بنگال میں ووٹر فہرست نظرثانی کیس: ممتا بنرجی کی سپریم کورٹ میں ممکنہ پیشی
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بدھ کے روز سپریم کورٹ میں جاری ایک نہایت اہم سماعت کے دوران عدالت میں موجود رہ سکتی ہیں۔ یہ سماعت الیکشن کمیشن کی جانب سے ریاست میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن - SIR) کے خلاف دائر درخواستوں پر ہوگی۔
سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق، اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بینچ کرے گا، جس میں جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی بھی شامل ہوں گے۔ یہ بینچ مستاری بانو کے علاوہ ترنمول کانگریس کے ارکانِ پارلیمان ڈیرک اوبرائن اور ڈولا سین کی جانب سے دائر تین درخواستوں پر غور کرے گا۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی اس معاملے میں ایک علیحدہ عرضی دائر کر رکھی ہے، تاہم بدھ کے لیے جاری کاز لسٹ میں فی الحال ان کی درخواست درج نہیں کی گئی۔ باخبر ذرائع کے مطابق، قانون میں ڈگری رکھنے والی ممتا بنرجی خود عدالت میں موجود رہ کر اپنے دلائل پیش کر سکتی ہیں۔
19 جنوری کو سپریم کورٹ نے اس معاملے میں متعدد اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی بنگال میں SIR کا عمل شفاف ہونا چاہیے اور عام ووٹروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ "منطقی تضادات" کی فہرست میں شامل ووٹروں کے نام گرام پنچایت بھونز اور بلاک دفاتر میں نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں، جہاں دستاویزات اور اعتراضات بھی جمع کرائے جا سکیں۔
عدالت کے مطابق، منطقی تضادات میں ایسے معاملات شامل ہیں جہاں والدین کے نام میں عدم مطابقت پائی جائے یا ووٹر اور اس کے والد یا والدہ کی عمر میں فرق 15 برس سے کم یا 50 برس سے زائد ہو۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ ریاست میں تقریباً 1.25 کروڑ ووٹرز اس فہرست میں شامل ہیں۔
چیف جسٹس کی قیادت میں بینچ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ پنچایت یا بلاک دفاتر میں دستاویزات جمع کرانے کے لیے مناسب دفاتر قائم کرے اور الیکشن حکام کو مطلوبہ افرادی قوت فراہم کرے۔
ممتا بنرجی نے 28 جنوری کو اپنی عرضی دائر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کو فریق بنایا ہے۔ اس سے قبل وہ چیف الیکشن کمشنر کو ایک خط لکھ کر انتخابی عمل سے قبل جاری اس SIR کو "من مانی اور خامیوں سے بھرپور" قرار دیتے ہوئے روکنے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔
اپنے سخت لب و لہجے میں لکھے گئے خط میں، جو 3 جنوری کو چیف الیکشن کمشنر گیانییش کمار کو ارسال کیا گیا، ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا کہ یہ عمل غیر منصوبہ بند، ناقص تیاری اور عارضی نوعیت کا ہے، جس میں سنگین بے ضابطگیاں اور انتظامی کوتاہیاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ شکل میں SIR کا تسلسل بڑے پیمانے پر ووٹروں کو حقِ رائے دہی سے محروم کر سکتا ہے اور جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کر دے گا۔
دوسری جانب، ڈیرک او برائن نے اپنی درخواست میں الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے زمینی سطح پر افسران کو باضابطہ تحریری احکامات کے بجائے واٹس ایپ پیغامات، زبانی ہدایات اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے غیر رسمی ذرائع سے ہدایات جاری کیں، جو قانونی تقاضوں کے منافی ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کسی بھی صورت میں من مانی یا غیر قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کر سکتا اور نہ ہی قانونی طور پر طے شدہ طریقہ کار کو عارضی یا غیر رسمی انتظامات سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ بغیر کسی تحریری حکم یا قانونی بنیاد کے تقریباً 1.36 کروڑ ووٹروں کو "منطقی تضادات" کے نام پر نوٹس جاری کیے گئے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ ہدایت بھی طلب کی ہے کہ تمام دعوؤں، اعتراضات اور سماعتوں کے مکمل فیصلے کے بعد ہی حتمی ووٹر فہرست شائع کی جائے۔
Mamata Banerjee Likely to Appear Before Supreme Court During Hearing on Electoral Roll SIR in West





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں