ترک پارلیمنٹ میں خاتون ارکان کو پتلون پہننے کی اجازت - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-11-15

ترک پارلیمنٹ میں خاتون ارکان کو پتلون پہننے کی اجازت


انقرہ
(رائٹر)
ترک پارلیمنٹ نے خاتون ممبران کو آزادی دیتے ہوئے اب ایوان میں پینت پہن کر آنے کی اجازت دے دی اب وہ اسلامی طرز کا اسکارف بھی پہن سکیں گی ۔ یہ فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔مسلم اکثریتی سیکو لر ملک میں عورتوں پراسکارف پہننے اور ٹانگیں ڈھکنے کی پابندی تھی جب اسکارف کے معاملہ پارلیمنٹ میں بحث چل رہی تھی تو سب سے بڑی اپوزیشن ریپلکشن پیپلز پارٹی کی ایک رکن سفاک پاوے نے پینٹ کے معاملہ پر توجہ دلائی ۔ سفاک پاوے جون 2011سے رکن پارلیمنٹ میں ان کے نقل ٹانگ لگی ہوئی ہے مگر پارلیمنٹ کئی مرتبہ ان کی یہ درخواست مسترد کرچکی تھی کہ انہیں پینت پہننے کی اجازت دے دی جائے کیونکہ وہاں کے ضابطے کے مطابق خواتین صرف اسکرٹ اور کورٹ ہی پہن سکی ہے وزیر اعظم طیب اردگان کی اے کے پارٹی کی جڑیں اسلامی ہیں انہوں نے پینٹ پہننے پر پابندی پٹانے کی تجویز دی تھی اور دیگر پارٹیوں نے اس کی حمایت کی۔ پارلیمنٹ نے کل رات اسکو منظور کردیا ترک پارلیمنٹ میں اکتوبر کے اختتام پر تاریخی نظارہ دیکھنے کو ملا جب اے کے پارتی کو چار خاتون ممبران پہلی اسمبلی میں سر پر اسکارف اوڑھ کر آئیں ۔ اسکارف کو سیکولیر سیاسی اسلام کی علامت سمجھتے ہیں اور جمہوریہ کی سیکو لیر شناخت کے لئے خطرہ مانتے ہیں مگر اے کے پارٹی نے دلیل دی ہے کہ اس کے استعمال پر پابندی سے مذہبی آزادی کے وصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ سیکولیر پارٹیوں نے اب اس اقدام پر بہت سخت احتجاج نہیں لگایا جس سے پتہ چلتا ہے کہ ترکی میں اے کے پی کی ایک دہائی کی حکومت کے بعد مذہب کے بارے میں اب رویہ بدل رہاہے ۔ سر پر اسکارف باندھنے کی پابندی دیگر سرکاری اداروں میں ختم ہوگئی ہے
Turkey lifts ban on trousers for women MPs

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں