ذکر اک رسالے کا اور پھر بیاں اپنا - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-11-08

ذکر اک رسالے کا اور پھر بیاں اپنا

zikr-aik-rasale-ka-by-raza-ul-murtaza
کافی ریسرچ ، مطالعے اور غور و خوض کے بعدجب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو میں نے ایک دن بیگم سے پوچھا کہ:
" بیگم لوگ رسالے کیوں نکالتے ہیں"۔
بیگم سے یہ سوال پوچھنے کی نوبت یوں آئی کہ جب سے میں نے سر زمین سعودی پر قدم رکھا ہے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس طرح کے سوالات کس سے پوچھے جائیں۔ یہ ہمارا ہندوستان جنت نشان تو ہے نہیں ، جہاں چائے خانوں کی ٹوٹی پھوٹی میزوں پر ہم نے علم و ادب کے ادق اور نا قابل حل مسائل پر شب و روز تبادلۂ خیال کیا اور بین الاقوامی سیاست سے متعلق ایسے ایسے اہم فیصلے کئے ہیں جن پر کئی ملکوں کا وجود منحصر تھا۔ عالمی جنگوں کے لائحۂ عمل طے کئے ہیں اور پان دکان کی بلیک اینڈ وہائٹ ٹی وی پر جنگوں کا ایک ایک منظر دیکھ کر آنے والے حملوں اور دفع کی تدبیریں وضع کی ہیں۔ بخدا عراق کی جنگ کے بعد ہم جملہ شرکائے محفل نکڑ،ّ مہینوں شرمائے شرمائے پھرتے رہے کہ ہم سے فاش غلطی ہو گئی۔اور بے شمار بین الاقوامی مسائل حل ہونے سے رہ گئے۔ ان میں اس سوال کا جواب بھی رہ گیا کہ لوگ رسالے کیوں نکالتے ہیں۔
بیگم سعودی عرب میں ہماری کفیل ہیں اور اس ملک میں کفیلوں سے ذرائع ابلاغ کے متعلق سوال جواب کرنا زرا جوکھم کا کام ہے۔ مگر انہوں نے (شاید)ازراہ محبت ہمارے سوال کو دہشت گردی کے زمرے سے خارج کردیا اور یوں گویا ہوئیں ! "رسالے زندہ قوموں کی پہچان ہیں۔ادب کی ترقی اور ترویج کا باعث ہیں ۔ ان سے ہمیں عصر حاضر کی تخلیقی سمت کا پتہ چلتا ہے۔ رسالے تہذیب اور ثقافت کے علمبردار ہیں۔ " اس سے پہلے کہ وہ مزید وجوہات تلاش کرتیں میں نے مداخلت کی۔"بیگم ،میں انگریزی ، ہندی ، ملیالم، تیلگو یا بنگلہ رسالوں کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں تو یہ پوچھ رہا ہوں کہ لوگ اردو کے ادبی رسالے کیوں نکالتے ہیں۔ "
جس طمطراق سے وہ کمرۂ امتحان میں آئی تھیں اسی روانی میں کرسی پر ڈھیر ہو گئیں۔ اپنی مخروطی انگلیوں سے بالوں کی ایک لٹ سے الجھنے لگیں۔ غور و فکر کا یہی انداز تھا جس نے برسوں پہلے ہمیں ان سے قریب کیا تھا۔ لیکن شانِ کریمی کہ اس کے بعد قدرت نے غور و فکر کا سارا کام ہمارے سپرد کر دیا اور رومانیت کا وہ فرشتہ جو ان لٹوں کی معرفت ہمارے درمیان پیغام رسانی کا کام کیا کرتا تھا، ہمارے اعمال لکھنے پر مامور کر دیا گیا۔ انہوں نے کافی دیر میں ذہن کے غیر استعمال شدہ حصوں پر مختلف زاویوں سے زور دینے کے بعد ایک سرد آہ بھری اور یوں گویا ہوئیں ۔ "میرا خیال ہے کہ اردو ادبی رسالہ نکالنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ چونکہ اردو کی ذرا سی بھی سدھ بدھ رکھنے والا ہر شخص، چائے کے دکاندار سے لے کر اردو یونیورسٹی کے صفائی کرمچاری تک، اگر ادیب نہیں ہے تو کم از کم غزل گو شاعر ضرور ہے۔ اس لیے اردو میں کافی نا قابلِ اشاعت مواد جمع ہوتا رہتا ہے۔ یہ رسالے ان کو ترتیب سے تعارف اور تصویر کے ساتھ اشاعت کے زیور سے آراستہ کر کے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرتے رہتے ہیں تاکہ اردو کا چراغ تا قیامت روشن رہے اور لوگوں کو اردو ادب کی خدمت کا سنہرا موقع ہمیشہ نصیب رہے"۔۔

اردو ادبی رسالہ نکالنے کی غرض و غایت جاننے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ عین عید کے دن جب ہم سعودی عرب کی روایت کے مطابق خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے، ہمارے دوست اختر حسین سیالکوٹی نے فون کی گھنٹی بجا کر ان حسیناؤں کے پہلو سے جدا کر دیا جن سے ہم خواب ہی میں مل سکتے ہیں۔ ہم نے دخل اندازی کی وجہ بوچھی تو بولے فوراً آئیے آپ سے ایک اہم کام ہے ۔ ہر دوستی قربانی مانگتی ہے۔ ہم اختر بھائی کی دوستی کی خاطر جب ان کے یہاں پہنچے تو انہوں نے مژدہ سنایا کہ وہ ایک اردو کا ادبی رسالہ نکالنا چاہتے ہیں۔ اس خبر نے ہمیں اتنا پریشان کر دیا کہ ہماری پیشانی عرق ریز ہو گئی۔ ہم نے کہا "اختر بھائی"آپ تو ایک شریف ، بال بچوں والے انسان ہیں آپ نے ایسی عادتیں کیسے ڈال لیں ۔ بولے "کیسی عادتیں" ۔ ہم نے کہا، قمار بازی کی۔ بولے، میں رسالہ نکالنے کی بات کر رہا ہوں تو اس میں جوا کہاں سے آ گیا۔ میں نے کہا کہ آپ رسالہ نکالیں گے تو خرچ تو ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ خرچ آپ اپنے پسینے کی گاڑھی کمائی سے تو کریں گے نہیں جب تک کہ آپ کو اچانک کوئی لاٹری نہ مل جائے یا کوئی بازی نہ جیت جائیں۔ بولے ،ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے تو ایک سنجیدہ موضوع پر بات کے لیے آج اپنی نیند حرام کی ہے اور آپ اسے مذاق سمجھ رہے ہیں ۔ ہم نے کہا ،کیا کروں موضوع ہی آپ نے غیر سنجیدہ چھیڑا ہے۔ بہر حال کیا آپ نے اس کی اجازت اپنی بیگم سے لے لی
ہے۔ خاموش ہو گئے ۔اور ہمیں جواب مل گیا۔۔
بہر حال ان کا دل رکھنے کے لیے ہم نے کہا۔ ارادہ تو اچھا ہے مگر رسالہ نکال کر آپ کریں گے کیا۔ بولے "بیچیں گے" ۔ ہم نے کیا "بیچیں گے یعنی کہ آپ اردو کا ادبی رسالہ بیچیں گے۔ بولے "ہاں اور کیا" ۔ ہم نے کہا "اختر بھائی میری ادبی عمر کوئی چالیس کو پہنچ چکی ہے ۔ آج تک اردو کا کوئی ادبی رسالہ بکتا ہوا نہیں دیکھا۔ یہ رسالے تقسیم کئے جاتے ہیں کبھی تحفتاً ، کبھی عاریتاً ۔ ہاں بیچنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک دفعہ اپنے گھر کی ملازمہ کو دیکھا تھا جو ایک کباڑی سے اصرار کر رہی تھی کہ کاغذ خراب ہونے کی وجہ سے اگر وہ یہ رسالے پیسوں کے عوض نہیں لے سکتا تو کم از کم ریوڑیاں ہی دے دے کہ اس کے بچوں کے کام آ سکیں۔

ہم نے اختر بھائی کو مزید ناراض ہوتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے کہا۔ "اچھا اچھا آپ رسالے بیچیں گے۔ انہیں خریدے گا کون ؟" بولے"آپ عجیب آدمی ہیں انہیں اردو کا قاری خریدے گا"۔ "قاری؟" ہم نے کہا " جہاں تک قاری کا تعلق ہے ایک تو ہمارے قاری مبین ہیں۔ رمضان میں تراویح پڑھا کر سال بھر عیش کرتے ہیں۔ اس سال کچھ بچوں کو یتیم کر کے .... نعوذ باللہ بچوں کو یتیم کر کے نہیں ، یتیم بچوں کو کے لیے ایک مدرسے کا سنگ بنیاد رکھنے والے ہیں ۔ اس سے ہونے والی آمدنی ان کے اپنے فتوے کے مطابق ان کے لیے جائز ہے اس لیے کہ وہ خود بھی یتیم ہیں۔ بولے،اس قاری کی نہیں اردو کے قاری کی بات کر رہا ہوں۔ میں نے کہا "اختر بھائی آپ نے کہیں دیکھا ہے۔ میں نے تو نہیں دیکھا"۔ بولے "کیوں میں ہوں نا ایک قاری ،۔ ہم نے کہا " "آپ قاری نہیں شاعر ہیں" ، بولے " آپ ہیں ، ہم نے کہا " "ہم قاری نہیں خود ساختہ ہی سہی ادیب ہیں"۔ بولے "اور بھی ہوں گے"۔ ہم نے کہا "ایک بھی نہیں ۔ اردو میں قاری کا رواج ہی نہیں ہے۔ جو لکھتا ہے وہی پڑھتا ہے"۔ بولے "پھر تو اور بھی آسان ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں لکھنے والے ہیں وہ خریدیں گے"۔ ہم نے کہا " لیکن آپ لاکھوں غزلیں چھاپیں گے کیسے؟، بولے "کیوں لاکھوں غزلوں کی کیا ضرورت ہے؟"۔، ہم نے کہا "بندہ پرور اردو کا یہ قاری صرف وہی پڑھتا ہے جو خود لکھتا ہے۔ اگر آپ اس کو اپنا رسالہ فروخت کرنے کے لیے اس کی غزل چھاپیں گے تو اسے اعزازی کاپی بھیجنی ہوگی جو بحر حال مفت ہوگی اور ڈاک کے پیسے الگ خرچ ہوں گے۔۔
اختر بھائی مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ ایک عزیز دوست کو اس طرح مایوس دیکھنا اچھا نہیں لگا ۔ تو ہم نے ڈھارس بندھائی ، "کوئی بات نہیں اختر بھائی۔ رسالہ نکالئے۔ آخر آپ زکوۃ، صدقات، خیرات ، عطیات کے مد میں تو خرچ کرتے ہی ہیں اور اردو کی خدمت کرنا بھی تو ایک کارِ ثواب ہے۔ خرچ کیجئے اور بھول جائیے۔ منافع کی امید نہ رکھئے۔ اور دوست احباب کس لیے ہوتے ہیں صرف غزلیں چھپوانے کے لیے۔ چلیے اس سال ہم عمرہ کے لیے نہیں جائیں گے ۔ بچی ہوئی رقم آپ کی ہوئی۔

ہماری حوصلہ افزائی سے اختر بھائی کے چہرے پر رونق لوٹ آئی۔ بولے ، چلو خرچ کا معاملہ طے ہو گیا۔ اب یہ طئے کرتے ہیں کہ مدیر کون ہوگا؟"۔ میں نے کہا " آپ" بولے "میں کیوں؟ ہم نے کہا کہ "برسوں سے آپ تخلیقی عمل میں مشغول ہیں لیکن کسی رسالے نے آپ کی ایک تخلیق بھی نہیں شائع کی ۔ کمبخت سب کے سب واپس کر دیتے ہیں۔ آپ کو ایک نادر موقع ہاتھ آیا ہے۔ اگر آپ کو ان رسالوں کے مدیران تخلیق نہ بھیجیں تو آپ ان سے درخواست کر کے منگوائیں اور بذریعہ ایکسپریس ڈاک واپس کر دیں کہ نا قابلِ اشاعت ہیں۔ اس طرح آپ کے انتقام کی آگ کچھ تو بجھے گی۔ مزید یہ کہ رسالے کے انہی صفحات پر جن پر ان مدیروں کی تخلیقات ہونی چاہئے تھیں، آپ اپنی تخلیقات رنگین تصویروں کے ساتھ سجا دھجا کے شائع کریں کہ ان کے سینوں پر سانپ لوٹ جائے"۔ بہت غور و خوض کرنے کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ "ایڈیٹر آپ ہوں گے۔" ہم نے کہا " کیوں؟ کس جرم کی پاداش میں؟" بولے۔ "اول تو یہ کہ مینیجنگ کمیٹی میں ہونے کی وجہ سے آپ کسی دوسرے ایڈیٹر کو جینے نہیں دیں گے اور دوم یہ کہ اگر آپ نے ہماری تخلیقات شائع کرنے سے انکار کیا تو ہم آپ کو برخواست کر سکیں گے۔"

یہ مرحلہ طے ہوا تو انہوں نے پوچھا۔ "اب آپ بحیثیت ایڈیٹر یہ بتائیے کہ اس کی مشمولات کیا ہوں گی۔ ہم نے کہا " وہی جو ہر رسالے میں ہوتی ہیں یعنی غزل" نظم، قصیدہ ......." بولے ۔"قصیدہ؟ قصیدہ کس رسالے میں ہوتا ہے"۔ ہم نے کہا "ہر رسالے میں ہوتا ہے" ۔بولے "میں نے نہیں دیکھا"۔ کہا ۔"آپ نے ایڈیٹر کے نام خطوط نہیں دیکھے جو اکثر اس طرح شروع ہوتے ہیں۔ "محترمی و مکرمی" آپ نے ملائم آباد کی سنگلاخ زمین سے جو رسالہ نکالا ہے وہ آپ ہی کے دل گردے کا کام ہے۔ ہمت مرداں مددِ خدا ست ... وغیرہ وغیرہ"۔ شہر ہذا کی سنگلاخ زمین والا جملہ ایک اسٹنڈرڈ جملہ ہے جو برسوں کے استعمال کے بعد اسٹنڈرڈ ائزڈ ہوا ہے۔ہمارے ایک دوست سمندروں میں تیل کی تلاش کرتے ہیں اور ایک پن ڈبی میں رہتے ہیں جو بحر احمر کے کسی پیندے میں لنگر انداز ہوا کرتی ہے اور وہیں سے ایک اردو کا ادبی رسالہ نکالتے ہیں۔ ان کو بھی عام طور پر ایسے ہی خطوط موصول ہوتے ہیں کہ آپ نے بحرِ احمر کی سنگلاخ زمین سے ایک اردو کا ادبی رسالہ نکال کر انتہائی جوانمردی اور ہمت مردانہ کا ثبوت دیا ہے"....
اختر بھائی بولے "ہم ایڈیٹر کے نام خطوط چھاپیں گے ہی نہیں"۔ ہم نے کہا پھر ہم ان خطوط کا کیا کریں گے جو سالانہ چندہ کے چیک کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں اور ان کی اشاعت میں تاخیر ہوئی تو چیک واپس آ جاتا ہے۔ بولے "ہم ادب کی خدمت کے لیے ہر قسم کا خسارہ اٹھانے کو تیار ہیں، اس لیے قصیدہ کی اشاعت کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ یہ ایک مردہ صنف ہے۔ ہم نے کہا "حضور چاہے ساری اصناف مردہ ہو جائیں" قصیدہ تو مردہ ہو ہی نہیں سکتا۔ جب تک حکمراں ہیں، صدورِ مملکت ہیں، سرکاری عہدیداران ہیں، حتی کہ محبوبائیں ہیں ، بیگمات ہیں یہ صنف تو مردہ ہو ہی نہیں سکتی۔ آخر ان کا ذکر ہم کس صنف میں کریں گے"۔
بولے ، "اب آگے چلیے مشمولات میں اور کیا ہو، ہم نے کہا "تنقید"۔
بولے "تنقید؟"
ہم نے کہا "ہاں تنقید"۔ تنقید تو اردو ادبی رسالے کا USP ہے یعنی Unique Selling Proposition ۔ تنقیدی مضمون سوائے ادبی رسالے کے اور کہیں نہیں چھپتا بلکہ چھپ نہیں سکتا۔
پوچھا "وہ کیوں؟"
عرض کیا "دوسرے قسم کے رسائل عاقبت کے خوف سے تنقید نہیں چھاپتے"۔
پوچھا" تنقید کا عاقبت سے کیا تعلق ہے"۔
ہم نے کہا "تنقید در اصل غیر اسلامی صنف ہے " ۔
بڑی تضحیک آمیز ہنسی کے بعد بولے۔ "وہ کیسے؟"
ہم نے کہا "آپ جانتے ہیں تمام دنیاؤں میں پہلا ناقد کون تھا"۔
پوچھا "کون؟"
ہم نے کہا "ابلیس۔ ابلیس پہلا ناقد تھا جس نے خالقِ مطلق کی تخلیق میں مین میخ نکالے اور سزا کے طور پر اسے متوازی حکومت چلانے کی آزادی مل گئی۔ تب سے آج تک یہ سلسلہ برابر چلا آیا ہے جسے تنقید کے فن میں یدِ طولیٰ حاصل ہے وہ ایک متوازی حکومت کا حکمراں ضرور ہوتا ہے۔ کبھی اکاڈمیوں کا چیر مین بن کر، کبھی کسی کالج کا مطلق العنان ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ بن کر ، کبھی حکومت کا خصوصی ادبی مشیر کار بن کر۔ رہ گئی بات یہ کہ دوسرے رسائل تنقید کیوں نہیں چھاپتے۔ وہ اس لیے کہ اس کی زبان ان کی سمجھ سے باہر ہے۔ وہ وہی زبان استعمال کرتے ہیں جس میں عام طور سے جناتی اور سفلی عملیات کی کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ جس میں ایک جملے کے کئی کئی مفہوم نکلتے ہیں یا سرے سے مفہوم نکلتے ہی نہیں تاکہ عمل کرنے والا اگر کسی عمل کی تکمیل میں نا کام ہو جائے اور کسی قبرستان میں اللہ ھو کا نعرہ بلند کرنے لگے تو اس کے لواحقین کسی عدالت سے رجوع کر کے صاحبِ کتاب کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کر سکیں۔ اس طرح کی تحریر کے کئی فائدے ہیں۔ ایسے مضامین کی پروف ریڈنگ نہیں کرنی پڑتی کیونکہ زبان و بیان کی غلطیاں ان مضامین کی خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں جو لسانیات میں نئی جہت کا پتہ دیتی ہیں۔ کوئی قاری ان غلطیوں کی نشاندہی نہیں کرتا مبادا اسے اس کی کم علمی پر محمول کیا جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ خود نقاد بھی اپنی لکھی ہوئی تحریریں نہیں دہراتا کہ کہیں دہرانے کے درمیان اس کا ضمیر نہ جاگ جائے اور وہ بہ یک جنبشِ قلم پورا مضمون ہی منسوخ نہ کر دے۔ ایسی تحریر جسے اس کا مصنف بھی نہیں دہراتا، نہ رسالے کا مدیر پڑھتا ہے نہ قاری، لکھنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی ضخامت حسب منشا بڑھائی جا سکتی ہے تاکہ مواد میں وزن محسوس ہو اور قومی لائبریریوں کے شیلف پر ان کا وجود قابلِ قدر محسوس ہو"۔۔

تنقید کو اذنِ شمولیت مل گیا تو انہوں نے پوچھا۔ "اور؟" پھر خود ہی بولے کہ "ایک سلسلۂ مضمون شروع کیا جائے جس میں استاد شعرا کے شعروں کی تشریح کی جائے اور ان پر بحث کی جائے"۔ ہم نے کہا "خیال تو نیک ہے مگر طبع زاد نہیں ہے" بولے "وہ کیسے؟" کہا "یہ کام برسہا برس سے شارحین "تفہیم غالب" کے نام سے کرتے رہے ہیں ۔ اس میں انہوں نے غالب کے اشعار کے جو معنی اور مطالب اخذ کئے ہیں اس کی تصدیق کے لیے ایک دن ہم نے خواب میں یہ کتابیں مرزا نوشہ کے حوالے کر دی۔ دوسرے خواب میں ان کا مکتوب موصول ہوا ۔ لکھا تھا۔
میاں رضاء المرتضےٰ ! دنیا میں شاد و آباد رہو!!
تمہاری بھیجی ہوئی "تفہیم غالب" کی کتابیں ایک مخصوص فرشتہ داروغۂ جنت کی آنکھ بچا کر ہمیں دے گیا۔ میں نے ادھر ادھر سے ورق گردانی کی۔ اشعار تو میرے ہیں یہ معنی اور مطالب کس کے ہیں؟ بیگم جو نیک خاتون ہونے کی وجہ سے ہمارے ہی ساتھ نتھی الف ہیں کہتی ہیں کہ کسی نے دل لگی کی ہے۔ میاں ہمارے دنیا ترک کرنے کے بعد تم لوگوں نے یہ الگ شغل نکالا ہے۔ یہ کتابیں میں نے مرزا تفتہ کو بھی پڑھوائی تھی کہ دیکھو ہمارے بعد ہماری چہیتی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ کچھ ہی صفحات پڑھنے کے بعد وہ گریباں چاک کر کے باغات میں گھومتے رہے۔ داروغۂ جنت نے اس جرم کی پاداش میں انہیں حطیم کے پاس بٹھا دیا ہے۔ ہر وقت آہیں بھرتے ہیں اور شراب طہور کو ہاتھ تک نہیں لگاتے۔ سوچتا ہوں اہلِ جنت کا جب یہ حال ہے تو تم لوگوں پر کیا بیت رہی ہوگی۔ تم لوگ تو ویسے ہی نت نئی مصیبتوں میں گرفتار رہتے ہو۔"
اختر بھائی پر اس تقریر کا کچھ اثر نہ ہوا۔ بولے "آپ کچھ بھی کہیں ہم اساتذہ کے اشعار کو معنی ضرور پہنائیں گے۔ اب آگے کیا بچا ہے؟ ۔ ہم نے کہا "کہانی" ناولٹ وغیرہ۔ بولے۔" ٹھیک ہے"۔ ہم نے کہا "لائیں گے کہاں سے؟" بولے انتظار حسین سے مانگ لیں گے۔ ہم نے کہا۔ "اکیلے بچے ہیں۔ کتنے لوگوں کو دیں گے اور کتنا لکھیں گے وہ بھی بغیر معاوضے کے" ۔ بولے "ہندوستان میں بھی تو ہونگے"۔ہم نے کہا "ہیں نہیں ، تھے۔ " بیدی تھے، عصمت چغتائی تھیں، رام لعل ، جوگندر پال وغیرہ بھی تھے بلکہ حال تک قرۃ العین حیدر بھی تھیں۔ اب تو کوئی نظر نہیں آتا۔ ایک آدھ ہیں بھی تو وہ کہانی نہیں ساہتیہ اکادمی کے انعامات کی تمہید لکھتے ہیں۔ بولے ۔"دوسری زبانوں سے ترجمہ کر لیں گے مثلاً انگریزی سے " ۔ ہم نے کہا "وہاں کا حال چال بھی کچھ اچھا نہیں ہے" پوچھا کیوں، کہا "ہالی وٗڈ والے زیادہ تر ناولوں پر فلمیں بناتے ہیں۔ کہانیوں پر فلم بنانے میں دشواری یہ ہے کہ اسکرپٹ پر کافی کام کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے زیادہ تر لوگ ناول لکھتے ہیں"۔ بولے "تو ناول چھاپ دیتے ہیں" ہم نے کہا "ناولوں میں آج کل جادو گروں کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔ ہیری پوٹر نامی ایک طفل نامراد نے ناولوں کی دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔ ہمارے یہاں سراج انور تھے "خوفناک جزیرہ " لکھا۔ ایک" طلسمی دنیا " نامی ڈائجسٹ تھا جس میں افراسیاب اور سیمرغ وغیرہ کے کردار تھے مگر ہم اردو والوں نے ان کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا تو انہوں نے دوسرا جنم ایک امریکی خاتون کے بھیس میں لے لیا اور دنیا میں تہلکہ مچانے لگے۔ بولے ۔ "تو ہیری پوٹر چھاپ دیتے ہیں"۔ ہم نے کہا "نہیں مشہور ہونے کے باوجود ابن صفی کے جاسوسی ادب کی طرح ہیری پوٹر کا ادبی مقام ابھی تک طے نہیں ہوا ہے۔ اس لیے نہیں چھاپ سکتے"۔ بولے "آپ بھی تو کہانی لکھتے ہیں" عرض کیا "داستانِ پارینہ ہوئی" شادی کرنے، بچوں کا باپ بننے اور سعودی عرب میں ملازمت کرنے کے بعد آج کا مورخ اب ہماری کہانی لکھتا ہے:۔یعنی وہی کہ رفت گیا اور بود تھا۔ حد تو یہ ہے کہ اب ہمیں کوئی کہانی یاد تک نہیں ہے۔ اپنے بچوں کو رات میں سوتے وقت پانچ سال سے مسلسل کچھوا اور خرگوش کی کہانی سنا رہے ہیں جس کا ایک ایک حرف ان کو ازبر ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جیسے ہی ہم کہانی شروع کرتے ہیں وہ لفظ بہ لفظ خود ہی کہانی پوری کر لیتے ہیں اور سو جاتے ہیں"۔ بولے "یہ معاملہ آپ سے حل نہیں ہوگا۔ کہانی کار ہونے کی وجہ سے آپ رقابت کے شکار ہیں۔ میں کسی اور سے بات کروں گا۔ اب کیا رہ گیا ہے؟"
ہم نے کہا۔" اب رہ گیا ہے کتابوں پر تبصرے"۔ بولے ۔"یہ تو بڑی اچھی چیز ہے۔ تبصرے کے لیے آنے والی کتابوں سے ہم ایک لائبریری بنا لیں گے"۔ اس کے بعد خلا میں دیکھتے ہوئے دیر تک خاموش رہے ۔ میں سمجھ گیا وہ لائبریری کا نام سوچ رہے ہوں گے۔ شاید اختر حسین میموریل لائبریری وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے پوچھا "آپ کتابوں کی کتنی جلدیں منگوائیں گے؟"، بولے ۔ "ہم چار جلدیں منگوائیں گے۔ ایک مبصر کو دے دیں گے اور تین ہم رکھ لیں گے"۔ ہم نے کہا" تو کیا آپ تبصرہ نگار کو معاوضہ دیں گے؟ بولے ۔ "نہیں"۔ ہم نے کہا ۔"اختر بھائی آپ بھی میری طرح داستانِ پارینہ ہوتے جا رہے ہیں۔ تبصرہ نگار کو بھیجی ہوئی کتابیں ہی اس کا معاوضہ ہوتی ہیں۔ تبصرہ نگار عام طور سے کسی یونیورسٹی کا پروفیسر ہوتا ہے جس کے پاس چونکہ کالج کے گھنٹوں میں کچھ کام نہیں ہوتا اس لیے اپنے آپ کو مشغول رکھنے کے لیے تبصرے لکھتا ہے اور موصولہ کتابوں کی جلدیں کالج کی لائبریری کو آدھی قیمت پر بیچ دیتا ہے۔ جس سے لائبریرین کا کمیشن منہا کرنے کے بعد اتنی آمدنی ہو جاتی ہے کہ اس سے اس نوخیز بی بی کے ناز اٹھائے جا سکیں جو پی.ایچ.ڈی کا تھیسس لکھوانے کے لیے ان کے دفتر کا مستقل حصہ بنی رہتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ خرچ تو ان کی بیگم اٹھا نہیں سکتیں اور آمدنی کے پائی پائی کا حساب بیگم کے علم ریاضی کے دائرے میں آتا ہے۔ ویسے میں آپ کو ایک آسان طریقہ بتا سکتا ہوں "۔ بولے۔ "بتائیے"۔ عرض کیا "آپ پبلشر سے کہئے کہ کتاب کی دو جلدیں بھیج دے اور اس کے ساتھ ساتھ تبصرہ بھی۔ تبصرہ بھی اس کا، کتابیں بھی اس کی۔ تبصرہ آپ چھاپ دیجئے۔ کتابیں بلا شرکت غیرے رکھ لیجئے۔ رسالے کا کام بھی چل گیا اور لائبریری کا بھی۔ بولے "ایسا کرنے میں ایک قباحت ہے" ۔ پوچھا۔ "وہ کیا" ۔ بولے۔ "تبصرے کا معیار اعلیٰ نہیں ہوگا"۔ ہم نے کہا ۔"وہ ویسے بھی نہیں ہوگا"۔میں نے ایک تبصرہ نگار سے پوچھا کہ آپ نے انتظار حسین اور ابن انشا کی کتاب پر جو تبصرے کئے ہیں وہ بالکل ایک جیسے ہیں۔ ایسا کیوں۔ ایک نو سٹلجیا کا شکار روایتوں کا پجاری، سادھوؤں ، سنتوں اور ہندو دیو مالاؤں کا بھگت اور دوسرا حال میں جینے والا" مسافرت کا شوقین۔ دونوں کی تحریر میں بھی کوئی قدر مشترک نہیں ہے مگر آپ کے تبصرے نے ان کو ایک ہی جگہ لا کھڑا کیاہے۔ بڑے عالمانہ انداز سے مسکرائے۔ بولے "کس نے کہا کہ دونوں میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ دونوں میں ایک بات بہر حال مشترک ہے۔ میں نے دونوں ہی کتابیں نہیں پڑھیں"۔۔
اتنی باتیں ہو گئیں تو اچانک ہمیں خیال آیا کہ رسالے کا نام کیا ہے۔ پوچھا کہ آپ نے رسالے کا نام تو بتایا ہی نہیں۔ بولے ۔ "الہام"۔ ہم نے کہا یہ نام کہیں دیکھا ہے۔ بولے۔ "نہیں تو۔ میں نے نہیں دیکھا"۔ ہم نے کہا۔" اختر بھائی آپ نے دیکھا ہی کیاہے۔ آپ جو کچھ دیکھتے ہیں وہ اس دنیائے رنگ و بو کا بہت معمولی سا حصہ ہے اور اردو رسالوں کا معاملہ تو کہکشاں کی طرح ہے ۔ ہم چند ہی ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ سنا ہے کئی ایسے ستارے ہیں جن کی روشنی ان کی تخلیق ہونے کے وقت سے آج تک ہم تک نہیں پہنچی۔ ہم نوجوانی میں دلیّ میں رجسٹرار آف نیوزپیپرس کے دفتر میں بیٹھے اردو ڈکشنری میں کسی ادبی رسالے کا اچھا سا نام ڈھونڈ رہے تھے کہ رجسٹرار صاحب بہ نفس نفیس اپنے دفتر سے نکل کر ہمارے پاس سے گذرے۔ ہمیں منہمک دیکھا تو پوچھا برخوردار کیا ڈھونڈ رہے ہو۔ میں نے کہا "اردو رسالے کے لیے ایک نام ڈھونڈ رہا ہوں جواب تک رجسٹرڈ نہ ہوا ہو"۔ مسکرائے ۔ بولے ۔ "غلط ڈکشنری میں ڈھونڈ رہے ہو۔ ۱۴ جلدوں والی فیروز اللغات میں جتنے بھی ایسے اسم الفاظ ہیں جن میں اردو رسالے کا نام بننے کا مادہ موجود ہے ، سب کے سب رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ اگر تم کامیابی چاہتے ہو تو انگریزی کی ڈکشنری میں ڈھونڈو۔ شاید کامیاب ہو جاؤ"۔
اتنی بڑی تعداد میں اردو رسالے بلا ناغہ شائع ہوتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ قارئین ان کا دیدار نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی صرف پچاس کاپیاں چھپتی ہیں۔ دو رجسٹرار آف نیوزپیپرس کے لئے۔ آٹھ نیشنل لائبریریوں کے لئے، ۲۷ دوست احباب کے لیے اور ۱۰ سرکاری محکمۂ اطلاعات اور تعلقات عامہ کے لیے تاکہ وہ اسکے لیے سرکاری اشتہارات مہیا کرے اور یہ کاپیاں داخل در فائل کرے۔ اشتہارات کی یہ خطیر رقم اندھوں میں ریوڑیوں کی طرح بنٹ جاتی ہے۔
اشتہارات کی بات اختر بھائی کو بہت بھائی۔ بولے۔ "ہم بھی اشتہار لیں گے"۔ ہم نے کہا "آپ کو اشتہار دے گا کون"۔ بولے ۔" کنزیومرگڈس والے"۔ ہم نے کہا اردو ادبی رسالے کے قاری کے پاس اتنا پیسہ ہوتا ہی کہاں ہے کہ کنزیومرگڈس خرید سکے۔ ایک ہمارے ہمدرد کے حکیم صاحب تھے ۔مرحوم شربت روح افزا کا اشتہار دے دیا کرتے تھے۔ ممکن ہے اس کو زکوٰۃ کے مد میں لکھ لیتے ہوں۔ بہت پہلے ان رسالوں میں "مایوس نہ ہوں" کے عنوان کے تحت اپنی کھوئی ہوئی جوانی دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اشتہار آتے تھے مگر انگریزوں نے جب سے ایک نیلی گولی ایجاد کر لی ہے ان اشتہارات کی ضرورت ہی باقی نہ رہی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اردو کے خلاف ان کی سازش نہ ہو مگر اردو رسالوں کی اقتصادی کمر کی ہڈی تو ٹوٹ گئی"۔ بولے ، کوئی بات نہیں کسی ادبی رسالے کا اشتہار لے لیں گے۔ "ہم نے کہا :وہ تو مل جائے گا لیکن پیسے نہیں ملیں گے۔ ایسے اشتہارات ہر ادبی رسالہ ایک خاموش معاہدے کے تحت بلا تفریق مسلک ضرور چھاپتا ہے تاکہ اردو ادبی رسالوں کی افزائش نسل متاثر نہ ہو"۔۔
محفل برخواست ہونے ہی والی تھی کہ وہ گھبرا کے بیٹھ گئے۔ بولے ، رضا صاحب، ایک تشویش ناک بات دھیان میں آئی ۔ وہ یہ کہ جب ہم اس رسالے کا اعلان کریں گے تو تخلیقات کا ایک سیلاب آجائے گا۔ میں ایک عدیم الفرصت آدمی ہوں، انہیں پڑھوں گا کیسے اور انتخاب کیسے کروں گا"۔ میں نے کہا "ایک tasterبحال کر لیجئے، بولے ، یہ کیا ہوتا ہے ۔ عرض کیا ۔پرانے بادشاہوں کے یہاں یہ رواج تھا کہ جب انہیں کوئی خوان نعمت پیش کرتا تو اسے پہلے ان کا بحال کردہ taster چکھتا کہ کہیں اس میں بادشاہت سے نجات پانے کے مصالحوں کی آمیزش نہ ہو۔ اگر اس کی جان بچ جاتی تو بادشاہ سلامت شاہی دسترخوان کو اپنی شرکت سے عزت بخشتے اور اگر وہ غریب مارا جاتاتو خوان نعمت کے فرستادہ کا سر بھی زینت دار ہوتا۔ بادشاہ دونوں صورتوں میں محفوظ رہتا۔۔
قارئین کرام، اختر بھائی کو یہ ترکیب بہت پسند آئی۔ سنا ہے مختلف اخباروں میں tasters کا اشتہار دے کر وہ جواب کے انتظار میں ڈاکیے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ دیکھیے کب دن پھریں حمام کے۔۔

ماخوذ:
ماہنامہ "شگوفہ" (حیدرآباد)۔ جلد:42، شمارہ:4۔ شمارہ: اپریل 2009۔

Zikr aik rasale ka. Humorous Essay by: Raza ul Murtaza

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں