سکے تو فریدی کیونکر کر سکے گا۔ یہی تو وہ چیز ہے جو عمران کو جداگانہ مقام دیتی ہے۔ ورنہ فریدی اور عمران کا مقام ایک جیسا ہی ہے۔ جسے ابن صفی صاحب نے واضح طور پر یوں بیان کیا ہے۔
"فریدی اور عمران دونوں یہی سوچ رہے تھے کی اس دوران میں اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والا کوئی آدمی کسی دوسری جگہ سے یہاں آ گیا تو مزید دشواریاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔"
یہی سوچ کسی اور کو کیوں نہیں آئی؟ حالانکہ وہاں ایک سے بڑھ کر ایک جاسوس موجود ہے۔ وجہ یہی ہے کہ کوئی بھی ذہانت کے اس اعلٰی معیار کو نہیں پہنچتا جو فریدی اور عمران کا ہے۔ اس ناول میں فریدی کی جیت ہوئی صرف آدھا گھنٹہ سانس روک سکنے کے باعث اور اس کمزوری کو عمران نے کتنا محسوس کیا یہ عمران کے اگلے ناول کے آخری جملے بتا رہے ہیں کہ جب فیاض عمران کو شیطان کا خطاب دیتا ہے تو عمران کہتا ہے۔
"یہ صرف ستاروں کے کھیل ہیں ورنہ بعض اوقات ایسی غلطیاں ہوتی ہیں کہ سوچ کر الجھن ہوتی ہے۔ مثلاً ایک بار ایک قسم کی گیس کے چکر میں پڑ کر بالکل ہی بے دست و پا ہو گیا تھا اور دوسرا آدمی صرف پندرہ منٹ تک سانس روکے رکھنے کی بنا پر ماسٹر آف سیچوئش بن گیا تھا۔ اب یہاں سانس روکنا تو کیا ضرورت پڑنے پر اپنا معدہ بھی آنتوں سمیت کھینچ کر کاندھے پر لاد سکتا ہوں۔ مگر اس وقت غفلت ہو گئی تھی۔ ذرا سی لغزش جس نے مجھے خود اپنی نظروں سے گرا دیا تھا۔" یہاں کچھ الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عمران بھی سانس روک سکتا ہے لیکن اس وقت غفلت ہو گئی تھی۔ شاید اس لیے کہ فریدی ایسی تنظیم سے پہلے لڑ چکا ہے اور ایسے کئی حالات سے گزر چکا ہے جبکہ عمران کے لیے یہ پہلا موقع تھا۔ بہرحال یہاں یہ ثابت کرنا مقصد نہیں ہے۔ میں تو ان لائنوں کے بعد ابنِ صفی صاحب کے ان الفاظ پر اعتراض و سوال اٹھانا چاہوں گا جس میں انہوں نے عمران کو آن اور بدنامی سے لاپرواہ کہا۔
"حقیقتاً وہ ایسا ہی آدمی تھا۔ نہ اسے اپنی آن کی پرواہ تھی اور نہ بدنامی کی۔"
اور دوسرا جملہ کہ
"اگر محض مکاری سے کوئی مسئلہ حل ہو سکے تو اس کے لیے جسم یا ذہن کو تھکانے سے کیا فائدہ۔"
عمران کا یہ نظریہ آخری لڑائی میں کہاں گیا کہ جب فریدی لڑائی کر رہا ہوتا ہے اور عمران کے بارے میں جملے ہیں۔۔۔
"عمران پاگل ہوا جا رہا تھا۔۔۔ اس کی حالت بالکل ایسے شکاری کتے کی سی تھی جسے زنجیروں سے جکڑ دیا گیا ہو اور وہ اپنے ساتھیوں کو شکار کھیلتے دیکھ کر بےچین ہو اُٹھے۔"
فریدی کا دو ریوالوروں کی گولیوں سے بچنے کو میں بہت بڑی بات نہیں کہوں گا۔ کیونکہ فریدی کی یہ صلاحیت پوری جاسوسی دنیا میں صرف اسی جگہ ہی دکھائی دی ہے۔ اس سے پہلے یا بعد میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ میں اسے فریدی کو عمران کے مقابلے میں بہتر رکھنے کی ایک کوشش ہی کہوں گا حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ فریدی پہلے ہی عمران پر اپنی برتری ثابت کر چکا تھا۔ دوسرے یہ کہ عمران کی حیرت کا ذکر ضرور کیا گیا ہے لیکن اس پر پوری عمران سیریز میں کہیں بھی افسوس یا عمران کا افسردہ ہونا نہیں بتایا گیا۔ اگر اس فن کی وقعت عمران کی نظر میں ہوتی تو اسے صرف اپنے سانس نہ روک سکنے پر افسوس نہ ہوتا بلکہ وہ اس بات کے ضمن میں بھی رونا ضرور روتا۔

***
ڈاکٹر حامد حسن حامی
بہاول پور (پاکستان)۔
Email: hamid8730087[@]gmail.com
ڈاکٹر حامد حسن

Ibn-e-Safi's novel 'Zameen ke Badal', a review. Reviewer: Dr. Hamid Hassan





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں