تھائی لینڈ وزیر اعظم کا مستعفی ہونے اور انتخابات کروانے کی پیشکش - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-12-09

تھائی لینڈ وزیر اعظم کا مستعفی ہونے اور انتخابات کروانے کی پیشکش

بنکاک
(پی ٹی آئی)
تھائی لینڈکی وزیراعظم بنگلک شیناواترانے پارلیمنٹ تحلیل کرنے اوراندرون60دن تازہ انتخابات کروانے کاپیشکش کیا۔وزیراعظم شیناواترانے ایک ایسے وقت پارلیمنٹ کی تحلیل اورتازہ انتخابات کروانے کاپیشکش کیاجبکہ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے مخالف حکومت مظاہروں میں شامل ہونے کااعلان کیا۔کل وزیراعظم کے استعفی کے لیے بڑے پیمانے پرمظاہروں کامنصوبہ بنایاگیا۔وزیراعظم شیناواترانے ٹی وی خطاب میں کہاکہ اگرتھائی لینڈ کے عوام کی اکثریت چاہتی ہے تووہ وزیراعظم کے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں گی اورپارلیمنٹ تحلیل کردیں گی۔انہوں نے کہاکہ دوہفتوں سے جاری بحران کوختم کرنے وہ مستعفی ہوکر پارلیمنٹ تحلیل کرنے تیارہیں۔تاہم انہوں نے وارننگ دی کہ اگرمظاہرین ان کے پیشکش کوردکردیں گے توسیاسی بحران طول پکڑے گا۔46سالہ وزیراعظم شیناواترا2011میں برسراقتدارآئیں۔وزیراعظم نے کہاکہ ایک ریفرنڈم کروانے کی ضرورت لاحق ہوگی اورعوام کی مرضی کے مطابق فیصلہ کرناہوگا۔وزیراعظم کے استعفی کے پیشکش اورپارلیمنٹ کی تحلیل کے پیشکش متاثرہوئے بغیراپوزیشن قائدوانگ نوے ٹوے نے کہاکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے مستعفی ہوجائیں گے اورمخالف حکومت مظاہروں میں شامل ہوجائیں گے۔اپوزیشن قائدنے وزیراعظم چیلنج کیاکہ وہ ابھی پارلیمنٹ کوتحلیل کردیں۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ سیاسی اصلاحات کے لیے ایک پیپلز کونسل قائم کی جائے۔گذشتہ ماہ مخالف حکومت مظاہروں کے آغاز9ارکان پارلیمنٹ مستعفی ہوگئے۔دوسرے اپوزیشن قائدموتپ جوسابق میں نائب وزیراعظم رہ چکے ہیں۔وزیراعظم شیناواترکے اقتدارکوکل آخری ضرب لگانے کامطالبہ کیا۔میش آن لوئین نے اطلاع دی کہ وزیراعظم احتجاجیوں کے مطالبات پربات چیت کرنے تیارہیں اورقابل قبول حل نکالنے تیارہیں۔حکام نے کل کے بڑے احتجاج کے پیش نظرسرکاری املاک کی حفاظت کے لیے انتظامات کرلیے ہیں۔نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سکریٹری جنرل ہراڈورن نے کہاکہ تازہ اختیارات حاصل کرلےئے گئے ہیں۔اختیارات کے تحت کرفیونافذکیاجاسکتاہے۔سڑکوں پررکاوٹیں کھڑی کی جاسکتی ہیں اورمظاہرین کوآگے بڑھنے سے روکاجاسکتاہے۔گذشتہ دوہفتوں سے بنکاک کی سڑکوں پرہزاروں مظاہرین احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں۔مظاہرین نے وزیراعظم شیناواتراپرالزام لگایاکہ وہ اپنے مفروربھائی تھکسن شیناواتراکی مدد کے لیے کام کررہی ہیں۔۔اپوزیشن قائد نے عوام سے مطالبہ کیاکہ وہ کل کے مظاہروں میں شرکت کریں،عوام دفاتراورگھروں سے باہرآئیں اوربنگلہ شناواتر کااقتدارختم کرنے میں مددیں۔اپوزیشن قائدنے کہاکہ شیناواتراکی حکومت کرپٹ اورغیرقانونی ہے۔فوج اورمظارین نے گذشتہ ہفتہ دودنوں تک خاموشی اختیارکی تھی تاکہ شاہ بھومی پول کی86ویں سالگرہ منائی جاسکے۔کئی دنوں سے جاری مخالف حکومت مظاہروں میں اب تک پانچ افرادہلاک ہوگئے۔اس سے قبل2010میں ایسے ہی پرتشددمظاہرے ہوئے تھے۔2010میں ہزاروں لال شرٹ مظاہرین نے دارالحکومت کے اہم مقامات پرقبضہ کرلیاتھا۔دوماہی دھرنہ احتجاج میں90افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

Thai Elections: PM offers to hold fresh polls, opposition MPs to resign

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں