امریکی ویزا کی نئی دیوار: ہندوستان سمیت ایشیائی ممالک کے لیے سوشل میڈیا جانچ لازمی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2026-02-02

امریکی ویزا کی نئی دیوار: ہندوستان سمیت ایشیائی ممالک کے لیے سوشل میڈیا جانچ لازمی

usa-visa-social-media-screening-h1b-india-asia-2025

امریکی ویزا پالیسی میں بڑی سختی
ہندوستان سمیت ایشیائی ممالک کے لیے سوشل میڈیا جانچ ایک نیا امتحان


امریکہ جانے کے خواہش مند لاکھوں افراد کے لیے ویزا کا عمل پہلے ہی ایک صبر آزما مرحلہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ عمل مزید پیچیدہ اور حساس ہو گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے دسمبر 15، 2025 سے ویزا درخواستوں کے لیے جو نئی پالیسی نافذ کی ہے، اس نے خاص طور پر ہندوستان، تھائی لینڈ، چین، جنوبی کوریا، ویتنام، جاپان، سنگاپور، ملائیشیا، تائیوان اور دیگر ایشیائی ممالک کے مسافروں، پیشہ ور افراد اور طلبہ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔


اس نئی پالیسی کے تحت H-1B اور H-4 ویزا درخواست دہندگان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور مجموعی آن لائن موجودگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے، مگر متاثرہ ممالک میں اسے ایک نئی ڈیجیٹل رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


ویزا جانچ کا نیا دائرہ کیا ہے؟


اب تک سوشل میڈیا جانچ کا عمل زیادہ تر F، M اور J ویزا زمروں تک محدود تھا، جو بالعموم طلبہ اور تحقیقی پروگراموں سے وابستہ ہوتے ہیں۔ تاہم دسمبر 2025 سے اس جانچ کو H-1B ویزا تک بڑھا دیا گیا ہے، جو ہنر مند پیشہ ور افراد، خصوصاً آئی ٹی، انجینئرنگ، اسٹیم اور ہیلتھ کیئر شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے سب سے اہم ویزا سمجھا جاتا ہے۔


امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، قونصلر افسران اب ویزا درخواست دہندگان کے عوامی سوشل میڈیا پروفائلز، پوسٹس، تصاویر، تبصروں اور آن لائن وابستگیوں کا جائزہ لیں گے۔ اس میں فیس بک، انسٹاگرام، ایکس (Twitter)، لنکڈ اِن، ٹک ٹاک، ریڈٹ، یوٹیوب اور دیگر تمام وہ پلیٹ فارمز شامل ہوں گے جہاں درخواست گزار کی پروفائل عوامی سطح پر دستیاب ہو۔


پروفائل پبلک رکھنا لازمی


نئے ضوابط کے مطابق ویزا درخواست دہندگان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی سوشل میڈیا پروفائلز کو درخواست دینے سے پہلے "public" رکھیں۔ حکام کے مطابق اگر کسی درخواست گزار کی آن لائن سرگرمیوں تک مکمل رسائی ممکن نہ ہوئی تو یہ بھی شبہ کی بنیاد بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اضافی جانچ یا تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


یہ نکتہ خاص طور پر ان افراد کے لیے تشویش کا باعث ہے جو اپنی نجی زندگی کو سوشل میڈیا پر محدود رکھنا پسند کرتے ہیں، یا جنہوں نے برسوں قبل کسی مختلف سیاسی یا سماجی ماحول میں آراء کا اظہار کیا ہو۔


کن باتوں پر نظر رکھی جائے گی؟


امریکی حکام واضح کر چکے ہیں کہ جانچ کا مقصد کسی ایک پوسٹ یا تصویر تک محدود نہیں ہوگا بلکہ مجموعی ڈیجیٹل رویے کو دیکھا جائے گا۔ اس میں شامل ہیں:

  • ماضی میں کی گئی عوامی پوسٹس اور تبصرے
  • کسی تنظیم یا گروہ سے وابستگی
  • سیاسی، مذہبی یا سماجی موضوعات پر آراء
  • ایسی سرگرمیاں جو امریکی حکام کے نزدیک قومی سلامتی یا عوامی تحفظ کے لیے خطرہ سمجھی جا سکتی ہوں

اگر کسی بھی مرحلے پر کوئی مواد مشتبہ یا متنازع پایا گیا تو درخواست گزار کو اضافی سوالات، انتظامی جانچ یا حتیٰ کہ ویزا مسترد ہونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


ویزا پراسیسنگ میں تاخیر کا خدشہ


ماہرین کے مطابق اس نئی پالیسی کا سب سے فوری اثر ویزا پراسیسنگ کے اوقات پر پڑے گا۔ لاکھوں درخواست دہندگان کی آن لائن سرگرمیوں کا دستی جائزہ لینا ایک وقت طلب عمل ہے، جس کے نتیجے میں پہلے سے طویل ویزا عمل مزید کھنچ سکتا ہے۔


خاص طور پر H-1B ویزا پر امریکہ جانے والے پیشہ ور افراد کے لیے یہ تاخیر ملازمت کے آغاز، پروجیکٹس کی تکمیل اور کیریئر کے منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ H-4 ویزا پر جانے والے اہل خانہ بھی اسی جانچ کے عمل سے گزریں گے، جس سے خاندانوں کی دوبارہ یکجائی میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔


آجرین کے لیے نئی مشکلات


یہ پالیسی صرف ویزا درخواست دہندگان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ امریکی کمپنیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ٹیکنالوجی، بایوٹیک، ہیلتھ کیئر اور انجینئرنگ جیسے شعبے بڑی حد تک H-1B ویزا پر آنے والی غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کرتے ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ آجرین کو اب بھرتی کے عمل میں اضافی وقت کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ کمپنیوں کو اپنے ملازمین کو پیشگی آگاہ کرنا پڑے گا کہ ویزا عمل میں تاخیر ممکن ہے اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ بھی درخواست کا حصہ بن چکا ہے۔


ڈیجیٹل شناخت کی صفائی کیوں ضروری؟


امیگریشن ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ویزا درخواست دہندگان اپنی سوشل میڈیا پروفائلز کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ متنازع مواد، غیر ضروری تبصرے یا ایسی وابستگیاں جو غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہوں، انہیں ہٹانا یا واضح کرنا دانشمندی ہوگی۔


یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈیجیٹل شناخت کسی کے مستقبل کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہو، مگر اب یہ اثر براہ راست بین الاقوامی سفر اور روزگار سے جڑ گیا ہے۔


کیا یہ صرف سیکیورٹی کا معاملہ ہے؟


امریکی حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام مکمل طور پر قومی سلامتی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے اظہار رائے کی آزادی، نجی زندگی اور ثقافتی فرق جیسے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔


ایشیا کے کئی ممالک میں سیاسی اور سماجی اظہار کا انداز امریکہ سے مختلف ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسی فرق کو بعض اوقات غلط انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔


مستقبل کا اشارہ


تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پالیسی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مستقبل میں ویزا، امیگریشن اور بین الاقوامی سفر صرف دستاویزات اور انٹرویوز تک محدود نہیں رہیں گے۔ ڈیجیٹل شناخت، آن لائن رویہ اور سوشل میڈیا سرگرمیاں بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔


ہندوستان سمیت ایشیائی ممالک کے لاکھوں افراد کے لیے یہ ایک نیا دور ہے، جہاں پاسپورٹ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پروفائل بھی سرحد پار کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ایسے میں احتیاط، آگاہی اور پیشگی تیاری ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے اس نئے امتحان سے کامیابی کے ساتھ گزرا جا سکتا ہے۔


Keywords: US visa rules 2025, H-1B visa social media screening, US visa digital vetting, India H-1B visa news, US immigration policy update, social media check visa applicants, H-4 visa new rules, US Department of State visa screening, Asian countries US visa restrictions, online presence visa scrutiny
US Tightens Visa Rules: Social Media Screening Mandatory for H-1B Applicants from India and Asia
New US Visa Scrutiny Puts H-1B Travelers from India, Thailand and Asia Under Digital Lens

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں