بھدراچلم کو تلنگانہ میں برقرار رکھنے کا مطالبہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-11-20

بھدراچلم کو تلنگانہ میں برقرار رکھنے کا مطالبہ

تلنگانہ کے حامیوں نے احتجاج کرتے ہوئے ضلع کھمم کے سب ڈیویژن بھدراچلم کوریاست کی تقسیم کے بعدتلنگانہ میں برقراررکھنے کامطالبہ کیا۔مقامی عوام نے بھدراچلم کوتلنگانہ میں برقراررکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج بندمنایااورریالیاں منظم کی گئیں۔بھدراچلم رام مندر کیلئے کافی مشہورہے جوتلنگانہ اورسیماآندھراعلاقوں کیلئے ایک تنازعہ بن گیاہے۔متحدہ ریاست کے لئے احتجاج کرنے والوں کاکہناہے کہ آندھراپردیش کی تشکیل سے پہلے ٹمپل بھدراچلم ساحلی اضلاع کا حصہ تھاجبکہ علحدہ تلنگانہ ریاست کے حامیوں کا کہناہے کہ نظام حیدرآباد کے دورسے یہ علاقہ تلنگانہ کاحصہ ہے۔بھدراچلم ڈیویژن کو ضلع کھمم میں برقراررکھنے کے لیے مرکزپردباؤڈالنے کی خاطر آج تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پرضلع کھمم بندمنایاگیا،جوپرامن رہا۔بھدراچلم ڈیویژن کو سیما۔آندھراکے ضلع مشرقی گوداوری کاحصہ بنانے کے خلاف کل جماعتی قائدین نے عوام سے آج ضلع بندمنظم کرنے کی اپیل کی تھی۔دکانیں،خانگی تعلیمی ادارے،پٹرول پمپس اورتجارتی ادارے مکمل طورپربندتھے۔ضلع تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں شامل جماعتیں تلگودیشم،سی پی آئی اور سی پی آئی(ایم)،ٹی آرایس اوربی جے پی کے کارکنوں نے بھدراچلم بچاؤ کے نعرے لگاتے ہوئے دھرنے منظم کیے اوراس تاریخی بھدراچلم کو کھمم سے علیحدہ کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف انتباہ دیا۔احتجاجیوں نے مختلف مقامات پربس ڈیوزکے روبرودھرنے منظم کیے،جس کے نتیجہ میں بس سرویس مسدود ہوگئی۔بسوں کوڈپوزسے باہرنکلنے نہ دینے کے باعث چھتیں گڈھ اوراوڈیشہ کے لیے بس سرویس مسدودرہی۔ضلع بھرمیں آرٹی سی بس سرویس بھی متاثررہی۔بتایاجاتاہے کہ50فیصد بسیں سڑکوں سے غائب تھیں۔یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگاکہ ریاست کی تقسیم میں حیدرآباددونوں علاقوں کے قائدین کیلئے ایک اہم تنازعہ بناہواہے ۔اسی بنچ بھدراچلم کوبھی تلنگانہ میں ہی برقراررکھنے کے مطالبہ سے نیاتنازعہ پیداہونے کے امکانات ہیں۔

Demand raises over Bhadrachalam to be in Telangana

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں