چل بھائی اب رسالہ نکالیں - اداریہ دو ماہی گلبن لکھنؤ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-07-23

چل بھائی اب رسالہ نکالیں - اداریہ دو ماہی گلبن لکھنؤ

موجودہ دور میں اردو کا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی اساس کھوتی چلی جارہی ہے۔ اب ہر ارتقاء اوپر سے شروع ہوتی ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عمارت چھوٹی ہو یا بڑی، بنیاد سے شروع ہوتی ہے۔ اگر بنیاد ہی صحیح ڈھنگ سے نہ ڈالی جائے تو مضبوط عمارت کی تعمیر نہیں ہوسکتی ۔ ہم اگر ادو صحافت کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ ہمارے قابل احترام اکابرین نے اخبارات اور رسائل کی اشاعت میں ایک بات کا خاص خیال رکھا کہ ان کی صحافت عام آدمی سے جڑی رہے اور عوامی لیول سے ہی گفتگو ہو۔ ہماری اردو صحافت ادب اور شاعری عوام سے کٹ کر خواص کی دلبسگی یا عیاشی کا ذریعہ کبھی نہیں رہی ۔ ہمارے تمام صحافیوں، شاعروں اور افسانہ نگاروں نے عوام کے مسائل عوام کے لیول پر آکر حل کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے علاوہ ہر دور میں رسالوں اور اخباروں کا یہ طرہ رہا ہے کہ وہ نئے لکھنے والوں کی تربیت اور رہنمائی کے فرائض بھی خوش دلی سے انجام دیتے رہے ۔ اگر وہ صرف بنے سنورے قلمکاروں کو ہی شائع کرتے رہتے تو نئے لکھنے والوں کو حوصلہ کہاں سے ملتا اور مستقبل کے بڑے قلمکار کیوں کر پیدا ہوتے ۔ سارے قلمکار پہلے چھوٹے تھے انہیں تراشنے اور نکھارنے کا کام رسالوں اور اخباروں نے کیا۔ ہر قلمکار چھوٹے سے بڑا بنتا ہے ۔ بڑا بنانے کے لئے چھوٹے وجو کو تسلیم کرنا پڑے گا اور اس کی رہنمائی کرنی پڑے گی ۔ اگر کوئی رسالہ اپنے کو بڑا اور معیاری صرف اس لئے سمجھتا ہے کہ وہ مبتدی اور ادھ پکے قلمکاروں کو شائع نہیں کرتا تو اس سے بڑی اردو کی بد نصیبی اور کیا ہوسکتی ہے ۔
ہمارے ریسرچ کرنے والے طالب علموں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے دو چار مقالے کسی رسالے میں شائع کرائیں اور امتحان میں انہیں سند کے طور پر پیش کریں، اس مجبوری کے تحت یہ لوگ رسالوں میں اپنے مضامین بھیجتے ہیں کہ اگر انہیں شائع کردیاجائے تو ڈگری ملنے میں آسانی ہوجائے گی۔یہ"بے چارے" اس کام کے لئے در بدر بھٹکتے ہیں۔ ان کی مجبوریوں سے کچھ سخت جان کاروباری رسالے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اور ان کے مضامین پیسے لے کر چھاپتے ہیں۔ اسی طرح کچھ رسالوں کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ وہ انہیں لوگوں کی تخلیقات شائع کرتے ہیں جو ان کے خریدار ہوتے ہیں ۔ بعض دبنگ قسم کے رسالے تو قلمکاروں سے یہاں تک توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے مضمون کے ساتھ کرنسی نوٹ بھی نتھی کریں ۔ اور کیا۔ یوں ہی تھوڑے چھاپیں گے۔۔۔ یہاں "الٹے بانس بریلی کو" محاورہ ایک دم فٹ بیٹھتا ہے ۔
چھپنے چھاپنے کے بت کدہ میں اب تو یہ بھی دیکھنے کومل رہا ہے کہ نام نمود کی ہوس میں مدیر اپنے رسالہ میں اپنا ہی گوشہ باجے گاجے کے ساتھ نکال مارتا ہے ۔ کہ نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے۔۔ ہمارے خیال سے یہ سب انتہائی گھٹیا حرکتیں ہیں۔ دوسری طرف مبتدیوں کی بھی خواہش ہوتی ہے ( اور بجا طور پر ہوتی ہے) کہ وہ چھپیں۔ چھپنے سے ہی انہیں حوصلہ ملتا ہے اور آگے چل کر وہ بہتر سے بہتر ادب تخلیق کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ اگر شروع ہی میں ان کی حوصلہ شکنی کردی جائے تو وہ مایوس ہوکر قلم رکھ دیں گے اور مستقبل کا بڑا قلمکار گم ہوکر رہ جائے گا۔ اس لئے رسالوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ عمدہ اور معیاری تخلیقات کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں کی تخلیقات جو نسبتاً کمزور اور کمتر ہوسکتی ہیں، انہیں بھی شائع کریں اور اگر کسی نے یہ پالیسی نہیں اپنائی تو ہمارے خیال سے اسے رسالہ نکالنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ایک ادبی رسالے کا بڑکپن یہ ہے کہ وہ نئے قلمکاروں کو موقع دے ، انہیں معقول تربیت دے ، ان کی رہ نمائی اور ان کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ وہ آگے چل کر زبان و ادب کی بہتر خدمت انجام دے سکیں۔ نہ یہ کہ بنے بنائے بڑے لوگوں کی ہی شائع کرے اور بزعم خود اپنے رسالے کو معیار کی ڈگڈی بجائے۔ اس ضمن میں قارئین کو بھی اپنا ذہن بدلنا ہوگا ۔ عام طور پر یہ طبقہ بھی معیار کا پیمانہ وہی بنائے ہوئے ہے جسے چند "عالم و فاضل" مدیروں نے مقرر کررکھا ہے ، لیکن اس گفتگو کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ رسالے کے دفتر میں جو بھی رطب ویابس موصول ہواسے شائع کردیں۔ کسی حد تک چھانٹ پھٹک ضروری ہے۔ مگر ایسی صورت میں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کتنے مدیران گرامی مختلف اصناف کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مبتدیوں کو تربیت دینے اور ان کی تخلیقات کی نوک پلک درست کرنے کے اہل ہوتے ہیں ۔ اس کا اندازہ آپ لگالیں ۔ نکالنے کو تو رسالہ دلاور ڈھولکیا بھی نکال سکتا ہے ۔ ثبوت چاہئے تو رجسٹرار آف نیوز پیپر کی طویل فہرست دیکھ لیں ۔ اردو اخبارات اور رسالے ہزاروں کی تعداد میں "نکل "رہے ہیں ۔ پر نکل کر بیشتر کہاں جا رہے ہیں کسی کو پتہ نہیں ۔

Editorial of Bimonthly Gulban, Lucknow, Jul-Aug-2018.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں