وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران کہا کہ جب ان کی اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات ہوئی تھی تو انہوں نے داؤد اور سعید کو ہندوستان کے سپرد کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر داخلہ کو یہ بھی بتایا تھا کہ یہ دونوں دہشت گرد پڑوسی ملک کے شہر کراچی میں ہیں۔
بی۔جے۔پی رکن اننت کمار کے سوال کے جواب میں شندے نے کہا کہ حال ہی میں اختتام پذیر انٹرپول کانفرنس میں بھی ہندوستان نے اس مسئلے کو اٹھایا تھا اور پاکستان کو ہدایت دینے کی مانگ کی تھی کہ وہ داؤد کو ہندوستان کے حوالے کرے۔ اس سے قبل وزیر مملکت برائے امور داخلہ آر پی این سنگھ نے ارکان کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف ایسی تصویر بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ یو پی اے حکومت دہشت گردی کے سلسلے میں کمزور طریقے سے کام کر رہی ہے۔ اس پر بی۔جے۔پی ارکان بھڑک اٹھے۔ سنگھ نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات کرنے میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی خفیہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان میں سرگرم دہشت گردوں کو پناہ ، تربیت اور مالی مدد اکثر بیرون ملک سے اور خاص طور پر پاکستان میں واقع ان کی اصل تنظیموں کی طرف سے فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے بنیادہ سوال کے جواب میں بتایا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت پانچ ، شمال مشرق میں 58 اور پنجاب میں تین دہشت گرد گروپ سرگرم ہیں۔
India has pressed Pakistan for extradition of Dawood Ibrahim, Hafiz Saeed: Shinde
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں