داعش کے خلاف کارروائی کے لئے ایران کے نیوکلیر پروگرام پر سمجھوتہ ناممکن - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2014-09-24

داعش کے خلاف کارروائی کے لئے ایران کے نیوکلیر پروگرام پر سمجھوتہ ناممکن

واشنگٹن
پی ٹی آئی
امریکہ نے داعش کے خلاف کارروائیوں کو ایران کے مفادات میں شامل قرار دیتے ہوئے وضاحٹ کی کہ تہران کے نیو کلیر پروگرام سے متعلق اس سے سودا بازی کا کوئی پہلو نمایاں نہیں اور دہشت گرد گروپ سے مقابلہ کے لئے شرائط پیش کرنا اور عہد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ وائت ہاؤز پریس سکریٹری جوش ارنسٹ نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ ایران کی دہلیز پر انتہا پسندوں کی تباہ کاریاں اسلامی جمہوریہ حکومت کے مفادات میں شامل نہیں ۔ عراق میں مذہبی انتہا پسند تنظیم داعش کی پیشرفت اور اس کی کامرانی نے بین الاقوامی برادری کو تشویش میں مبتلا کررکھا ہے اور ظاہر ہے کہ بین الاقوامی برادری کا ایک حصہ ہونے کے طور پر ایران بھی دائرہ تشویش سے باہر نہیں ۔ بین الاقوامی برادری نے داعش کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ جوش ارنسٹ نے تاہم اس کے ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردی کہ داعش کے خلاف کارروائیوں میں ایران کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے فوجی تعاون کی کوئی تنجائش نہیں۔ انہوں نے انٹلی جنس میں شراکت داری کے امکان کو بھی مسترد کردیا ۔
ارنسٹ نے مزید کہا کہ داعش کے خلاف امریکی سرگرمیوں میں ایرانیوں کی شراکت داری ناقابل قبول ہوگئی ہے ۔ علاوہ ازیں انٹلی جنس میں بھی ایران کے ساتھ شراکت داری کی کوئی گنجائش نہیں ۔ جوش ارنسٹ نے یہ بھی کہا کہ عالمی طاقتیں ایران کو نیو کلیر پروگرام سے دستبرداری کی ترغیب دے رہی ہیں اور اوباما انتظامیہ داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحا د قائم کرنے کوشاں ہے ۔ ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان کے باہم مربوط ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ داعش کے خلاف کاروائیوں سے متعلق ایرانی عہد حاصل کرنے اور ایرانیوں کو اس کا پابند بنانے کے لئے اسلامی جمہوریہ کے متنازعہ نیو کلیر پروگرام پر کسی نوعیت کا سمجھوتا ناممکن ہے ۔ دونوں مسائل ایک دوسرے سے قطعی طور پر مختلف ہیں ۔5عالمی طاقتوں جرمنی ، کے ساتھ ایران کی بات چیت کے دوران تمام تر توجہ تہران کے متنازعہ نیو کلیر پروگرام اور اس کے حل پر مرکوز رہے گی ۔ مذاکرات کا نصب العین اسلامی جمہوریہ کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی برادری کی تشویش دور کرنا ہے ۔ اس سلسلہ میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی گزشتہ ہفتہ کے روز نیویارک میں ایران کے متنازعہ نیو کلیر پروگرام پر بات چیت میں شریک ہوئے تھے۔
بات چیت کے حاشیہ میں بلا شبہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ داعش کے تعلق سے بات چیت کی تھی۔ ارنسٹ نے ساتھ ہی یہ انکشاف بھی کیا کہ رواں ہفتہ کے آخر میں اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں غیر ملکی دہشت گردوں سے در پیش خطرات پر ایک اجلاس کا انعقاد عمل میں آئے گا جس کی صدارت صدر اوباما کرنے والے ہیں۔ یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکہ اور دیگر کئی مغربی ممالک کے شہری داعش کے شانہ بشانہ لڑنے کے لئے عراق پہنچے ہیں۔ داعش کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے دنیا کے گوشہ گوشہ سے جہادی نظریہ کے حامل افراد عراق پہنچ رہے ہیں ۔ امریکہ اور اس کے حلیف یوروپی ممالک کو یہ تشویش اور یہی اندیشہ ہے کہ اس لڑائی سے واپس آنے والے جہادی ہمارے لئے اندرون ملک خطرہ کا باعث بن سکتے ہیں۔ اور اپنی حاصل جہادی تربیت کو اندرون ملک حملوں میں بروئے کار لاسکتے ہیں ۔ ان کی جانب سے پر تشدد کارروائیوں اور سرگرمیوں کا اندیشہ بدستور برقرار رہے ۔ امریکی پریس سکریٹری نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ سیکوریٹی کونسل اجلاس میں ایسے افراد سے درپیش خطرات سے موثر مقابلہ کا لائحہ عمل تیار ہو۔

--

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں