گجرات کے سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کا منصوبہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2015-04-04

گجرات کے سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کا منصوبہ

احمد آباد
پی ٹی آئی
گجرات انسداد دہشت گردی و منظم جرائم بل2015ء کو خطرناک قانون قرار دیتے ہوئے مختلف انسانی حقوق گروپوں ، سماجی و مذہبی تنظیموں نے ایک مشترکہ محاذ تشکیل دیا ہے تاکہ سیاہ قانون کے خلاف تمام ریاست میں احتجاج منظم کیاجائے ۔ اس بل کے خلاف احتجاج کے لئے گجرات جن آندولن کے نام سے محاذ قائم کیا گیا ہے۔ شہر کے مشہور وکیل اور محاذ کے رکن راجیش مانکڑنے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حکومت نے یہ بل شہریوں کے جمہوری حقوق سلب کرنے کے مقصد سے متعارف کروایا ہے اور چاہتی ہے کہ اس کے ذریعہ ہر مخالف آواز کو دبادیاجائے ۔ چنانچہ اس سیاہ اور خطرناک قانون کے خلاف احتجاج کے لئے گجرات جن آندولن قائم کیا گیا ہے ۔ یادرہے کہ گجرات اسمبلی نے31مارچ کو یہ بل منظور کیا جسے قبل ازیں سابق صدر جمہوریہ کی جانب سے تین مرتبہ مسترد کردیا گیا تھا ۔ مخالف دہشت گردی قانون محاذ شہر کی تنظیموں جیسے جن سنگھرش منچ، درشن، سیکولر ڈیمو کریسی اور جماعت اسلامی و کل ہند ملی کونسل جیسی مذہبی جماعتوں پر مشتمل ہے ۔ مانکڈ نے کہا کہ یہ قانون غیر دستوری اور مہاراشٹرا کے مکوکا کی طرح خوفناک ہے کیونکہ اس میں تمام اختیارات پولیس کو دے دیئے گئے ہیں۔ کسی پولیس عہدیدار کے روبرو ملزم کے بیان کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے ۔ کل ہند ملی کونسل کے صدر مفتی رضوان تارا پوری نے بی جے پی زیر قیادت حکومت پر آر ایس ایس کا ایجنڈہ نافذ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا اور کہا کہ گجرات ہمیشہ سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے ایجنڈہ میں ایک لیباررٹری رہی ہے جہاں مخالف سیکولر ایجنڈہ پر عمل آوری کے تجربات کئے جاتے ہیں۔ ریاست میں بی جے پی حکومت اس بل کی شکل میں ایک اور تجربہ کرنے جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر گجرات میں یہ قانون نافذ ہوگیا تو ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی اس طرح کے بل متعارف کروانے کا راستہ کھل جائے گا۔ شہر کے سماجی جہد کار دوارکا ناتھ رتھ نے کہا کہ بی جے پی حکومت مخالفین کی آوازوں کو دبانا چاہتی ہے جس کے لئے یہ بل لایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسان، دلی، ممبئی صنعتی کاریڈور اور حصول اراضی بل کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔ چنانچہ گجرات کی بی جے پی حکومت نے یہ خطرناک قانون لایا ہے جس کے ذریعہ پولیس کو بلا جواز کسی بھی شخص کو180دن تحویل میں رکھنے کا اختیار دے دیا جائے گا۔ اسکے علاوہ کسی بھی شخص کے فون ریکارڈ کئے جاسکتے ہیں ۔ اس بل کی دفعات کا مطالعہ کرنے کے بعدواضح ہوجاتا ہے کہ یہ بل احتجاج کرنے والوں کی آواز دبانے کے مقصد سے منظور کیا گیا ۔ گجرات جن آندولن نے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے بل پر دستخط نہ کرنے کی اپیل کی ۔ شہر کے معروف وکیل شمشاد پٹھان نے بتایا اگر یہ بل قانون بن گیا تو یہ محاذ عدالت سے اسے رجوع کرے گا ۔ جن آندولن نے سردار باغ علاقہ میں اس بل کے خلاف احتجاج منظم کرنے کی پولیس میں درخواست دی تھی جسے مسترد کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ احتجاج سے حادثات کا امکان ظاہر کیا گیا جب کہ ایک ہفتہ قبل ہی اس مقام پر احتجاج منظم کیا جاچکا ہے ۔

Groups form front to protest against Gujarat anti-terror bill

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں