اقلیتوں کو حملوں سے محفوظ رکھتے قانون سازی کاعمل شروع
فرقہ وارانہ تشددبل کو قانون بنانے کے لئے کام شروع ہوچکا ہے تاکہ اقلیتوں کو نشانہ بناکرکئے جانے والے حملوں سے محفوظ رکھاجاسکے۔مرکزی وزیرداخلہ سشیل کمارشنڈے نے آج یہ بات بتائی۔تاہم وہ یہ یقین نہیں دلا سکے کہ یہ بل پارلیمنٹ کے سرمائی سشن میں پیش کیاجائے گا۔شنڈے نے آج صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے متعلقہ محکمہ سے بل کی تفصیلات طلب کی ہیں اس پر کام شروع ہوچکا ہے لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ نومبرکے اختتام سے شروع ہونے والے سرمائی سشن میں اسے پیش کیاجائے گا۔وزارت داخلہ اور وزارت قانون کے عہدیداروں نے تاہم مسودہ بل کے بعض حصوں پربتایا جاتاہے کہ اعتراض کیا ہے۔جن پر اعتراض کیاگیاان میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑنے کی صورت میں بیوروکریٹس کو ذمہ دار بنانے کی شق بھی شامل ہے۔اعتراض کرنے والے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس سے ڈیوٹی انجام دینے میں رکاوٹ پیداہوگی۔یہ مسودہ بل سونیاگاندھی کی قیادت والی قومی مشاورتی کو نسل نے تیار کیا ہے۔جس کی بیشتردفعات فرقہ وارانہ اور نشانہ بنا کرتشدد کے انسداد سے متعلق ہیں۔اس بل میں مرکز اور ریاستی حکوموں اور ان کے عہدیداروں پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ وہ اپنے اختیارت کاغیر جانبدارانہ اور غیر امتیازی طور پر استعمال کرتے ہوئے لسانی یا مذہبی اقلیتوں،ایس ٹی طبقات کے خلاف بڑے پیمانہ پرتشدد کی روک تھام کریں۔بل میں قومی اتھارٹی برائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی،انصاف وبازآبادکاری کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بعض ریاستی حکومتوں نے بل کے مختلف حصوں پرسخت اعتراض کیا۔اسی دوران مرکزی وزیراقلیتی امورکے رحمن خان نے کہا کہ حالیہ مظفرنگر فسادات نے یہ ظاہر کردیا کہ ایسے تشدد سے نمٹنے میں موجودہ قوانین ناکافی ہیں۔انہوں نے بل کو سرمائی سشن میں پیش کرنے کا امکان ظاہرکیا۔خان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سرمائی سشن میں بل پیش ہوجائے لیکن اس کا فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بل میں جو قانون پیش کیاگیاہے اس کے تحت مظفرنگر فسادات کے خاطیوں کو جوابدہ بنایاجائے گا اور بازآبادکاری کے منتظر متاثرین کی مددکی جائے گی۔خان نے بی جے پی کایہ الزام مستردکردیا کہ یوپی اے حکومت لوک سبھا انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے بل لارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے اس پر مشاورت جاری ہے اور حکومت اپنی معیاد کے آخری دن تک کام کرتی ہے۔
Work on Communal Violence Bill has begun: Shinde

گفتگو میں شامل ہوں