وقف زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی - اراکین مسلم پرسنل لا بورڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-06-25

وقف زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی - اراکین مسلم پرسنل لا بورڈ

وقف ترمیمی بل میں اوقاف کی زمین کو فروخت کئے جانے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس قدم کو شریعت کے خلاف بتایا گیا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کئی اراکین نے اعلان کیا ہے کہ وہ وقف کی زمین کو فروخت کئے جانے کی اجازت کے سخت خلاف ہیں۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اراکین مولانا احمد علی قاسمی، مولانا عطاء الرحمن قاسمی اور سید وقار الدین نے کہاکہ اس طرح کی گنجائش نکالی جاتی ہے تواس سے کئی اہم متنازع ایشوز اثر انداز ہوں گے۔ انہوں نے اس ضمن میں بابری مسجد تنازع کی بات کہی۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح ان حساس معاملات پر سرکار کو مداخلت کا موقع مل جائے جائے گا۔ مولانا عطاء الرحمن قاسمی نے کہاکہ مشترکہ پنجاب وقف بورڈ اپنی شرائط پر وقف اراضی کو لیز پر دیتا رہاہے، لیکن وقف ترمیمی بل 2010 میں وقف زمین کو لیز پر دینے کی پابندی عائد کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقف زمین کو فروخت کرنا قطعی غیر شرعی ہے، یہاں تک کہ واقف کی منشا کے بغیر وقف زمین کا کوئی دوسرا استعمال بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ وقف کی زمین کو فروخت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر لیزپر دینے کی اجازت ختم کردی گئی تو ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش اور چندی گڑھ کی ہزاروں ایکڑ زمین جو لیز پر دی گئی ہے، خطرہ میں پڑ جائے گی اور جن افراد کے پاس لیز کی زمین ہے وہ مالکانہ حقوق کا دعویٰ کریں گے۔ اس طرح وقف اراضی بڑی تعداد میں متنازعہ ہوجائیں گی۔ مولانا احمد علی قاسمی نے کہاکہ وقف کی زمین کو فروخت کرنے کی اجازت کسی حال میں نہیں دی جاسکتی۔ اب کسی بھی تنظیم، جماعت یا بورڈ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ شریعت کے خلاف کام کرے۔ خیال رہے کہ وقف ترمیمی بل میں وقف اراضی فروخت کرنے کی اجازت کیلئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اجازت کی بات کہی گئی ہے۔ وقف زمین فروخت کرنے کیلئے بورڈ کے اراکین کی 50فیصد تعداد کی منظوری کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ رہنمائے دکن کے ایڈیٹر سید وقارالدین نے وقف اراضی کو فروخت کرنے کی اجازت پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ آندھراپردیش خاص طورپر حیدرآباد میں وقف اراضی کا بڑے پیمانے پر خردبرد کیا گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ وقف بورڈ کی زمین کو بیچنا شریعت کی سخت خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اجازت مل جاتی ہے تو وقف بورڈ کی زمینوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور وقف بورڈ کے اراکین کے ساتھ مل کر سرکاریں اور مفاد پرست عناصر زمین کو خریدنا شروع کردیں گے۔ اس موقع پر ممبر پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہاکہ وقف زمین کو فروخت کرنے کی اجازت کے باوجود وقف ترمیمی بل کو پاس ہونے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وقف اراضی کو فروخت کرنے کی اجازت کی وہ سخت مخالفت کریں گے اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج درج کریں گے۔

--

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں