بزنس - افسانہ از الیاس احمد گدی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2022-09-13

بزنس - افسانہ از الیاس احمد گدی

business-short-story-ilyas-ahmad-gaddi
ہندی اور اردو ادب میں جھارکھنڈ کے کالے ہیرے کی نگری جھریا کا نام بہت بڑے شدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اردو کے مشہور شاعر مرزا غالب کا تعلق یہیں سے تھا۔ اسی طرح ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ ناول نگار الیاس احمد گدی اور اردو کے مشہور افسانہ نگار غیاث احمد گدی کا تعلق جھریا شہر سے ہے۔ "فائر ایریا" جیسے مشہور ناول کے تخلیق کار الیاس احمد گدی کا ایک دلچسپ اور یادگار افسانہ ذیل میں ملاحظہ کیجیے جو رسالہ "شمع" کے ایک قدیم شمارے میں شائع ہوا تھا۔

کال بیل سن کر جب مالتی نے دروازہ کھولا تو خلاف توقع سیٹھ ناراین داس کو اپنے سامنے کھڑا پاکر وہ دھک سے رہ گئی۔ سیٹھ ناراین داس نے جو ناراین کم اور داس زیادہ معلوم ہوتا تھا اور ہر وقت جس کے چہرے پر یتیموں جیسی مسکینی چھائی رہتی تھی اپنے چہرے پر رعب پیدا کرتے ہوئے ، کرخت لہجے میں پوچھا"گوپال بابو ہیں۔۔۔؟"
مالتی سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔ ادھر کئی مہینوں سے ناراین داس کا تقاضہ بڑھ گیا تھا اور ساتھ ہی اس کے شوہر گوپال کی پریشانیاں دوبالا ہوگئی تھیں۔ کاروبار ختم ہوچکا تھا۔ اس بات کی خبر نارائن داس کو بھی لگ چکی تھی اسی وجہ سے وہ چاہتا تھا کہ جتنی جلدی ہو سکے وہ اپنا قرض وصول کرلے۔


"کھڑی کھڑی آپ میرا مونہہ کیا تک رہی ہیں؟ میں پوچھ رہا ہوں گوپال بابو ہیں اندر۔۔۔؟" اب کے ناراین داس نے ذرا سخت لہجے میں کہا۔ مالتی کو اس کالہجہ بڑا تحقیر آمیز معلوم ہوا۔ اسے ایسا لگا جیسے دانستہ طور پر یہ بات اس کی توہین کرنے کے خیال سے کہی گئی ہے۔ بے عزتی کے احساس سے اس کا سارا جسم تپ گیا۔ لیکن اپنے شوہر کی پوزیشن کا خیال کر کے وہ اس تحقیر آمیز جملے کو پی گئی۔
"آئیے اندر آئیے۔۔ وہ غسل کر رہے ہیں۔۔۔"


ناراین داس نے کمرے کے اندر داخل ہوکر کمرے کا جائزہ لیا۔ تمام کمرہ عمدہ فرنیچر سے آراستہ تھا۔ دیواروں پر تصویریں، ایک بڑا سا پیانو، ایک طرف فلپس کاریڈ پھر نفیس ترین صوفہ سیٹ۔ غالباً وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اگر ان تمام چیزوں کو نیلام پر چڑھایا جائے تو اس کا روپیہ نکل آئے گا؟
ناراین داس کو بیٹھنے کو کہہ کر وہ غصہ میں تلملاتی ہوئی غسل خانے میں جا دھمکی، جہاں گوپال نہانے کے بعد کپڑے بدل کر اب آئینے کے سامنے کھڑا بال درست کر رہا تھا۔ گوپال بہت اچھے موڈ میں تھا۔ مالتی کو غسل خانے میں آتا دیکھ کر ہنس پڑا:
"دیکھو میرے بچوں کی ماں! یوں اچانک غسل خانے میں مت آ جایا کرو۔ اگرچہ بوڑھا ہو چکا ہوں مگر دل کا کیا ٹھیک؟ پھر اس بڑھاپے میں تمہاری گود ہری دیکھ کر لوگ ہنسیں گے۔"


مالتی اس مذاق کے لئے تیار نہیں تھی۔ اس نے غصہ سے اپنے ہونٹ سکیڑ لئے: "آپ کے وہ سیٹھ ناراین داس آئے ہیں۔"
ایک دم سے گوپال کا سارا موڈ آف ہوگیا۔ ذرا دیر پہلے جو شادابی سی اس کے چہرے پر تھی اس پر ایک سایہ سا رینگ آیا۔ "سیٹھ ناراین داس آئے ہیں؟ اور تم نے اس سے یہ بھی کہہ دیا ہوگا کہ میں اندر موجود ہوں؟"
"ہاں تو اور کیا کرتی۔۔۔؟"
"ارے اس سے صاف کہہ دینا تھا کہ باہر گئے ہیں، ایک ہفتہ بعد آئیں گے۔ تب تک ڈی وی سی کا ٹینڈر منظور ہو جاتا اور پھر کوئی نہ کوئی صورت نکل ہی آتی۔"
"میں کہتی ہوں آخر اتنا مونہہ چھپانے کی کیا ضرورت ہے ؟ وہ تو ایسے بات کرتا ہے جیسے ہمارا دیوالہ نکل گیا ہے۔ اور اب ہم لوگ بہت جلد یہ نگر چھوڑ کر کہیں بھاگ جائیں گے۔"
"یہ کاروبار ہے، میرے بچوں کی ماں! یہاں طیش کھانے سے کام نہیں چلتا۔ ہم اس کے دس ہزار روپیوں کے قرض دار ہیں۔ وہ قانونی چارہ جوئی بھی کرسکتا ہے۔ ہمیں لوگوں میں ذلیل بھی کر سکتا ہے۔"
"چاہے جو ہو، مجھ سے تو اس کا یہاں آنا بالکل برداشت نہیں ہوتا۔ آپ میرے زیورات گروی رکھ کر اس کا قرض اتار دیں۔" گوپال نہانے سے فارغ ہوکر تولیہ سے بدن پونچھ رہا تھا۔ مالتی کے اس جملے پر چونک کر اس نے مالتی کو دیکھا اور پھر بڑے پیار سے مسکرا پڑا۔
"مالتی ڈارلنگ! ابھی نوبت یہاں تک نہیں پہنچی ہے کہ تمہارے زیورات کو ہاتھ لگایا جائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہماری آمدنی رک گئی ہے، اور نقدی ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہے لیکن اس کے باوجود ابھی بہت کچھ ہے ، کار ہے ، دو دو کوٹھیاں ہیں، مختلف جگہوں پر زمینیں ہیں۔ کیا یہ سب کچھ نارائن داس کا قرض اتارنے کے لئے کافی نہیں؟"
"وہ تو ٹھیک ہے" مالتی ذرا نرم ہو کر بولی۔ "لیکن یہ ناراین داس کچھ ایسے تحقیر آمیز انداز میں بات کرتا ہے جیسے ہم بالکل کنگال ہو گئے ہیں۔"
"ڈارلنگ یہ بزنس ہے۔اس میں آمدنی ہوتی ہے تو پوری طرح ہوتی ہے اور اگر نہیں ہوتی تو کچھ بھی نہیں ہوتی۔ کاروبار میں ایسا اونچ نیچ اکثر ہوتا ہے۔ صرف اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ آدمی کی پوزیشن نہ خراب ہو، اس کی ساکھ نہ اکھڑنے پائے۔ تم چلو میں ابھی آیا۔۔۔"


گوپال نے جلدی سے ایک نظر اپنے آپ پر آئینہ میں ڈالی اور ڈرائنگ روم میں چلا آیا۔ تب تک سیٹھ ناراین داس کمرے کی تمام چیزوں کی مجموعی قیمت کا اندازہ لگا چکا تھا۔ گوپال کو اس نے بڑی کڑوی نظروں سے دیکھا۔ گوپال کو یہ بات ناگوار تو گزری مگر وہ مسکرا کر ٹال گیا۔ "ہلو سیٹھ! کہو کیا حال چال ہے۔۔؟"
"میرا حال تو ٹھیک ہی ہے گوپال جی میں آپ کا حال معلوم کرنے آیا ہوں۔"
گوپال جھینپ سا گیا۔
"حال تو کوئی آپ سے چھپا ہوا نہیں سیٹھ جی۔ اور کوئی جانتا ہو یا نہ جانتا ہو لیکن آپ کو تو سب کچھ معلوم ہے۔"
"مجھے تو کوئی فرق نہیں معلوم ہوتا گوپال بابو۔ آپ کے سارے ٹھاٹھ تو ویسے ہی ہیں، وہی بنگلہ، وہی کار، وہی فرنیچر، کیا یہ ساری آرائش کسی معمولی آدمی کی ہو سکتی ہے؟ لیکن جب بھی میں اپنا قرض وصول کرنے آتا ہوں آپ رونا لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ آخر صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ سال بھر ہونے کو آیا اور کیا ساری عمر آپ کے گھر کے چکر لگاتا رہوں؟"
"یہ میں نے کب کہا سیٹھ جی کہ آپ ساری عمر میرے گھر کے چکر لگاتے رہیں، بس مہینہ دو مہینہ اور ٹھہر جائیے۔ میں آپ کا سارا حساب بے باق کردوں گا۔"
"میں اب دو روز بھی نہیں ٹھہر سکتا گوپال بابو، بہت ہو چکا۔" ناراین داس فیصلہ کن انداز میں کہا۔
گوپال سو چ میں پڑ گیا۔ بڑی دیر بعد بولا۔
"دیکھئے سیٹھ جی ، آپ سے میرے جو پرانے تعلقات رہے ہیں وہ آپ بھولے نہ ہوں گے۔ جب تک منٹل ہاسپیٹل کا ٹھیکہ میرا رہا ، سینکڑوں روپے کا مال روزانہ آپ کے یہاں سے آتا تھا۔ ان دو سالوں میں آپ نے لاکھوں روپے کا بزنس مجھ سے کیا ہے۔ آج اگر میرا کام رک گیا ہے تو کیا آپ اتنی جلدی آنکھ بدل لیں گے ؟ بہر حال، دیکھئے پرسوں میرے بچے کی سالگرہ ہے۔ اس کے بعد میں کوئی صورت نکال لوں گا۔"
"مجھے معلوم ہے کہ پرسوں آپ کے بچے کی سالگرہ ہے ، اسی لئے تو آج میں آیا ہوں کہ آج ہی آپ میرا کوئی فیصلہ کردیں ورنہ۔۔۔"
"ورنہ کیا۔۔۔؟" گوپال مسکرایا۔
"ورنہ پرسوں میں ٹھیک ایسے وقت میں آؤں گا، جب آپ کا گھر مہمانوں سے بھرا ہوگا۔ پھر آپ جانتے ہی ہیں کہ کیا ہوگا۔ آپ کہیں مونہہ دکھلانے لائق نہ رہ جائیں گے۔ جو قرض دینا جانتا ہے وہ وصول بھی کرنا جانتا ہے۔ گوپال بابو۔ یہ بات شاید آپ بھول گئے تھے۔"


گوپال چپ رہ گیا۔ صورت حال اتنی بگڑ چکی ہے اس بات کا اس نے اندازہ نہیں کیا تھا۔ کافی دیر تک وہ چپ چاپ غصہ بھری نظروں سے سیٹھ ناراین داس کو دیکھتا رہا پھر آہستہ سے صوفہ سے اٹھ گیا۔
"اچھی بات ہے ،سیٹھ جی، میں کل ہی کچھ انتظام کردوں گا۔ یا ممکن ہوا تو آج شام ہی کو۔"
سیٹھ ناراین داس نے کوئی جواب نہیں دیا، بڑے سکون سے صوفے سے اٹھا اور دھوتی کی لانگ سنبھالے ہوئے کمرے سے باہر ہو گیا۔


وہ رات گوپال نے بڑی بے چینی میں گزاری، ساری رات وہ جاگتا رہا، سوچتا رہا۔۔۔ مالتی نے کئی بار اس سے بات کرنی چاہئے لیکن وہ ہوں ہاں کرکے ٹال گیا۔ اسے کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ مہمانوں کو دعوت دی جا چکی تھی اور اس کے پاس سو دو سو کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔
دوسری صبح گوپال نے بستر سے اٹھ کر فون اٹھا لیا۔
"ہلو سیٹھ جی۔۔ دیکھئے میں گوپال بول رہا ہوں ، میں نے آپ کے روپے کا انتظام کرلیا ہے ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ روپیہ کب کب کا باقی ہے۔ اس لئے برائے مہربانی مجھے پورا حساب چاہئے۔۔ جی ہاں پورا حساب۔۔ یعنی دو برس میں آپ نے مجھے کتنا مال سپلائی کیا ہے، کتنی رقم میں نے پے منٹ کی اور کتنی باقی ہے۔۔ جی ہاں، جی ہاں، حساب تو ذرا لمبا ہے لیکن دیکھئے نا میں بغیر حساب کے کیسے روپے دے سکتا ہوں۔۔ جی اچھا۔۔۔ شکریہ۔"


مالتی کھڑی سن رہی تھی۔ رسیور رکھتے ہی وہ بے چینی سے بول اٹھی" اس جھوٹ کی کیا ضرورت تھی اگر مان لیجئے وہ حساب لے کر ابھی آ دھمکا تو۔۔؟ آپ نے کتنی رقم لاکر رکھی ہے یہ تو مجھے بھی معلوم ہے۔"
گوپال ہنس پڑا۔" دیکھو جان من! آج تو قریب قریب سارا دن اور ساری رات اس کو حساب کرنے میں لگ جائے گا۔ تب تک یعنی کم ازکم ایک دن اور ایک رات تو میں آرام سے سو سکوں گا۔"
"لیکن اس سے بلا ٹل تو نہیں سکتی۔۔"
"ہاں یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ بلا ٹلے گی تو نہیں، لیکن مجھے دو دن کی مہلت تو مل جائے گی۔ اور ممکن ہے اسی مہلت میں کوئی صورت بھی نکل آئے۔"
مالتی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اندر باورچی خانے میں چلی گئی۔ کل اس کے بچے کی سالگرہ تھی اور آج ڈھیروں کام کرنے تھے۔


ایک دن اور ایک رات واقعی گوپال نے بڑے سکون سے گزاری وہ دن بھر دوستوں اور رشتے داروں کو دعوت نامے بھیجتا رہا ، شام ہوئی تو سنیما دیکھنے نکل گیا۔ وہاں سے نکلا تو کافی ہاؤس میں جا بیٹھا۔ غرض تمام وقت بڑے مزے میں کٹ گیا۔ لیکن دوسری صبح ابھی وہ ناشتے سے فارغ بھی نہ ہوپایا تھا کہ سیٹھ ناراین داس آ دھمکا۔ اس نے ایک کاغذ کا بڑا سا پلندہ گوپال کی جانب اچھال دیا۔
"یہ لیجئے حساب، کیا آپ نے سمجھا تھا کہ اتنا بڑا کاروبار بغیر کسی حساب کتاب کے چلتا ہے۔۔؟ یہ تو دو برس کا حساب ہے، گوپال بابو، اگر آپ دو سو برس کا حساب بھی مانگیں گے تو ہمارے یہاں آپ کو مایوسی نہ ہوگی۔"


گوپال نے کاغذ کا وہ پلندہ اٹھا لیا۔ چند لمحوں تک بڑے انہماک سے اس کی ورق گردانی کرتا رہا۔ پھر بڑے انداز سے مسکرایا:
"معلوم ہوتا ہے سیٹھ جی یہ سارا حساب کتاب آپ نے خود ہی نقل کیا ہے۔ بڑی تکلیف ہوئی آپ کو۔۔ "
پھر آخر میں رک کر گوپال بڑے زور سے ہنسا: " یہ بھی آپ نے اچھا ہی کیا کہ اس پر دستخط بھی کر دئے۔ خوب۔۔"


سیٹھ ناراین داس مسکرا اٹھا لیکن اچانک گوپال کے چہرے پر سنجیدگی دیکھ کر چونک پڑا۔ گوپال نے قدرے سختی سے کہا: "سیٹھ ناراین داس جی میں آپ کا بقایا ابھی دیتا ہوں۔ لیک یہ سارا حساب جو میرے ہاتھ میں ہے یہ آج ہی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے دفتروں میں چلاجائے گا۔ جب ٹیکس والے آپ کے ہاتھوں کی تحریر میں یہ حساب دیکھیں گے تو آپ کی دکان کے جعلی کھاتے کا سارا راز فاش ہو جائے گا۔ اور پھر اس کے بعد کیا ہوگا آپ جانتے ہیں؟ آپ کے بدن کی قمیص تک بک جائے گی سیٹھ جی!"
ایک لمحے کے لئے نارائن داس کا چہرہ کاغذ کے ٹکڑے کی طرح سفید پڑ گیا۔ پھر دوسرے لمحے اس نے گوپال کے پاؤں پکڑ لئے"گوپال بابو، گوپال بابو ایسا نہ کیجئے۔۔۔"


گوپال ہنسا۔" یہ بزنس ہے ، سیٹھ جی، جہاں بھگوان کا گزر نہیں، میں آپ کو یہ کاغذ لوٹا دوں گا لیکن ایک شرط یہ ہے کہ آپ مجھے رسید دے جائیے کہ میں اپنا تمام قرضہ گوپال سے وصول کرچکا ہوں اور اب ان کے ذمہ میری کوئی رقم نہیں۔"
"مجھے منظور ہے۔۔۔!" نارائن داس نے ہڑبڑا کر کہا۔


اور آدھ گھنٹے جب جب نارائن داس کمرے سے نکل کر جانے لگا تو گوپال بابو نے بڑے بشاش لہجے میں کہا: "دیکھئے سیٹھ جی، آج شام میرے بچے کی سالگرہ ہے ، آنا نہ بھولئے گا۔"
پھر اس نے مالتی کی طرف ایک کاغذ کا ٹکڑا اچھال دیا۔ جس کے ایک کونے میں رسید ی ٹکٹ پر ناراین داس کے دستخط تھے۔
"لو، میرے بچوں کی ماں! یہ قرض کی ادائیگی کی رسید ہے ، اس زمانے میں بزنس سوائے ایک پُرفن ذہانت کے کچھ نہیں۔"


***
ماخوذ از رسالہ: شمع (نئی دہلی)، شمارہ نومبر - 1960ء۔ مدیر اعلیٰ: یوسف دہلوی

Business. Short Story by: Ilyas Ahmad Gaddi.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں