مرکزی بجٹ میں تلنگانہ پھر محروم - ترقیاتی منصوبے نظرانداز - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2026-02-02

مرکزی بجٹ میں تلنگانہ پھر محروم - ترقیاتی منصوبے نظرانداز

union-budget-2026-telangana-projects-neglected

مرکزی بجٹ میں تلنگانہ ایک بار پھر نظرانداز، بڑے منصوبے فہرست سے باہر

مرکزی بجٹ 2026-27 تلنگانہ کے لیے ایک مرتبہ پھر مایوسی کا سبب بن گیا ہے۔ مسلسل دوسرے سال ریاست کے اہم اور طویل عرصے سے زیر التوا منصوبے مرکزی مالی امداد حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس سے ریاست اور مرکز کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

ریجنل رنگ روڈ (RRR)، حیدرآباد میٹرو ریل فیز دوم اور موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ سمیت کل 47 بڑے منصوبے ایسے تھے جن کے لیے تلنگانہ حکومت نے مرکز سے مالی تعاون کی امید لگائی تھی، تاہم وزیر خزانہ نرملا سیتارامن کی بجٹ تقریر میں ان میں سے کسی منصوبے کا ذکر تک شامل نہیں کیا گیا۔ ریاست نے بنیادی ڈھانچے، صنعت اور سماجی شعبوں کے لیے مجموعی طور پر ایک اعشاریہ پانچ لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے فنڈس کا مطالبہ کیا تھا۔

ریاستی نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ ملو بھٹی وکرمارکا نے بجٹ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہے، خصوصاً اس وقت جب ریاست معاشی، صنعتی اور انسانی وسائل کے اعتبار سے نمایاں صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق مرکز کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیے جانے سے ترقیاتی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔

تاہم بجٹ میں ایک اہم اعلان ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک سے متعلق بھی کیا گیا، جس کے تحت ہندوستان بھر میں سات ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز قائم کیے جائیں گے۔ ان میں سے تین براہ راست حیدرآباد کو بنگلورو، چنئی اور پونے سے جوڑیں گے۔ اس منصوبے کو تلنگانہ کے لیے ایک ممکنہ اسٹریٹجک فائدہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے علاقائی رابطے، سرمایہ کاری اور شہری ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

سیاسی سطح پر بجٹ کے اثرات فوری طور پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ کانگریس پارٹی آئندہ بلدیاتی انتخابات میں اس معاملے کو اہم انتخابی ایشو بنانے کی تیاری میں ہے، جبکہ بی جے پی پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ریاست کے ووٹروں کو یقین دلائے کہ تلنگانہ کو نظرانداز نہیں کیا جا رہا۔ مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے بجٹ کو ترقی پسند اور جامع قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قومی منصوبوں کے ذریعے تلنگانہ کو بالواسطہ فائدہ پہنچے گا۔

بی جے پی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگرچہ مخصوص ریاستی منصوبوں کو براہ راست فنڈنگ نہیں ملی، لیکن بایوفارما شکتی اسکیم کے تحت دس ہزار کروڑ روپے اور ایم ایس ایم ای گروتھ فنڈ جیسے قومی پروگرامز سے حیدرآباد اور اس کے اطراف کے صنعتی مراکز کو فائدہ ہو سکتا ہے، اگرچہ ان فوائد کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہو سکیں۔

بجٹ میں پانچ ریجنل میڈیکل ہبز کے قیام کے اعلان کا حیدرآباد کے طبی اداروں نے خیرمقدم کیا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور ہینڈلوم شعبے کے لیے پیش کردہ پانچ نکاتی پروگرام سے کریم نگر، ورنگل اور نلگنڈہ کے کلسٹرز کو فائدہ پہنچنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں کے لیے ایک اعشاریہ تریسٹھ لاکھ کروڑ روپے کی خطیر رقم بھی مختص کی گئی ہے، جس سے تلنگانہ کے کسانوں کو نئی تکنیکی اور معاشی راہیں مل سکتی ہیں۔

مجموعی طور پر بجٹ تلنگانہ کے لیے براہ راست ریلیف سے زیادہ بالواسطہ امکانات پر مشتمل دکھائی دیتا ہے، جس پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث آنے والے دنوں میں مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔


Keywords: Telangana Union Budget, Hyderabad projects funding, Regional Ring Road RRR, Hyderabad Metro Phase II, Musi Riverfront Development, Union Budget 2026 analysis, Centre State funding dispute, Telangana infrastructure, high speed rail Hyderabad
Telangana Disappointed Again by Union Budget
Union Budget 2026–27 Leaves Telangana Flagship Projects Unfunded

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں