منڈے کے بیان کا الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹس - تفتیش کا آغاز - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-06-29

منڈے کے بیان کا الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹس - تفتیش کا آغاز

2009ء کے لوک سبھا الیکشن میں 8کروڑ روپئے خرچ کرنے کا ببانگ دہلی اعلان بی جے پی لیڈر گوپی ناتھ منڈے کیلئے مصیبت کا باعث بن سکتاہے۔ الیکشن کمیشن نے ان کے اس بیان کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری شروع کردی ہے۔ اس بیچ کانگریس نے ان کے الیکشن لڑنے پر ہی پابندی عائد کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ ایجنسی سے ملنے والی خبروں کے مطابق کمیشن منڈے کی تقریر اور حقائق کا جائزہ لے رہا ہے جس کے بعد قانون کے مطابق "ضروری کارروائی" کی جائے گی۔ دہلی میں الیکشن کمیشن کی مکمل بنچ جس کی قیادت چیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپت کررہے تھے، نے اس معاملے پر غور و خوص کیا۔ بی جے پی کے ایم پی گوپی ناتھ منڈے کے سنسنی خیز اعتراف کے بعد سیاسی ماحول بھی گرما گیا ہے۔ بھگوا خیمے میں خاموشی چھائی ہوئی ہے تو دوسری طرف کانگریس، این سی پی نے کریمنل ایکٹ کے تحت گوپی ناتھ منڈے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ این سی پی کے سینئر لیڈر اور ریاست کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے منڈے کے بیان اور اعتراف کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا اور الیکشن کمیشن سے انکوائری اور منڈے کے چناؤ لڑنے پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان سچن ساونت نے کہاکہ منڈے کے بیان سے بی جے پی کی ذہنیت اور اس کی آئیڈیالوجی عوام کے سامنے آگئی ہے۔ کریمنل کیس کے تحت گوپی ناتھ منڈے کے خلاف کارروائی کی جائے نیزبی جے پی کے تمام لیڈروں کی انکوائری کی جائے کہ انہوں نے الیکشن کے دوران کتنے پیسے خرچ کئے ہیں۔ یاد رہے کہ جمعرات کو ایک کتاب کی اجراء کے موقع پر اسٹیج پر اپنے لیڈروں کی موجودگی میں منڈے نے یہ کہہ کر سنسنی پھیلادی تھی کہ 1980ء میں جب انہوں نے پہلی بار الیکشن لڑا تھا تو اس وقت 69 ہزار روپے خرچ ہوئے تھے اس میں سے 22 ہزار روپئے چندہ سے جمع ہوئے تھے جبکہ 7ہزار روپئے ان کی جیب سے خرچ ہوئے۔ گوپی ناتھ منڈے یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے مزید کہاکہ پچھلے لوک سبھاچناؤ میں انہوں نے 8 کروڑ روپئے خرچ کئے تھے۔ وہ دراصل الیکشن کیلئے سرکاری فنڈنگ کی وکالت کررہے تھے تاکہ اس میں استعمال ہونے والے کالے دھن کو روکا جاسکے۔ انہوں نے سوئس بینک میں بلیک منی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جب جو لوگ 10،10 کروڑ روپئے خرچ کرکے الیکشن لڑ رہے ہیں تو جمہوریت کا کیا ہوگا۔ منڈے نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اس چیز کو اگر روکنا ہے تو چناؤ کا خرچ سرکار کو اٹھانا چاہئے۔ منڈے نے کہاکہ الیکشن کمیشن میری بات سن رہا ہے یا نہیں۔ سن رہا ہے تو کیا ہوا میری معیاد کے 8 مہینے اور باقی رہ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ قانون کے مطابق لوک سبھا میں کوئی بھی امیدوار 40لاکھ روپئے سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتا۔ اگر منڈے کے خلاف ضابطہ اخلاق کے تحت کارروائی ہوئی تو ان پر 6سال تک چناؤ لڑنے کی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔

Election Commission to issue notice to Gopinath Munde for LS poll expense

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں