فرقہ وارانہ فسادات سے سختی کیساتھ نمٹنے ریاستوں کو مرکز کی ہدایت
مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات سے سختی کے ساتھ نمٹنے کی ہدایت دی ہے اور انتباہ دیا ہے کہ عام انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے۔ معتمد داخلہ انیل گوسوامی کی ہدایت پر کابینی سکریٹری اجیت سنگھ نے اتر پردیش، بہار، راجستھان ، مدھیہ پردیش ، کرناٹک ، ہریانہ اور جموں کشمیر کے چیف سکریٹریز اور پولیس سربراہوں سے کہاکہ وہ فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کیلئے متحرک ہوجائیں۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے مستعدی کے ساتھ انٹیلجنس جمع کریں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ حال ہی میں اترپردیش میں ایودھیا یاترا کے ذریعہ فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یو پی کے علاوہ کئی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات بھی پیش آئے جس میں کئی افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔ مرکزی حکومت کو اندیشہ ہے کہ آئندہ سال منعقد ہونے والے عام انتخابات سے قبل بعض سیاسی گروپ فرقہ وارانہ ماحول بگاڑ سکتے ہیں تاکہ عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کیاجائے اور ووٹ بٹورے جائیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو چوکس کردیاہے۔ گذشتہ چند ماہ دوران پیش آئے فرقہ وارانہ فسادات پر وزیر اعظم منموہن سنگھ بہت ہی متفکر ہوگئے ہیں۔ ان کی ہدایت پر وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریز اور پولیس سربراہوں کا اجلاس طلب کیا۔31؍اگست تک ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات کے 451واقعات پیش آئے جبکہ2012میں جملہ410واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ کابینی سکریٹری نے تمام عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ہرممکن اقدام کریں تاکہ ملک کا سماجی ڈھانچہ متاثرنہ ہو۔
Centre tells states to curb communal violence firmly

گفتگو میں شامل ہوں