ممتاز شیریں سے ایک ملاقات - میرزا ادیب - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-07-17

ممتاز شیریں سے ایک ملاقات - میرزا ادیب

mumtaz-shireen
آپ کسی شخص سے پہلی بار ملتے ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ ہستی جو اس وقت آپ کے سامنے بیتھی ہے اس ہیولے سے مختلف نہیں جو آپ نے اس کے بارے میں سوچا تھا وہ ہستی آپ کے تصورات کے سانچے میں اس طرح ڈھل جاتی ہے کہ آپ سوچنے لگتے ہیں کہ یہ سانچہ بالکل اس ہستی کے مطابق بنایا گیا تھا ۔ اس قسم کی شخصیت سے مل کر آپ کو کوئی حیرت نہیں ہوتی۔ کوئی اچنبھا نہیں ہوتا، مگر کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ ایسے شخص سے ملاقات کر بیٹھتے ہیں جسے سمیٹنے کے لئے آپ کے تصورات کا سانچہ قطعاً غیر موزوں ہوتا ہے اور ایسے موقع پر آپ کو یقینا حیرت ہوتی ہے اس حیرت کا خوشگوار یا ناخوشگوار ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ یہ شخص آپ کے تصورات سے مختلف ہوکر بھی ایک دلچسپ شخصیت ہے یا نہیںیا اس میں تمام انسانی خوبیاں کس حد تک موجود ہیں اور میں نے جس شخصیت سے ملاقات کی تھی اس کا تعلق دوسرے زمرے سے ہے یعنی ممتاز شیریں میرے خیالات اور توقعات کے بالکل بر عکس ثابت ہوئیں تاہم مجھے ان سے مل کر وہ مسرت ہوئی جس کا اظہار الفاظ کے ذریعے ممکن نہیں۔
ممتاز شیریں جس وقت دنیائے ادب میں داخل ہوئیں تو ان کی حیثیت افسانوں کے ایک سخت گیر نقاد کی تھی ۔ ان کے مضامین پڑھے تو پتہ چلا کہ یہ خاتون اردو کے افسانے تو رہے ایک طرف انگریزی، روسی اور فرانسیسی افسانوی ادب کا بھی بالاستیعاب مطالعہ کرچکی ہیں ۔ ان کے مضامین میں قدم قدم پر غیر ملکی افسانوں اور ناولوں کے حوالے مل جاتے تھے کسی کردار کا تجزیہ کرتی تھیں تو اس تجزیاتی مطالعے میں کئی ایسے کرداروں کا ذکر بھی چل نکلتا تھا جن سے ان کے بیشتر قاری غیر متعارف ہوتے تھے۔
ان کا مقالہ" تکنیک کا تنوع"
سویرا میں چھپا تو ہر طرف اس کی دھوم مچ گئی ۔ یہ مقالہ ایک ایسے ذہن کی پیداوار معلو ہوتا تھا جس نے برسوں افسانے کی متنوع تکنیک سمجھنے کی کوشش کی اور دنیا کے نامور افسانہنگاروں کے مشہور افسانوں کو غور و فکر کی گرفت میں لے چکا ہے ۔
یہ مضمون اور ان کے دوسرے مضامین پڑھ کر میں نے ان کے بارے میں ایک خاص تصویر بنالی تھی اس کے بعد ان کے افسانے چھپنے لگے معلوم ہوا کہ وہ جتنی اچھی نقاد ہیں اسی قدر ماہر فن افسانہ نگار بھی ہیں۔ اپنی افسانوی تحقیقات میں وہ زندگی کی ہر حقیقت کو ، وہ کتنی بھی تلخ اور مکروہ کیوں نہ ہو، اس کی پوری جزیات کے ساتھ پیش کردیتی تھیں۔ جنتی موضوعات کے سلسلے میں ان کا قلم خاص طور پر بڑا بے باک تھا ۔ سعادت حسن منٹو ان کا پسندیدہ افسانہ نگار تھا۔ اس سے بھی ان کے تخلیقی رجحان طبع کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔
ان کے مضامین پڑھ کر میں نے جو تصویر بنائی تھی ۔ اب ان کے افسانے پڑھ کر اس کے خدو خال خصوصی طور پر تیکھے ہوگئے ۔ یہ تصویر مجموعی لحاظ سے بڑی شوخ تھی اور میں جب ان سے ملا تو میرے ذہن میں اسی تصویر کے شوخ اور تیز رنگ چمک رہے تھے۔
مگر ان سے ملنے سے پہلے ایک اور حادثہ بھی رونما ہوچکا تھا۔میں نے ان کی تصویر دیکھ لی تھی کسی ادبی رسالے میں، تصویر دیکھ کر میں کچھ مرعوب ہوگیا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ مسحور ہوگیا۔
ادبی رسالوں میں خواتین کی تصویر چھپتی ہی رہتی ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اب تک صرف تین چار خواتین اہل قلم کی تصویروں نے دیکھنے والوں کو اور پڑھنے والوں کو متاثر کیا ہے ۔ ان میں سے ایک خاتون تو ہیں قرۃ العین حیدر اور دوسری ممتاز شیریں۔
تو میں کہہ رہا تھا کہ ممتاز شیریں سے ملاقات اس وقت ہوئی جب میرے خیالوں میں ان کی ایک خاص تصویر تشکیل پذیر ہوچکی تھی۔
ادب لطیف کا سالنامہ شائع ہونیو الا تھا ۔ میں ابن انشا کو خط لکھا کہ کراچی کے ادیبوں اور شاعروں کی چیزیں مجھے لے کر بھجوائیں کہ یہ کام وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں جواب میں انہوں نے فرمایا برادرم یوں بات نہیں بنے گی ۔ اگر پاؤں کی مہندی سوکھ چکی ہو تو خود تشریف لائیے ۔ جن سے چیزیں لینے کا نیک ارادہ ہے ان کی خدمت میں حاضر ہوکر تسلیمات بجا لائیں اور میں تسلیمات بجا لانے کے لئے کراچی پہنچ گیا۔
کراچی ہر طرف پھیلا ہوا شہر اور میں ایک اجنبی۔ انشا جی نے اتنی مہربانی کی کہ کچھ ادیبوں کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے میرے ساتھ چلنے کی زحمت گوارہ فرمالی ، کچھ ادیبوں کے پتے بتادئیے جن لوگوں کے ٹیلی فون تھے انہیں اطلاع دے دی کہ لاہور سے ایک مدیر آیا ہے اور آپ کے دیدار کا شائق ہے ۔
ادیبوں سے ملاقات کا مرحلہ ہر چند کٹھن تھا مگر طے ہوگیا کچھ زیادہ دقت پیش نہ آئی، کسی ادیب نے اپنی چیز عنایت فرمادی اور کسی نے محض وعدے پر ٹرخا دیا ۔ اچانک خیال آیا کہ ممتاز شیریں کے یہاں تو حاضری ہی نہیں دی ۔ انشا جی سے کہا۔
"آپ کو ممتاز شیریں یاد نہیں۔"
جواب ملا۔ یہ کام آپ کا ہے میرا نہیں ۔
عرض کیا: چلئے آج!
کہا گیا، میں نہیں جاسکتا آج اسمبلی میں بڑا کام ہے ۔
اس زمانے میں انشا جی اسمبلی میں مترجم کے فرائض ادا کرتے تھے ۔ کافی مشکل پیش آتی میں عورتوں سے ملنے میں شرمیلا تو کبھی نہیں تھا لیکن ممتاز شیریں سے ملنے میں بڑی جھجک محسوس ہوتی تھی ، ان کے مقالے ان کے افسانے اور ان کی تصویر ، دماغ ایک الجھن میں مبتلا ہوگیا ۔
یاد آیا کراچی میں اسد اللہ بھی تو رہتے ہیں اس معاملے میں ان سے استمداد کی جاسکتی ہے ۔ اسداللہ حیدرآباد دکن سے آئے تھے اور ادب سے انہیں خاص دلچسپی تھی ، منٹوکے قریبی دوست تھے ، منٹو کے انتقال کے بعد انہوں نے منٹو کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی تھی ۔ اس زمانے میں وہ کراچی کے کسی ہوسٹل میں رہتے تھے ۔ قریب قریب روز ان سے ملاقات ہوجاتی تھی دوسرے دن وہ ملے تو میں نے عرض کیا۔
"اسداللہ صاحب، کیا آپ مجھ پر احساس کرتے ہوئے ممتاز شیریں سے مضمون یا افسانے لے آئیں گے "
"آپ خود کیوں نہیں جاتے ان کے پاس،"انہوں نے استفسار کیا ۔
"میری طبیعت ذرا خراب ہوگئی ہے ، آپ تکلیف کرلیں۔"
"آپ کی طبیعت ٹھیک ہوجائے گی ان سے مل کر" اسد اللہ نے کہا ۔ میں نے ان کی آنکھوں اور ہونٹوں پر مسکراہٹ ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر وہ تو بڑی سنجیدگی سے یہ الفاظ کہہ رہے تھے ۔ میرے اصرار کا اسد اللہ پر کوئی اثر نہ ہوا آخر یہ طے ہوا کہ دوسرے دن میں اسد اللہ کے ساتھ جاؤں گا اور ممتاز شیریں سے ملاقات کروں گا۔
ابھی آٹھ ہی بجے ہوں گے کہ اسد اللہ نے انشا جی کے دروازے پر دستک دی۔
یہ آپ ہی کا کوئیدو ست ہے میرا کوئی ملنے والا اس طرح دروازے پر دستک نہیں دیاکرتا۔ انشا جی نے بالوں میں کنگھی پھیرتے ہوئے کہا۔ باہر نکلا تو اسد اللہ کھڑے تھے۔
"چلئے!"
"کہاں!" میں نے پوچھا۔
اسد اللہ نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔
"ممتاز شیریں کے ہان چلو گے نہیں؟"
چلنا پڑا ، ان سے بھلا کیا عذر کر سکتا تھا۔
راستے میں بہت کم باتیں ہوئیں۔ میں نے پوچھا۔"ممتاز شیریں سے آپ کی ملاقات ہوئی ہے پہلے؟"
"کئی بار۔"
"کیسی ہیں؟ میرا مطلب ملنسار ہیں نا۔"
"آپ دیکھ لیں گے کیسی ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ان کے یہاں پہنچ جائیں گے ۔
کچھ اور پوچھنا بے کار تھا۔
ممتاز شیریں کے مکان کے نیچے پہنچ گئے ، اندیشہ ہائے دوردراز سے میری عجیب کیفیت ہوگئی تھی ۔
ممتاز شیریں کا خاندان اس بلڈنگ کی دوسری منزل پر رہتا تھا ہم اوپر آگئے ، نوکرانی نے ہمیں ایک کمرے میں بٹھا دیا۔ عام سا کمرہ تھا کسی جگہ بھی پر تکلف فرنیچر نظر نہیں آتا تھا۔
سات آٹھ م نٹ گزر گئے میں نے قریبی بک شیلف سے کوئی کتاب نکالی اور اس کی ورق گردانی کرنے لگ گیا۔
اچانک اسد اللہ کھڑے ہوگئے اور ساتھ ہی ان کی انگلیوں کا دباؤ میری گردن پر پڑا۔ میں بھی اٹھ گیا۔
"یہ جی میرزا ادیب ہیں۔"
"ادب لطیف کے ایڈیٹر صاحب۔"
یہ دو فقرے میرے کانوں نے سنے اور دماغ کی یہ حالت جیسے کچھ سوچ ہی نہیں سکتا۔ آنکھوں پر اعتبار نہیں آرہا تھا۔
"آپ خیریت سے ہیں؟" کمرے میں آنے والی پست قد خاتون نے مجھے مخاطب کر کے کہا۔
معلوم نہیں میں نے اس کا کیا جواب دیا۔
"کب کراچی آئے۔"
اس کا جواب اسد اللہ نے دیا۔ شاید محترمہ کے پہلے سوال کے جواب میں میں نے بے خیالی کا اظہار کیا تھا۔
"تشریف رکھئے۔" اور ہم نے تشریف رکھ دی ۔
اسد اللہ میری طرف سے مضمون کی درخواست پیش کرنے لگے اور میں نے محترمہ کو بڑے غور سے دیکھا۔
" یہ ممتاز شیریں ہیں۔"
دل نہیں مانتا تھا۔ میں نے ان کی جو تصویر بنائی تھی اس کا اس ممتاز شیریں سے دور کا بھی تعلق واسطہ نہیں تھا، وہ وسیع المطالعہ نقاد ممتاز شیریں مقالے اور افسانے لکھنے والی ممتاز شیریں ۔۔وہ تصویر والی ممتاز شیریں جس کے بادلوں میں گلاب مہکتا رہتا ہے۔ وہ کون ہے۔ اور یہ بالکل عام سی عورت ۔۔۔ بالکل گھریلو عورت جس کے بالوں میں کوئی گلاب نہیں ہے ۔ جس کے چہرے پر سادگی برس رہی ہے ، جس کی گفتگو میں شوخی نام کو نہیں۔ کون ہے ! کیا ممتاز شیریں کے دور روپ ہیں، ایک ادبی روپ اور ایک یہ گھریلو روپ۔ دونون میں بڑا فرق ہے، اس ممتاز شیریں کو دیکھ کراس ممتاز شیریں کا تصور ہی نہیں ہوسکتا ۔ وہ ممتاز شیریں اور ہے اور یہ کوئیا ور ۔ لیکن میں تو اس ممتاز شیریں کے ہاں آیا ہوں جو ایک اعلی درجے کی نقاد ہے ۔ جس نے بڑے جامع اور فاضلانہ مقالات لکھے ہیں جو بڑے خوبصورت افسانوں کی مصنفہ ہیں۔
یہ ممتاز شیریں تو میرے تصورات۔ میرے خیالات سے بالکل مختلف ہے، اس ممتاز شیریں سے تو میں مرعوب تھا، مسحور تھا اور یہ ممتاز شیریں تو ایسی خاتون معلوم ہوتی ہیں جو گھر میںہانڈی روٹی پکاتی ہے ،نوکروں سے سودا سلف منگواتی ہے ، دھوبی کو کپڑے دیتے وقت ایک ایک کپڑا نوٹ کرتی ہے اور جب کپڑے دھل کر آتے ہیں تو ایک ایک کپڑے کا جائزہ لیتی ہے جو خود گھر کی صفائی کرتی ہے اور جو۔۔۔۔۔۔۔
ق"معاف کیجئے میں صفائی کررہی تھی ، آپ کو انتظار کرنا پڑا۔"
انہوں نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا ۔ میں اپنی اودھ بن میں مصروف تھا اور انہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ میں کچھ پریشان ہوں۔
"جی نہیں۔۔۔۔۔کوئی بات نہیں۔" میں نے کہا۔
میں نے دیکھا ان کے بال بکھرے ہوئے تھے ، چہرہ بھی میلا میلا دکھائی دے رہا تھا، رک رک کر بات کرتی تھیں یقینا دھیان ابھی صفائی ہی میں تھا۔
کراچی میں جہاں کہیں بھی گیا التزاما پوچھا گیا، کیا پئیں گے ، چائے آئی تو استفسار کیا گیا کتنے چمچے مگر یہاں خاتونِ خانہ نے ایسا کوئی تکلف روانہ رکھا نوکرانی چائے کی ٹرے لے کر آئی تو وہ ایک لمحہ توقف کئے بغیر چائے بنانے لگیں۔
میں نے دیکھا کہ وہ ایک بات کہتی ہیں اور پھر نظریں جھکالیتی ہیں۔
ارشاد ہوا"ہماری بھابھی کیسی ہیں؟"
"ٹھیک ہیں۔"
"بچے؟"
"شکریہ، ٹھیک ہیں۔"
"کتنے ہیں؟"
"ماشاء اللہ والا معاملہ ہے۔" میں نے سوچا تھا کہ وہ میرے اس فقرے پر مسکرائیں گی مگر کیا مجال جو ان کے ہونٹوں نے مسکراہٹ کی ہلکی سی تہمت بھی گوارا کی ہو۔
"ادب لطیف کا سالنامہ چھپ رہا ہے۔"اسد اللہ نے گفتگو بدل کر حقیقی موضوع کے لئے راہ ہموار کی۔
"میں ادب لطیف پڑھا کرتی ہوں۔"
" اس کے لئے لکھئے بھی۔" میں نے عرض کیا۔
"اچھا جی!" جواب ملا اور موضوع ختم!
چند لمحے خاموشی رہی۔
"آپ کے بچوں کوبھی افسانہ نگاری کا شوق تھا ! سوال پوچھا گیا، مجھے خوشی ہوئی کہ اب گفتگو ادب کے بارے میں ہوئی مگر توبہ کیجئے صاحب!
پتہ نہیں میں نے کیا جواب دیا۔ دوسرے لمحے فرمانے لگیں ۔" یہ بچوں کا معاملہ کافی پریشان کن ہے۔ کوئی نہ کوئی بیمار ہوجاتا ہے ۔"
توقع تھی کہ ادب کے متعلق کچھ گرما گرم قسم کی بحث ہوگی، وہ ادب کی سب سے بڑی تحریک ترقی پسندی کے خلاف کئی مضمون لکھ چکی تھیں ، اس بارے میں ان سے باتیں کرنا چاہتا تھا ، چنانچہ میں نے کہا۔
"آپ ترقی پسند کے خلاف کیوںہیں؟"
"جی۔۔۔۔کچھ خلاف تو نہیں ہوں، کچھ پہلو ایسے ہیں جن سے مجھے اور صمد شاہین صاحب کو اختلاف ہے ۔ آپ چائے پی نہیں رہے ۔ میں خود چائے بنایا کرتی ہوں آج نوکرانی کے ذمے یہ کام ڈال دیا۔ چائے پسند نہیں آئی آپ کو۔" اور وہ انگلیوں سے ساڑھی کے پلو کو مسلنے لگیں۔ نظریں جھکی ہوئی تھیں ۔
"جی ایسا تو نہیں ہے۔" میں نے تکلفاً کہا۔ چینی کا صرف ایک چمچ ڈالا گیا تھا اور میں اچھا خاصا چینی خور ہوں۔
"بسکٹ نہیں لئے آپ نے؟"
"شکریہ"
"لیجئے نا۔"
اور بسکٹوں سے بھری ہوئی پلیٹ میری طرف بڑھا دی گئی ، چند منٹ کے بعد ہم اٹھ بیٹھے۔
"بھابھی صاحبہ سے میرا سلام کہئے۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔"
"بچوں کو پیار" میں نے ان کا فقرہ مکمل کیا۔
" جی ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ ذرا سی مسکرائیں، بھابھی اور بچوں کو لے کر یہاں ضرور آئیے گا۔" انہوں نے تاکیداً کہا اور ہم نیچے اتر آئے ۔ مختصر ملاقات ،بہت مختصر ملاقات ختم ہوگئی۔
"اسد اللہ ، یہ بتاؤ کہ ہم کس سے مل کر آرہے ہیں؟" میں نے سیڑھیوں سے اترکر اسداللہ سے پوچھا۔
"کیا مطلب ؟"
"یار! سچ بتاؤ! یہ ممتاز شیریں تھیں؟"
اسد اللہ کئی لمحے مجھے حیرت سے دیکھتا رہا۔


ماخوذ از:
ماہانہ ادبی مجلہ" قند" پشاور۔ جنوری، فروری 1974
ایڈیٹر: آذر تاج سعید

A meeting with Mumtaz Shireen. Interviewer: Mirza Adeeb

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں