مودی کو تاریخ کا مطالعہ کرنے کی ضرورت - سلمان خورشید
وزیرخارجہ سلمان خورشید نے بی جے پی کے وزارت عظمی امیدوار نریندرمودی کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے آج کہاکہ ان کے خیالات اوربیانات میں کوئی تال میل نہیں اورریالی سے خطاب کرنے سے پہلے انھیں تاریخ کے اسباق پڑھنے کی ضرورت ہے۔سلمان خورشید نے یہاں سی آئی آئی کی ایک تقریب کے وقفوں کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ایسامعلوم ہوتاہے کہ مودی کودوبارہ اسکول جانے اورتاریخ پڑھنے کی ضرورت ہے۔وہ تاریخ کوسمجھنے سے قاصرہیں۔انھیں یہ نہیں معلوم کے تکشاشیلاکہاں واقع ہے۔انھیں اپنی پارٹی کے بانیوں کے نام تک درست طورپرنہیں معلوم۔وہ جوکہناچاہتے ہیں اور جوکہتے ہیں اس میں کوئی تال میل نہیں ہوتا۔سال2009میں ایک نوجوان خاتون کی مبینہ جاسوسی کے سلسلہ میں مودی کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے خورشیدنے کہاکہ کبھی وہ شہزادہ کو صاخبرادہ کہہ دیتے ہیں اور صاخبرادہ کو شہزادہ۔
راج گڑھ(مدھیہ پردیش)
مدھیہ پردیش میں ایک ایسے وقت جبکہ بی جے پی کے امیدوار وزارت عظمی نریندرمودی،اسمبلی انتخابات کے لئے اپنی پارٹی کی مہم چلارہے ہیں،کانگریسی رہنماڈگ وجئے سنگھ نے انہیں شدیدتنقید کانشانہ بنایاہے اور کہاکہ رائے دہندوں پرمودی کاکوئی اثرنہیں ہوگا کیونکہ ملک کے تعلق سے وہ(مودی)کوئی بصیرت نہیں رکھتے اور"صرف گالیاں دیناجانتے ہیں"سابق چیف منسٹر مدھیہ پردیش ڈگ وجئے سنگھ نے یہ بھی دعوی کیاکہ ان کے عہد چیف منسٹری میں جوکام شروع کئے گئے توان کاسہرا،اس ریاست کی(موجودہ)شیوراج سنگھ چوہان حکومت لے رہی۔انہوں نے چیف منسٹر مدھیہ پردیش چوہان کوترقیاقی امور کے مسئلہ پرکھلے مباحث کاچیلنج دیا۔مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریسی رہنمانے کہاکہ"عوام الناس یہ محسوس کرچکے ہیں کہ یہ شخص(مودی)صرف گالیاں،کیسے دیناہے جانتاہے۔اس نے ملک کے لئے کوئی تناظرنہیں کیااورترقی کے گجرات ماڈل سے متعلق مودی کے بلندبانگ دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔مودی،ہندوستان کی تاریخ،حتی کہ بھارتیہ جن سنگھ کی تاریخ سے تک ناواقف ہیں اورعوام الناس اب یہ سمجھ چکے ہیں"۔ڈگ وجئے سنگھ نے راج گڑھ میں انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی کو انٹرویودیتے ہوئے کہاکہ"میں اب شیوراج سنگھ چوہان اوران کے خاندان کے خلاف الزامات عائد کررہاہوں اور میں انہیں چیلنج کرتاہوں کہ وہ میرے خلاف ایک شوکازنوٹس لائیں اورمیرے خلاف مقدمہ ہتک عزت دائرکریں۔میں عدالت میں ثابت کروں گاکہ نہ صرف وہ (چوہان)بلکہ ان کاسارا خاندان رشوت خورہے"۔ڈگ وجئے سنگھ نے کہاکہ"ڈمپراسکام"کی تحقیقات مناسب انداز میں نہیں کی گئیں۔چوہان کے خاندان کے خلاف"اہانت آمیز"اشتہارات پرکانگریس کی قیادت کو چوہان کی ہتک عزت نوٹس کے بارے میں ایک سوال پراے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری(ڈگ وجئے سنگھ)نے کہاکہ وہ ریاستی چیف منسٹراوران کے خاندان کے خلاف شخص رشوت ستانی کے الزامات،عدالت میں ثابت کریں گے۔یہاں یہ تذکرہ بے جانہ ہوگاکہ2003میں مدھیہ پردیش میں اوبھارتی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت قائم ہوئی تھی۔اس سے قبل ڈگ وجئے سنگھ،10برس تک اس ریاست کے چیف منسٹررہے تھے۔ڈگ وجئے سنگھ نے کہاکہ ترقی کے شیوراج ماڈل کے بارے میں"چرچا"حقائق سے میل نہیں کھاتا۔
راج گڑھ(مدھیہ پردیش)
مدھیہ پردیش میں ایک ایسے وقت جبکہ بی جے پی کے امیدوار وزارت عظمی نریندرمودی،اسمبلی انتخابات کے لئے اپنی پارٹی کی مہم چلارہے ہیں،کانگریسی رہنماڈگ وجئے سنگھ نے انہیں شدیدتنقید کانشانہ بنایاہے اور کہاکہ رائے دہندوں پرمودی کاکوئی اثرنہیں ہوگا کیونکہ ملک کے تعلق سے وہ(مودی)کوئی بصیرت نہیں رکھتے اور"صرف گالیاں دیناجانتے ہیں"سابق چیف منسٹر مدھیہ پردیش ڈگ وجئے سنگھ نے یہ بھی دعوی کیاکہ ان کے عہد چیف منسٹری میں جوکام شروع کئے گئے توان کاسہرا،اس ریاست کی(موجودہ)شیوراج سنگھ چوہان حکومت لے رہی۔انہوں نے چیف منسٹر مدھیہ پردیش چوہان کوترقیاقی امور کے مسئلہ پرکھلے مباحث کاچیلنج دیا۔مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریسی رہنمانے کہاکہ"عوام الناس یہ محسوس کرچکے ہیں کہ یہ شخص(مودی)صرف گالیاں،کیسے دیناہے جانتاہے۔اس نے ملک کے لئے کوئی تناظرنہیں کیااورترقی کے گجرات ماڈل سے متعلق مودی کے بلندبانگ دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔مودی،ہندوستان کی تاریخ،حتی کہ بھارتیہ جن سنگھ کی تاریخ سے تک ناواقف ہیں اورعوام الناس اب یہ سمجھ چکے ہیں"۔ڈگ وجئے سنگھ نے راج گڑھ میں انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی کو انٹرویودیتے ہوئے کہاکہ"میں اب شیوراج سنگھ چوہان اوران کے خاندان کے خلاف الزامات عائد کررہاہوں اور میں انہیں چیلنج کرتاہوں کہ وہ میرے خلاف ایک شوکازنوٹس لائیں اورمیرے خلاف مقدمہ ہتک عزت دائرکریں۔میں عدالت میں ثابت کروں گاکہ نہ صرف وہ (چوہان)بلکہ ان کاسارا خاندان رشوت خورہے"۔ڈگ وجئے سنگھ نے کہاکہ"ڈمپراسکام"کی تحقیقات مناسب انداز میں نہیں کی گئیں۔چوہان کے خاندان کے خلاف"اہانت آمیز"اشتہارات پرکانگریس کی قیادت کو چوہان کی ہتک عزت نوٹس کے بارے میں ایک سوال پراے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری(ڈگ وجئے سنگھ)نے کہاکہ وہ ریاستی چیف منسٹراوران کے خاندان کے خلاف شخص رشوت ستانی کے الزامات،عدالت میں ثابت کریں گے۔یہاں یہ تذکرہ بے جانہ ہوگاکہ2003میں مدھیہ پردیش میں اوبھارتی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت قائم ہوئی تھی۔اس سے قبل ڈگ وجئے سنگھ،10برس تک اس ریاست کے چیف منسٹررہے تھے۔ڈگ وجئے سنگھ نے کہاکہ ترقی کے شیوراج ماڈل کے بارے میں"چرچا"حقائق سے میل نہیں کھاتا۔
Modi needs to go back to school, learn history: Khurshid

گفتگو میں شامل ہوں