Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-06-18 - بوقت: 14:03

مکالمہ - قومی کونسل ہند کے فنڈ ، پراجکٹ اور وژن

Comments : 0
dialog-with-NCPUL-director-Irteza-Karim
معروف ادیب ابرار مجیب کی فیس بک ٹائم لائن سے قومی کونسل ہند کے کردار اور کاز پر ایک مفید مکالمہ - بتاریخ : 9/ جون 2018
بحوالہ

ابرار مجیب:
قومی کاؤنسل برائے فروغ اردو کے پاس جتنا فنڈ ہے اس لحاظ سے ڈائریکٹر صاحب کے پاس وژن نہیں ہے، وہ نہ تو زبان کے فروغ کے جدید وسائل کا علم رکھتے پیں نہ ہی ان کی نظر عالمی ادب کے جاری مباحث پر ہے۔ ان کی عقل میں یہ بات نہیں آتی کہ اردو کے عصری ادب کو فروغ دینے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انہیں ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کراکر ملک گیر سطح پر پیش کیا جائے، اردو کے ادبی فن پاروں کے انگریزی تراجم بھی کرائے، تازہ عالمی ادبی پس منظر پر اردو میں کتابیں لکھوائے۔ ڈائریکٹر صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ معمولی باتوں کو اہم سمجھ لیتے ہیں جیسے epubمیں اردو کتابیں۔ یا سطحی قسم کا اردو عالمی کانفرنس۔ کاؤنسل جیسے ادارہ کے لیے ایک صاحب علم پرخلوص شخصیت کی ضرورت ہے۔ یہاں تو ڈائریکٹر صاحب کی جنت میں بڑی تعداد گنہ گاروں کی ہے۔
Anjuman Taraqqi Urdu Hind

4 June - ویڈیو
گفت و شنید میں اس ہفتے کی اہم شخصیت ہیں پروفیسر ارتضی کریم ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ۔

Zamarrud Mughal
ابرار صاحب معذرت کے ساتھ کونسل سرکاری ارادرہ ہے سب کچھ ڈائریکٹر اپنی مرضی سے نہیں کرسکتا ۔کونسل اس وقت جو کام کررہی ہے وہ سب اہم ہیں مزید بہتر کیا جاسکتا ہے لیکن صرف فنڈ کے ہونے سے ہی سب کچھ نہیں ہوجاتا ایک ایک کام کی منسٹری سے اجازت لینی ہوتی ہے۔ای پب آپ کی نظر میں اہم کام نہیں ہے افسوس ہوایہ جان کر۔رسائل،کتابیں ،اورتراجم بھی شائع ہوئے ہیں کونسل سے۔کونسل میں صرف عالمی کانفرنس ہی نہیں ہوتی ہے اور بھی بہت سے کام ہوتے ہیں اور کانفرنس کے تعلق سے کریم صاحب نے مانا ہے کہ ابھی اس میں بہت اچھا نہیں ہورہا ہے۔ویسے سرکاری دفاتر میں جس طرح سے کام ہوتا ہے اور جس طرح کے کام ہوتے ہیں اس میں تو کونسل کی کارکردگی بہت اطمینان بخش ہے ۔

Abrar Mojeeb
بھائی epub سے پہلے بھی کتابیں دستیاب تھیں ، پی ڈی ایف میں، کرنے کا جو کام ہے وہ کاؤنسل کرتی نہیں ، تراجم کے تعلق سے میں نے کچھ نکات پیش کیے، اسی طرح اردو اسکولوں یا انگریزی اسکولوں میں استادوں کی بحالی بھی ممکن ہے، پچھلے چار سالوں میں ایسی کوئی کتاب کاؤنسل نے نہیں شائع کی جس کا تعلق زبان اور لسانیات کے جدید مباحث سے ہو۔ کاؤنسل آکسفورڈ ڈکشنری کی طرز پر ایک لغت کمیٹی بنا سکتی ہے جو کم از کم اردو میں شامل ہونے والے تازہ الفاظ کو شامل کرتی جائے، یعنی کاؤنسل کی اپنی لغت، اسی طرح کلیم الدین احمد کی اردو انگریزی نا مکمل لغت کو پچھلے چار سالوں میں مکمل کیا جاسکتا تھا، رسائل وغیرہ شائع کرکے ڈائریکٹر کا فخر کرنا ان کی معصومیت پر دال ہے۔زبان کے فروغ کے لیے ایسے کام نہیں کیا جاتا۔ میں کاؤنسل کو سو صفحات کا مشورہ دے سکتا ہوں جو اسے اردو کے فروغ کے لیے کرنا چاہئے۔ کیا ضروری ہے کہ کاؤنسل بیسویں صدی میں جس ٍڈھانچے پر زبان کے فروغ کو بہتر سمجھتی تھی وہی ڈھانچہ اکیسویں صدی میں بھی برقرار رکھا جائے۔

ارشد جمال حشمی
ابرار مجیب، جناب آپ نے ایسے کئی نہایت اہم مشورے دیئے ہیں برسوں سے میرے ذہن میں بھی ہیں۔
لیکن EPUB میں کتابیں شائع کرنے کو آپ کس طرح معمولی کام کہہ سکتے ہیں۔ حیرت ہے۔ یہ اردو کی ترویج کے لئے بہترین اقدامات میں سے ایک ہے۔

Mukarram Niyaz
زمرد مغل بھائی غیرضروری حمایت کر رہے ہیں کونسل اور کونسل کے ذمہ داران کی۔ ابرار مجیب نے بالکل درست کہا کہ ۔۔۔ (کونسل کے موجودہ اور سابقہ ڈائرکٹر جو رہے، وہ) ۔۔۔ ۔۔۔"زبان کے فروغ کے جدید وسائل کا علم رکھتے پیں نہ ہی ان کی نظر عالمی ادب کے جاری مباحث پر ہے۔ ڈائریکٹر صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ معمولی باتوں کو اہم سمجھ لیتے ہیں۔۔۔"
ابرار مجیب 100 صفحات کا مشورہ دینے تیار ہیں ۔۔۔ اور میں صرف چند مشورے دے رہا ہوں (اگلے مراسلے میں) ۔۔۔ ان پر غور کیجیے اور سوچئے کہ کونسل اس ضمن میں بھلا کیا کر رہی ہے؟؟ ابرار بھائی نے بلاشبہ سچ کہا کہ: کونسل بیسویں صدی کے ڈھانچے کو اکیسویں صدی میں بھی برقرار رکھنے پر مصر ہے!!

Shahidul Islam
قومی کونسل کا 45-40 لاکھ روپے عالمی کانفرنس پر ہر سال خرچ کر نا شاید ڈائریکٹر موصوف کی نگاہ میں اردو کی عظیم الشان خدمت ہو!
کونسل کے موجودہ ڈائریکٹر ہوں یا سابقہ انہوں نے زبان اردو کے ساتھ انصاف ہر گز ہرگز نہیں کیا ہے، یہ ہمیں تسلیم کرنے میں کوئی دقت نہیں، سچ تو یہ ہے کہ اردو کی بہبودی سے کہیں زیادہ ان حضرات کو ڈائریکٹر کی کرسی پر بیٹھ جانے کے بعد اپنے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کی فکر ستاتی ہے یا اپنوں کو نوازتے رہنے کی دلی تمنا ۔۔۔۔۔۔۔ ہر زمانہ میں ڈائریکٹر صاحبان کے گرد مفاد پرست عناصر طواف کرتے ہوئے دیکھے جاتے رہے ہیں

Abrar Mojeeb
بھائی epub سے پہلے بھی کتابیں دستیاب تھیں ، پی ڈی ایف میں، کرنے کا جو کام ہے وہ کاؤنسل کرتی نہیں ، تراجم کے تعلق سے میں نے کچھ نکات پیش کیے، اسی طرح اردو اسکولوں یا انگریزی اسکولوں میں استادوں کی بحالی بھی ممکن ہے، پچھلے چار سالوں میں ایسی کوئی کتاب کاؤنسل نے نہیں شائع کی جس کا تعلق زبان اور لسانیات کے جدید مباحث سے ہو۔ کاؤنسل آکسفورڈ ڈکشنری کی طرز پر ایک لغت کمیٹی بنا سکتی ہے جو کم از کم اردو میں شامل ہونے والے تازہ الفاظ کو شامل کرتی جائے، یعنی کاؤنسل کی اپنی لغت، اسی طرح کلیم الدین احمد کی اردو انگریزی نا مکمل لغت کو پچھلے چار سالوں میں مکمل کیا جاسکتا تھا، رسائل وغیرہ شائع کرکے ڈائریکٹر کا فخر کرنا ان کی معصومیت پر دال ہے۔زبان کے فروغ کے لیے ایسے کام نہیں کیا جاتا۔ میں کاؤنسل کو سو صفحات کا مشورہ دے سکتا ہوں جو اسے اردو کے فروغ کے لیے کرنا چاہئے۔ کیا ضروری ہے کہ کاؤنسل بیسویں صدی میں جس ٍڈھانچے پر زبان کے فروغ کو بہتر سمجھتی تھی وہی ڈھانچہ اکیسویں صدی میں بھی برقرار رکھا جائے۔

Zamarrud Mughal
بالکل بھی نہیں کونسل کو نئے ڈھانچے پر یقینا کام کرنا چائیے مگر جو کام آپ بتا رہے ہیں ان میں سے اکثر کام کونسل کے کرنے کے نہیں ہیں اب اردو کے فروغ کے لیے اساتذہ کی بحالی کام کام کونسل کا نہیں ہوسکتا۔جہاں تک میرے علم میں ہے کونسل ڈکشنری پر کام کررہی ہے۔میں کونسل کا نمائندہ نہیں ہوں نہ ہی کریم صاحب کا کہ میرا تو اردو پرفیسروں سے ہمیشہ ہی جھگڑا رہا ہے میں صرف یہ کہنے کی کوشش کررہا ہوں کہ بہت کچھ اور بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اردو کے فروغ کے لیے ہر کام کونسل کرے ایسا ممکن نہیں ہوسکتا کسی بھی ادارے کی اپنی حدود ہیں اسی کے اندر رہ کر وہ کام کرسکتا ہے۔اور کونسل میں ہر کام کے لئے کمیٹیاں بنی ہوئ ہیں ان کے ممبران بھی اردو لکھاری ہی ہوتے ہیں اور پھر منسٹری کے سفارشی بھی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان کمیٹیوں میں شامل الثر لوگوں کا تعلق یونیورسٹیز کے شعبئہ اردو سے ہے جو اپنا شعبہ ڈھنگ سے نہیں چلا سکتے ان سے کسی اور بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی

Abrar Mojeeb
بھئی اردو کے فروغ کے لیے کاؤنسل اپنی طرف سے انگریزی اسکولوں میں ایک استاد کا فنڈ مہیا کرائے تو اردو کو اختیاری مضمون کے طور پر پرموٹ کیا جاسکتا ہے اور اسکولوں کو ٹیچر رکھنے پر اعتراض بھی نہیں ہوگا۔ کچھ کام آؤٹ آف بکس بھی کرنا چاہئے جس سے زبان کو فائدہ ہو اور ہندوستان کے مختلف طبقات کے لوگ اس زبان کو سیکھ سکیں ، ٹیچر کی بحالی کاؤنسل کا کام نہیں لیکن ایک ٹیچر کی تنخواہ دے کر ہندوستان بھر میں اردو کو فروغ دینا epub development سے بڑا کام ہے۔

Zamarrud Mughal
ویسے یہ کام آپ اور ہم اپنے طور پر بھی کرسکتے ہیں کچھ اردو کۓ خیرخواہ اکھٹے ہوں فنڈ جمع کرئیے اور بسم اللہ کریں۔

Abrar Mojeeb
ہم یہ کام کررہے ہیں، انگریزی اسکول میں ایک اردو ٹیچر آفر کرتے ہیں، کام جھاڑ کھنڈ اور بہار میں شروع ہے، وسائل محدود ہیں ۔ تفصیل بتاؤں گا۔

Zamarrud Mughal
ابرار مجیب، بہت مبارک

Zamarrud Mughal
ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اردو کے شعبوں میں بحالی کے معاملے پر جب بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہوہیں تو ہم خاموش رہے اب جو لوگ اس وقت ان اداروں پہ یا جامعات میں قبصہ کئیے بیٹھیے ہیں ان میں سے اکثریت ایسے نااہلوں کی ہے جن کی زبان و ادب کے فروغ کے لیے نہ تو کوئ مثبت سوچ ہے نہ ہی آئیڈیاز اپنا گھر چلتا رہے بس یہی کافی ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اب اردو ان نام نہاد اداروں اور جامعات کے شعبوں سے نکل کر پھر سے عوام و خواص میں مقبول ہورہی ہے۔لوگ اردو پڑھ رہے سیکھ رہے ہیں ادب تخلیق کررہے ہیں۔

Abrar Mojeeb Zamarrud Mughal
آپ بجا فرما رہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے پتھر کے زمانے کے دماغوں کو عہد جدید کے تازہ دم دماغوں سے بدلا جائے، جہلا کے راج پاٹ کا خاتمہ کیا جائے۔ اس مسئلے پر بھی آپ گفتگو کو فروغ دیں۔ ادب زبان کے ارتقاء کی انتہائی منزل ہے، ادب اسی زبان کا پڑھا جاتا ہے جو زبان ترقی یافتہ ہوتی ہے۔

Abrar Mojeeb
بھئی اردو کے فروغ کے لیے کاؤنسل اپنی طرف سے انگریزی اسکولوں میں ایک استاد کا فنڈ مہیا کرائے تو اردو کو اختیاری مضمون کے طور پر پرموٹ کیا جاسکتا ہے اور اسکولوں کو ٹیچر رکھنے پر اعتراض بھی نہیں ہوگا۔ کچھ کام آؤٹ آف بکس بھی کرنا چاہئے جس سے زبان کو فائدہ ہو اور ہندوستان کے مختلف طبقات کے لوگ اس زبان کو سیکھ سکیں ، ٹیچر کی بحالی کاؤنسل کا کام نہیں لیکن ایک ٹیچر کی تنخواہ دے کر ہندوستان بھر میں اردو کو فروغ دینا epub development سے بڑا کام ہے۔

Abrar Mojeeb
بھائی زمرد مغل یہ انٹرویو اگر پبلک ڈومین میں نہ ہوتا تو مجھے کیا ضرورت تھی کمیوں کی ننشاندہی کرنے کی۔ میری تنقید سے ممکن ہے ڈائریکٹر صاحب غیر ضروری تعریفوں کے اثر سے باہر نکلیں، کچھ نیا سوچیں، تعریف. تالیاں اور قصیدہ تو جاری رہتا ہے ، مثبت مشورے اور صالح تنقید سے لوگ دامن بچاتے ہیں ، ظاہر ہے مصلحت اندیشی اس کا سبب ہے۔

Abrar Mojeeb
ڈائریکٹر صاحب کی اس گفتگو سے صرف یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کاؤنسل پیسہ بانٹنے کی مشین ہے، پیسہ دیتے ہوئے یہ مشین سوچتی نہیں کہ پیسہ کیوں، کسے دیا جارہا ہے اور اس سے اردو کا کیا فائدہ ہے

Zamarrud Mughal
میں اس بات سے متفق ہوں اس بندر بانٹ پر روک لگنی چائیے کہیں نہ کہیں بیریر تو لگانا پڑے گا لیکن پھر میں کہوں گا کہ ایک ادارہ اگر آپ کو فنڈ دے رہا ہے تو کچھ ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کا صحیح استعمال کریں۔ لیکن کونسل کو بھی خیال رکھنا چائیے کہ اگر کوئ ادارہ یا شخص ڈھنگ سے ان کے دئیے گئے پیسوں استعمال نہیں کرتا تو اسے بلیک لسٹ میں ڈال دے۔

Mukarram Niyaz
پیسہ دینے سے قبل شرائط بھی تو واضح کیجیے اور ان شرائط پر عمل کروائیے ۔۔۔ کوئی معمولی سا غیرمعروف ادارہ یا کسی عام سے کالج کا اردو شعبہ سمینار کے نام پر اپلائی کر دیتا ہے اور اسے گرانٹ بھی مل جاتی ہے ۔۔۔۔ ایسا کیوں؟ کیا سمینار کی تفصیلات ، چند اہم مقالہ نگاروں کے مقالوں کی تلخیص منگوا کر سمینار کی اہمیت کی از قبل جانچ نہیں کی جا سکتی ؟؟

Sajid Hameed
کرسی پر بیٹھنے سے وژن نہیں آتا

Najma Mahmood
میرے خیال میں ابرارمجیب صاحب بجا فرما رہیے ہی ان کی بات پر خلوص سے عمل ہو

ارشد جمال حشمی
ڈائریکٹر صاحب کو کھلے دماغ سے اہم قلمکاروں کے مشوروں پر غور کرنا چاہیئے، ego کو بالائے طاق رکھ کر۔

Mohammed Afzal Khan
ارتضیٰ کریم جیسے لوگ پروفیسر کے نام پر کلنک ہیں ، یہ لوگ طلبہ کا استحصال بہت کرتے ہیں۔ ایسے اردو میں 95 فیصد پروفیسر داغدار کردار کے ہیں۔

Syed Aijaz Shaheen
وژن ہو نہ ہو وزن تو خاصہ ہے۔شہ کہ مصاحب جو ہیں۔

Mehar Afroz
متفق

Mukarram Niyaz
میں یہ مشورے بہت پہلے دے چکا ہوں ۔۔۔ ایک بار پھر یہاں ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔ بطور خاص زمرد مغل بھائی اور ارتضی کریم صاحب
Zamarrud Mughal
Irteza Karim
1:
مختلف تعلیمی اور ادبی اداروں کو اردو سمینار یا کانفرنس کے انعقاد پر گرانٹ دی جاتی ہے مگر ان اجلاسوں سے عام اردو داں یا طالب علم یا ریسرچ اسکالر کو جو فائدہ پہنچنا چاہیے وہ کمیاب ہی نہیں معدوم بھی ہے۔ بہتر ہوگا کہ گرانٹ سے قبل یہ شرط لگائی جائی کہ اجلاس کی تمام کاروائی کو یا تو ریکارڈنگ کی شکل میں یوٹیوب پر پیش کیا جائے یا سوونیر کی شکل میں شائع کروا کر اس کی پی۔ڈی۔ایف فائل یا یونیکوڈ مواد کسی بھی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا جائے۔

2:
جو غیرسرکاری انفرادی ادارے مختلف موضوعاتی سطح پر ڈائرکٹری شائع کرنے کا بیڑہ اٹھاتے ہیں، مثلاً :
الف: اردو قلمکار (شاعر، ادیب، نقاد، صحافی، محقق، مدیر وغیرہ)
ب: اردو اسکول و مدارس
ج: اردو اخبارات و رسائل
د: اردو اشاعتی ادارے
ھ: مقامی/قومی لائبریریوں میں اردو کے شعبے
انہیں نہ صرف گرانٹ عطا کی جائے بلکہ اس ڈائرکٹری کو سرکاری سطح پر شائع کرواتے ہوئے ارزاں قیمت پر فروخت کیا جائے۔

3:
سرکاری سطح پر جو اردو ادارے اردو کتب شائع کرتے ہیں، ان کے قدیم یا جدید کٹیلاگ تک عام اردو داں یا طالب علم یا ریسرچ اسکالر کی رسائی اکثر و بیشتر نہیں ہو پاتی ہے۔ جبکہ یہ کٹیلاگ ادارے کی مقامی برانچ پر بآسانی مہیا کیے جانے کے ساتھ ساتھ کالجوں، جامعات کے اردو شعبہ جات اور دیگر تمام اردو تنظیموں کے دفاتر میں مفت فراہم کیا جانا چاہیے۔ بلکہ یہ کٹیلاگ کاغذی شکل کے علاوہ سی۔ڈی کے ذریعہ بھی دیا جانا چاہیے، اور کسی ویب سائٹ پر بھی یونیکوڈ تحریر میں موجود ہونا چاہیے تاکہ گوگل سرچنگ کے ذریعے محققین کو آسانی ملے۔

4:
ہندوستان کی طرف سے اب تک ایک بھی انگریزی/اردو یا اردو/انگریزی آن لائن لغت موجود نہیں۔ ایسی کسی آن لائن لغت ویب سائٹ کا قیام پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ اسی ویب سائٹ کا آن لائن اور مختصر آف-لائن موبائل ایپ بھی مفت فراہم کیا جانا چاہیے۔

5:
اردو زبان و ادب کے فروغ میں جو ہندوستانی غیرسرکاری ادارے، گروہ یا تنہا افراد اپنی فعال ویب سائٹ یا موبائل ایپ کے ذریعے مصروف بہ کار ہیں ، انہیں سالانہ گرانٹ فراہم کی جانی چاہیے تاکہ ویب سائٹ کے اخراجات سے زیربار ہو کر ویب سائٹ بند کرنے پر وہ مجبور نہ ہوں۔

6:
سرکاری سطح پر بہت سی ایسی ای-لائبریریز ہیں جہاں اردو کتب کا ایک معقول زخیرہ موجود ہے مگر ان تمام کتب کے نام، مصنف کے نام یا کتاب کے موضوع اور دیگر تفصیلات گوگل کی اردو سرچنگ میں نہیں آتے، اس حوالے سے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سرکاری لائبریریوں میں موجود پرنٹ کتب کے کٹیلاگ کو بھی تلاش کے قابل متن کی صورت میں آن لائن کیا جانا چاہیے۔

7:
ملکی سطح پر کم از کم ایک ایسی آن لائن ڈائرکٹری ہونا چاہیے جس میں مختلف زمروں کے تحت اردو قلمکار (شاعر، ادیب، نقاد، صحافی، محقق، مدیر وغیرہ)، اردو اسکول و مدارس، اردو اخبارات و رسائل اور اردو اشاعتی اداروں کے نام اور دیگر تفصیلات کے علاوہ جامعاتی تحقیق کے اردو موضوعات اور ان کے عناوین درج ہوں۔ تاکہ یہ سب آنلائن اردو سرچنگ میں دستیاب ہو سکیں۔

8:
وہ اردو داں افراد جو ویب ٹیکنالوجی پر دسترس رکھتے ہوں، انہیں ہائر کر کے سرکاری اداروں اور ریاستی اردو اکیڈیمیوں کی ویب سائٹ کے یونیکوڈ اردو ورژن تیار کرنے کی ذمہ داری دی جانی چاہیے۔ اسی طرح ان تیکنیکی ماہرین سے ادبی شخصیات کے اشتراک کے ساتھ اردو ویکیپیڈیا میں درست اور صحیح مواد کی شمولیت کا کام لیا جانا چاہیے۔

ارشد جمال حشمی
بہترین مشورے۔
کاش آپ یا آپ جیسے لوگوں کو قومی اردو قونصل کا ڈائریکٹر بنایا جاتا۔

Abrar Mojeeb
یہ ہیں کرنے کی باتیں نہ کہ اس پر فخر کرنا کہ میں نے خواتین کا رسالہ نکالا ہے۔ ہم اس طرح دوستو میں یا دوستو کے اداروں کو پیسہ دیتے ہیں، سیمنار کروا کر پیسہ اس طرح برباد کرتے ہیں، ہڑیا پاڑہ میں مشاعرہ کے لیے پیسہ دیتے ہیں جسے عمران پرتابگڑھی ہضم کرجاتا ہے۔ بھئی کچھ تو عقل کا استعمال ضروری پے۔

Parvez Akhtar
قومی کونسل برائے فروغِ اردو """ اگر عنوان یہ ہے تو اس کی اولیت میں زبان کے فروغ اور اس کے بعد ادب کے فروغ کی ہر ممکن کوشش ہر پیمانے پر ہونی چاہئے ۔۔۔۔۔
ہمارے یہاں بھی ادارے کے مالی تعاون سے ہر چوتھے ۔چھٹے مہینے ایک سیمینار منعقد کر دیا جاتا ہے جس میں بیس لوگ بھی جمع نہیں ہو پاتے ۔۔۔۔اور اس کا کل خرچ دس ہزار کے آس پاس ہوتا ہے اور سننے میں آیا ہے کہ ادارہ انہیں چالیس پچاس روپے دیتا ہے ۔۔۔۔۔تو ہو گئی زبان و ادب کی خدمت

Arsh Moneer
ابرار مجیب بھائ نے بہت هی اچھےمشورے دیۓ هيں۔ لیکن مجھے لگتا هے کہ ارتضی کریم صاحب کی کچھ اپنی ترجیعات هیں ۔ ان کے ساتھ مسئلہ یہ هے کہ ڈائریکٹر کی کرسی پر بیٹھ کر انہیں یہ لگتا هے کہ اردو زبان وادب کی فروغ کی باتیں وهی اکیلے سوچ بھی لیں گے اور کر بهی لیں گے جب کہ مستند اور قابل لوگوں کی راۓ کی ایک اپنی اهمیت هے۔ ۔ شاید یہاں ان کے ego کا مسئلہ آجاتا هے۔ ۔ انہیں اپنے مخصوص گروپ سے هٹ کر دوسروں کی راۓ لے کر بھی کام کرنا هوگا ورنہ وهی هوگا هر گلی کوچے میں 20 یا 50 لوگوں کو لے کر سمینار اور مشاعره هوتا رهے گا۔ ۔ ۔ هر کس و ناکس کو ان کی غیر ادبی خدمات پر ادبی خدمات کا ایوارڈ پیش کیا جاتا رهے گا۔

Shabbir Ahmed
چھ سات سال قبل قومی کاؤنسل سے حمیداللہ بٹ، اختر الواسع، اسدرضا ۔۔۔ صاحبان پر مشتمل ایک ٹیم کلکتہ آئی تھی۔ اردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں تجویزیں طلب کی گئی تھیں۔ ہم لوگوں نے تحریری طور پر یہ تجویز دی تھی کہ انگریزی میڈیم اسکولوں میں اردو ٹیچر فراہم کیے جائیں۔ ہمارے یہاں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ یہاں ایک آدھ انگریزی میڈیم اسکول کو چھوڑ کر شاید ہی کسی میں اردو پڑھائی جاتی ہو۔ اس سے اردو آبادی کا ایک بہت بڑا طبقہ اردو سے دور ہوتا جارہا ہے۔ سیکنڈ لینگویج کے طور پر ہندی یا بنگلہ لینے پر مجبور ہے۔
مگر کاوءنسل کے ممبران یہ کہہ کر پلہ جھاڑ گئے کہ اس سے ہندی اور بنگلہ والے ہمارے دشمن ہو جائیں گے۔ ہمیں ان کا یہ جواز کچھ عجیب سا لگا۔ محسوس ہوا کہ انھیں اردو زبان کی ترقی سے زیادہ اردو کے نام پر سیر سپاٹا کرنے میں دلچسپی ہے۔ الله رحم کرے۔

Naseem Ahmad Naseem
ابرار صاحب زمرد صاحب نے ارتضی صاحب سے وہی سوالات کئے جنکا جواب وہ خوش دلی کے ساتھ دے سکتے تھے.کمیوں اور خامیوں کا ذکر قصدا نھیں چھیڑا.انکا انٹرویو سنکر مجھے سدھیر چودھری کا انٹرویو یاد آگیا جو انھوں نے شری مودی سے لیا تھا...دراصل ارتضی صاحب کے پاس ایک خفیہ لسٹ ہے.اسی لسٹ کے لوگ انکے پروگرام اور میٹنگز میں اکثر ھوتے ھیں.ان میں کئ تو ایسے ہیں جو ادب کیا زبان بھی ڈھنگ سے نھیں جانتے لیکن بڑے بڑے بڑےپروگراموں دندناتے پھرتے ھیں...میں دلی اور دوسرے کئ صوبوں کے لوگوں کو بھی جانتا ھوں جو انکے خاص مدعوئین سے درجن گنا زیادہ باعلم اور متحرک ھیں.مگر انکو کون پوچھتا ھے...ھمارے اور آپ جیسے لوگوں کو اتنی اردو آتی ہی نھیں کہ کانسل کے پروجیکٹ یا پروگرام تک رسائ ہو سکے.کونسل احباب نوازی کا مرکز بن کر رہ گیا ہے.جس کا بہت منفی اثر اسکے ترقیاتی پروگراموں پر پڑ رہا ہے...کاش زمرد مغل اس طرف بھی اشارے کرتے !

Abrar Mojeeb
اس پوسٹ پر جتنے عمدہ مشورے آئے ہیں اگر Ncpul New Delhi دماغ کا دروازہ کھول کر، کھلے دل سے عمل کرے تو اردو کے فروغ میں ایک انقلاب برپا کرسکتی ہے، میں چاہتا ہوں کہ کاؤنسل اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے بپلک ڈومین میں اپنے پروگرام اور اس پوسٹ پر دئے گئے مشوروں پر اظہار خیال کرے۔ عوامی ادارہ عوام کو جواب دے تو اس کی ساکھ بنتی ہے اور عوامی اعتبار قائم ہوتا ہے۔ کاؤنسل کو ایسے لوگوں کو سیدھے باہر کا راستہ دکھانا چاہئے جو اپنے کمنٹ میں صاف طور سے چاپلوس نظر آتے ہیں۔

Parvez Akhtar
Ncpul کی ایپ ہے۔۔۔۔۔۔۔اس میں کتابوں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کا آپشن بھی موجود ہے ۔۔۔۔۔۔مگر سرِ ورق کے علاوہ کچھ بھی ڈاؤن لوڈ نہیں ہوتا

Abrar Mojeeb
اردو epub ایک ناکام پروجکٹ ہے، بے شمار خامیاں ہیں

Yasir Javvad
پاکستان میں بھی یہی حال ہے۔
کونسل برائے فروغ اردو نے ہی فرہنگ آصفیہ کا نیا ایڈیشن شائع کیا ہے نا؟
اس کے 25-30 صفحات کا عکس ایک دوست کے ذریعے منگوایا اور دیکھا۔ کافی ناقص تھا

Abrar Mojeeb
جی ہاں ، جیسے تیسے چھاپ کر خانہ پری کی جاتی ہے

Yasir Javvad
ابرار مجیب، دلچسپ طور پر سنسکرت اور ہندی کے جن الفاظ کو مؤلف فرہنگ نے دیوناگری میں لکھا تھا۔ انھیں حذف ہی کر دیا گیا۔
اور ہم نے پاکستان والے جدید ایڈیشن میں تمام دیوناگری الفاظ دیے۔ بلکہ جہاں اصل نسخے میں سہواً دیوناگری الفاظ رہ گئے تھے انھیں بھی داخل کیا

Yasir Javvad
کیا آپ نے فرہنگ کا کونسل والا نسخہ دیکھا ہے؟
اگر ممکن ہو تو جلد دوم کے ابتدائی چند صفحات کا عکس بھجوا دیں۔ میں تہہِ دل سے شکر گزار رہوں گا۔
میرا مقصد تقابلی جائزہ لینا ہے

Abrar Mojeeb
بھجواتا ہوں فی الحال میرے پاس پاکستانی ایڈیشن ہے جسے سنگ میل نے چھاپا ہے

Yasir Javvad
ابرار مجیب، وہ پاکستانی ایڈیشن نہیں بلکہ اصل 1918ء والے ایڈیشن کا ہی عکس ہے

The fund, work and vision of Urdu Council NCPUL , A facebook timeline debate. Compiled by: Mukarram Niyaz.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں