اسدالدین اویسی کی آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف نفرت انگیز ویڈیو پر شکایت - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2026-02-10

اسدالدین اویسی کی آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف نفرت انگیز ویڈیو پر شکایت

asaduddin-owaisi-complaint-against-assam-cm-hate-speech-video

اسدالدین اویسی کی آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف شکایت، نفرت انگیز ویڈیو کا الزام

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے پیر (9 فروری 2026) کو حیدرآباد کے پولیس کمشنر کو ایک باضابطہ شکایت پیش کرتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اویسی نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ آسام نے دانستہ اور بدنیتی پر مبنی اقدامات کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کیے اور مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت اور عداوت کو فروغ دیا۔

رکن پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بھی اس شکایت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پولیس کمشنر حیدرآباد سے مطالبہ کیا ہے کہ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف ان کی ایک مبینہ پرتشدد ویڈیو پر فوجداری کارروائی کی جائے، جس میں انہیں مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اویسی کے مطابق، یہ ویڈیو اگرچہ بعد میں حذف کر دی گئی، تاہم اس کے مناظر اب بھی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوسناک طور پر نسل کشی پر مبنی نفرت انگیز تقاریر اب معمول بنتی جا رہی ہیں۔

شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہیمنت بسوا سرما گزشتہ کئی برسوں سے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور عوامی تقاریر کے ذریعے مسلم برادری کے خلاف بیانات دیتے آ رہے ہیں، اور حالیہ مہینوں میں ان بیانات میں شدت آئی ہے، جس کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کو ہوا دینا ہے۔

اویسی نے اپنی درخواست میں آسام بی جے پی کے سرکاری X اکاؤنٹ پر 7 فروری 2026 کو پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا، جس میں وزیر اعلیٰ کو ایک آتشیں اسلحہ کے ساتھ دکھایا گیا اور ویڈیو میں واضح طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے مناظر شامل تھے۔

یہ ویڈیو ایک دن بعد حذف کر دی گئی، تاہم شکایت کے مطابق اس میں:
• "Point blank shot"
• "No Mercy"
جیسے الفاظ استعمال کیے گئے تھے، جو مبینہ طور پر فرقہ وارانہ نفرت اور تشدد کو بھڑکانے کے ارادے سے شامل کیے گئے۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ انہوں نے یہ ویڈیو حیدرآباد پولیس کے دائرہ اختیار میں دیکھی اور یہ مواد پورے ملک میں قابلِ رسائی تھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس میں نفرت انگیز تقاریر کے معاملات میں پولیس کو ازخود (suo motu) کارروائی کا پابند قرار دیا گیا ہے، چاہے کوئی باضابطہ شکایت موجود نہ ہو۔

اویسی کے مطابق، ایسی صورت میں پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کی عدم کارروائی سنگین غفلت کے مترادف ہوگی۔

AIMIM کے سربراہ نے حیدرآباد پولیس کمشنر سے اپیل کی کہ وہ قانون کے مطابق فوری اور مؤثر قانونی کارروائی کرتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کریں۔


Keywords: Asaduddin Owaisi, Himanta Biswa Sarma, Assam CM hate speech, AIMIM complaint, Hyderabad Police complaint, Assam BJP video controversy, communal hate speech India, political hate speech case, Owaisi Assam CM row, Indian politics communal tension
Asaduddin Owaisi Complains Against Assam CM Over Hate Video
Asaduddin Owaisi Seeks Legal Action Against Assam Chief Minister Himanta Biswa Sarma Over Alleged Hate Speech Video

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں