ریزرو بنک آف انڈیا کو ترقی پر بھی نظر رکھنا چاہیے - وزیر خزانہ چدمبرم
ریزرو بینک آف انڈیا کے مالیاتی پالیسی کے جائزہ سے ایک دن قبل مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم نے آج کہاکہ مرکزی بینک کو اختیار حاصل ہے کہ وہ نہ صرف قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنائے بلکہ ترقی کی فروغ دے اور روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ انہوں نے کہاکہ وہ تجارتی بینکوں کی جانب سے سود کی شرحوں میں کسی اضافہ کی توقع نہیں رکھتے۔ چدمبرم نے کہاکہ ان کے پاس کافی رقم موجود ہے اور وہ قرضوں کے مطالبہ کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ ذمہ داری بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے پراجکٹس کے ساتھ ساتھ شعبہ صنعت پر عائد ہوتی ہے۔ مرکزی وزیرفینانس نے کہاکہ بحیثیت مجموعی عالمی فکر میں تبدیلی آرہی ہے۔ سنٹرل بینک کو نہ صرف قیمت مستحکم رکھنا چاہئے بلکہ اس کو اختیار ہے کہ وہ شرح ترقی اور اعظم ترین روزگار کے مواقع پیداکریں۔ چدمبرم کا یہ بیان ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے پہلی سہ ماہی کی مالی پالیسی پر نظر ثانی کے موقع پر منظر عام پر آیا ہے۔ نظر ثانی میں سنٹرل بینک توقع ے کہ کئی تضاد اندیشوں بشمول دھماکو صورتحال کی زرمبادلہ کی شرح، دیوالیہ ہونے کے اندیشے اور سست رفتار شرح ترقی کے انسداد کوشش کرے گی۔ آر بی آئی کے گورنر ڈی سبا راؤ گذشتہ ہفتہ وزیراعظم منموہن سنگھ اور مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم سے ملاقات کرچکے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر موجودہ معاشی صورتحال پر دونوں سے تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔ چدمبرم نے احمد آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ یہ دلیل پیش کرنے کی کوشش کرچکے ہیں کہ سنٹرل بینک کو قیمت کے استحکام کا اختیار حاصل ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دیکھا جانا چاہئے کہ شرح ترقی اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کا بھی مرکزی بینک کو وسیع تر اختیار ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دنیا بھر کی حکومتیں اور سنٹرل بینکس نہ صرف ایک ہی صف میں کھڑی ہیں حقیقت یہ ہے کہ سنٹرل بینک اور حکومت کا ہر شعبہ میں صحت مند تعاون ہوتا ہے۔ آر بی آئی کا موقف یہ ہے کہ سخت معاشی موقف اختیار کرتے ہوئے حکومت کے دباؤ کو اور شعبہ صنعت میں سود کی شرحوں میں بڑے پیمانے پر تخفیف کے دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے جمود کا شکار شرح ترقی کو فروغ دینا چاہئے۔ کل گورنر آر بی آئی سہ ماہی پالیسی بیان نظر ثانی کے بعد جاری کریں گے۔ چدمبرم نے کہاکہ ہمیں ان کے بیان کا انتظار کرنا چاہئے کیونکہ اس سے موضوع پرزیادہ وضاحت کا امکان ہے تاہم مرکزی وزیر فینانس نے اعتماد ظاہر کیاکہ تجارتی بینکوں میں سود کی شرح مستحکم رہیں گی۔ انہوں نے کہاکہ انہیں توقع نہیں ہے کہ آر بی آئی کے لیکویڈ یٹی اقدامات کے نتیجہ میں بینکوں کی قرض پر شرح سود میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ درحقیقت یہ شرحیں مستحکم ہیں اور تمام بینکوں کے صدور نشین ان سے کہہ چکے ہیں کہ وہ قرض پر شرح سود میں اضافہ کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے چنانچہ سود کی موجودہ شرحیں برقرار رہیں گی۔ تاہم وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان میں مزید کمی آئے گی لیکن انہیں یقین ہے کہ ان میں اضافہ نہیں ہوگا۔
RBI should look beyond price stability, promote growth: Chidambaram

گفتگو میں شامل ہوں