You Do Your Work, Let Us Do Ours: Mulayam on Rape Cases
عصمت ریزی کے واقعات پر اکھلیش یادو حکومت پر چاروں طرف سے نکتہ چینی کے دران سماج وادی پارٹی کے قائد نے آج اپنے دلائل پیش کئے اور کہا کہ بسا اوقات کئی مقامات پر جب لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان رشتہ منظر عام پر آتا ہے تو اس کو عصمت ریزی قرار دیاجاتا ہے ۔ لڑکیاں اور لڑکے شادی کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن عزت و ناموس کے نام پر ہلاکتیں عمل میں آتی ہیں ۔ یہ انتہائی صدمہ اور سنگین بات ہے کہ ایسے واقعات نہیں رک رہے ہیں ۔ ایسے واقعات دیگر مقامات پر بھی پیش آتے ہیں لیکن ان کو اجاگر نہیں کیاجاتا۔ سینئر ایس پی لیڈر رام گوپال یادو نے یہ بات کہی ۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ ریاست میں ان کی پارٹی کی حکومت بے حس نہیں ہے اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے ۔ جب ریاست میں عصمت ریزی کے بڑھتے ہوئے کیسس پر تبصرہ کی خواہش کی گئی جہاں ن کے فرزند چیف منسٹر ہیں تو انہوں نے کہا کہ کیا کیا جائے ہم حساس ہیں ، ہم غیر حساس نہیں ہیں، خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آ پ اپنا کام کیجئے اور ہمیں ہمارا کام کرنے دیجئے ۔ ملائم سنگھ نے گزشتہ ماہ عصمت ریزی کے کیسس پر ایک بڑا تنازعہ پیدا کردیا تھا جب انہوں نے برسر عام کہا تھا کہ لڑکے لڑکے ہیں۔ غلطی تو ہوجاتی ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ انہیں سزائے موت دے دیں ۔ میڈیا پر یہ الزام لگاتے ہوئے کہ وہ صرف اتر پردیش میں ایسے واقعات پر دانستہ طور پر توجہ مرکوز کررہا ہے ۔ رام گوپال یادو نے کہا کہ ایسے کیسس راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں بھی پیش آتے ہیں لیکن انہیں اجاگر نہیں کیاجاتا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی غلطیوں میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی ۔ لیکن بحیثیت مجموعی سماج کو اس کا خاتمہ کرنے کے لئے متحدہ طور پر کام کرنا چاہئے اور اس وقت تک اس کو پوری طرح روکا نہیں جاسکتا اور یہ ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں ایسے واقعات بھی سنے جارہے ہیں کہ جہاں باپ اپنی دختران کی عصمت ریزی کررہے ہیں ۔ یہ صرف ذہنی توازن بگڑنے کا باعث ہے اس کے سوا کچھ نہیں ۔ یادو نے کہا کہ ایسے ہی واقعات راجستھان میں جھالا وار میں پیش آئے ہیں جہاں ایک خاتون کی عصمت ریزی کی گئی اور بعد ازاں اس کو اس کے حملہ آوروں نے نذر آتش کردیا تھا۔ مدھیہ پردیش اور ممبئی میں بھی ایسے واقعات دیکھے جارہے ہیں ۔ کسی بھی لیڈر نے ان مقامات کا دورہ نہیں کیا لیکن تب سے میڈیا کہہ رہا ہے کہ بدایوں میں دو لڑکیاں دلت ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی وہاں گیا ہے اور حتی کہ ایس سی؍ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایک کیس درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ یہ لڑکیاں پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہیں۔ بدایوں عصمت ریزی کیس کے بعد مرکزی وزیر ترقی خاتون و اطفال منیکا گاندھی نے کہا ہے کہ حکومت اتر پردیش غیر حساس ہے اور اس کو جانا چاہئے ۔ وہ غیر حساس ہیں اور میں کہہ رہی ہوں کہ یہ حکومت جانی چاہئے لیکن حتی کہ اگر ایک نئی حکومت آتی ہے اس وقت تک ہم خواتین کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے ۔ سماج وادی پارٹی حکومت اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے تنقیدوں کا نشانہ بنی ہوئی ہے جو اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ ریاست میں لااینڈ آرڈر کی صورتحال افسوسناک ہے ۔، ریاستی حکومت نے بیورو کریٹک ڈھانچہ میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں اور ایک نئے چیف سکریٹری اور پرنسپال سکریٹری(داخلہ) کا تقرر کیا گیا ہے ۔14اور15سال کی عمر کی دو نابالغ لڑکیوں کی مبینہ طور پر اجتماعی عصمت ریزی کی گئی اور انہیں قتل کردیا گیا ۔ ان کی نعشیں اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنو سے تقریباً300کلو میٹر کی دوری پر بدایوں میں اوشید علاقہ کے ایک موضع میں آم کے ایک درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئیں ۔ یہ لڑکیاں 27مئی کو لاپتہ ہوگئی تھیں اور ان کی نعشیں اگلے دن دستیاب ہوئیں۔ 5ملزمین جن میں3بھائی پپو یادو ، اودیش یادو اور ارویش یادو شامل ہیں اور کانسٹبلس چھرپال یادو اور سرویش یادو کو کیس میں گرفتار کیاگیا ہے ۔ جس کی وجہ سے ملک گیر سطح پر برہمی کااظہار کیاجارہا ہے۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں