جماعت اسلامی قائد کو پھانسی کے بعد بنگلہ دیش میں تشدد - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-12-15

جماعت اسلامی قائد کو پھانسی کے بعد بنگلہ دیش میں تشدد

ڈھاکہ
( پی ٹی آئی)
بنگلہ دیش کے سرکردہ جماعت اسلامی قائد کو سزائے موت دینے کے نتیجہ میں پھوٹ پڑے تشدد میں مہلوکین کی تعداد آج 10تک پہنچ گئی ۔ دریں اثنا اسلام پسندوں نے ملک کے شمال مغربی علاقہ میں ایک وفاقی وزیر کے مکان کو نذر آتش کردیا۔ عبدا لقادر ملا جو 1971کی بنگلہ دیشی جنگ آزادی کے دوران مظالم کے ارتکاب کی پاداش میں میر پور کے قصاب کی حیثیت سے جانے جاتے تھے، انہیں جمعرات کی شب پھانسی دیدی گئی۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے ان کی نظر ثانی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ جنگی جرائم کی پاداش میں سزائے موت پانے والے وہ پہلے سیاست داں ہیں۔ سزائے موت پر عمل آوری کے فوری بعد کئی مقدمات پر تشدد پھوٹ پڑا، جبکہ جماعت کے لوگوں نے اسے سیاسی قتل قرار دیتے ہوئے انتقام لینے کا عہد کیا ہے۔ جنوب مشرقی ، لکشمی پور، جہاں جماعت کے ورکرس اور پولیس کے درمیان ایک مقامی پارٹی قائد کو مبینہ طور پر نعش دستیاب ہونے کے بعد جھڑپوں میں تین ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے۔ قبل ازیں سیکیورٹی فورسس نے پارٹی کے مقامی قائد کو گر فتا ر کرلیا تھا۔ کل جماعت کے کارکنوں کی نوکھلی، ست کھیرا، کھلنا اور جے سور کے بشمول کئی مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ مہلوکین میں جماعت کے قائدین و کارکن ،عوامی لیگ کے دو ورکرس اور بی این بی کا ایک کارکن اور سڑک پر کاروبار کرنے والا ایک شخص شامل ہے۔ دریں اثنا جماعت کے کارکنوں نے پینا میں ریاستی وزیر داخلہ شمش الحق کے مکان کو نذر آتش کردیا جسے مقامی پاسپورٹ ؔ فس کی حیثیت سے کرایہ پر دیا گیا تھا۔ دو منزلہ عمارت کا ایک کمرہ کو اس وقت نقصان پہنچا جبکہ کارکنوں نے وہاں پٹرول بم پھینکا ۔ قبل ازیں دن میں نامعلوم افراد نے شمال مغربی علاقہ سراج گنج میں ایک مندر میں دو مورتیوں کو نقصان پہنچا یا تھا۔ دریں اثنا اسلام آباد میں آئی اے این ایس کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے جماعت اسلامی کے قائد اور جنگی جرائم پر سزائے موت پر عمل آوری پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ جماعت کے قائد عبد القادر ملا کو بنگلہ دیش میں پھانسی دی گئی۔ وزیر نے کل بتا یا کہ 1971کے واقعات کے 42سال بعد سزائے موت دینا بہت بد بختانہ اور المناک واقعہ ہے جبکہ چند گوشے اسے قانونی قتل تعبیر کررہے ہیں۔ ڈان نے اپنی رپورٹ میں یہ بات بتائی ۔ وزیر داخلہ نے بتا یا کہ 1971میں پاکستان سے وفاداری اور یگانگٹ کی پاداش میں بلاشبہ جماعت کے قائد کو پھانسی دی گئی۔ انہوں نے بتا یا کہ بنگلہ دیش کے قیام سے قبل آخر وقت تک ملا متحدہ پاکستان کے حامی رہے لہذا ان کی موت پر ہرا یک پاکستانی کو رنج و غم و دکھ ہے ۔ خان نے بتا یا کہ بین الاقوامی تعلقات کے مطالبہ، بین الا قوامی اسلامی برادری و فراست کے ساتھ یگانگت کے تقاضہ کی تکمیل کرتے ہوئے ماضی کے واقعات اور حالات کو پس پشت ڈالتے ہوئے نیا دور شروع کیا جانا چاہئے۔ تاہم ماضی کے زخموں کو کریدنے یہ بد بختانہ واقعہ پیش آیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب کوئی ملک افسوسناک طور پر خانہ جنگی کا شکار ہوتا ہے تو جنگ میں شامل تمام افراد تشدد کا ارتکاب کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے بتا یا کہ اگر بنگلہ دیش کی حکومت پر انے زخموں کو کریدنے کے بجائے دور اندیشی ، وسیع القلبی اور اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتی تو بہتر ہوتا۔ بنگلہ دیش میں 1971کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرم کے ارتکاب پر جمعرات کو پہلے واقعہ میں سزائے موت دی گئی ۔ قبل ازیں ملک کی اعلی ترین عدالت نے سزائے موت پر نظر ثانی کی ان کی درخواست کو مسترد کردیا۔
Deadly clashes in Bangladesh after top JI leader hanged

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں