سپریم کورٹ میں واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی زیرِ بحث
ہندوستان میں ڈیجیٹل پرائیویسی کے مسئلے پر سپریم کورٹ نے پہلی بار اس قدر دوٹوک اور سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔ واٹس ایپ کی 2021 پرائیویسی پالیسی پر سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ نے میٹا کو صاف الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے نجی ڈیٹا سے کسی قسم کا کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اگر کمپنی ہندوستان کے آئینی اصولوں کی پاسداری نہیں کر سکتی تو اسے یہاں کاروبار کرنے کا حق بھی نہیں۔
منگل کے روز سپریم کورٹ میں واٹس ایپ کی متنازعہ پرائیویسی پالیسی پر سماعت کے دوران ماحول غیر معمولی طور پر سنجیدہ رہا۔ چیف جسٹس سوریہ کی سربراہی میں بنچ نے میٹا اور اس کے زیرِ انتظام واٹس ایپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ صارفین کے نجی ڈیٹا کا تحفظ کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔
213 کروڑ جرمانہ اور قانونی پس منظر
یہ سماعت مقابلہ جاتی کمیشن آف انڈیا (CCI) کی جانب سے واٹس ایپ پر عائد 213 کروڑ روپے کے جرمانے اور اس سے متعلق اپیلوں پر ہو رہی تھی۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ آیا واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی واقعی ملک کے کروڑوں غریب اور کم تعلیم یافتہ شہریوں کے لیے قابلِ فہم ہے یا نہیں۔
عام شہری کی فہم پر عدالت کے سوالات
عدالت نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک عام ریڑھی والا، دیہی بہار کا رہائشی، یا صرف تمل زبان بولنے والا شخص ان پالیسیوں کو نہ سمجھ سکے تو کیا یہ عوام کے ساتھ ناانصافی نہیں؟ چیف جسٹس نے یہاں تک کہا کہ بعض اوقات خود جج صاحبان کو بھی ان پالیسیوں کو سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
حکومت کا موقف اور سخت عدالتی تبصرہ
سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے حکومت کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے واٹس ایپ کی ڈیٹا شیئرنگ پالیسی کو "استحصالی" قرار دیا، جس پر چیف جسٹس نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر آئین کی پابندی ممکن نہیں تو کمپنی کو ہندوستان چھوڑ دینا چاہیے۔
چیف جسٹس کی ذاتی مثال
چیف جسٹس نے اپنی ذاتی مثال بھی دی کہ اگر کوئی شخص ڈاکٹر کو واٹس ایپ پر بیماری سے متعلق پیغام بھیجے اور فوراً اسی نوعیت کے اشتہارات نظر آنے لگیں، تو یہ پرائیویسی کی صریح خلاف ورزی ہے اور اسے کسی بھی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔
میٹا کا دفاع اور عدالت کی تشویش
میٹا کی جانب سے سینئر وکلاء مکُل روہتگی اور اکھل سبّل نے موقف اختیار کیا کہ واٹس ایپ کے تمام پیغامات end-to-end encrypted ہوتے ہیں اور کمپنی خود بھی انہیں نہیں پڑھ سکتی۔ تاہم عدالت اس وضاحت سے مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آئی اور پرائیویسی کے تحفظ پر اپنی تشویش برقرار رکھی۔
معاملہ کیا ہے؟ (اہم پس منظر)
- نومبر 2024 میں CCI نے واٹس ایپ کی 2021 پالیسی کو مسلط کردہ قرار دیا
- الزام تھا کہ صارفین کو میٹا پلیٹ فارمز کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ پر مجبور کیا گیا
- 213 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا
- جنوری 2025 میں میٹا نے اس فیصلے کو چیلنج کیا
- نومبر 2025 میں ٹریبونل نے ڈیٹا شیئرنگ پر پانچ سالہ پابندی ہٹا دی، مگر جرمانہ برقرار رکھا
'Exit India If You Can't Follow the Constitution': Supreme Court Slams Meta Over WhatsApp Data Privacy Policy





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں