اردو افسانے کے رجحانات کا مختصر جائزہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-02-20

اردو افسانے کے رجحانات کا مختصر جائزہ

urdu-afsana
افسانے کا تخلیقی سفر زبان سے شروع ہوکر قاری کی تفہیم پر ختم ہوتا ہے ۔ اگر افسانہ مضبوط ہے تو اس کا سفر جاری رہتا ہے ، اس سے تخلیق اور فکر کے سوتے پھوٹتے ہیں اور وہ زباں و مکاں کے حصار سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ افسانہ نگار کو اپنے کرداروں کے اتنے قریب ہوکر لکھنا چاہئے کہ جب اصل زندگی میں ان کرداروں سے ملاقات ہو تو وہ محتاج تعارف نہ رہیں ۔ افسانے میں کہانی کو کنٹرول کرنے والے عناصر، واقعات اور کردار، دونوں مل کر اکائی بناتے ہیں ۔ یوں اس کے موضوع کا ارتقاء کردار اور واقعات کے سہارے ہوتا ہے ۔ افسانے کی یہ نوعیت نظام کی کسی صورت حال کو ابھارتی ہے ، اور نتیجے کے طور پر قاری افسانہ نگار اور نقاد کا فکری تصادم ہوتا ہے ۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب کوئی افسانہ آفاقیت کی سطح پر نظر آتا ہے ۔
افسانوی تکلم کی ہیئت، شاعری میں تکلم کی ہیئت سے مختلف ہوتی ہے ۔ شعر میں تکلم عام سی بات ہے جب کہ افسانے میں ایسا نہیں ۔ افسانہ نثری مونو لوگ ہے جو مکالمے کی امیزش سے جنم لیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ افسانے میں معاشرتی تغیرات کی اثر پذیری اپنی کیفیت کے ساتھ ملتی ہے ۔لہٰذا افسانے کی بنیاد بننے والے پس منظر کی نوعیت ارد گرد کے ماحول اور معاشرے سے افسانے کے کرداروں کے باہم تصادم سے مل کر افسانے کا وحدت تاثر قائم ہوتا ہے ۔
افسانہ ایسی صنف ادب ہے جس پر اب تک کئی تجربات ہوتے ہیں۔ چنانچہ خود اردو افسانہ اپنی ابتدائی شکل سے لے کر موجودہ عہد تک کئی تبدیلیوں سے گزرا ہے ۔ یہ اس صنف کی مقبولیت کے سبب ہوا۔ اگر اردو کی ابتدائی طلسماتی کہانیوں اور داستانوں سے صرف نظر کیاجائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ پریم چند کے افسانوں نے اردو کے مختصر افسانے کو بنیاد فراہم کی ۔ اگرچہ اردو افسانہ مغرب کا مرہون منت ہے،تاہم مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ پریم چند نے افسانے کے خدو خال مقرر کئے ۔ اردو افسانے کے فارم میں اب تک جو تبدیلی ہوئی وہ خودافسانہ نگار نے محض اپنے ارد گرد کے حالات کے زیر اثر اپنی تخلیقی صلاحیت سے کی ۔ البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسانے کی ہیئت اور مزاح کا مسئلہ پیچیدہ ہوتا چلا گیا اور یوں اردو افسانے نے کئی کروٹیں لیں۔
1936ء اردو افسانے کی زندگی میں اہمیت اختیار کرگیا ۔ اسی برس افسانے کے خدو خال سامنے آئے اور کوئی راہ متعین ہوئی ۔ پھر سیاسی اور نظریاتی تحریک’’ انجمن ترقی پسند مصنفین ‘‘ کے زیر اثر حقیقت پسندانہ افسانہ لکھا گیا۔ اس افسانے کوبلا شبہ بہت مقبولیت حاصل ہوئی ۔ تاہم اس میں اختلافات کی گنجائش نکالتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ جو ادب کسی نظریے کی بنیاد پر لکھا جاتا ہے وہ تخلیقی نہیں بلکہ عارضی ہوتا ہے اور اس میں نعرہ بازی زیادہ ہوتی ہے ۔ مگر اس دور میں بلا شبہ اردو کے اہم اور شاہکار افسانے تخلیق ہوئے ۔ افسانوی مجموعہ’’انگارے‘‘ نیا موڑ ثابت ہوا ۔ اس مجموعے میں شامل کہانیاں ، مغربی فن اور مشرقی سماجی زندگی کا امتزاج ہیں ۔ کم و بیش اسی زمانے میں افسانے میں شعور کی رو کانظریہ شامل ہوا۔ افسانے کی یہ تکنیک کردار سازی اور اس کی نفسیات سے متعلق ہے ۔ یہ تکنیک افسانے میں بعد تک استعمال کی جاتی رہی ۔
سیاسی ، معاشی ، معاشرتی اور سماجی تبدیلی نے افسانے کو ہمیشہ متاثر کیا ۔ 1947ء کی جغرافیائی تقسیم کے نتیجے میں اردو افسانہ زیادہ جم کر لکھا گیا۔ بعض افسانے اردو کے بہترین اور نمائندہ افسانے شمار کئے گئے ۔ ان میں خاص طور پر یہ عنصر اپنایا گیا ۔ معاشرے اور سیاست کی خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔ ادب کا سیاسی استحکام اور انتشار سے گہرا تعلق ہے ۔ لہذا جب ملکوں میں امن و امان اور خوش حالی کا دور دورہ ہو تو ادب نسبتاً کم تخلیق ہوتا ہے ۔ اس کے بر عکس انتشار ، افرا تفری اور بے چینی کی کوکھ سے ادب زیادہ اور معیاری پیدا ہوتا ہے ۔ افسانے میں کوئی نہ کوئی نیا سلوب بھی آتا ہے ۔ مگر کوئی اسلوب افسانے سے مکمل طور پر یکایک کبھی غائب نہیں ہوتا ۔ ایسا وقت آتا ہے جب ساتھ ساتھ کسی نئے اسلوب کا چرچا ہونے لگتا ہے ۔ ترقی پسند افسانے کے بعد1960ء میں علامت اور تجربہ کا عمل دخل ہوا ۔ ملک میں کئی بار مارشل لاء کے تسلط کے نتیجے میں دوسروں کی طرح تخلیق کاروں نے اپنے انداز میں سوچا۔ میرے نزدیک افسانے میں علامت اور تجربہ کا استعمال خوف کی نشان دہی کرتا ہے ۔ تاہم اس وقت اس علامتی اور تجریدی افسانے کی خاصی واہ واہی ہوئی۔ بعض نقاد کہنے لگے کہ فی زمانہ افسانے کا اصل اسلوب یہی ہے ۔ اس دور میں ایسے بازی گر بھی شامل ہوئے جو نہ علامت کی تفہیم رکھتے تھے اور نہ تجرید کی ۔ انہوں نے الفاظ کے اس گورکھ دھندے سے قاری کو ناراض کردیا۔ سائنسی اور الیکٹرونک ابلاغ عامہ کے اس دور میں قاری اتنا با شعور ہوچکا ہے کہ جملوں کی بھول بھلیوں اور الفاظ کی اکھاڑ پچھاڑ سے پیدا کردہ معمے اور افسانے میں تمیز کرسکتا ۔ ایسی فیشن زدہ اور بے معنی تحریروں کو افسانے کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ۔ اس معاملے میں بعض ادیبوں کا خیال تھا کہ افسانے میں کہانی کبھی غائب نہیں رہی ۔ بلکہ محض اس کی شکل ذرا مختلف دکھائی دیتی رہی ۔ قاری نے اس تاویل کو تسلیم نہیں کیا۔ اسے ہمیشہ کہانی سے دلچسپی رہی اور اب بھی ہے ۔ دراصل بھائی لوگوں نے علامت کو غلط سمجھا ۔ علامت منزل تک پہنچنے کا محض ذریعہ ہوتی ہے ۔ مگر اسے خود منزل سمجھ لیا گیا ۔ دس بارہ برس یہی تماشہ رہا ۔ شخصی اور انفرادی علامت نگاری ناراض قاری کو واپس لانے میں ناکام رہی۔ چنانچہ اکثر نقاد اصرار کرنے لگے کہ اب کہانی کی واپسی ہونی چاہئے ۔ تقریبا1979ء سے افسانے میں کہانی کی واپسی شروع ہوئی اور قاری افسانے کی طرف متوجہ ہوا ۔ اب افسانہ زیادہ توانائی کے ساتھ منظر عام پر آیا ۔ اس میں اپ نے دور کی مناسبت سے اپنے اندر نت نئے جدید اور آفاقی موضوعات سمونے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔ افسانے میں تہہ داری آئی ۔ کیونکہ اس کے بغیر افسانہ اپنی موت خود مرجاتا ہے ۔ 1970ء افسانے کی تاریخ میں اہم موڑ ثابت ہوا ۔ اردو افسانے میں عالمی افسانے کے مد مقابل کھڑا ہونے کا اعتماد پیدا ہوا۔
اس مرحلے پر بر صغیر میں ایک اور المناک واقعہ رونما ہوا ۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے جو بھی سیاسی اور سماجی محرکات رہے ہوں، اس سانحے نے افسانے کو کسی قدر متاثر ضرور کیا۔1947ء میں بر صغیر کی تقسیم کے برعکس مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے اپنے اثرات ذرا مختلف انداز میں ڈالے ۔ اس سانحے کے بعدخاص طور پر کراچی کی ادبی فضا میں آپا دھاپی مچ گئی ۔ وہاں سے ہجرت کرنے والوں میں سے بعض نے یہاں آکر ادب میں کسی نہ کسی طرح صرف اپنی جگہ بنانے کی طرف اپنی توجہ مرکوز کردی۔ اس سانحے پر اس کی اہمیت کے برعکس کم افسانے سامنے آئے۔ یا پھر یوں کہہ سکتے ہیں کہ افسانہ نگاروں نے اپنے طور پر خود ی فیصلہ کرلیا کہ بر صغیر کی تقسیم پر لکھے گئے افسانوی سے بہتر اب کوئی افسانہ تخلیق نہیں کیا جاسکتا ۔ وہاں سے ہجرت کا دکھ جھیل کر انے والے افسانہ نگاروں کے افسانوں میں فنی رچاؤ اور تخلیقی جوہر سے زیادہ خود ان کا ذاتی درد شامل رہا ۔ ان کے افسانے محض جذباتی اظہارئیے کا نمونہ ثابت ہوئے ۔ میری نظر میں یہ سانحہ1947ء کے واقعے سے کئی لحاظ سے مختلف تھا۔ مگر ایسے افسانے نہیں لکھے گئے ۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ اردو کے ایسے افسانوں کی زیادہ اہمیت دی گئی جو کسی سانحے یا واقعہ پر لکھے گئے ۔ البتہ وہ واقع گزر جانے کے بعد ایسے افسانے اکثر اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں ۔ اس امر کو اس طرح سمجھنا چاہئے کہ بر صغیر کی تقسیم کے موضوع پر تخلیق کئے گئے افسانے اسی علاقے کے لئے اہم ہوسکتے ہیں ۔ باقی دنیا میں اس واقع کی کوئی شناخت نہیں بنتی اور نہ وہاں کے لوگوں کو اس سے کوئی جذباتی لگاؤ ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ افسانے کا موضوع آفاقی اور ہر دور کے لئے ہونا چاہئے ۔ شاید ہی پس منظر ہے کہ اکثر نقاد اور قاری انگریزی کے افسانوں سے متاثر ہوکر یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ اردو افسانہ بھی مغرب کے افسانے کی سطح تک نہیں پہنچ پایا ۔ اس معروضی نقطہ نظر سے ہٹ کر دیکھا جائے تو اردو افسانہ مغرب کے افسانے سے کسی طرح کم نہیں ، نہ اسلوب اور نہ موضوع کے لحاظ سے یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو افسانے کو مغرب کی زبانوں میں زیادہ سے زیادہ منتقل کیاجائے تاکہ وہاں اردو افسانے سے آگاہی اور اس کا حلقہ وسیع تر ہو ۔ اردو افسانہ اپنے طلسماتی بیان، فرضی داستانوں، حقیقت پسندی، شعور کی رو، مزاحمت، علامت اور تجرید کے طویل سفر کے بعد اب آدمی کی اصل کہانی کی طرف لوٹ چکا ہے ۔ اور اپنے تخلیقی سفر پر توانائی کے ساتھ رواں دواں ہے ۔

ماخوذ: ادب لطیف ، 75 سالہ نمبر (حصہ اول ، دسمبر 2010)

Overview of trends in Urdu short story. Article: Tahir Naqvi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں