چکنز نیک ریلوے منصوبہ: سلی گڑی کاریڈور میں زیرِ زمین پٹریوں کی تیاری
ہندوستانی ریلوے نے ملک کے انتہائی حساس اور اسٹریٹجک علاقے، مغربی بنگال کے سلی گڑی کاریڈور، جسے عام طور پر چکنز نیک کہا جاتا ہے، میں زیرِ زمین ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شمال مشرقی ریاستوں اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
یہ زیرِ زمین ریلوے منصوبہ تقریباً 40 کلو میٹر طویل اس اہم پٹی پر مشتمل ہوگا، جو شمال مشرقی ہندوستان کے لیے واحد زمینی رابطے کی حیثیت رکھتی ہے۔ نارتھ ایسٹ فرنٹیئر ریلوے کے جنرل منیجر چیتن کمار شریواستو کے مطابق، یہ زیرِ زمین سیکشن سلامتی کے نقطہ نظر سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق، مجوزہ زیرِ زمین پٹریاں مغربی بنگال کے ٹن مائل ہاٹ اور رانگاپانی اسٹیشنوں کے درمیان بچھائی جائیں گی۔ یہ پٹریاں زمین کی سطح سے تقریباً 20 سے 24 میٹر نیچے تعمیر کی جائیں گی، جبکہ علاقہ زیادہ تر ہموار زمین پر مشتمل ہے۔
اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ زیرِ زمین ریلوے لائنوں میں سے ایک لائن باگڈوگرا کی جانب جائے گی، جو فضائی دفاعی نظام کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور حساس مقام سمجھا جاتا ہے۔
چکنز نیک کیا ہے؟
سلی گڑی کاریڈور کو "چکنز نیک" اس کی جغرافیائی ساخت، اسٹریٹجک حساسیت اور علامتی معنویت کے باعث کہا جاتا ہے۔ یہ شمالی مغربی بنگال میں واقع زمین کی ایک نہایت تنگ پٹی ہے جو ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں کو ملک کے باقی حصے سے جوڑتی ہے۔ نقشے پر یہ علاقہ کسی پرندے کی باریک گردن کی مانند دکھائی دیتا ہے، جو جسم اور سر کو آپس میں ملاتی ہے، اسی مشابہت نے اسے یہ نام دیا۔
یہ کاریڈور بعض مقامات پر محض 20 سے 40 کلو میٹر چوڑا رہ جاتا ہے اور نیپال و بنگلہ دیش کے درمیان ایک تنگ گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی اسی تنگی کے باعث اسے ایک قدرتی "چوک پوائنٹ" تصور کیا جاتا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی قدرتی آفت، فوجی تصادم یا مواصلاتی رکاوٹ شمال مشرقی ریاستوں اور سکم کا زمینی رابطہ منقطع کر سکتی ہے۔
اسی اسٹریٹجک کمزوری کے باعث دفاعی ماہرین، پالیسی ساز اور ذرائع ابلاغ اسے علامتی طور پر "چکنز نیک" یا بعض اوقات "بوٹل نیک" بھی کہتے ہیں، تاکہ اس کی اہمیت اور نزاکت کو مختصر مگر مؤثر انداز میں بیان کیا جا سکے۔ یہ اصطلاح آزادی کے بعد اور سرد جنگ کے دور میں دفاعی تجزیات کے ذریعے عام ہوئی اور وقت کے ساتھ عوامی و صحافتی زبان کا حصہ بن گئی۔
مختصراً، "چکنز نیک" ایک استعارہ ہے: ایک ایسی باریک مگر نہایت اہم زمینی پٹی، جو ملک کے ایک بڑے حصے کو جوڑتی بھی ہے اور اپنی نازک حیثیت کے باعث سلامتی کے چیلنجز بھی پیدا کرتی ہے۔
نارتھ ایسٹ فرنٹیئر ریلوے کے چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر (کنسٹرکشن) ہتندر گوئل نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت موجودہ دوہری ریلوے لائن کو بھی اپ گریڈ کر کے چار لائنوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، منصوبے کی تکمیل کے بعد اس پورے حصے میں مجموعی طور پر چھ ریلوے لائنیں موجود ہوں گی، جن میں چار زمینی اور دو زیرِ زمین ہوں گی۔
مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے بھی اس منصوبے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 40 کلو میٹر طویل اس اسٹریٹجک کاریڈور کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جو شمال مشرقی ریاستوں کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑتا ہے۔ ان کے مطابق، منصوبے میں زیرِ زمین ریلوے پٹریاں بچھانے اور موجودہ لائنوں کو چار پٹریوں تک وسعت دینے کی تجویز شامل ہے۔
سلی گڑی کاریڈور شمالی مغربی بنگال میں واقع زمین کی ایک نہایت تنگ پٹی ہے، جس کی چوڑائی بعض مقامات پر محض 20 کلو میٹر سے کچھ زیادہ رہ جاتی ہے۔ اس کے ایک جانب نیپال اور بنگلہ دیش واقع ہیں، جبکہ بھوٹان اور چین چند سو کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں، جس کے باعث یہ علاقہ ہندوستان کے سب سے حساس اور اسٹریٹجک زمینی رابطوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ قدم ایسے وقت اٹھایا جا رہا ہے جب شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس آسام نے بھی مرکز سے مطالبہ کیا تھا کہ چکنز نیک کو بائی پاس کرنے والے متبادل زمینی راستوں پر غور کیا جائے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے چین میں شمال مشرقی ہندوستان کو سمندر تک رسائی کے لیے بنگلہ دیش پر منحصر قرار دیا تھا۔
ریلوے حکام کے مطابق، زیرِ زمین اور توسیع شدہ ریلوے ڈھانچہ سلی گڑی کاریڈور میں لاجسٹک استحکام اور اسٹریٹجک نقل و حرکت کو نمایاں طور پر مضبوط کرے گا۔ یہ علاقہ طویل عرصے سے شمال مشرقی ہندوستان کے لیے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔
شمال مشرقی سرحدی ریلوے پلان کے اہم نکات:
* سلی گڑی کوریڈور (چکنز نیک) کو چھ لائنوں والے ریلوے اسٹریچ میں اپ گریڈ کیا جائے گا -- چار زیر زمین اور دو زیر زمین۔
* ٹن میل ہاٹ اور رنگاپانی کے درمیان 40 کلومیٹر کے اسٹریٹجک حصے میں تقریباً 20 سے 24 میٹر گہرائی میں زیر زمین پٹرییں ہوں گی۔
* ایک زیر زمین لائن باگڈوگرا سے جڑے گی، جو ایک اہم فضائی دفاع اور اسٹریٹجک مقام ہے۔
* اس پروجیکٹ کا مقصد شمال مشرق سے رابطے کو مضبوط بنانا اور سیکورٹی کی تیاری کو بہتر بنانا ہے۔
Indian Railways Plans Underground Tracks in Strategic Siliguri Corridor to Boost Northeast Connectivity





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں