دلقر سلمان - ملیالم سینما کی نوجوان نسل کا ایک نمایاں اداکار - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-08-19

دلقر سلمان - ملیالم سینما کی نوجوان نسل کا ایک نمایاں اداکار

گذشتہ سال ایک رات حسب عادت کسی عمدہ فلم کی تلاش میں تھا کہ ایک فہرست بھارت کی مختلف زبانوں پر مشتمل حالیہ دور کی بڑی فلموں کی کھل گئی۔ عرصہ دراز ہوا جنوبی سینما کی بے حد تعریف سن رکھی تھی، یعنی کہ جنوب کی فلمیں بالی وڈ سے کئی گنا بہتر ہوتی ہیں۔ لہذا سوچا اور فیصلہ کیا کہ ملیالم فلم 'استاد ہوٹل' کا تجربہ کرنا بنتا ہے اور اب حلفاً کہہ رہا ہوں کہ اس فیصلے نے توقعات کو غلط کیا ثبات کرنا تھا، الٹا اس مایہ نگری کا مجھے دیوانہ بنا دیا ہے۔
اور پھر 'استاد ہوٹل' میری پسندیدہ ترین فلموں کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ وجہ؟؟ وجہ نہیں وجوہات ہیں:

1۔ فلم میں رومانوی عنصر ہے، لیکن اس کا حصہ بہت کم ہے۔ اصل پیغام اور مقصد کچھ اور ہے۔ جو فلم کے آخری حصے میں آشکار ہوتا ہے، یہ بتا کر فلم بینوں کا مزہ خراب کرنا نہیں چاہوں گا۔ ہدایت کار انور رشید کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ بلاشبہ دلقر سلمان کی طرح میں اس کا بھی مداح بن چکا ہوں۔ حالانکہ صرف ایک فلم دیکھی ہے۔ پر کیا بات ہے! کیا بات ہے!!

2۔ دادا اور پوتے کا محبت و قربت پر مبنی جذباتی تعلق۔ مجھے ایسی فلمیں پسند آتی ہیں جہاں مردانہ تعلق کو خوبصورتی سے فلمایا گیا ہو (یہاں مراد غیر جنسی تعلق ہے)۔

3۔ مزے مزے کے لذیذ کھانے کے شوقین افراد کیلیے یہ کسی ٹریٹ سے کم نہیں ہے۔ منہ میں بے ساختہ پانی آتا ہے۔

4۔ خوبصورت و حسین مقام پر فلم کی عکسبندی ہونا۔ کالی کٹ (ریاست کیرالہ کا تیسرا بڑا شہر) کا ساحل فلم بینوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے

5۔ مقام کی طرح فلم کی موسیقی بھی دیکھنے والے کو اپنے حصار میں لیتی ہے۔گوپی سندر (جو میرے نزدیک ملیالم کا اے آر رحمن ہے) کے گانے اور پس پردہ موسیقی بدلتے مناظر و حالات کے مطابق بروقت اور کمال کی ہے۔

آئیے بات کرتے ہیں دلقر سلمان [Dulquer Salmaan] کی۔ ہر فلم بین پر ایک دور آتا ہے پسندیدگی کا جس میں وہ اپنے محبوب اداکار، اداکارہ، ہدایت کار کو دیوانوں کی طرح فالو کرتا ہے۔ مجھ پہ آج کل دلقر سلمان کی دیوانگی سوار ہے۔ دلقر اس وقت ملیالم سینما پر راج کرنے والی نوجوان نسل کے تین چار ہیروز میں سے ایک ہے۔ دلقر بنیادی طور پر مسلمان گھرانے سے ہے۔ اس کا باپ 'مموتھی' (محمد کوٹی اسماعیل پانیپرامبل) کا شمار ملیالم سینما کے بادشاہوں میں ہوتا ہے۔ اس خاندان سے روایات کی پاسداری جھلکتی ہے۔ بالی وڈ کے 'خانوں' کی طرح آدھے تیتر آدھے بٹیر نہیں لگتے۔ دلقر نے فلم نگری میں 2012 میں قدم رکھا (استاد ہوٹل دوسری فلم تھی۔ اور اصل پہچان یہی بنی)۔ لیکن اس سے قبل ہی اس کی شادی 'امل صوفیا' نامی مسلمان لڑکی سے 2011 میں گھر والوں کی مرضی سے ہو چکی تھی۔ دلقر کی بڑی خوبیوں مین سے ایک اس کا عاجز ہونا ہے، اس میں سٹارڈم نہیں ہے۔ بالکل ہلکا پھلکا دھیمے مزاج کا شخص ہے۔ یہ دوسروں کے کاموں کو دل کھول کر سراہتا ہے۔ بلکہ اپنے ف-ب پیج پر تشہیر بھی کرتا ہے۔ اسی سال جون میں جناب کا بالی وڈ میں داخلہ ہوا ہے۔ مزے کی بات کہ اس کی دو فلموں میں ساتھی ادکارہ 'پاروتھی' کا ڈیبیو بھی عرفان خان کے ساتھ ہوا ہے جبکہ یہ بھی اسی کے ساتھ ایک 'سفری فلم' میں جلوہ گر ہوگا۔
اگر جنوبی ہند سینما پر خصوصی نظر ڈآلی جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ نگری بالی وڈ سے بہت مختلف ہے۔ کیوں اور کیسے؟؟

1۔ اس میں بالی وڈ طرز کا وہ کھلا ڈھلا پن نہیں ہے جو ہالی وڈ کی نقالی میں نجانے کہاں سے کہاں جا رہا ہے۔ مہیلاؤں کے آدھے پونے کپڑے ابھی تک میری نظر سے نہیں گزرے۔ اور نہ ہی مرد و زن مابین بوس و کنار کا کوئی رواج ہے۔ اب یہ کوئی ماہر ہی بتا سکتا ہے کہ اسکی وجہ یا وجوہات کیا ہیں؟ پر میری ناقص رائے میں یہ ان علاقوں کی روایات و سماجیات کا اثر ہے کہ وہ ابھی تک اس کھلے ڈھلے پن کو قبول نہیں کر رہے۔ اور شائد اسی میں ان کی کامیابی کا راز بھی ہے کہ وہ 'جنس' کی بجائے 'کہانی' بیچتے ہیں۔

2۔ اس مایہ نگری میں فیشن و میک اپ کی بوچھاڑ نہیں ہے۔ ہیروئینیں اپنی قدرتی رنگت کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھاتی ہیں۔ ان میں گندمی، سانولی سے لے کر گہرے نین نقوش والی سب شامل ہیں۔ مگر وہی بات کہ اصل چیز گوری چٹی رنگت کے بجائے اداکاری ہے جسے وہ بخوبی نبھا کر داد وصول کرتی ہیں۔

3۔ یہاں کمرشل اور آرٹ فلموں کا فرق محسوس نہیں ہوتا۔ وہ ایک ہی فلم میں مختلف مصالحے ڈال کر کمرشل و آرٹ کا حسین امتزاج بنا دیتے ہیں۔ اسی فلم میں جہاں کمرشیل رومانس ہے وہیں آرٹ کی صورت میں ایک بڑے مقصد کی نشاندہی بھی ہے۔ مطلب آپ راج کمار ہیرانی یا موجودہ عامر خان سٹائل کہہ سکتے ہیں۔

4۔ اور جب کہانی ہی اصل چیز ہے۔ کمرشل اور آرٹ کا فرق نہیں تو امیر، متوسط و غریب ہر طرح کے کردار اور کہانیاں دیکھنے کو مل جائیں گی۔ مطلب بالی وڈ کی طرح جنوبی ہند سینما صرف امیروں کی پروجیکشن نہیں کرتا بلکہ ہر طبقہ زندگی کا اس میں حصہ ہے۔

مولی وڈ (یعنی ملیالم سینما) کے اس جگمگاتے ستارے دلقر سلمان کے بارے میں مزید تفصیل پیش خدمت ہے۔
دلقر سلمان کی پہلی ہندی فلم "کارواں" کے پروموشن کے سلسلے میں انٹرویوز کا سلسلہ چل رہا تھا۔ ایک انٹرویو دلقر سلمان نے عاتکہ احمد فاروقی کو دیا۔ یہ غالبا پہلا اردو انٹرویو تھا دلقر کا۔ قابل اینکر نے نام کے معنی پوچھے تو دلقر نے بتایا کہ والد صاحب یعنی مموتھی نے اسلامی تاریخ پڑھ رکھی ہے اور میرا نام دو مشہور و محترم شخصیات کا مجموعہ ہے۔ ایک حضرت ذوالقرنین علیہ السلام اور دوسرے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ۔ ذوالقرنین تھوڑا سا بدل کے دلقر ہو گیا ہے۔
مولی وڈ پر موجودہ زمانے میں جو چند ہیرو اور ہیروئین راج کر رہے ہیں دلقر سلمان المعروف 'ڈی کیو DQ' ان میں سے ایک ہے۔ 'استاد ہوٹل' نہ صرف ملیالم بلکہ ساؤتھ انڈین سینما کی دیکھی جانے والی میری پہلی فلم تھی جس کے بعد اس فلم کے اداکار، مصنفہ، ہدایت کار، موسیقار اور اداکارہ سے بھی لگاؤ ہو گیا۔
چنانچہ جب تفصیلات کی کھوج کی تو پتہ چلا کہ دلقر سلمان مولی وڈ کے ہی جانے مانے اداکار "مموتھی [Mammootty]" کے فرزند ہیں۔ یہ مسلمان گھرانہ ہے۔ اور اگر مذہب کی بات کی جائے تو بالی وڈ کے آدھے تیتر آدھے بٹیر 'خانوں' کی نسبت مجھے یہ کافی حد تک صحیح مسلمان لگے ہیں۔ باقی دل و نیت کا بہتر حال اللہ جانتا ہے۔
ویسے جنوبی ہند کے دوسرے سینماؤں کو میں نے ابھی زیادہ نہیں کھنگالا، جو ایک دو فلمیں ملیالم سے ہٹ کر تامل وغیرہ میں دیکھی ہیں وہ بھی دلقر کے صدقے دیکھی ہیں۔ میں نے واضح محسوس کیا ہے کہ بالی وڈ کے مقابلے میں جنوبی ہند بہت صاف ستھرا سینما ہے۔ اگر میرا گمان غلط ہے تو پھر ملیالم اور دلقر کے بارے میں یہ غلط نہیں ہو سکتا۔ تیسرا اس سینما میں اصل 'کہانی' ہے۔ شکل وصورت بالکل ثانوی یا کہہ لیں اضافی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ چند عناصر تھےجنہوں نے مجھے دلقر کا دیوانہ بنایا۔

دلقر سلمان اب بالی وڈ میں قدم رکھنے جا رہا ہے۔ لیکن سچ پوچھیے تو اس کے بالی ووڈ میں داخلے سے میں دلی طور پر خوش نہیں ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ یہاں آ کر برباد ہو جائے گا۔ بالی ووڈ تباہی کا گڑھا ہے۔ ہاں اگر آ ہی رہا ہے تو کسی ایسی فلم کے ساتھ دھماکے دار اینٹری مارے کہ بالی وڈ کے سب خانز، کپور، بچن دانتوں میں انگلیاں داب کے بیٹھ جائیں۔ مگر میرے گمان کے مطابق ایسا بھی نہیں ہو رہا۔ "کاروان" کا ٹریلر دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ایک اچھی، ہلکی پھلکی اوسط درجے سے اوپر کی فلم ہوگی۔ دلقر سے متعلق تو لوگ دیکھ کر رائے دیں گے لیکن فی الوقت فلم کی اصل جان عرفان خان لگ رہے ہیں۔ اور فلم کی سب سے مثبت بات اس میں عرفان خان کا ہونا ہے۔ عرفان کے ساتھ بالی وڈ میں داخلہ واحد ایسی چیز ہے جس پر میں مسرت کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ ہدایت کار 'آکھرش کھرانا' کی پہلی فلم ہے اور ساتھی اداکارہ 'میتھیلیا پالکر' یوٹیوب سیلیبرٹی ہے۔
ذیل میں دلقر سلمان کی کچھ فلموں کا تعارف پیش ہے جسے پڑھ کر شاید قارئین کو دلقر سلمان کی اداکاری کے معیار کا اندازہ ہو سکے گا۔

"استاد ہوٹل"
آئی۔ایم۔ ڈی۔بی: 8.3
یہ دلقر کی دوسری فلم تھی۔ انجلی مینن نے تحریر کی جبکہ انور رشید نے اس کی ہدایت دی۔ انور رشید نے اپنی ہدایت کاری سے فلم میں واقعتاً جادو جگایا ہے، حالانکہ انور کی فلمیں کم ہیں اور ہدایت کاری اس سے بھی کم ہے۔ 2012 میں بنائی گئی فلم کے بعد اس نے ابھی تک کسی اور فلم کی ہدایت کاری نہیں کی۔ ہاں! پیشکش دو کی دی ہے۔
کہانی ہے ایک لڑکے (دلقر) کی کہ جو اپنے باپ کی خواہش کے برخلاف بیرون ملک سے 'شیف' بن کر آ جاتا ہے۔ باپ کو پتہ چلتا ہے تو وہ مزا چکھانے کو سب پیسے، پاسپورٹ چھین لیتا ہے کہ بیٹا گھٹنے ٹیک دے۔ لڑکا پیشے کی قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتا سو مجبوراً اپنے دادا کے ہاں عارضی طور پناہ لیتا ہے کہ جس کا سمندر کنارے ایک چھوٹا سا ہوٹل ہے۔ یہاں سے شروع ہوتی ہے دادا پوتے کی خوبصورت کہانی کہ جس کے بہت سے رنگ ہیں اور کئی سبق ہیں۔ کھانے پینے کا شوق رکھنے والوں کیلیے فلم بطور خاص تجویز کی جانی چاہیے۔ اس کا آخری سبق جو کہ ایک سچے واقعہ سے مستعار لیا گیا ہے بہت اہم ہے۔ اور یہی اس فلم کو اتنا خاص بناتی ہے۔ اس فلم نے 3 نیشنل فلم ایوارڈ (بیسٹ پاپولر فلم و دیگر) جیت رکھے ہیں۔

"بینگلور ڈیز"---
آئی۔ایم۔ ڈی۔بی: 8.3
اس فلم میں الٹا اس طرح ہے کہ انور رشید پیشکش کی کرسی پر براجمان ہیں، جبکہ تحریر اور ہدایت دونوں انجلی مینن کی ہیں۔ یہ 'رومانٹک کامیڈی ڈرامہ فیملی' مووی ہے۔ فلم بڑے اور بچے سب کے ساتھ مل کر دیکھی جا سکتی ہے اور محظوظ ہوا جا سکتا ہے۔ دورانیہ دیکھ کر کچھ ڈر لگتا ہے، پر ایک دفعہ دیکھنا شروع کریں تو بندہ بور نہیں ہوتا۔
کہانی ہے تین کزن (دو لڑکے اور ایک لڑکی) کی جو بچپن سے جگری دوست ہیں۔ اسکول کے زمانے کے بعد تینوں الگ الگ ہو جاتے ہیں، مگر پھر ایک موقع آتا ہے کہ جب تینوں اپنی بچپن کی خواہش کے بموجب 'بنگلور' میں اکھٹے ہوتے اور اصل کہانی شروع ہوتی ہے اور کئی خوشگوار اور غمگسار موڑ لیتی ہے۔ اس فلم کی کچھ خاص باتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس فلم میں مولی وڈ کی موجودہ کریم کو جمع کر دیا گیا ہے۔ دلقر تو ہو گیا ایک طرف۔ اس کے علاوہ نیون پالی اور فہد فاصل مرد اداکاروں میں سے جبکہ نظریہ ناظم، پاروتھی اور نتھیا مینن (کامیو رول) خاتون اداکار ہیں۔ ایک فلم میں اتنے سارے اداکاروں کو جمع کرنا اور ہر کسی کیلیے الگ الگ منفرد و مکمل رول رکھنا قابل تعریف اور ستائش بات ہے۔ اور پھر اسے سراہا بھی گیا کہ یہ مولی وڈ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں سے ایک ہے۔ فلم میں شامل شادی کا ایک گانا اتنا مشہور ہوا کہ پہلی دفعہ کسی ملیالم گانے نے یو ٹیوب پر 1 کڑوڑ ناظرین کی تعداد کو چھوا۔ فلم کی ایک اور خاص بات جو امید ہے "سپائلر الرٹ" نہیں ہے اور اسی لیے واضح کی جا رہی ہے تاکہ ناظرین ایک مخصوص وجہ سے اسے چھوڑ نہ دیں، وہ یہ ہے کہ یہ "لو ٹرائینگل" قطعی طور پر نہیں ہے۔ تینوں ایک ساتھ ہونے کے باوجود سب کی الگ الگ کہانی ہے۔ فلم کے بعد میاں بیوی کا کردار ادا کرنے والے فہد فاصل اور نظریہ ناظم ، حقیقت میں بھی شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

"چارلی"---
آئی۔ایم۔ ڈی۔بی: 7.8
یہ "رومانٹک تھرلر ڈرامہ" فلم ہے۔ اس کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ ایک پڑھی لکھی لڑکی جو وٹہ سٹہ کی شادی نہیں کرنا چاہتی گھر سے بھاگ کھڑی ہوتی ہے اور ایک پرانے طرز کے اپارٹمنٹ میں پناہ لیتی ہے۔ اس اپارٹمنٹ کا پرانا رہائشی عجیب و غریب کردار کا مالک ہے۔ وہ اپنا سب کچھ وہیں چھوڑ کے چلا گیا ہے اور لڑکی سے کہتا ہے کہ استعمال کرو یا ضائع تمہاری مرضی۔ ایک رات لڑکی کے ہاتھ 'تصویروں والی کہانی' لگتی ہے۔ کہانی کے آخر میں سسپنس ہے اور وہیں سے وہ ادھوری چھوڑ دی گئی ہے۔ لڑکی کو اس کہانی کا انجام جاننے کیلیے اس عجیب و غریب کردار سے ملنا ہے۔ یہاں سے لڑکی اور اس کردار کے بیچ چوہے بلی کا کھیل شروع ہوتا ہے کیونکہ وہ کردار اس کی پہنچ سے آگے ہے۔ لیکن اس کو جا پکڑنے کے سلسلے میں وہ جن لوگوں سے ملتی ہے وہ اسے اچھوتے کردار سے متعلق مزید متاثر کر رہے ہیں۔
اس کردار کی بدولت دلقر کو پہلی دفعہ "کیرالہ اسٹیٹ فلم ایوارڈز" میں بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا۔ فلم کی مزید خاص باتوں میں سے ایک بات "گوپی سندر" کی موسیقی ہے۔ اوپر ذکر رہ گیا۔ گوپی اوپر والی دونوں فلموں کا بھی موسیقار ہے۔ اس کی دھنیں اور گانے کمال ہیں۔ استاد ہوٹل، بنگلور ڈیز یا پھر چارلی سب میں ایک سے بڑھ کے ایک۔ گوپی سندر میرے نزدیک مولی وڈ کا اے آر رحمن ہے۔ اس فلم میں گوپی نے پہلی دفعہ دلقر سے گانا بھی گنوایا۔ 'چندری پینے' کے نام سے یہ گانا بہت ہٹ ہوا۔ ایک اور دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ لڑکی کا کردار ادا کرنے والی پاروتھی نے بھی پچھلے سال بالی وڈ میں قدم رکھا ہے اور اس کی پہلی فلم بھی عرفان خان کے ساتھ تھی "قریب قریب سنگل"۔ فلم اپنا نام اور مقام نہیں بنا سکی۔

او-کے کنمنی (OK Kanmani)۔
آئی۔ایم۔ ڈی۔بی: 7.4
دلقر کی اب تک کی تمام فلموں میں سے سب سے کم فلم پسند کی جانے والی فلم یہی ہے۔ اس کی وجہ اس کی کہانی ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ مولی وڈ سے باہر جیسے بالی وڈ وغیرہ میں اسے اسی تامل فلم کی بنا پر زیادہ تر جانا پہچانا جاتا ہے۔ اور اگر میں غلط نہیں ہوں تو اس کی وجہ بھی یہی کہانی ہے۔کیوں؟؟ کیونکہ کہانی بالی وڈ والوں کے من پسند موضوع سے قریب قریب ہے۔ کہانی کیا ہے کہ ایک لڑکا اور لڑکی میں ہم خیالی کی وجہ سے قربت بڑھتی ہے، وہ غیر شادی شدہ رشتے ساتھ اکھٹے رہنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ لڑکے کے مالک مکان بوڑھے میاں بیوی کا ہے۔ بڑے میاں تو نہیں مانتے، پر بڑی اماں مان جاتی ہے اور ان کی محبت میں بڑے میاں کو مجبوراً ماننا پڑتا ہے۔ دونوں رہنے لگتے ہیں، اس دوران انہیں بوڑھے جوڑے کے آپسی میں بے لوث پیار و محبت سے زندگی کے مختلف سبق حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ فلم 'منی رتنم' کی ہدایت کردہ ہے۔ اے آر رحمان نے اس کی موسیقی دی ہے۔ اور استاد ہوٹل میں دلقر کی ساتھی اداکارہ 'نتھیا مینن' اس میں مرکزی اداکارہ کے طور پر ایک دفعہ پھر جلوہ گر ہوئی ہے۔

کماٹی پاڈم (Kammatipadam)۔
آئی۔ایم۔ ڈی۔بی: 8.1
نام عجیب ہے، پر فلم نہیں!!۔ یہ اصل میں کوچی(بھارت) میں ایک جگہ ہے، اس کے نام پر فلم کا نام رکھا گیا ہے۔ فلم 'ایکشن ڈرامہ' ہے اور صرف سنجیدہ احباب کیلیے ہے۔ فلم ماضی اور حال میں ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ فلم شروع ہوتی ہے کہ ایک ادھیڑ عمر آدمی (دلقر) کو عرصہ دراز بعد اپنے بچپن کے 'دلت' (ہندوؤں کی ذات) دوست کی کہ جس سے اب دوستی نہیں رہی کال آتی ہے جو اسے مدد کیلیے بلا رہا ہے۔ یہ شہر سے واپس اپنے علاقے کی طرف اس کی تلاش میں نکلتا ہے اور ماضی کے دریچوں میں جھانکتا ہے کہ سب کیسے ہوا، کیوں ہوا۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ دلتوں کی آبادی ہے، دلت دوست کا بڑا بھائی علاقے کا غنڈہ ہے، اور دلقر اور اس کا دوست اس کے گینگ میں شامل ہو کر اوائل نوجوانی سے جرائم کی دنیا کا حصہ بن جاتے ہیں۔ شہر میں بیٹھا ایک امیر آدمی ان کے ذریعے اپنے غیر قانونی کام کرواتا ہے۔ جیسا کہ ہوتا ہے کہ برے لوگوں کے مقابلے میں اور برے لوگ ہوتے ہیں، اور اسی طرح بڑے لوگوں کا مطلب صرف اپنے کام کی حد تک ہوتا ہے، کام ختم! دست شفقت ختم۔ فلم انتہائی زبردست ہے، پر دیکھنے کے واسطے حوصلہ اور صبر چاہیے۔ راجیو روی کی ہدایت میں بننے والی فلم کو کافی سراہا گیا اور کئی ایوارڈ ملے۔ دلقر کو "فلم فیئر ساؤتھ" میں بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا۔

پاراوا (Parava)۔
آئی۔ایم۔ ڈی۔بی: 8.4
پاراوا مطلب پرندہ۔ اس 'ایکشن ڈرامہ' فلم کا مرکزی خیال کبوتروں کے مقابلے کے گرد گھومتا ہے۔ دو بچے ہیں کہ جو بہترین دوست ہیں۔ انہوں نے کبوتر پال رکھے ہیں اور انہیں آنے والے مقابلے کیلیے تیار کر رہے ہیں۔ مقابلہ یہ ہے کہ کبوتروں کا کون سا جوڑا سب سے زیادہ دیر ہوا میں رہتا ہے۔ اس میں ایک لڑکے کا بڑا بھائی بالکل چپ چاپ الگ تھلگ گھر کے ایک کونے میں رہتا ہے۔ وہ ایسا کیوں ہے؟؟ اس کا تعلق دلقر کے اس فلم میں ادا کیے 'ایکسٹینڈڈ کامیو رول' سے ہے۔ ڈھائی گھنٹے کی اس فلم میں دلقر کا کردار صرف 25 منٹ کا ہے لیکن وہ پوری فلم پر بڑی حد تک حاوی ہے۔ اور اسی لیے فلم کے پوسٹر میں دلقر کا کردار نمایاں کر کے دکھایا گیا ہے۔ فلم کی بڑی خوبصورتی سے عکسبندی کی گئی ہے۔ اس میں کئی رنگ ہیں۔ کرکٹ بھی ہے اور جو لوگ پتنگ بازی کا شوق رکھتے ہیں یا تھے ان کیلیے ڈور سازی کا عمل بطور 'ٹریٹ' ہے۔ سوبن ساحر کی ہدایت اور انور رشید کی پیشکش ہے۔
ایک اور فلم 'ماہاناتی' جو اصل تیلیگو میں ہے، لیکن ساتھ میں تامل اور ملیالم میں بھی پیش کی گئی ہے، میں بھی دلقر بطور 'ایکسٹینڈڈ کامیو رول' کے آیا ہے۔ فلم ساؤتھ انڈین سینما کی مشہور زمانہ اداکارہ 'ساوتری' کی زندگی پر بنائی گئی ہے۔ ہدایت کار 'ناگ ایشون' کی پہلی فلم کو فلمی پنڈتوں اور فلم بینوں نے خوب سراہا ہے۔ اس وقت IMDB پر ریٹنگ 9.1 ہے۔

Dulquer Salmaan, a young talented actor of Malyalam cinema. Article: Ahmad Khalique

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں